22 اپریل ..... 1953ء
ہم لاہور پہنچے تو دنیا ہی بدل چکی تھی-
شہر کے معاملات کافی حد تک درست ہو چکے تھے- فوج نے لوکوشیڈ ، ٹیلی فون ، بجلی اور پانی کا نظام بحال کر دیا تھا-
ہزاروں مسلمانوں کو خاک و خون میں تڑپا کر ، ایک لاکھ افراد کو پسِ زنداں دھکیل کر اور تقریباً 10 لاکھ کو متاثر کر کے تحریکِ مقدّس کو بزورِ قوّت دبایا جا چکا تھا- لاہور کے علاوہ سیالکوٹ ، گوجرانوالا ، راولپنڈی ، فیصل آباد ، ساہیوال ، اوکاڑہ اور اندرونِ سندھ میں بھی کم و بیش داستانِ لاہور ہی دہرائ گئ- کہیں لاٹھی چارج سے کام چلایا گیا تو کہیں گولی سے تحریک کو دبایا گیا-
لاہور کے شاھی قلعے میں اب بھی بے شمار لوگ مبحوس تھے جن پر قادیانی انتظامیہ جی بھر کے تشدّد کر رہی تھی- شہر بھر کی مساجد خفیہ والوں کے پہرے میں تھیں- اور منابر و مجالس سے تین الفاظ ادا کرنا مملکت سے غدّاری تصوّر کیا جا رہا تھا ..... ختمِ نبوّت ، قادیانیّت اور سرظفراللہ خان !!!
اگلے روز ہم شہر کی صورتحال جاننے کےلئے باہر نکلے- شالیمار کے قریب ایک بازار میں ہنگامہ نظر آیا- بارڈر پولیس کے دو اہلکار ایک صحت مند قسم کے مولوی صاحب سے دست و گریبان تھے- مولوی صاحب مسجد کی طرف زور لگا رہے تھے اور پولیس والے انہیں وین کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہے تھے- اس رسّہ کشی کو دیکھ کر وہاں کافی لوگ اکٹّھے ہو گئے-
پولیس والے رش دیکھ کر پریشان ہو گئے اور مولوی صاحب کو چھوڑ دیا- ان کا گریبان پھٹ چکا تھا-
" او کی ہو گیا جوانوں ؟ .... کی کیتا مولی صاب نے ؟؟ " مجمع میں سے ایک بزرگ نے آواز لگائ-
" یہ خانہ خراب کا بچہ .... لوڈ سپیکر پہ غدّاری کا بات کرتا ہے .... " باڈر پولیس والے نے کہا-
" جھوٹ اے ..... میں کوئ غدّاری دی گل نئیں کیتی ...." مولوی صاحب نے بٹن بند کرتے ہوئے کہا-
" تم نے ختمِ نبوّت بولا .... ام نے خود آنکھوں سے سُنا "
"اپنے کنّاں دا علاج کراء .... میں ختم شریف دا اعلان کیتا سی ... " مولوی صاحب نے صفائ پیش کی-
"تم نے ختم کا نام تو لیا ناں .... اب پوجی عدالت پھیسلہ کرے گا ... "
"آپ جانتے ہیں ختمِ نبوّت کا مطلب کیا ہے ؟" چاند پوری نے پولیس والے کو مخاطب کیا-
" جانتا ہے ..... یہ ملک سے غدّاری کا بات ہے " پولیس والے نے کہا-
" تٌم احمدی ہو یا غیر احمدی ؟"
"وہ کیا ہوتا ہے ؟"
"مرزا غلام احمد قادیانی کا نام سنا ہے "
"ہاں سنا ہے "
"کون تھا وہ ؟"
"جھوٹا نبی تھا ... "
" بالکل ٹھیک .... اسی جھوٹے نبی کے ماننے والے ختمِ نبوّت کے منکر ہیں .... جب کہ مسلمان ختم نبوّت پر کامل یقین رکھتے ہیں .... ختم نبوّت کا مطلب ہے کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد کوئ شرعی غیر شرعی نبی نہیں آ سکتا ... ختمِ نبوّت کی بات کرنا کوئ گناہ نہیں بھائ .... بلکہ یہ تو بڑے ثواب کا کام ہے "
" لیکن ہمارا آپیسر تو بولتا ہے یہ غدّاری کا بات ہے !!!"
" تمہارا افیسر قادیانی ہے .... یا پھر قادیانیّت نواز .... بھائ ایک دن ہم سب کو مرنا ہے ... اللہ کے حضور پیش ہونا ہے ..... نبی پاک ﷺ کے مبارک ہاتھوں سے جامِ کوثر پینا ہے .... قادیانی اس نبی کریم ﷺ کے دشمن ہیں .... اس ملک میں غلام احمدی نظام لانا چاھتے ہیں ..... تحریک ختم نبوّت کی جدوجہد اسی کافرانہ نظام کے خلاف ہے "
چاند پوری کا لیکچر سن کر پولیس والا کچھ موم ہوا اور مولوی صاحب کو چھوڑ دیا-
شاھی قلعے میں فوجی عدالت قائم تھی جو ریوڑیوں کی طرح سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں بانٹ رہی تھی- ہر روز کوئ نہ کوئ نئ خبر عوام کے زخموں پر نمک بن کر گرتی-
ایک دن خبر آئ کہ مونا عبدالستار نیازی کو بھی سزائے موت سنا دی گئ ہے-
مولانا نیازی مارشل لاء کی آمد کے ساتھ ہی روپوش ہو گئے تھے- ان کا ارادہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اچانک وارد ہو کر ایک پرجوش تقریر کر کے گرفتاری دینے کا تھا لیکن یہ خبر حکومت کے کانوں میں بھی پہنچ گئ- اسمبلی کا اجلاس ایک ہفتے کےلئے ملتوی کر دیا گیا اور شہر بھر میں نیازی صاحب کی تلاش میں چھاپے پڑنے لگے- ایک ہفتہ بعد اجلاس کی تاریخ مزید آگے بڑھائ گئ تو نیازی صاحب بھیس بدل کر لاہور سے نکل گئے- وہ پہلے اوکاڑہ تشریف لے گئے ، وہاں سے پاکپتن گئے لیکن ختم نبوّت کے پروانوں کےلئے روئے زمین تنگ ہو چکی تھی- پاکپتن کے گدی نشینوں نے انہیں وقتی پناہ دینے سے بھی انکار کر دیا- اس کے بعد وہ بزریعہ دیپالپور قصور تشریف لے گئے-
نیازی صاحب کا ارادہ تھا کہ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی وہ لاہور قصور روڈ پکڑیں گے ، اور پنجاب اسمبلی کے سامنے اتر کر بھاگم بھاگ ایوان کے اندر چلے جائیں گے جہاں پولیس کسی کو گرفتار کرنے کی مجاز نہ تھی- اس کے بعد تقریر کر کے اپنا مؤقف پیش کریں گے ، اور اسمبلی گیٹ پر گرفتاری دیں گے- لیکن قصور میں ان کے قیام کے دوران ہی مخبری ہو گئ اور وہ دھر لئے گئے-
مولانا نیازی اور مولانا خلیل احمد قادری پر فوجی عدالت میں کئ روز تک مقدمہ چلتا رہا- ان پر اور ان کے نو ساتھیوں پر ڈی ایس پی فردوس شاہ کے قتل کا جھوٹا مقدمہ تیار کیا گیا- ان کے خلاف پیش ہونے والے گواہوں میں مولوی سلیم بھی پیش پیش تھا- یہ وہی مولوی سلیم تھا جس نے قران پاک کے اوراق گندے نالے سے نکال کر عوام کو مشتعل کیا تھا ، جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی فردوس شاہ کا قتل ہوا تھا-
ایک دن "چلتی پھرتی عدالت" نیاز ھسپتال پہنچی جہاں مولانا عبدالستار نیازی بغرضِ علاج داخل تھے- فوجی افسران کے کے ہاتھ میں فیصلے کی کاپی تھی- تمام ملزمان کو ایک کمرے میں جمع کر کے فیصلہ سنایا گیا:
"آپ حضرات پر ڈی ایس پی فردوس شاہ کے قتل کا الزام ثابت نہیں ہو سکا .... عدالت آپ سب کو باعزّت برّی کرتی ہے"
رضاکاروں کے چہرے خوشی سے تمتا اٹھے- جب سب لوگ جانے لگے تو آفیسر نے نیازی صاحب کو روک لیا:
" مولانا آپ پر بغاوت کا الزام بھی ہے ؟؟ "
"ہاں ..... ہے تو سہی " مولانا نیازی نے جواب دیا-
"آپ کے بارے میں کچھ اور فیصلہ ہے .... " آفیسر جیب سے ایک دوسری پرچی نکالتے ہوئے بولا-
"جی سنائیے .... !!!" نیازی صاحب ہمہ تن گوش ہو گئے-
فوجی آفیسر نے کانپتے ہاتھوں سے پرچی میں لکھا فیصلہ سنایا:
" عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ تمہیں گردن میں رسی ڈال کر موت واقع ہونے تک پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جائے !!! "
" بس یا کچھ اور بھی ؟؟ .... " مولانا نیازی نے اطمینان سے کہا- " اگر اس سے بھی بڑی کوئ سزا ہے تو دے دیجئے .... میں ناموسِ رسالت ﷺ کی خاطر سب کچھ برداشت کرنے کو تیّار ہوں "
" ناؤ سائن دس پیپر .... !! " آفیسر نے کچھ کاغذات آگے بڑھائے-
نیازی صاحب نے جواب دیا .... " I will sign , when I will kiss the rope ..."
" لیکن سائن تو آپ کو ابھی کرنے ہونگے ..... "
" آپ مجھے ابھی پھانسی کے پھندے پر لے جاؤ .... میں ابھی سائن کر دیتا ہوں !!! "
" مولانا ...... مجھے اپنے سینئرز کو جواب دینا ہے کہ میں نے نوٹس آپ تک پہنچا دیا ہے "
" اچھا ..... اگر سینئرز کا اتنا ہی خوف ہے تو لائیے .... " یہ کہ کر مولانا نیازی نے موت کے پروانے پر دستخط کر دیے-
آفیسر سراسیمہ ہو کر باہر نکلا جبکہ مولانا وجدانہ کیفیّت میں یہ شعر پڑھتے ہوئے کمرے سے باہر آئے:
کشتگانِ خنجر تسلیم راء
ہر زماں از غیب جانِ دیگر است
جو تیری رضاء کے خنجر سے ذبح ہوتے ہیں ، ہر دور میں ، غیب سے اک نئ حیات پاتے ہیں .... !!!
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers