روس کی افغانستان میں شکست کے بعد اگلہ مرحلہ،
امریکہ نے عرب اور افریقی مسلم ممالک میں روسی بلاک یا روس نواز ممالک میں قیادتوں کی تبدیلی کا فیصلہ کیا، اور اپنے جمہوریت پسند حکمران لانے کا پلان ترتیب دیا گیا، نام اسے نیو ورلڈ آڈر کا دیا،
سوڈان کے ذریعہ اسلحہ گاڑیاں دیگر ضروریات اور افرادی قوت اخوان المسلمین کی استعمال ہوئیں، اور اخوان کے اہل علم نے راہ شریعت عطا کی،
سب سے پہلے تیونس اور پهر مصر کو ٹارگٹ کیا گیا، تیونس اور مصر غریب ممالک میں سے ہیں، اور ان ممالک میں اخوان المسلمین کا اثر رسوخ کافی مضبوط بهی ہے، نعرہ دیا گیا کہ بادشاہت ختم کرنا ہے اس لیے کہ یہ بادشاہتیں ظلم پر قائم ہیں اور انہیں ہٹا کر شریعت کا نظام لانا ہے وغیرہ، یہ نعرہ وہاں بہت مقبول ہوا، اخوانیوں نے مسلسل یہ پراپیگنڈا کیا کہ ان ممالک کے سربراہ دین دشمن ہیں حالانکہ اصل وجہ امریکی مفادات تھے، یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ لیبیا اور مصر دونوں کے روس کے ساتھ تعلقات بنسبت امریکہ کے زیادہ اچھے تھے، اس لئے انہیں روسی بلاک بھی سمجھا جاتا تها، جنوبی ایشیا کی جنگ کمیونزم کے خلاف تھی، وہ جنگ روس کی شکست کے بعد ختم ہوئی تو اگلا مرحلہ تھا روس کے ان حلیف ممالک کو ختم کرنا جو کسی بھی وقت دوبارہ سوشلزم کو سہارا دے سکتے ہیں، شام وہ ملک ہے جو دنیا بھر میں روس کا واحد دیرینہ دوست ملک ہے، ملک روس کا روس کے باہر سب سے بڑا اسلحہ اور سب سے بڑی طاقت ملک شام ہی میں ہے، اور شام ہی عرب ممالک کے لئے یورپ کا دروازہ بھی ہے، شام ہی مشرق وسطی کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے، شام ہی سے تمام عرب ممالک کنٹرول ہو سکتے ہیں، اور شام کی سرحدیں خاص کر سمندری سرحدیں اسرائیل سے لگتی ہیں اس لیے یہ خطہ میں بہت اہمیت کا حامل ملک ہے،
اگر ہماری یادداشت اچهی ہے تو یاد کریں کہ عرب اسرائیل جنگ میں سعودیہ، مصر وغیرہ سب مار کھا رہے تھے، اکیلا شام تھا جس نے کچھ بھرم رکھا تھا، ورنہ اسرائیل سعودیہ تک گھس آتا،،،،
شام کے عرب ممالک سے تعلقات___
سعودیہ اور شام کے مابین ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ہیں_ لیکن سعودیہ کو__ شام کے ایران کے ساتھ تعلقات کبھی پسند نہیں تھے، جس طرح آج پاکستان اور سعودیہ کے تعلقات اچهے ہیں_ لیکن__ پاکستان کو سعودیہ اور بھارت کے تعلقات بالکل پسند نہیں__
شام کی وجہ سے عرب ممالک ایران کے ساتھ بھی گزارہ کر لیتے تھے، اور شام کی پالیسی اتنی اچھی رہی ہے کہ نہ اس نے صدام حسین کے ساتھ خرابی پیدا کی تهی حالانکہ صدام ایران دشمن اور شام ایران کا دوست تھا، اور نہ ہی اس نے موجودہ عراق کی نئی حکومت کے ساتھ خرابی پیدا کی، اسی طرح اس نے سعودیہ یا کسی دوسرے مسلمان ملک کے ساتھ بھی تعلقات خراب نہیں کیے__ آپ لوگ شاید جانتے ہوں کہ مصر کے ساتھ ان کے اتنے اچھے تعلقات تھے کہ ایک زمانے میں یہ دونوں ملک ایک ہی تقریباً ہوگئے تھے__ لیکن وہ تجربہ ناکام رہا_!

ملک شام کی آبادی ________
شام میں شیعہ سنی یہودی اور عیسائی رہتے ہیں، سارے عرب ہیں، اور عربوں کے سب سے زیادہ خوبصورت اور تعلیم یافتہ لوگ شام کے ہیں، اردن کا نمبر بعد میں آتا ہے_
لیکن شامی حکومت سیکولر حکومت رہی ہے، اور ڈکٹیٹر شپ ہے، وہاں مذہب کا حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا، شیعہ تعداد میں زیادہ ہیں لیکن وہاں شیعہ اور سنی کی تفریق ایسی کبھی نہیں رہی جیسی عراق اور ایران میں ہے، اس جنگ سے پہلے کبھی بھی کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس کی وجہ سے شیعہ سنی کی بحث چلی ہو______
ایک دوست کا کہنا ہے کہ بیرون ملک میرے ساتھ دو ڈاکٹر شام کے تھے،اور دونوں حلب کے رہنے والے ہیں، اور دونوں سنی ہیں، لیکن ایک بشار الاسد کا حامی اور دوسرا مخالف تھا، اسی طرح شام میں بے شمار سنی بشار کے حامی ہیں، بشار الاسد کو اپنے باپ حافظ الاسد کے مقابلے میں بہت اچھا حکمران مانا جاتا تھا،
حافظ الاسد کے زمانے میں پارلیمنٹ پر شیعہ لابی کا اثر زیادہ تھا، لیکن بشار الاسد نے آ کر بہت سے اس کے قریبی لوگوں کو ہٹایا، اور توازن پیدا کیا، امن و امن بہتر کیا جس کی وجہ سے عوام میں اس کا اچها اثر گیا،
کہتے ہیں عرب ممالک میں شام کا پاسپورٹ سب سے طاقتور تها،
شام کی معیشت ______
پہلے نمبر پر سیاحت تھی، شام کے کھانے ہوٹلنگ، پھر انڈسٹریز اور تیل پر مشتمل ہے،

اب آتے ہیں شام کہ عوامی مظاہروں اور خون خرابے کی طرف __
وہاں ہوا یہ کہ ابتدا میں عوامی مظاہرے شروع ہوئے ڈکٹیٹر شپ کے خلاف چار ماہ مظاہرہ ہوئے، دمشق میں شیعہ علاقوں میں بھی مظاہرے ہوئے تھے، بہت باریکی سے تمام مذاہب والوں کو ان مظاہروں شامل کیا گیا،
دوران مظاہرے ایک بار گولیاں چلیں کچھ بچے مارے گئے،
حکومت نے تردید کی ہم نے نہیں چلائی گولی اور مظاہرین بهی تردید کرتے رہے،
لیکن وہاں جب بات مظاہروں سے لڑائی کی طرف گئی تو سعودیہ کو خیال آیا کہ اگر ایسا چلتا رہا تو کل کو سعودیہ میں بھی آمریت کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں آواز اٹھے گی____________!
اگر یاد ہو تو کچھ سال پہلے سعودیہ میں جب اخوانیوں پر پابندی لگی تو اس کی وجہ بھی یہی فکر تھی،
سعودیہ کے لئے سب سے آسان طریقہ اپنے آپ کو بچانے کا یہی تھا کہ اس لڑائی کو" شیعہ سنی " لڑائی بنا کر خود قیادت اپنے ہاتھ میں لے لے___
پہلے یہ عام لڑائی تھی، یعنی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف عوام کی پھر سعودیہ نے آ کر اسے جہاد بنایا ____!
سعودیہ نے فری سیرین آرمی کی حمایت کی تو انہوں نے خود کو سعودی مسلکی چهاپ سے بچانے کی خاطر کہا کہ ہمیں کسی بیرونی آشیرباد کی ضرورت نہیں،
سیرین آرمی بشار الاسد کی اصل اپوزیشن ہے، جس میں حکومتی فوج کے باغی لوگ ہیں، ان کے سیاسی لوگ فرانس اور یورپ میں ہیں، اسی کو اپوزیشن مانا گیا ہے، یہی گروپ ہے جس کو یورپ اور اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے،
جہادی فیکٹر _______!
تیونس، مصر، لیبیا اور یمن میں لڑنے والے یا لڑوائے جانے والے یا یوں کہیں کہ خلافت کہ قیام سے فارغ ہونے والوں نے جوک درجوک شام کے نئے محاذ کا بهرپور طریقہ سے رخ کیا، اور قریب 17 سے لے کر 20 کے قریب گروپس وہاں کبهی اتحاد کی صورت میں کبهی انفرادی طور پر حکومت شام کے خلاف انہوں نے لڑنا شروع کیا، اور خاطر خواہ کامیابیاں سمیٹتے رہے، جہاں جہاں کامیابیاں حاصل کرتے رہے وہاں وہاں عوام الناس نے ان تنظیموں کا بهرپور استقبال کیا،
اس دوران عراق کی نئی حکومت کی گرفت ڈهیلی پڑی، اس کا فائدہ اٹها کر صدام کے بقیہ وفادار افسروں اور سابقہ فوجیوں نے عراق کے شدت پسندوں کو ساتھ ملا کر داعش کی بنیاد رکهی، عراق میں خود کو مضبوط کرنے کے بعد داعش شام میں داخل ہوئی، اور شام میں حکومت کے خلاف اپنے طور پہ محاذ گرم کیا اور خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کیں، اور پهر ابوبکر بغدادی کے خلیفہ ہونے کا اعلان کردیا، یہاں پہلے سے برسرِ پیکار 18، 20 مسلح تنظیموں کا داعش سے شدید تر اختلاف پیدا ہوا، یا پیدا کیا گیا، اس اختلاف نے مسلح تنظیموں کی آپس میں اینٹ سے اینٹ بجا دی، تفصیل سے ہم آپ یقیناً باخبر ہیں،
اس موقع پر ایران اور روس نے داعش کی راہ میں روڑے اٹکانے سے خود کو باز رکها، اور روس نے داعش کو مضبوط ہونے میں تیل کی بلیک میں فروخت کے لیے راہداری بهی عطا کی، تاکہ برسرپیکار تنظیموں اور داعش ایک دوسرے کےخون کہ پیاسے بنیں، روس اور ایران اپنے مقصد میں کامیاب رہے،
اور تهوڑے وقت میں داعش دنیا بهر کی غیر سرکاری تنظیموں میں سب سے زیادہ اثاثوں کی مالک بن گئی، پڑهنے میں آیا ہے کہ داعش کے پاس تین ارب ڈالر سے زیادہ کے اثاثے ہیں، اور پهر شام میں لڑنے والے دیگر تنظیموں کے بہت سے جنگجو داعش سے آملے، جس سے وہاں القاعدہ سمیت دیگر تنظمیں شدید تر کمزور ہوئیں، کہتے ہیں داعش شام میں وہ واحد تنظیم ہے جس کا نظریہ صرف مارو یا مرجاو ہے، وہ کسی کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرتی، واللہ اعلم )
داعش اور دیگر تنظیموں کی آپسی جنگ نے حکومتِ شام کو سنهبلنے کا موقع دیا اور شام حکومت کی پشت پر روس کهل کر آگیا، اور ایران سعودی دشمنی میں کیوں پیچهے رہتا _!
اس کے بعد شام میں جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے___!
انا للہ و انا الیہ راجعون
انسانی تاریخ میں شاید کے ایک ہی ملک کی زمین نے تهوڑے وقت میں انسانوں کا دریا کی مانند خون پیا ہو_ وہ ہے ملک شام کی زمین __!!!!
اور نا جانے آگے یہ زمین مذید کتنا خون انسانیت پیئے گی _!
اللہ تعالیٰ شام کے عام مسلمانوں کے حال پر رحم فرمائے اور شام میں برسرِ پیکار مسلح جهتوں کے ماسٹر مائنڈ لوگوں کو عقل سلیم عطا فرمائے،
یہ روداد بیان کرنے کا مقصد قطعاً یہ نہیں کہ شام کے قتل عام میں بےگناہ افراد کے مارے جانے کے لیے دلیل گهڑی جارہی ہے بلکہ یہ وہ حقائق ہیں کہ جو ہم میں سے اکثریت اس سے ناواقف ہیں اب تک ______!
ممکن ہے بہت سی باتیں مبالغہ آرائی لگیں یا ہوں، میری تصحیح کی پوری گنجائش موجود ہے،
اللہ تعالیٰ پورے دنیا کے مسلمانوں کی جان و مال عزت و ناموس کی حفاظت فرمائے،

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers