سکھّر میں شام ڈھل رہی تھی-
ہمیں آج ہی رات دس بجے بزریعہء خیبر میل لاہور کےلئے روانہ ہونا تھا-
جیل گیٹ پر ایک حسرت آمیز نظر ڈالتے ، ہم بیگ آٹھائے واپس چل دیے- نہر پار کر کے ہم لاہور کراچی روڈ تک پہنچے اور ریلوے اسٹیشن جانے کےلئے یکّہ کے انتظار میں کھڑے ہو گئے- ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئ تھی کہ جیل روڈ کی طرف سے ایک سائیکل سوار سنتری آتا دکھائ دیا- نہر کنارے آ کر اس نے سائیکل کھڑی کی اور ہمیں آواز دینے لگا-
میں نے چاندپوری کو اس طرف متوجہ کیا تو وہ مجھے بیگ پکڑا کر اس کی طرف چلے گئے- دونوں کے بیچ کچھ دیر گفتگو ہوئ پھر چاند پوری نے اشارہ کر کے مجھے بھی بلا لیا-
"خیریت تو ہے ... کیا مسئلہ ہو گیا ؟ " میں نے پُوچھا-
" معلوم نہیں .... وارڈن نے بلایا ہے "
" وارڈن نے ؟ خیریت ؟ آخر کس لئے ؟"
" یہ تو جا کر ہی معلوم ہوگا .... اللہ بہتر کرے گا ... !!"
ہم نصف کلومیٹر چل کر واپس جیل گیٹ پر پہنچے تو نئے سنتری اپنی ڈیوٹی سنبھال چکے تھے- انہوں نے نہایت اخلاق سے ہمارا استقبال کیا- ہمارا بیگ اتروا کر اندر چوکی میں رکھّا- پھر ایک حوالدار نے اپنے ساتھی کو آواز دی-
" اللہ بچائیو ... مہمانوں کو اندر ابڑو صاحب کے پاس چھوڑ آؤ !!! "
"یہ ابڑو صاحب کون ہیں بھائ ؟"
" فکر کی بات نئیں ہے بابا .... وارڈن صاب نے آپ کو یاد کیا ہے .... "
ہم دھڑکتے دل کے ساتھ سنتری کے پیچھے پیچھے چل دیے- وہ ہمیں مختلف برامدوں سے گزارتا وارڈن کے دفتر تک چھوڑ آیا-
یہاں ایک گھنّی داڑھی اور بھاری مونچھوں والا شخص بیٹھا ہوا تھا- اس نے اٹھ کر ہمارا یوں استقبال کیا جیسے مدت سے ہماری راہ دیکھ رہا ہو- حالات کے بدلتے تیور دیکھ کر ہم دریائے حیرت میں غوطے کھانے لگے-
"اللہ بچائیو .... سائیں کڑک چائے بنواؤ فٹا فٹ !!! " وارڈن نے سنتری کو حکم کیا اور ہمیں بڑی عزت سے کرسیوں پر بٹھا دیا-
"اور سائیں ... حال سُٹّھو آہے ناں ..."
"جی الحمد للہ " چاند پوری نے جواب دیا-
" ہم قادر بخش ابڑو ہئے ... یہاں کا وارڈن .... !!! "
" کہیے کیسے یاد فرمایا ؟؟ "
" ارے بابا .... بس ایک چھوٹی سی مجبوری ہئے " وہ ہنستے ہوئے بولا-
"خیریت ؟ کیسی مجبوری ؟ "
" او سائیں .... بڑی ڈاڈھی مجبوری ہئے .... لیکن مسئلہ سرکاری ہئے .... ورنہ آپ کو مشقّت نہ دیتا ...."
"سرکاری مسئلہ .... ہم سمجھے نہیں "
" اوپر سے کچھ ڈاک آیا ہے ..... ہمارا منشی عید کی چھُٹّی چلا گیا ہئے .... ادھر کوئ مانڑوں زیادہ پڑھا لکھا نئیں ہئے ... سویرے یہ ڈاک ............. قیدیوں تک پہنچانا ہے" وہ کچھ لفافے دراز سے نکالتے ہوئے بولا-
" لیکن آپ نے ہمیں کس لئے زحمت دی .... ؟؟"
" ہم آپ کو سمجھاتا ہے بابا ... " وارڈن لفافے میز پر سجاتے ہوئے بولا- " دراصل جیل میں آنے والی ڈاک سنسر ہوتی ہئے ... خاص طور پر مولبی لوگوں کی چٹھیاں .... مجبوری ہئے .... اوپر سے یہی آرڈر ہے بابا ... یہ کام ہمارا منشی خیر محمد کرتا تھا ... لیکن آج دوپہر کو وہ چھٹی لیکر چلا گیا ہئے .... عید آرہی ہے ناں .... اس لئے .... نیا آدمی دو روز بعد آئے گا .... سویرے سویرے جیل سپریڈنٹ کو رپورٹ دینا ہوتی ہے ... اب ادھر سب چٹے ان پڑھ ہیں بابا .... سنتری لوگوں نے بتایا کہ ایدھر کوئ اخبار والا آیا ہوا ہے .... پھر مالوم ہوا کہ آپ لوگ چلا گیا ہے ... اس لئے دوست محمد کو آپ کے پیچھے بھگایا .... "
" ٹھیک ہے .... لیکن یہ کام آپ کسی قیدی سے بھی کروا سکتے تھے ..... "
"بابا .... منہائ ہے .... یہ سب خفیہ ماملا ہے ... کیا کریں ؟ "
چاند پوری کرسی گھسیٹ کر وارڈن کے قریب ہو گئے- اور خطوط کی جانچ پڑتال کرنے لگے-
کل چار خطوط تھے- ان میں دو تو غیر متعلقہ تھے- ایک سرکاری چٹھی تھی جو شاید لاہور سے آئ تھی- اس میں کسی سرکاری کمیشن کا تذکرہ تھا جو اگلے مہینے بیٹھنے والا تھا- اس کے علاوہ ایک خط سیّد مظفر علی شمسی کے نام تھا ، جو شاید گھر سے ان کی چھوٹی بہن نے لکھّا تھا-
"بس ایک یہی خط ہے مولوی لوگوں کا ... باقی تو سب سرکاری چٹھیاں ہیں " چاند پوری نے کہا-
"اچھا بابا ..... یہی ہم کو پڑھ کر سمجھا دو .... " وارڈن نے کہا-
"لیکن کسی کا خط پڑھنا .... غیر مناسب ہے ... "
"مجبوری ہائے بابا .... ورنہ آپ کو کیوں تکلیف دیتا .... "
چاند پوری نے نہایت احتیاط سے لفافہ چاک کیا اور با آوازِ بلند خط پڑھنے لگے :
میرے پیارے بھیّا ..... اسلام علیکم !!!
اللہ تعالی نے آپ کو جس امتحان میں ڈالا ہے ، کامیاب کرے- میں آپ کو پریشان تو نہیں کرنا چاھتی لیکن انتہائ مجبوری ہے ، جس کی وجہ سے یہ خط لکھ رہی ہوں- میں کچھ ماہ سے سخت بیمار ہوں- کھانسی زوروں پر ہے ، بخار دامن نہیں چھوڑتا ، اور ٹمپریچر 104 سے نیچے نہیں آتا- ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ ٹی بی کی آخری اسٹیج ہے- ماں باپ نے مجھے آپ کے سپرد کیا تھا ، اب موت مجھے لئے جا رہی ہے- کاش آخری وقت میں آپ میرے پاس ہوتے-
آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ناموس کےلئے مصائب برداشت کر رہے ہیں- اللہ آپ کو استقلال بخشے- اور قیامت کے روز آپ کی قربانی ہمیں دربارِ رسالت میں سرخرو کر دے- آپ بہادری سے قید کاٹیں- اگر زندگی رہی تو مل لوں گی- ورنہ میری قبر پر تو آپ ضرور آئیں گے- سب بچّے سلام کہتے ہیں- اب ہاتھ میں طاقت نہیں اس لئے خط ختم کرتی ہوں-
واسلام آپ کی بہن !!!
اس مختصر مگر المناک خط نے ہماری جان نکال کر رکھ دی- چاند پوری کی آواز بھی لڑکھڑانے لگی- جانے تاریک کوٹھڑی کے اسیر تک یہ خط پہنچا ہوگا تو وہ کس کیفیت سے گزرا ہوگا- زخموں سے چور جسم پر کیسی نمک پاشی ہوئ ہو گی- اس خط کا درد وہی سمجھ سکتا تھا جو وطن سے دور ہو اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر رہا ہو-
تھوڑی ہی دیر میں چائے آ گئ- چاند پوری اُٹھ کھڑے ہوئے-
"بابا چائے تو پی کر جاؤ .... "
"دل درد سے بھر چکا ہے سائیں .... چائے کی طلب نہیں رہی " چاند پوری نے کہا اور مجھے اُٹھنے کا اشارہ کیا-
درد تو پہلے بھی کم نہ تھا لیکن دکھ کی جو گٹھڑی اس خط نے ہمارے سر پر رکھّی اس نے تو کمر ہی توڑ دی تھی-
رات کے آٹھ بج چکے تھے- وارڈن نے کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں پولیس وین مہیا کرنے کی آفر کی لیکن چاند پوری نہ مانے- چوکی سے ہم نے اپنے بیگ اُٹھائے ، اور تھکے قدموں سے چلتے ہوئے دوبارہ نہر کے کنارے آکر کھڑے ہو گئے-
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers