سیاہ تاج محل :BLACK TAJ MAHAL- ‏The Emperor's Missing Tomb
تاج محل کی تعمیر مکمل ہوچکی تھی. قصر یاسمین سے تاج محل کو دیکھتے ہوئے شاہجہاں کو جمنا کے پانی میں اس کا عکس نظر آتا تھا. اس عکس کو دیکھتے ہوئے شاہجہاں کو یہ خیال آیا کہ اگر جمنا کے شمالی کنارے پر بھی کوئی عمارت تعمیر کر دی جائے تو جمنا کے پانی میں دونوں عمارتوں کا عکس ایک خوبصورت سماں پیش کرے گا، چنانچہ اس نے جمنا کی شمالی سرے پر تاج محل کے مدّمقابل ایک اور تاج محل کی تعمیر کا ارادہ کیا جو تاج محل کے طرز پر بالکل من و عن تعمیر کیا جانا تھا، فرق صرف اتنا کہ اس کی تعمیر میں سفید کے بجائے سیاہ سنگِ مرمر استعمال کیا جاتا. وہ سنگِ مرمر جس سے تختِ جہانگیری بنایا گیا تھا. سیاہ تاج محل کی تعمیر کا آغاز بھی ہوگیا اور اس کی بنیادیں بھی دوسری جانب جا چکیں تھیں کہ شاہجہاں کو بیماری نے آ لیا، اس کے بڑے بیٹے داراشکوہ نے آگے بڑھ کر قبضہ کر لیا، اس کے سگے چھوٹے بھائ اورنگزیب نے اس قبضے کو تسلیم نہ کیا، دونوں کے درمیان دو جنگیں ہوئیں جس میں دارا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، ایران میں پناہ کی غرض سے قندھار کا قصد کیا مگر راستے میں گرفتار ہو کر دہلی لایا گیا جہاں‌ بغاوت اور الحاد و زندقہ کے جرم میں اس کی گردن مار دی گئی.
‎ جب ضعیف شاہِ جہاں نے اپنے چہیتے بیٹے دارا شکوہ کے کٹے ہوئے سر کو اپنے سامنے طشت میں دیکھا تو کون جانے اس کی آنکھوں سے لہو کا جو قطرہ ٹپکا وہی لہو کا سیلاب بن گیا اور اس سیلاب نے سلطنتِ مغلیہ کے خوبصورت نظام کا وجود ہی ختم کر دیا ہو!‘‘
‎ یہ واقعہ اگست 1659 کا ہے، محمد دار اشکوہ کی عمر اُس وقت صرف 44 سال تھی۔
‎ محمد دارا شکوہ کی پیدائش کی تاریخ 20؍مارچ1615 ہے۔ 30؍اگست 1659 کو اُسے قتل کر دیا گیا۔ کٹا ہوا سر شاہِ جہاں کے سامنے رکھا گیا اور دھڑ کو مقبرۂ ہمایوں میں دفن کر دیا گیا، کہاں؟ کسی کو معلوم نہیں، کوئی نہیں جانتا دار اشکوہ کو مقبرۂ ہمایوں میں کہاں دفن کیا گیا ہے۔
‎ شاہِ جہاں کی دو بیٹیاں تھیں حور الانسا بیگم اور جہاں آرا بیگم (دارا شکوہ نے تین بہنوں کا ذکر کیا ہے) ایک بیٹے کی آرزو لیے شہنشاہ درگاہِ عالیہ حضرت غریب نواز خواجہ معین الدین چشتیؒ پہنچا اور اللہ پاک کے رحم و کرم کی بھیک مانگی، دعا قبول ہوئی۔ ۳۰؍مارچ ۱۶۱۵ء (سوموار کی شب، ۲۹؍صفر ۱۰۲۴ھ) کی پیاری خوبصورت شب تھی۔ بیگم ممتاز محل نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ شہزادہ خرم (شاہِ جہاں) اور بیگم ممتاز محل کی مسرتوں میں اضافہ ہوا۔دادا شہنشاہ جہانگیر نے ننھے خوبصورت فرشتے کا نام رکھا دارا شکوہ! ابوطالب کلیم نے قصیدہ کہا ’’گل اوّلین شاہی‘‘ سے تاریخ نکالی یعنی باغِ شاہی کا پہلا پھول!
دارا شکوہ کو قتل کروانے کے بعد اورنگزیب نے شاہجہاں کو نظربند کردیا. اس سیاہ تاج محل کی بنیادیں اب بھی ہیں لیکن اب اسے ایک گارڈن کی شکل دے دی گئی ہے. بالی وڈ فلموں میں تاج محل کو فلمبند کرنے کے لیے اسی گارڈن میں سیٹ لگایا جاتا ہے. تاج میں بے پناہ رش کی وجہ سے فلموں کی شوٹنگ کی پرمیشن نہیں دی جاتی.

حوالے کے لئے مندرجہ ذیل کتاب دیکھئے۔
‏“BLACK TAJ MAHAL: The Emperor’s Missing Tomb
by Iftakhar Nadime Khan (Arshi) (Author)
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers