لکڑی کا سجدہ کسی آدمی نے مکان کرائے پر لیا۔ اس کی چھت کی لکڑی سے چرچرانے کی آواز آتی تھی۔ اتنے میںمالک مکان کرایہ وصول کرنے آیا تو اس نے چھت کی چرچراہٹ کی شکایت کرتے ہوئے مرمت کامطالبہ کیا۔ مالک مکان کہنے لگا؛ گھبرانے کی کوئی بات نہیںہے یہ اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ وہ کرایہ دار کہنے لگا لیکن مجھے خدشہ ہے کہ کسی وقت اس پر زیادہ خشیت طاری ہوجائے اور یہ سجدہ ریز نہ ہو جائے۔ مور اور دانش ور ایک شخص جس کے دماغ میں یہ ہوا بھری ہوئی تھی کہ وہ بڑ ادانش مند اور حکیم ہے، سیر کرنے کے لیے جنگل میں گیا۔اِدھر اُدھر پھر رہا تھا کہ ایک کنج میںمور کو دیکھا جو اپنی چونچ سے اپنے ہی پر اُکھیڑ رہا تھا۔ دانش ور کو یہ ماجرا دیکھ کر نہایت حیرت ہوئی۔ مور کے قریب گیا اور کہنے لگا: ’’اے مور، کیا تیرے حواس جاتے رہے کہ اتنے حسین اور خوبصورت پروں کو اس بے دردی سے اُکھیڑ ڈالتا ہے؟ کیا تجھے یہ احساس نہیں کہ تیرے ایک ایک پر کو لوگ کس ذوق شوق سے سنبھال کر رکھتے ہیں؟ قرآن حفظ کرنے والے اسے نشانی کے طور پر مصحفِ پاک کے اوراق میں رکھتے ہیں۔ پھر خوش گوار اور صحت کے لیے تیرے نازک پروں کی پنکھیاں بنائی جاتی ہیں۔ ارے حیوان، تجھے یاد نہیں کہ تیرا خالق کون ہے اور کس نے تیرے بدن پر یہ بے مثال نقش و نگار بنائے ہیں؟ کیا تُو اس مُصور کو بھی بھول گیا جس نے اپنی مُصوری کے لیے تجھے منتخب کیا ہے؟ معلوم ہوتا ہے تو غرور میں آن کر اپنی نئی وضع قطع بنانے کے درپے ہے؟‘‘ مور نے دانش ور کے یہ کلمات سنے تو تھوڑی دیر اُسے اُوپر سے نچے تک غور سے دیکھا، پھر چلّا چلّا کر رونے لگا۔ اس کے رونے میں ایسا درد اور ایسا اثر تھا کہ جنگل کے درخت، پودے، گھاس پھونس اور چرند پرند سب رونے لگے اور وہ دانش ور، جس نے مور سے پر اُکھیڑنے کا سبب پوچھا تھا، نادم اور پشیمان ہو کر دل میں کہنے لگا کہ میں نے ناحق اس مور کو چھیڑا یہ تو پہلے ہی غموں سے بھرا ہو اتھا۔ کاش! وہ دانش ور جانتا کہ مور کے ایک ایک آنسو میں سوسو جواب چُھپے ہوئے تھے۔ لیکن اُسے اِن آنسوئوں کی کیا قدر و قیمت معلوم ہوتی۔ جب مورخوب رو دھو کر اپنے دل کی بھڑاس نکال چکا تو اس نے دانش ور سے کہا: ’’اے نادان، حیف ہے تیری عقل و بصیرت پر کہ ابھی تک تو طلسمِ رنگ و بُو میں گرفتار ہے۔ اُلٹا مجھے پر اُکھیڑنے پر مطعُون کرتا ہے اور ملزم ٹھہراتا ہے، لیکن اس پر غور نہیں کرتا کہ انہی حسین و جمیل پروں کے باعث مجھ پر سینکڑوں بلائوں اور ہزاروں آفتوں کا نزول ہوتاہے۔ کتنے سنگ دل اور بے رحم و سفّاک شکاری ہیں جو محض ان پروں کے لیے ہر طرف جال بچھاتے ہیں اور کتنے تیر انداز ہیں جو انہی کی خاطر میری جانِ ناتواں سے کھیلتے ہیں۔ ایسی آفتوں، ایسی بلائوں اور ایسی المناک موت سے اپنے آپ کو بچائے رکھنے کی مجھ میں طاقت نہیں، اس لیے یہی راستہ نظر آیا کہ اِن بلائے جان پروں کو اُکھیڑ کر بدنُمااور بد شکل ہو جائوں۔میری جان ان خوبصورت رنگین پروں سے ہزار درجے قیمتی ہے کیونکہ وہ باقی رہنے والی اور جسم فنا ہونے والا ہے۔ اے دانش ور، یہ بال و پر ہی میرے غرور و تکبر کا باعث بن گئے، اور یہ تکبر متکبرین کو ہزاروں بلائوں میں گرفتار کرا دیتا ہے۔‘‘ اے عزیز، میںتجھ سے کہتا ہوں، اگر سلامتی مطلوب ہے تو اسبابِ تکبر کو ترک کر دے۔ (تاریخِ عالم کی دلچسپ حکایات) ٭…٭…٭

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers