کمیشن کا اعلان ہوتے ہی دور دراز جیلوں میں قید اکابرین کی لاہور آمد شروع ہو گئ-
سب سے پہلے سینٹر جیل ملتان سے شیخ التفسیر حضرت احمد علی لاہوری کو یہاں لایا گیا- ملتان جیل کی ناقص غذا اور بدترین ماحول کی وجہ سے آپ اسہال اور قے کی تکلیف میں مبتلاء ہو چکے تھے- کمزوری غالب تھی اور چلنا تک دوبھر ہو چکا تھا-
لاہور جیل کی حالت اس سے بھی بری تھی- کڑکتی گرمی اور حبس نے ماحول کو آتش فشاں بنا رکھا تھا- ان حالات میں بھی قیدیوں کو سونے کےلئے فرشی بچھونے مہیّا کئے گئے تھے- لاہور جیل کا اسسٹنٹ سپریڈنٹ حضرت لاہوری رح کا عقیدت مند تھا- آپ کی آمد سے پہلے ہی وارڈ کا سب سے کُھلا اور وسیع کمرہ آپ کےلئے تیار کرایا گیا اور پرتکلّف بستر و چارپائ کا انتظام بھی کر دیا گیا-
آپ کمرہء جیل میں تشریف لائے تو محمّدی بستروں کے بیچ ایک رنگیلی چارپائ دیکھ کر پُوچھا:
"یہ چارپائ کِس کی ہے ...؟؟"
مولانا مجاھدالحسینی بھی موجود تھے ، بول اٹّھے:
"ہم نے بچھائ ہے .... حضرت جی کےلئے !!! "
" واہ !!! .... یعنی جانثارانِ محمد ﷺ تپتے فرش پر سوئیں .... اور احمد علی ان کے بیچ چارپائ پر آرام کرے ؟؟ "
تعمیلِ ارشاد میں آپ کا بستر بھی تپتے فرش پر بچھا دیا گیا- مرید ہمیشہ پِیر صاحب کی پائنتی کی جانب سویا کرتے ہیں تاکہ عزّت و احترام میں فرق نہ آئے- لیکن حضرت لاہوری رح کو یہ بھی گوارا نہ ہوا اور اپنا بچھونا خود اٹھا کر جانثاران محمّد کے قدموں کی طرف ڈال دیا-
وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں
آدمی بے نظیر ہوتے ہیں
تیری محفل میں بیٹھنے والے
کتنے روشن ضمیر ہوتے ہیں
اگلے کچھ ہفتوں میں تحریکِ ختم نبوّت کی مرکزی قیادت یہاں تشریف فرما ہوئ تو جیل کی رونقیں بامِ عروج پر پہنچ گئیں- حضرت ابوالحسنات سیّد احمد قادری ، حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری ، مولانا عبدالحامد بدایونی ، علّامہ مظفر علی شمسی ، مولانا محمد علی جالندھری ، شیخ حسام الدین ، ماسٹر تاج الدین انصاری اور دوسرے اکابرین حیدر آباد اور سکھّر کی دُور دراز جیلوں سے یہاں لائے گئے-
اکابرین ختم نبوّت کو جیل کے "دیوانی گھر" میں رکھّا گیا- دیوانی گھر کا صحن کافی کشادہ تھا اور کسی قدر سایہ بھی میّسر تھا- صحن میں ایک خوبصرت باغیچے کے ساتھ ساتھ باورچی خانے اور خانساماں کی سہولت بھی دستیاب تھی-
جیل کے طویل برامدے میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا ایک نوجوان قیدی ، صبح صبح دیوانی گھر کے دروازے پر آن پہنچا-
عطاء اللہ شاہ بخاری رح کی نظر پڑی تو بے ساختہ "شہیدِ اعظم" کہ کر گلے لگا لیا پھر اس کا ہاتھ تھامے بیری کے اس درخت کے نیچے لے گئے جہاں چارپائ پر ضعیف و نزار ابوالحسنات قران کی تفسیر لکھنے میں مگن تھے-
" حضرت جی ..... مبارک ہو ..... خلیل آیا ہے " شاہ جی کی آواز بھرا گئ-
ابوالحسنات مصحف سمیٹتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے ، فرزند کو گلے لگایا اور کہا:
"ہمیں تو اطلاع ملی تھی .... شہید ہو گئے ہو !!!"
" بس .... شہادت مجھے چھو کر ہی گزر گئ .... پھانسی کی سزا ہوئ تھی ... اب عمر قید میں بدل چکی ہے"
" کاش .... اللہ میرے بیٹے کی قربانی قبول کر لیتا ... !!! "
" آپ بہت کمزور ہو گئے ہیں ... "
"ہاں بیٹا .... ہمیں سکھر میں نہیں .... سقّر میں رکھا گیا تھا .... 126 درجہ حرارت تھا ..... پانی بھی وقت مقررہ پر ملتا تھا .... اکثر پسینہ سے ہی غُسل کیا کرتے تھے .... سر پر لوہے چادر تان کر .... جیل کی تپتی دیواروں میں بیٹھ کر .... تمہارے فراق کا درد سہا ہے میں نے .... جب بھی تمہاری یاد آتی تھی .... قران کی تفسیر لکھنے بیٹھ جاتا تھا .... "
سینٹرل جیل لاہور میں میلے کا سا سماں تھا- بیرکوں سے باہر ہزاروں لوگ جمع تھے- اس دوران حکومت نے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو بھی گھروں سے گرفتار کر کے جیل میں لا بٹھایا- بیرکوں میں جگہ ختم ہو گئ تو باہر وسیع میدان میں خاردار تار لگا کر شمع رسالت کے پروانوں کو حراست میں رکھا گیا- جیل کے اندر عجب چہل پہل اور کیف و سرور کا عالم تھا- کہیں نعت خوانی ہو رہی تھی تو کہیں ختمِ نبوّت پر تقاریر -کہیں ذکرواذکار چل رہا تھا تو کہیں درودوسلام کے غلغلے بلند تھے- فرقہ پرستی کی دیواروں پر "مسلکِ عشق رسول ﷺ " کی کونپل کیا پھوٹی زندانوں میں بھی بہار آ گئ-
اکابرین کی آمد کے ساتھ ہی جیل میں ملاقاتیوں کا تانتا بندھ گیا- دوسری بیرکوں کے قیدی بھی جوق درجوق یہاں آنے لگے- ابولحسنات جیل کے راشن سے خود مہمانوں کےلئے مٹھائ وغیرہ تیّار کر رہے تھے- ایک روز بوقتِ عصر آپ نے حلوے کا ایک بڑا ڈونگا اٹھایا اور اکابرین کے بیچ آن رکھا ....
"یہ کیا ہے حضرت ؟؟ " کسی نے پوچھا-
"حلوہ ہے .... !!! "
"کس خوشی میں ؟؟؟"
"گیارہویں شریف کا ختم ہے !!! "
" گیارہویں شریف ؟ ؟؟ " دو تین اکٹھی صدائیں آئیں-
" آپ حضرات کو اگر اعتراض نہ ہو تو ختم شریف میں شرکت فرما سکتے ہیں .... "
حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری رح ، ماسٹر تاج الدین ، مولانا محمد علی جالندھری ، مولانا مودوی اور کئ دوسرے اکابرین موجود تھے- اس دوران ساتھ والی بیرک سے غلام محمد ترنّم اہلحدیث عالم مولانا محمد اسمعیل کا ہاتھ پکڑے پکڑے دیوانی گھر لائے اور ازراہ مذاق فرمایا:
"آج اس وہابی کو بھی گیاریویں کا تبرّک کھلانا ہے ... "
مولانا اسمعیل ہنستے ہوئے محفل میں آکر بیٹھ گئے- فاتحہ شریف کے بعد سب نے تبرک کھایا ماسوائے مولانا محمد علی جالندھری کے جو بدعت بدعت کہتے ہوئے اٹھ کر چلے گئے-
مولانا محمد اسمعیل ، ابولحسنات سے کچھ دیر فقہی سوالات و جوابات کرتے رہے پھر کہا :
" اگر یہی گیارہویں ہے ..... تو رہائ کے بعد آپ روزانہ میرے گھر تشریف لائیے گا اور گیارہویں شریف کی فاتحہ کیجئے گا ... "
♡------------------♡
ایک روز صبح ہی صبح دیوانی گھر کا سپریڈنٹ دوڑا چلا آیا-
" شاہ صاحب ..... باہر کچھ قیدی آپ کی دید کے طالب ہیں ... "
امیرِ شریعت رح بے ساختہ اُٹّھے اور ننگے پاؤں بے محابہ دوڑتے ہوئے باہر صحن تک پہنچے- جیل کے درودیوار اسیران کی ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی جھنکار سے گونج رہے تھے-
آپ نے عاشقانِ ختمِ نبوّت کو باری باری گلے لگایا ، ان کے آہنی زیورات کو وارفتگی سے چوما ، پھر اشک بار آنکھوں اور غم ناک لہجے میں ارشاد فرمایا:
"آپ لوگ میرا سرمایہء نجات ہیں ----- میں نے آپ کو روٹی ، کپڑا یا کسی اور مفاد کےلئے آواز نہیں دی ----- لوگ تو دنیاوی مفادات کےلئے بھی بڑی بڑی قربانیاں دیتے آئے ہیں ------ میں نے تو آپ کو اپنے نانا کریم حضرت خاتم النبییّن ﷺ کی ناموس رسالت کےلئے پکارا ہے ------ اور یہ قیدوبند کی صعوبتیں ------- یہ دارو رسن ------- اسی عظیم مقصد کےلئے ہیں ------ آپ میں سے کوئ ایسا نہیں جو سیاسی شہرت یا ذاتی وجاہت چاھتا ہو ------- آپ جیل میں بھی غیر معروف ہیں ---- اور باہر بھی آپ کا استقبال کرنے والا کوئ نہیں ہوگا ------- کوئ آپ کے گلے میں پھولوں کے ہار نہیں ڈالے گا ------ نہ ہی کوئ کندھوں پر اُٹھائے گا ------- لیکن اللہ آپ کی نیّت اور اردوں کو دیکھ رہا ہے ------- آپ لوگ تحفظِ ختم نبوّت کی نیّت سے اندر آئے ہو ----- اور اسی نیّت سے باہر جاؤ گے ---- یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ---- اور یہی میرے لئے سب سے بڑا سرمایہء ہے --- "
اسیران کی آنکھیں فرطِ مسرت سے چھلک اٹھیں .... ریاست کے لگائے ہوئے زخموں پر آشنائے راز نے مرہم رکھا تو روح تک تاثیر پہنچ گئ ..... اپنے محبوب رہنماء کو لباسِ اسیری میں دیکھ کر وہ اپنی ہتھکڑیوں پر فاخرونازاں ہونے لگے .... پژمردہ چہروں پر بہار آگئ .... زخم خوردہ دل دھڑک اٹھے ... !!!
زنداں کے درودیوار سے ٹکراتی مولانا نیازی کی پردرد صدا اس کیفیّتِ عشق کا احوال بیان کر رہی تھی .... جو محبوب کی خاطر طوق و سلاسل پہن کر بھی عاشق کو مسرور رکھتی ہے ....
آکھیں سوہنے نوں وائے نی جے تیرا گُزر ہووے
میں مر کے وی نئیں مَردا جے تیری نظر ہووے
دم دم نال ذِکر کراں میں تیریاں شاناں دا
تیرے نام تُوں وار دِیاں جِّنی میری عُمر ہووے
دِیوانیو بیٹھے رہوو ، محفل نُوں سجا کے تے
شاید میرے آقا دا ، ایتھوں وی گُزر ہووے
کیوں فکر کریں یارا ماسہ وی اگیرے دا
اوہنوں ستّے ای خیراں نیں جِہندا سائیں مگر ہووے
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers