اگلے روز چاند پوری صبح صبح اخبار لئے دوڑے آئے:
" مولانا مودودی کو بھی سزائے موت سنا دی گئ ...."
" یا اللہ خیر !!!! مودودی صاحب نے کیا کر دیا ؟؟"
" انہوں نے "قادیانی مسئلہ" لکھ کر جابر سلطان کے سر میں ہتھوڑا مارا ہے"
"قادیانی مسئلہ ؟؟ ... ایک کتابچہ لکھنے پر سزائے موت ؟؟ "
" بھائ ختم نبوّت کا لفظ زبان سے نکلا نہیں اور گلے میں پھندا ڈلا نہیں ... دیوانے بھی پابجولاں ہیں اور عقل والے بھی پسِ زنداں"
" کمال ہے .... !!! "قادیانی مسئلہ" تو ایک انتہائ لاجیکل اور معتدل رسالہ تھا .... "
" پڑھے لکھے طبقے کی آنکھیں کھولنے کےلئے تو کافی تھا ناں بھائ .... دنیا بھر میں اس کے تراجم شائع ہو رہے تھے ... مولانا نے قادیانیت کو ایک سنگین مذھبی ، معاشرتی اور سیاسی مسئلہ قرار دیکر اسے دستوری طریقے سے حل کرنے کی بات کی تھی .... اور سرکار ابھی مودودی صاحب کے لگائے ہوئے پرانے زخم نہیں بھول سکی "
" پرانے زخم ؟؟ "
" مودودی صاحب کا اصل قصور یہ ہے کہ وہ ملک میں اسلامی دستور سازی کےلئے کام کر رہے تھے .... اسی جرم کی پاداش میں دوسال جیل بھی کاٹ چکے ہیں .... اب حکومت پر قابض لبرل طبقات انہیں رستے سے ہٹانا چاھتے ہیں .... ہمیشہ ہمیشہ کےلئے .... یہ ہے اصل کہانی ... !!! "
اگلے روز حالات جاننے کےلئے ہم سینٹرل جیل پہنچے- جیل کے باہر جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کا ایک جمِّ غفیر موجود تھا- لوگ بے حد غم زدہ تھے- اسی اثناء میں کچھ کارکنان ایک وکیل کو ساتھ لئے آن پہنچے- کچھ دیر بحث و تکرار ہوتی رہی- پھر یہ قافلہ جیل حکام سے بات چیت کر کے اندر جانےلگا تو ہم بھی پیچھے پیچھے ہو لیے- طویل تاریک راھداریوں سے گزر کر اب ہم موت کی کوٹھڑیوں کے سامنے کھڑے تھے-
" مولانا صاحب !!! حکومت اس وقت اشتعال میں ہے .... آپ ایک چھوٹا سا بیان لکھ کر دے دیں .... ہم آپ کی سزائے موت رکوانے کی کوشش کرتے ہیں " وکیل نے کہا-
" کس قسم کا بیان ؟؟" مودودی صاحب نے پوچھا-
" رحم کی اپیل ..... !!! "
" ہرگز نہیں ..... !!! میری طرف سے .... میرے خاندان کی طرف سے .... یا جماعتِ اسلامی کی طرف سے کوئی بھی شخص میرے لئے کوئ اپیل نہیں کرے گا .... مقدر میں شہادت لکھی ہے تو بخوشی اپنے رب سے جا ملوں گا ..... مجھے انہی کپڑوں میں دفنا دینا اور نفاذِ اسلام کے مشن کو جاری رکھنا ...."
"لیکن ایک چھوٹی سی اپیل کرنے میں ہرج ہی کیا ہے .... ؟؟ " وکیل نے کچھ کہنے کی کوشش کی-
" اگر آج میں ظالم حکمرانوں کے سامنے اپیلیں کرنے لگا تو ملک سے انصاف کا جنازہ ہمیشہ کےلئے اٹھ جائے گا .... !!! "
ان سے چند قدم آگے دوسری کوٹھڑی میں مولانا نیازی تھے- انہوں نے للکار کر کہا :
" بے فِکر رہیں .... اس بزدل حکومت میں اتنی جرات نہیں کہ ہمیں پھانسی پر لٹکا سکے .... وہ یہ رسک کبھی نہیں لے گی ... حکومت تو اپنی موت سے آپ ڈر رہی ہے !!! "
مولانا مودودی کی پھانسی کے فیصلے سے پاکستان کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام میں بھی رنج و اندوہ کی کیفیت دوڑ گئ- حکومت پر اندرونی و بیرونی دباؤ بڑھنے لگا- حکومتی کارپرداز سر جوڑ کر بیٹھ گئے چنانچہ کچھ روز بعد پھانسی کو عمر قید میں تبدیل کر کے اس دباؤ سے نجات حاصل کر لی گئ-
⊙________⊙
تین ماہ بعد جا کر بادِ سموم کُچھ تھمی
لاہور سے مارشل لاء اٹھا دیا گیا اور شہری سرگرمیاں آہستہ آہستہ بحال ہونے لگیں-
تحریکِ ختم نبوّت مسلمانوں اور قادیانیوں کے بیچ خون کی ایک ایسی لکیر کھینچ چکی تھی جسے اب دہر کے اندھیرے بھی نہ مٹا سکتے تھے- شہر شہر کُھلے "احمدی دسترخوان " ویران ہو گئے اور مرزائ سبیلوں پر مکھیاں بھنبھنانے لگیں-
بظاہر مجلس عمل کا کوئ بھی مطالبہ منظور نہ ہو سکا تھا لیکن احمدیّت ، قادیانیت کے بوسیدہ لباس میں سمٹ کر رہ گئ تھی- آکاس بیل کی جڑ کٹ چکی تھی ، اب صرف اسے اسلام کے شجرِ پربہار سے اتار کر پھینکنا باقی تھا- اس تحریک کی سب سے بڑی کامیابی مسلمانوں کے باہم متحارب فرقوں کے بیچ ایک مثالی اتحاد کا مظاہرہ تھا- دیوبند ، بریلوی ، شیعہ و اہلحدیث کے بیچ لاینحل تنازعوں کی چنگایاں بجھ گئیں اور وہ ختم نبوّت کے نام پر ایک امّت بن گئے- قادیانیت کا تا قیامت پیچھا کرنے کےلئے مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت کا قیام بھی عمل میں آ گیا-
تحریک ختمِ نبوّت 1953ء حکومتی ایوانوں میں بھی ایک بہت بڑی دراڑ ڈال چکی تھی-
دارلخلافہ کراچی میں بیٹھے صوفی منش وزیراعظم تک لاہور کے کشت و خون کی خبر پہنچی تو انہوں نے وزیراعلی پنجاب میاں ممتاز دولتانہ کی چھٹّی کرا دی- جوب آں غزل گورنر جنرل غلام محمد نے جمہوریت کا فانوس گُل کرتے ہوئے وزیر اعظم کا تختہ اُلٹ دیا- مولوی تمیزالدین اسپیکر نیشنل اسمبلی نے اس اندھیر نگری کے خلاف " آئین الحق " کی صدا بلند کی تو جسٹس منیر "نظریہء ضروت " کا کلہاڑا اٹھا کر کھڑے ہو گئے- ھنری ڈی بریٹن کا تین سو سال پرانا " Doctrine of Necessity" ، جسٹس منیر کے ہاتھ لگا تو انہون نے جھاڑ پونچھ کر اس میں نیا قانونی دستہ ٹھونکا اور قیامت تک کےلئے عدلیہ کے گلے میں لٹکا دیا- یوں پاکستان "نظریہء ضرورت" کو اپنانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ، جسے اہل یورپ ، بے کار سمجھ کر تاریخ کے کباڑ میں پھینک چکے تھے-
ان اقدامات سے ملک سیاسی توانائ سے محروم ہو گیا- اور جمہوریت فالج زدہ ہو گئ- ایک طرف عالمی استعمار کی مداخلت بڑھی ، دوسری طرف محلّاتی سازشیں زور پکڑنے لگیں- قائدِ اعظم کے رفیقِ کار آہستہ آہستہ ایوان سر رخصت ہوتے گئے اور ان کی جگہ ننگِ ملت ننگِ قوم آزاد خیال طبقہ اقتدار پر قابض ہوتا چلا گیا- جمہوری وجود اور قومی سالمیّت کو جو سرطان لگ چکا تھا یہی آگے جا کر ملک کے دو لخت ہونے کا سبب بن گیا-
1953ء کے موسم بہار کا ہر پھول ، شہدائے ختمِ نبوّت کے خون کی سرخی میں ڈوب کر کھلا- بہار رخصت ہوئ تو مئ کی دھوپ سوختہ پیراہن کو جلانے لگی- دولتانہ صاحب کے بعد پنجاب کی وزارتِ اعلی کا ھُما ملک فیروز خان نون کے سر پر بیٹھا تو رِستے زخموں کو معمولی پھاہا میسّر آیا-
ملک صاحب قائدِ اعظم کے پرانے رفیق تھے اور قدرے نرم مزاج رکھتے تھے- انہوں نے مارشل لائ پھانسیوں کو عمرقید میں تبدیل کر دیا حالانکہ اسکندر مرزا پاکستان میں بسنے والے ہر مولوی کو توپ سے اڑا دینے کا تمنائ تھا- دوسری طرف "فسادات لاہور" کے نام سے ایک تحقیقاتی کمیشن بھی بٹھا دیا جس کا کام مارشل لاء کی وجوہات کا پتا چلانا اور سول انتظامیہ کی ناکامی کے اسباب ڈھونڈنا تھا-
پھر ایک روز یہ عمدہ خبر بھی آئ کہ کمیشن کے سامنے بیان دینے کےلئے ، سکھّر ، حیدرآباد ، ملتان اور ملک کی دوسری جیلوں میں قید اکابرینِ ختمِ نبوّت کو لاہور سینٹرل جیل منتقل کیا جا رہا ہے-
یہ خبر سن کر مردہ تنوں میں ایک بار پھر زندگی کے آثار دکھائ دینے لگے-
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers