اداس رہنے کو اچھا نہیں بتاتا ہے 
کوئی بی زہر کو میٹھا نہیں بناتا ہے 
کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں 
یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے 
اے اندھیرے دیکھ لے منہ تیرا کالا ہو گیا ہے 
ماں نے آنکھیں کھول دی گھر میں اجالا ہو گیا 
اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے 
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو وہ رو دیتی ہے 
بلندیوں کا بڑے سے بڑا نشان چھوا 
اٹھایا گود میں ماں نے تب آسمان چھوا 
کسی کو گھر ملا حصہ میں یا کسی کو دکان ایی 
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں ایی 
بلندی دیر تک کسی شخص کے حصے میں رہتی ہے 
بہت اونچی عمارت ہر گھڑی خطرے میں رہتی ہے 
بہت جی چاہتا ہے قید جہاں ہم سے نکل جائے 
تمہاری یاد بھی لکن اسی ملبے میں رہتی ہے 
یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا 
میں جب تک گھر نہ لوٹو میری ماں سجدے میں رہتی ہے 
میری خا یش ہے کے میں پھر سے فرشتہ بن جاؤں 
ماں سے ا س طرح لپٹ جاؤں کے بچہ ہو جاؤں 
کم سے کم بچوں کے ہونٹوں کی ہنسی کی خاطر 
ایسی مٹی میں ملانا کے کھلونا  ہو جاؤں
مجھ کو ہر حال میں بخشے کا اجالا اپنا 
چاند رشتے میں نہیں لگتا ماما اپنا 
میں نے روتے ہوئے پوچھے تھے کسی دن آنسو 
مدتوں ماں نے نہیں دھویا دوپٹہ اپنا 
عمر بھر خالی یوں ہی ہم نے مکاں رہنے دیا 
 تم گئے تو دوسرے کو کل یہاں رہنے دیا 
میں نے کل شب چاھتوں کی سب کتابیں پھاڑ دی 
صرف ایک کاغذ پر لکھا شب ماں رہنے دیا 
مختصر ہوتے ہوئے بھی زندگی بڑہ جائے گی
ماں کی آنکھیں چوم لیجیے روشنی بڑھ جائے گی 
یوں تو اب اسکو بجھائی نہیں دیتا لکن 
ماں ابھی تک میرے چہرے کو پڑھا کرتی ہے 
ماں کی سب خوبیاں بیٹی میں چلی ایی ہیں 
میں تو سو جاتا ہوں لکن وہ جگا کرتی ہیں 
دکھ ملا سکتی ہے لکن جنوری اچھی لگی 
جس طرح بچوں کو جلتی پھلجڑی اچھی لگی 
رو رہے تھے سب تو میں بھی پھوٹ کر رونے لگا
ورنہ مجھ کو بیٹیوں کی رخصتی اچھی لگی 
تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلک 
مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی 
بھٹکتی ہے ہوس دن رات سونے کی دکانوں میں 
غریبی کان چھدواتی ہے تنکا ڈال دیتی ہے 
بچھڑ کر بھی محبت کے زمانے یاد رہتے ہیں 
اجڑ جاتی ہے محفل مگر چہرے یاد رہتے ہیں 
شگفتہ لوگ بھی ٹوٹے ہوتے ہیں اندر سے 
بہت روتے ہیں وہ جنکو لطیفے یاد رہتے ہیں 
خدا نے یہ صفت دنیا کو ہر عورت کو بخشی ہے 
کہ وہ پاگل بھی ہو جائے تو بیٹے یاد رہتے ہیں 
لپٹ جاتا ہوں ماں سے اور موتی مسکراتی ہے 
میں اردو میں غزل لکھتا ہوں تو پنجابی مسکراتی ہے 
اچھلتے کھیلتے بچپن میں بیٹا ڈھونڈتی ہوگی
تبھی تو دیکھ کر پوتے کو دادی مسکراتی ہوگی 
نہ میں کنگھی بناتا ہوں نہ میں چوٹی بناتا ہوں 
غزل میں آپ بیتی کو جگ بیتی بناتا ہوں 
غزل وہ صنف ناز ہے ، جسے اپنی رفاقت سے 
وہ محبوبہ بنا لیتا ہے میں بیٹی بنا لیتا ہوں 
میری آنگن کی کلیوں کو تمنا شاہ زادوں سے 
مگر میری مصیبت یہ ہے کے میں پیری بناتا ہوں 
مجھے اس شهر کی سب لڑکیاں آداب کرتی ہیں 
مجھے کیسے ملے گا میں تو بیساکھی بناتا ہوں 
بس اتنی التجا ہے تو اسے برباد مت کرنا 
تمھیں اس ملک کا ما لک میں  جیتے جی بناتا ہوں

(از افتخار رشید )


Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers