روس نے گرم پانی تک پہنچنے کے لئے 80 بلین ڈالر خرچ کئے
جبکہ چائنہ نے 51 بلین ڈالر
لیکن روس نے Destruction کا راستہ چنا اور چائنا نے Construction کا
روس افغانستان کی سڑکیں اور انفراسٹرکچر تباہ کرتا ہوا پاراچنار کی چوٹیوں تک آیا اور نامراد لوٹا۔
جبکہ چائنا شمالی علاقہ جات اور بلوچستان کی سڑکیں تعمیر کرتا ہوا گوادر پہنچا۔۔
روس نے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں سرخ انقلاب، سوشلسٹ تبدیلی اور کمیونسٹ نظریہ کے لئے طلبہ کو اکسائے رکھا اور یہ بیچارے چی گویرا بننے کی کوشش میں تعلیم سے بھی گئے اور سماج میں بھی کسی کام کے نارہے، دو چار خام مال بن کر نکلے تو وہ "Smoking Corner" میں بیٹھے کالم لکھتے رہے۔
جبکہ چائنا نے 5 ہزار پاکستانی طلبہ و طالبات کو اسکالر شپ پر چائنا بلوایا، اس کے علاوہ چائنا کی پرائیوٹ یونیورسٹیوں میں ہزاروں طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔
آج پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں سینکڑوں پروفیسر چائنا سے اعلیٰ تعیلم یافتہ ہیں۔
90 ہزار افغان، عرب اور پاکستانی مجاھدین سویت افغان جنگ میں شہید ہوئے
جبکہ سی پیک سے ایک لاکھ پاکستانیوں کو روزگار کے نئے مواقع میسر آئے
پندرہ ہزار روسی فوجی ہلاک ہوئے
جبکہ آج تیرہ ہزار پاکستانی فوجی (ایک نیا سیکیورٹی ڈویژن) سی پیک کی حفاظت پر مامور ہے
روس کے تین سو ہیلی کاپٹر، سو جنگی جہاز اور ڈیڑھ سو ٹینک لوہے کا اسکریپ بن گئے
جبکہ چائنا نے جو راستہ چنا اس کی بدولت
چائنا کے چار سو بحری جہاز ہر سال گوادر سے یورپ، افریقہ، وسطی ایشیاء اور خلیج میں جائنگے
آج چائنا دنیا کی سب بڑی سافٹ پاور ہے جس کی بدولت وہ کوئی ملک طاقت کی بنیاد پر فتح کرنا تو دور کی بات، ایک گولی چلائے بغیر ہی سپر پاور بننے جارہاہے، چائنا کی یہ طے شدہ پالیسی ہے کہ 2025 تک دنیا کے کسی رفڑے، پنگے اور دنگل کا حصہ نہیں بنے گا۔
آج دنیا کے 30 ممالک کے ٹاپ بیوروکریٹ، سفارتکار اور اعلیٰ حکومتی نمائندے چائنا سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، جو عالمی فورمز پر اپنے ملک کے بعد سب سے زیادہ حمایت چائنہ کی کرتے ہیں، اور عالمی سیاست میں چائنہ کی یہ کامیابی اس کی اقتصادی کامیابی سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس سب کی وجہ یہ ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
1988 میں جوزف نائے ( Joseph Nye ) نے کہا تھا کہ
"وہ دن چلے گئے کہ گولی ماری اور پہاڑ پر چڑھ گئے"
جوزف نے عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کو ایک نیا موضوع دیا جس کا نام تھا سافٹ پاور ( Soft Power ).
اس کے مطابق وہ دور ختم ہوگیا کہ جب آپ بارود سے بھرے ٹینک لیکر کسی ملک کی سرحد پر پہنچیں گے، آپ کی فوج صف آراء ہوگی اور دھاڑتی ہوئی یلغار لائن کو عبور کرے گی اور ملک فتح ہوجائے گا۔۔
اب صرف آپ کا گولہ بارود اور طاقتور فوجیں نہیں بلکہ آپ کی مضبوط معیشیت، خارجہ پالیسی، ڈپلومیسی کے طریقے، یونیوسٹیاں، کھیل کے میدان اور ثقافت کے ادارے دوسرے ممالک کو متاثر کریں گے اور ان پر اثر انداز ہونگے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عالمی سیاست کے بدلتے ہوا رجحانات Hard Power سے Soft Power کو منتقل ہوگئے ہیں۔۔۔
اب کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ
جنگی جہاز کی گھن گھرج
ٹینک کا بارود
میگزین میں گولیوں
اور
ہارڈ پاور کے جبری طریقوں سے نہیں
بلکہ سافٹ پاور کے ترغیبی اندازسے ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بے ربط خیالات~
پس تحریر
چائنہ کے بعد ابھرتی ہوئی سافٹ پاور تُرکی، کینیڈا اور بھارت ہیں۔۔ مودی کے بھارت میں آںے سے اس کا گراف نیچے ہوا ہے اور اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے امریکہ کا گراف مزید نیچے آئے گا۔
اسے کہتے ہین 
میں آن لائن ارننگ کیسے کروں؟۔ سب سے پہلا سوال جو کسی نئے انٹرنیٹ ارننگ سے متعارف ہونے والے فرد کے ذہن میں ہوتا ہے وہ یہی ہوتا ہے۔
بنیادی طور پر انٹرنیٹ سے ارننگ کے لئے آپ کو تین چیزیں درکار ہوتی ہیں۔ علم، ہنر اور محنت۔۔۔اگر آپ یہ سوچیں کہ آپ انٹرنیٹ پر کچھ کئے بغیر بیٹھ کرآرام سے پیسے کما سکتے ہیں۔ تو یہ آپ کی نادانی ہے۔ انٹرنیٹ پر کام آپ کیلئے ایک جاب ایک بزنس کی طرح ہے ، آپ اسے آرام سے بیٹھ کر نہیں کرسکتے۔آپ کو اسکے لئے علم حاصل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ کوئی ہنر سیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ اور محنت کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اور آپ کو مسلسل اور لگا تار علم ، ہنر، اور محنت کی ضرورت پڑتی رہے گی۔کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ دور جدید کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق آپ کو، خود کو اپنے علم اور ہنر کے ساتھ اپ ڈیٹ رکھنا ہوگا۔
لیکن ہاں انٹرنیٹ سے ارننگ اللہ تعالی کی طرف سے آپ کے لئے رزق کریم بھی ہے۔ایسا رزق جس میں محنت کم لیکن معاوضہ زیادہ ملتا ہے۔ آپ قلیل وقت میں بہت زیادہ پیسہ کما سکتے ہیں۔ آپ اپنے باس خود ہوتے ہیں، آپ سو بھی رہے ہوں تو آپ کا بنک بیلنس کچھ صورتوں میں بڑھتا بھی رہتا ہے۔ آپ کے لئے کام کرنے کیلئے وقت کی بھی کوئی قید نہیں ہوتی ہے۔ آپ کو الگ سے آفس بھی نہیں کھولنا پڑتا۔ آپ گھر میں ہی آپنے کمپیوٹر، لیپ، ٹاپ اور موبائل پر یہ کام کرسکتے ہیں۔
سب سے پہلے تو میں آپ کو یہ بتاتا ہوں، کہ ایسے کون سے ذرائع ہیں۔ جن سے آپ انٹرنیٹ سے ارننگ کر سکتے ہیں۔
بنیادی طور پر انٹرنیٹ سے ارننگ کے تین ذرائع ہیں۔
 پراڈکٹ کی تخلیق Productivity
 خدمات اور فری لانسنگ
 مارکیٹنگ۔
آئیے اب انکی تھوڑی سے مزید وضاحت ہو جائے۔،
پراڈکٹ کی تخلیق Productivity
پروڈ کٹیوٹی میں آپ کوئی بھی نئی پراڈکٹ مارکیٹ میں لاتے ہیں۔ پراڈ کٹ سے مراد کوئی ٹھوس چیز ہی نیں ہے۔ بلکہ اسمیں کمپیوٹرائز کتابیں ، سوفٹ وئیرز ، ویڈیوز ، ویب سائٹس سب کچھ آجاتی ہیں۔ میری نظر میں پروڈ کٹیوٹی سے مراد ایک ایسی چیز ہے ۔ جو ہم ایک بار بنا لیتے ہیں۔ اور لوگ طویل عرصے تک اسے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اور ہمیں طویل عرصے تک اس سے ارننگ ہوتی رہتی ہیں۔ہم سو رہے ہوں یا جاگ رہے ہوں، ہمیں اس سے فائدہ حاصل ہوتا رہتا ہے۔ پروڈ کٹیوٹی کے لئے آپ کو شروع میں بہت محنت کرنا ہوتی ہے۔ آپ کو ہو سکتا ہے شروع میں کئی عرصے اور مہینے تک اس سے ارننگ نہ ہو۔ لیکن اس کے بعد آپ کو اس سے مستقل ارننگ شروع ہوجاتی ہے۔ یہ آپ کا اپنا بزنس ہوتا ہے۔ اور آپ خود اس بزنس کے مالک ہوتے ہیں۔
پروڈ کٹیوٹی میں آپ جو بھی پروڈ کٹ تیار کرتے ہیں۔ وہ آپ کے لئے طویل عرصہ تک کام کرتا رہتا ہے۔ لیکن آپ کو اسے مسلسل آپ ڈیٹ، رکھنا ہوتا ہے۔ اسکی خامیوں اور نقائص کو مسلسل ختم کرنا ہوتا ہے۔ اور اس میں بہتری اور نئی سے نئی جدت لانی ہوتی ہے۔تاکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق وہ استعمال کرنے والوں کے لئے کوئی مسلئہ پیش نہ کرے۔ کچھ پروڈ کٹس ایسی بھی ہوتی ہیں۔ جن کو صرف ایک بار بنا لیا جاتا ہے۔ اور اسے مزید بتر بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن انہیں بھی وقت کے ساتھ ساتھ مارکیٹنگ اور پروموٹ کرنے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔
ذیل میں کچھ ایسی پروڈ کٹیوٹی کا میں خلاصہ بیان کروں گا۔
 Blogging
 YouTube
 Book Writing
 Software Development
 Android Development
 Theme Designing , Web Apps & Web Site Selling

کمیشن کا اعلان ہوتے ہی دور دراز جیلوں میں قید اکابرین کی لاہور آمد شروع ہو گئ-
سب سے پہلے سینٹر جیل ملتان سے شیخ التفسیر حضرت احمد علی لاہوری کو یہاں لایا گیا- ملتان جیل کی ناقص غذا اور بدترین ماحول کی وجہ سے آپ اسہال اور قے کی تکلیف میں مبتلاء ہو چکے تھے- کمزوری غالب تھی اور چلنا تک دوبھر ہو چکا تھا-
لاہور جیل کی حالت اس سے بھی بری تھی- کڑکتی گرمی اور حبس نے ماحول کو آتش فشاں بنا رکھا تھا- ان حالات میں بھی قیدیوں کو سونے کےلئے فرشی بچھونے مہیّا کئے گئے تھے- لاہور جیل کا اسسٹنٹ سپریڈنٹ حضرت لاہوری رح کا عقیدت مند تھا- آپ کی آمد سے پہلے ہی وارڈ کا سب سے کُھلا اور وسیع کمرہ آپ کےلئے تیار کرایا گیا اور پرتکلّف بستر و چارپائ کا انتظام بھی کر دیا گیا-
آپ کمرہء جیل میں تشریف لائے تو محمّدی بستروں کے بیچ ایک رنگیلی چارپائ دیکھ کر پُوچھا:
"یہ چارپائ کِس کی ہے ...؟؟"
مولانا مجاھدالحسینی بھی موجود تھے ، بول اٹّھے:
"ہم نے بچھائ ہے .... حضرت جی کےلئے !!! "
" واہ !!! .... یعنی جانثارانِ محمد ﷺ تپتے فرش پر سوئیں .... اور احمد علی ان کے بیچ چارپائ پر آرام کرے ؟؟ "
تعمیلِ ارشاد میں آپ کا بستر بھی تپتے فرش پر بچھا دیا گیا- مرید ہمیشہ پِیر صاحب کی پائنتی کی جانب سویا کرتے ہیں تاکہ عزّت و احترام میں فرق نہ آئے- لیکن حضرت لاہوری رح کو یہ بھی گوارا نہ ہوا اور اپنا بچھونا خود اٹھا کر جانثاران محمّد کے قدموں کی طرف ڈال دیا-
وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں
آدمی بے نظیر ہوتے ہیں
تیری محفل میں بیٹھنے والے
کتنے روشن ضمیر ہوتے ہیں
اگلے کچھ ہفتوں میں تحریکِ ختم نبوّت کی مرکزی قیادت یہاں تشریف فرما ہوئ تو جیل کی رونقیں بامِ عروج پر پہنچ گئیں- حضرت ابوالحسنات سیّد احمد قادری ، حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری ، مولانا عبدالحامد بدایونی ، علّامہ مظفر علی شمسی ، مولانا محمد علی جالندھری ، شیخ حسام الدین ، ماسٹر تاج الدین انصاری اور دوسرے اکابرین حیدر آباد اور سکھّر کی دُور دراز جیلوں سے یہاں لائے گئے-
اکابرین ختم نبوّت کو جیل کے "دیوانی گھر" میں رکھّا گیا- دیوانی گھر کا صحن کافی کشادہ تھا اور کسی قدر سایہ بھی میّسر تھا- صحن میں ایک خوبصرت باغیچے کے ساتھ ساتھ باورچی خانے اور خانساماں کی سہولت بھی دستیاب تھی-
جیل کے طویل برامدے میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا ایک نوجوان قیدی ، صبح صبح دیوانی گھر کے دروازے پر آن پہنچا-
عطاء اللہ شاہ بخاری رح کی نظر پڑی تو بے ساختہ "شہیدِ اعظم" کہ کر گلے لگا لیا پھر اس کا ہاتھ تھامے بیری کے اس درخت کے نیچے لے گئے جہاں چارپائ پر ضعیف و نزار ابوالحسنات قران کی تفسیر لکھنے میں مگن تھے-
" حضرت جی ..... مبارک ہو ..... خلیل آیا ہے " شاہ جی کی آواز بھرا گئ-
ابوالحسنات مصحف سمیٹتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے ، فرزند کو گلے لگایا اور کہا:
"ہمیں تو اطلاع ملی تھی .... شہید ہو گئے ہو !!!"
" بس .... شہادت مجھے چھو کر ہی گزر گئ .... پھانسی کی سزا ہوئ تھی ... اب عمر قید میں بدل چکی ہے"
" کاش .... اللہ میرے بیٹے کی قربانی قبول کر لیتا ... !!! "
" آپ بہت کمزور ہو گئے ہیں ... "
"ہاں بیٹا .... ہمیں سکھر میں نہیں .... سقّر میں رکھا گیا تھا .... 126 درجہ حرارت تھا ..... پانی بھی وقت مقررہ پر ملتا تھا .... اکثر پسینہ سے ہی غُسل کیا کرتے تھے .... سر پر لوہے چادر تان کر .... جیل کی تپتی دیواروں میں بیٹھ کر .... تمہارے فراق کا درد سہا ہے میں نے .... جب بھی تمہاری یاد آتی تھی .... قران کی تفسیر لکھنے بیٹھ جاتا تھا .... "
سینٹرل جیل لاہور میں میلے کا سا سماں تھا- بیرکوں سے باہر ہزاروں لوگ جمع تھے- اس دوران حکومت نے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو بھی گھروں سے گرفتار کر کے جیل میں لا بٹھایا- بیرکوں میں جگہ ختم ہو گئ تو باہر وسیع میدان میں خاردار تار لگا کر شمع رسالت کے پروانوں کو حراست میں رکھا گیا- جیل کے اندر عجب چہل پہل اور کیف و سرور کا عالم تھا- کہیں نعت خوانی ہو رہی تھی تو کہیں ختمِ نبوّت پر تقاریر -کہیں ذکرواذکار چل رہا تھا تو کہیں درودوسلام کے غلغلے بلند تھے- فرقہ پرستی کی دیواروں پر "مسلکِ عشق رسول ﷺ " کی کونپل کیا پھوٹی زندانوں میں بھی بہار آ گئ-
اکابرین کی آمد کے ساتھ ہی جیل میں ملاقاتیوں کا تانتا بندھ گیا- دوسری بیرکوں کے قیدی بھی جوق درجوق یہاں آنے لگے- ابولحسنات جیل کے راشن سے خود مہمانوں کےلئے مٹھائ وغیرہ تیّار کر رہے تھے- ایک روز بوقتِ عصر آپ نے حلوے کا ایک بڑا ڈونگا اٹھایا اور اکابرین کے بیچ آن رکھا ....
"یہ کیا ہے حضرت ؟؟ " کسی نے پوچھا-
"حلوہ ہے .... !!! "
"کس خوشی میں ؟؟؟"
"گیارہویں شریف کا ختم ہے !!! "
" گیارہویں شریف ؟ ؟؟ " دو تین اکٹھی صدائیں آئیں-
" آپ حضرات کو اگر اعتراض نہ ہو تو ختم شریف میں شرکت فرما سکتے ہیں .... "
حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری رح ، ماسٹر تاج الدین ، مولانا محمد علی جالندھری ، مولانا مودوی اور کئ دوسرے اکابرین موجود تھے- اس دوران ساتھ والی بیرک سے غلام محمد ترنّم اہلحدیث عالم مولانا محمد اسمعیل کا ہاتھ پکڑے پکڑے دیوانی گھر لائے اور ازراہ مذاق فرمایا:
"آج اس وہابی کو بھی گیاریویں کا تبرّک کھلانا ہے ... "
مولانا اسمعیل ہنستے ہوئے محفل میں آکر بیٹھ گئے- فاتحہ شریف کے بعد سب نے تبرک کھایا ماسوائے مولانا محمد علی جالندھری کے جو بدعت بدعت کہتے ہوئے اٹھ کر چلے گئے-
مولانا محمد اسمعیل ، ابولحسنات سے کچھ دیر فقہی سوالات و جوابات کرتے رہے پھر کہا :
" اگر یہی گیارہویں ہے ..... تو رہائ کے بعد آپ روزانہ میرے گھر تشریف لائیے گا اور گیارہویں شریف کی فاتحہ کیجئے گا ... "
♡------------------♡
ایک روز صبح ہی صبح دیوانی گھر کا سپریڈنٹ دوڑا چلا آیا-
" شاہ صاحب ..... باہر کچھ قیدی آپ کی دید کے طالب ہیں ... "
امیرِ شریعت رح بے ساختہ اُٹّھے اور ننگے پاؤں بے محابہ دوڑتے ہوئے باہر صحن تک پہنچے- جیل کے درودیوار اسیران کی ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی جھنکار سے گونج رہے تھے-
آپ نے عاشقانِ ختمِ نبوّت کو باری باری گلے لگایا ، ان کے آہنی زیورات کو وارفتگی سے چوما ، پھر اشک بار آنکھوں اور غم ناک لہجے میں ارشاد فرمایا:
"آپ لوگ میرا سرمایہء نجات ہیں ----- میں نے آپ کو روٹی ، کپڑا یا کسی اور مفاد کےلئے آواز نہیں دی ----- لوگ تو دنیاوی مفادات کےلئے بھی بڑی بڑی قربانیاں دیتے آئے ہیں ------ میں نے تو آپ کو اپنے نانا کریم حضرت خاتم النبییّن ﷺ کی ناموس رسالت کےلئے پکارا ہے ------ اور یہ قیدوبند کی صعوبتیں ------- یہ دارو رسن ------- اسی عظیم مقصد کےلئے ہیں ------ آپ میں سے کوئ ایسا نہیں جو سیاسی شہرت یا ذاتی وجاہت چاھتا ہو ------- آپ جیل میں بھی غیر معروف ہیں ---- اور باہر بھی آپ کا استقبال کرنے والا کوئ نہیں ہوگا ------- کوئ آپ کے گلے میں پھولوں کے ہار نہیں ڈالے گا ------ نہ ہی کوئ کندھوں پر اُٹھائے گا ------- لیکن اللہ آپ کی نیّت اور اردوں کو دیکھ رہا ہے ------- آپ لوگ تحفظِ ختم نبوّت کی نیّت سے اندر آئے ہو ----- اور اسی نیّت سے باہر جاؤ گے ---- یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ---- اور یہی میرے لئے سب سے بڑا سرمایہء ہے --- "
اسیران کی آنکھیں فرطِ مسرت سے چھلک اٹھیں .... ریاست کے لگائے ہوئے زخموں پر آشنائے راز نے مرہم رکھا تو روح تک تاثیر پہنچ گئ ..... اپنے محبوب رہنماء کو لباسِ اسیری میں دیکھ کر وہ اپنی ہتھکڑیوں پر فاخرونازاں ہونے لگے .... پژمردہ چہروں پر بہار آگئ .... زخم خوردہ دل دھڑک اٹھے ... !!!
زنداں کے درودیوار سے ٹکراتی مولانا نیازی کی پردرد صدا اس کیفیّتِ عشق کا احوال بیان کر رہی تھی .... جو محبوب کی خاطر طوق و سلاسل پہن کر بھی عاشق کو مسرور رکھتی ہے ....
آکھیں سوہنے نوں وائے نی جے تیرا گُزر ہووے
میں مر کے وی نئیں مَردا جے تیری نظر ہووے
دم دم نال ذِکر کراں میں تیریاں شاناں دا
تیرے نام تُوں وار دِیاں جِّنی میری عُمر ہووے
دِیوانیو بیٹھے رہوو ، محفل نُوں سجا کے تے
شاید میرے آقا دا ، ایتھوں وی گُزر ہووے
کیوں فکر کریں یارا ماسہ وی اگیرے دا
اوہنوں ستّے ای خیراں نیں جِہندا سائیں مگر ہووے
اگلے روز چاند پوری صبح صبح اخبار لئے دوڑے آئے:
" مولانا مودودی کو بھی سزائے موت سنا دی گئ ...."
" یا اللہ خیر !!!! مودودی صاحب نے کیا کر دیا ؟؟"
" انہوں نے "قادیانی مسئلہ" لکھ کر جابر سلطان کے سر میں ہتھوڑا مارا ہے"
"قادیانی مسئلہ ؟؟ ... ایک کتابچہ لکھنے پر سزائے موت ؟؟ "
" بھائ ختم نبوّت کا لفظ زبان سے نکلا نہیں اور گلے میں پھندا ڈلا نہیں ... دیوانے بھی پابجولاں ہیں اور عقل والے بھی پسِ زنداں"
" کمال ہے .... !!! "قادیانی مسئلہ" تو ایک انتہائ لاجیکل اور معتدل رسالہ تھا .... "
" پڑھے لکھے طبقے کی آنکھیں کھولنے کےلئے تو کافی تھا ناں بھائ .... دنیا بھر میں اس کے تراجم شائع ہو رہے تھے ... مولانا نے قادیانیت کو ایک سنگین مذھبی ، معاشرتی اور سیاسی مسئلہ قرار دیکر اسے دستوری طریقے سے حل کرنے کی بات کی تھی .... اور سرکار ابھی مودودی صاحب کے لگائے ہوئے پرانے زخم نہیں بھول سکی "
" پرانے زخم ؟؟ "
" مودودی صاحب کا اصل قصور یہ ہے کہ وہ ملک میں اسلامی دستور سازی کےلئے کام کر رہے تھے .... اسی جرم کی پاداش میں دوسال جیل بھی کاٹ چکے ہیں .... اب حکومت پر قابض لبرل طبقات انہیں رستے سے ہٹانا چاھتے ہیں .... ہمیشہ ہمیشہ کےلئے .... یہ ہے اصل کہانی ... !!! "
اگلے روز حالات جاننے کےلئے ہم سینٹرل جیل پہنچے- جیل کے باہر جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کا ایک جمِّ غفیر موجود تھا- لوگ بے حد غم زدہ تھے- اسی اثناء میں کچھ کارکنان ایک وکیل کو ساتھ لئے آن پہنچے- کچھ دیر بحث و تکرار ہوتی رہی- پھر یہ قافلہ جیل حکام سے بات چیت کر کے اندر جانےلگا تو ہم بھی پیچھے پیچھے ہو لیے- طویل تاریک راھداریوں سے گزر کر اب ہم موت کی کوٹھڑیوں کے سامنے کھڑے تھے-
" مولانا صاحب !!! حکومت اس وقت اشتعال میں ہے .... آپ ایک چھوٹا سا بیان لکھ کر دے دیں .... ہم آپ کی سزائے موت رکوانے کی کوشش کرتے ہیں " وکیل نے کہا-
" کس قسم کا بیان ؟؟" مودودی صاحب نے پوچھا-
" رحم کی اپیل ..... !!! "
" ہرگز نہیں ..... !!! میری طرف سے .... میرے خاندان کی طرف سے .... یا جماعتِ اسلامی کی طرف سے کوئی بھی شخص میرے لئے کوئ اپیل نہیں کرے گا .... مقدر میں شہادت لکھی ہے تو بخوشی اپنے رب سے جا ملوں گا ..... مجھے انہی کپڑوں میں دفنا دینا اور نفاذِ اسلام کے مشن کو جاری رکھنا ...."
"لیکن ایک چھوٹی سی اپیل کرنے میں ہرج ہی کیا ہے .... ؟؟ " وکیل نے کچھ کہنے کی کوشش کی-
" اگر آج میں ظالم حکمرانوں کے سامنے اپیلیں کرنے لگا تو ملک سے انصاف کا جنازہ ہمیشہ کےلئے اٹھ جائے گا .... !!! "
ان سے چند قدم آگے دوسری کوٹھڑی میں مولانا نیازی تھے- انہوں نے للکار کر کہا :
" بے فِکر رہیں .... اس بزدل حکومت میں اتنی جرات نہیں کہ ہمیں پھانسی پر لٹکا سکے .... وہ یہ رسک کبھی نہیں لے گی ... حکومت تو اپنی موت سے آپ ڈر رہی ہے !!! "
مولانا مودودی کی پھانسی کے فیصلے سے پاکستان کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام میں بھی رنج و اندوہ کی کیفیت دوڑ گئ- حکومت پر اندرونی و بیرونی دباؤ بڑھنے لگا- حکومتی کارپرداز سر جوڑ کر بیٹھ گئے چنانچہ کچھ روز بعد پھانسی کو عمر قید میں تبدیل کر کے اس دباؤ سے نجات حاصل کر لی گئ-
⊙________⊙
تین ماہ بعد جا کر بادِ سموم کُچھ تھمی
لاہور سے مارشل لاء اٹھا دیا گیا اور شہری سرگرمیاں آہستہ آہستہ بحال ہونے لگیں-
تحریکِ ختم نبوّت مسلمانوں اور قادیانیوں کے بیچ خون کی ایک ایسی لکیر کھینچ چکی تھی جسے اب دہر کے اندھیرے بھی نہ مٹا سکتے تھے- شہر شہر کُھلے "احمدی دسترخوان " ویران ہو گئے اور مرزائ سبیلوں پر مکھیاں بھنبھنانے لگیں-
بظاہر مجلس عمل کا کوئ بھی مطالبہ منظور نہ ہو سکا تھا لیکن احمدیّت ، قادیانیت کے بوسیدہ لباس میں سمٹ کر رہ گئ تھی- آکاس بیل کی جڑ کٹ چکی تھی ، اب صرف اسے اسلام کے شجرِ پربہار سے اتار کر پھینکنا باقی تھا- اس تحریک کی سب سے بڑی کامیابی مسلمانوں کے باہم متحارب فرقوں کے بیچ ایک مثالی اتحاد کا مظاہرہ تھا- دیوبند ، بریلوی ، شیعہ و اہلحدیث کے بیچ لاینحل تنازعوں کی چنگایاں بجھ گئیں اور وہ ختم نبوّت کے نام پر ایک امّت بن گئے- قادیانیت کا تا قیامت پیچھا کرنے کےلئے مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت کا قیام بھی عمل میں آ گیا-
تحریک ختمِ نبوّت 1953ء حکومتی ایوانوں میں بھی ایک بہت بڑی دراڑ ڈال چکی تھی-
دارلخلافہ کراچی میں بیٹھے صوفی منش وزیراعظم تک لاہور کے کشت و خون کی خبر پہنچی تو انہوں نے وزیراعلی پنجاب میاں ممتاز دولتانہ کی چھٹّی کرا دی- جوب آں غزل گورنر جنرل غلام محمد نے جمہوریت کا فانوس گُل کرتے ہوئے وزیر اعظم کا تختہ اُلٹ دیا- مولوی تمیزالدین اسپیکر نیشنل اسمبلی نے اس اندھیر نگری کے خلاف " آئین الحق " کی صدا بلند کی تو جسٹس منیر "نظریہء ضروت " کا کلہاڑا اٹھا کر کھڑے ہو گئے- ھنری ڈی بریٹن کا تین سو سال پرانا " Doctrine of Necessity" ، جسٹس منیر کے ہاتھ لگا تو انہون نے جھاڑ پونچھ کر اس میں نیا قانونی دستہ ٹھونکا اور قیامت تک کےلئے عدلیہ کے گلے میں لٹکا دیا- یوں پاکستان "نظریہء ضرورت" کو اپنانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ، جسے اہل یورپ ، بے کار سمجھ کر تاریخ کے کباڑ میں پھینک چکے تھے-
ان اقدامات سے ملک سیاسی توانائ سے محروم ہو گیا- اور جمہوریت فالج زدہ ہو گئ- ایک طرف عالمی استعمار کی مداخلت بڑھی ، دوسری طرف محلّاتی سازشیں زور پکڑنے لگیں- قائدِ اعظم کے رفیقِ کار آہستہ آہستہ ایوان سر رخصت ہوتے گئے اور ان کی جگہ ننگِ ملت ننگِ قوم آزاد خیال طبقہ اقتدار پر قابض ہوتا چلا گیا- جمہوری وجود اور قومی سالمیّت کو جو سرطان لگ چکا تھا یہی آگے جا کر ملک کے دو لخت ہونے کا سبب بن گیا-
1953ء کے موسم بہار کا ہر پھول ، شہدائے ختمِ نبوّت کے خون کی سرخی میں ڈوب کر کھلا- بہار رخصت ہوئ تو مئ کی دھوپ سوختہ پیراہن کو جلانے لگی- دولتانہ صاحب کے بعد پنجاب کی وزارتِ اعلی کا ھُما ملک فیروز خان نون کے سر پر بیٹھا تو رِستے زخموں کو معمولی پھاہا میسّر آیا-
ملک صاحب قائدِ اعظم کے پرانے رفیق تھے اور قدرے نرم مزاج رکھتے تھے- انہوں نے مارشل لائ پھانسیوں کو عمرقید میں تبدیل کر دیا حالانکہ اسکندر مرزا پاکستان میں بسنے والے ہر مولوی کو توپ سے اڑا دینے کا تمنائ تھا- دوسری طرف "فسادات لاہور" کے نام سے ایک تحقیقاتی کمیشن بھی بٹھا دیا جس کا کام مارشل لاء کی وجوہات کا پتا چلانا اور سول انتظامیہ کی ناکامی کے اسباب ڈھونڈنا تھا-
پھر ایک روز یہ عمدہ خبر بھی آئ کہ کمیشن کے سامنے بیان دینے کےلئے ، سکھّر ، حیدرآباد ، ملتان اور ملک کی دوسری جیلوں میں قید اکابرینِ ختمِ نبوّت کو لاہور سینٹرل جیل منتقل کیا جا رہا ہے-
یہ خبر سن کر مردہ تنوں میں ایک بار پھر زندگی کے آثار دکھائ دینے لگے-
زیتون جس کا نام ذہن میں آتے ہی صرف اُس کے تیل کا خیال آتا ہے، مگر اس کا لذیذ پھل، جس کا استعمال کم ہے، نہ صرف خوش زائقہ ہوتا ہے، بلکہ صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے اس کا تیل صرف مالش کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ پھل، سلاد یا پزا کی ڈریسنگ کے طور پر۔ پاکستان میں عام مسلمان جتنا زیتون کا ذکر کرتا ہے اس کا ایک حصہ بھی استعمال میں نہیں لاتا۔ اپ نے جا بجا لوگوں سے اور میگزین میں اس کے فوائد پڑھے ہوں گے مگر کیا اپ کو پتا ہے کہ زیتون کا کون سا تیل اور پھل خریدنا چاہیے؟ آئیے آپ کو آج زیتون اور اس کے پھل خریدنے کے کچھ رہنما اصول بتاتے ہیں۔ 1. پہلا اصول یاد رکھیے، ہر تیل جس پر زیتون لکھا ہوتا ہے، اصلی اور خالص زیتون نہیں ہوتا۔ 2. زیتون کا تیل پانچ قسم کا مارکیٹ میں ملتا ہے۔: ۱) ایکسٹرا ورجن اولیو آئل جس کو ایوو بھی کہا جاتا ہے۔ ۲) ورجن آئل۔ ۳) لایٹ آئل۔ ۴) پیور آئل۔ ۵) اور آخر میں سب سے خراب قسم، پامس اولیو آئل کی ہے۔ 3. اصلی اور خالص قسم پہلی والی ہے، ایکسٹرا ورجن اولیو آئل (ایوو) ہے۔ جس کو آپ نہ صرف پی سکتے ہیں بلکہ کھانے پکانے سے لے کر جسم یا سر کی مالش تک میں استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق بنایا جاتا ہے۔ اس میں کوئی کیمیکل یا انڈسٹریل ویسٹ استعمال نہیں ہوتا۔ 4. باقی کی تین قسمیں بھی زیتون کا تیل ہی ہیں، مگر ان کا معیار ٹھیک نہیں ہے۔ 5. آخری قسم جو پاکستانی زیادہ تر استعمال کرتے ہیں۔ وہ ہے اس کی سب سے خراب قسم پامس آئل۔ پامس آئل اصل میں زیتون کے چھلکے سے بنتا ہے، جس کو کیمیکلی تیل کی شکل دی جاتی ہے اور پھر زرا سی مقدار ایوو ڈال دی جاتی ہے کہ اس میں زیتون کی خوشبو اور زائقہ لایا جا سکے۔ اس لیے یاد رکھیے، کبھی بھی پامس آئل پینے، کھانے کے لیے استعمال نہ کریں۔ بلکہ مالش کے لیے بھی اسے استعمال نہ کریں کیونکہ یہ زیتون کے نام پر ایک دھوکہ ہے۔ اس کا استعمال زیادہ تر انڈسٹریل ہے۔ 6. جب بھی ایوو خریدیں ہمیشہ بنانے کی تاریخ دیکھیں۔ کیونکہ جتنا یہ تیل تازہ ہو گا اتنا ہی یہ فائدہ مند ہو گا۔ 7. ہمیشہ اُس دکان سے خریدیں جس نے زیتون کے تیل کی بوتلیں اندر ٹھنڈی جگہ پر دھوپ سے دور رکھی ہوئی ہوں۔ کیونکہ گرمی اور دھوپ زیتون کے تیل کے فائدے کو ختم کر دیتی ہے۔ 8. ہمیشہ وہ برینڈ خریدیں جس کی بوتل سیاہ رنگ کی ہو کہ سیاہ رنگ، زیتون کو اپنی اصل حالت میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ 9. اگر گھر میں زیتون کا آئل استعمال کرنے والے کم لوگ ہیں تو ہمیشہ چھوٹی بوتل خریدیں، کہ آپ کو ہمیشہ تازہ زیتون کا تیل مل سکے۔ کیونکہ ایک بار بوتل کھل جاۓ تو وقت کے ساتھ ساتھ یہ اپنا زائقہ اور خوشبو کھو دیتا ہے۔ 10. اگر آپ کے علاقے میں کیلیفورنیا، امریکہ کا بنا ہوا آئل ملتا ہے تو یہ سب سے بہترین ہے۔ 11. پاکستان میں بھی پچھلے پانچ سالوں میں چکوال کے علاقے میں اس کی کاشت کی گئی ہے۔ اور دو سالوں سے لوکل آئل اور فروٹ مل رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ سب سے بہترین ہے، اگر آپ کو لوکل پاکستانی زیتون کا تیل اور فروٹ مل سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تازہ ہوتا ہے۔ ایک بار پھر یاد رکھیے، زیتون کا تیل جتنا تازہ ہو گا، اتنا ہی بہترین ہو گا۔ مگر صرف ایوو۔ 12. اولیو سوسائٹی کے نام سے زیتون کو پنجاب کے علاقے میں فروغ دیا جا رہا ہے۔ آزمائشی طور پر باغِ زیتون کے نام سے بہت تھوڑے پیمانے پر، ہر سیزن میں ایوو آئل اور زیتون مل جاتا ہے۔ 13. اگر آپ پشاور میں رہتے ہیں تو آپ کو ترناب فارم سے بھی مل سکتا ہے۔ 14. اگر آپ کے پاس جگہ ہے تو ایک پودا ضرور زیتون کا لگاہیں۔ تین سے پانچ سال میں پھل آتا ہے۔ 15. زیتون کا پھل جب بھی خریدیں، کوشش کریں کہ وہ زیتون کے تیل میں ہی پڑا ہو۔ بڑے بڑے سٹورز میں آج کل کھلا زیتون بھی آ رہا ہے۔ جو زیتون کے تیل میں ہی مل جاتا ہے۔ یہ زیادہ بہتر ہے، بند بوتل کے مقابلے میں۔ بند بوتل میں زیادہ تر یہ اچار کی شکل میں ملتا ہے۔ 16. بہت کم لوگوں کو پتہ ہے کہ زیتون کا قہوہ بھی ہوتا ہے، جو اس کے پتوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ قہوہ کینسر سے بچاتا ہے، خاص کر بریسٹ کینسر سے۔ ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔ جب موسم تبدیل ہو رہا ہو تو یہ قہوہ موسمی وائرس اور بیکٹیریا سے بھی بچاؤ میں مددگار ہے۔ بلڈ پریشر کو کم کرنے اور کلیسٹرول کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے۔ زکام اور فلو کو کنٹرول کرنے میں زیتون کا قہوہ بہت مفید ہے۔ 17. زیتون کا قہوہ بنانا آسان ہے۔ زیتون کے کچھ پتوں کو خشک کر کے ان کو پیس کر پاوڈر بنا لیں۔ ایک چھوٹے چمچے کے برابر پاوڈر ایک کپ پانی میں پندرہ منٹ تک ابالیں۔ چھلنی میں چھان کر حسبِ زائقہ شہد کے ساتھ نوش فرمائیں۔ زیتون کے قہوہ کو ہمیشہ کسی کھانے کی چیز کے ساتھ پیں کہ معدے کی تکلیف نہ ہو۔ یہ قہوہ لو بلڈ پریشر کے مریض اور کیمیو کی ادویات لینے والے اپنے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں۔ آخر میں ایک بار پھر یاد رکھیں کہ ہمیشہ ایوو استعمال کریں۔
To write this article, i took help from Olive Expert Mr. Tom Mueller' article, Extra Virgin Suicide was published in New York Times. :English terms: EVOO : Extra Virgin Olive Oil Pure Olive Oil Light Virgin Oil Pure Olive Oil Pomace Olive Oil Olive society Bagh-i-Zaitoon Tarnab Farm Peshawar
اس وقت گوگل کے چیف ایکزیکٹیو "سندرراجن پچائی" ہیں ۔ جن کا تعلق بھارت سے ہے۔ ان کی سالانہ تنخواہ پاکستانی روپے میں 2 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ جو کہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے ملازم بھی ہیں ۔ آئیے ان کے بارے میں اپنےدوستوں کو کچھ معلومات فراہم کرتے ہیں۔کہ ایک دو کمروں کے گھر میں چٹائی پر بیٹھ کر پڑھنے والا شخص کس طرح گوگل کا سی ای او بنا ۔
سندر پچائی تامل ناڈو کے شہر مدورائی کا رہنے والا تھا جو کہ 12 جولائی 1972 کا پیدا ہوا۔اس نے غربت میں آنکھ کھولی‘ والد رگوناتھ پچائی الیکٹریکل انجینئر تھا لیکن خاندان کی آمدنی بہت محدود تھی‘ گھر دو کمروں کا فلیٹ تھا‘ اس فلیٹ میں اس کا ٹھکانہ ڈرائنگ روم کا فرش تھا‘ وہ فرش پر چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتا تھا‘ وہ پڑھتے پڑھتے تھک جاتا تھا تو وہ سرہانے سے ٹیک لگا کر فرش پر ہی سو جاتا تھا‘ ماں کے ساتھ مارکیٹ سے سودا لانا‘ گلی کے نلکے سے پانی بھرنا‘ تار سے سوکھے کپڑے اتارنا اور گلی میں کرکٹ کھیلنے والے بچوں کو بھگانا بھی اس کی ذمہ داری تھی‘ گھر کی مرغیوں اور ان کے انڈوں کو دشمن کی نظروں سے بچانا بھی اس کی ڈیوٹی تھی اور شہر بھر میں کون سی چیز کس جگہ سے سستی ملتی ہے‘ یہ تلاش بھی اس کا فرض تھا اور باپ اور ماں دونوں کی جھڑکیاں کھانا بھی اس کی ذمہ داری تھی‘ وہ بارہ سال کا تھا جب ان کے گھر ٹیلی فون لگا‘ اس فون نے اس کا کام بڑھا دیا‘ وہ فلیٹس کے اس پورے بلاک کا پیغام بر بن گیا‘ لوگ اس کے گھر فون کر کے بلاک کے دوسرے فلیٹس کےلئے پیغام چھوڑتے تھے اور وہ یہ پیغام پہنچانے کےلئے اٹھ کر دوڑ پڑتا تھا‘ وہ جوانی تک ٹیلی ویژن اور گاڑی کی نعمت سے بھی محروم رہا‘ اس کا والد پوری زندگی کار نہیں خرید سکا لیکن آج وہ نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی آرگنائزیشن گوگل کا سی ای او تھا بلکہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والا ملازم بھی تھا‘ اس کی سالانہ تنخواہ 20 کروڑ ڈالر طے ہو چکی تھی۔
بچپن میں وہ سال سال بھر دوسرے جوتے‘ تیسری شرٹ اور چوتھے پین کےلئے ترستا رہتا تھا‘ وہ بچپن‘ بچپن نہیں تھا‘ وہ محرومی کی ایک سیاہ داستان تھی‘ پچائی کو آج بھی یاد تھا جب سٹینڈ فورڈ یونیورسٹی نے اسے ہوائی ٹکٹ بھجوایا تو اس کا والد ٹکٹ دیکھ کر حیران رہ گیا‘ وہ ٹکٹ اس کے والد کی سالانہ آمدنی سے بھی مہنگا تھا‘ اسے آج تک یہ بھی یاد تھا وہ کورس کی کتابیں مانگ کر پڑھتا تھا اور اپنی اسائنمنٹس ردی کے کاغذوں پر مکمل کرتا تھا‘ وہ بسوں کے ساتھ لٹک کر سفر کرتا تھا اور اسے صرف مذہبی تہواروں پر مٹھائی نصیب ہوتی تھی‘اس نے گھسٹ گھسٹ کر چنائے سے بارہویں جماعت پاس کی‘ وہ اس کے بعد انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی خراگپور چلا گیا‘ اس نے وہاں ٹیوشنز پڑھا پڑھا کر میٹالرجیکل انجینئرنگ کی ڈگری لی‘ اس نے یہ ڈگری ٹاپ پوزیشن میں حاصل کی تھی چنانچہ دنیا میں ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی یونیورسٹی سٹینڈفورڈ نے اسے وظیفہ دے دیا‘ وہ امریکا چلا گیا‘ اس نے سٹینڈفورڈ یونیورسٹی سے میٹالرجیکل انجینئرنگ میں ایم ایس کیا‘ وہ انجینئرنگ سے بڑا کام کرنا چاہتا تھا‘ 2004ءمیں جب گوگل میں نوکریاں نکلیں تو اس نے اپلائی کر دیا‘ گوگل نے اسے پراجیکٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت دے دی‘ یہ ملازمت اس کےلئے نعمت ثابت ہوئی‘ سندر راجن پچائی اس یونٹ کا حصہ تھا جس نے ”گوگل کروم“ کا منصوبہ شروع کیا‘ یہ منصوبہ 2008ءمیں مکمل ہوا اور اس کے ساتھ ہی پچائی گوگل اور امریکا دونوں میں مشہور ہو گیا‘ اس کا دماغ ذرخیز تھا چنانچہ وہ گوگل کےلئے نئے نئے منصوبے بناتا رہا‘ گوگل کا ویب براؤزر ہو‘ اینڈروئڈ ہو یا گوگل ٹول بار‘ ڈیسک ٹاپ سرچ اور گوگل گیئرز یہ تمام پراجیکٹ سندر راجن پچائی نے مکمل کئے‘ ان منصوبوں سے گوگل کی آمدنی میں اضافہ ہوا‘ گوگل اس وقت دنیا کی امیر ترین کمپنی ہے‘ اس کی مالیت 554 ارب ڈالر ہو چکی ہے جبکہ اس کی سالانہ آمدنی 74 بلین ڈالر ہے‘ پاکستان کے کل غیرملکی قرضے 70 بلین ڈالر ہیں‘ گویا گوگل ایک سال میں دنیا کی واحد اسلامی جوہری طاقت کے کل قرضوں سے زیادہ رقم کماتا ہے‘ یہ کمپنی سٹینڈفورڈ یونیورسٹی کے دو طالب علموں لیری پیج اور سرجے برن نے 1996ءمیں شروع کی‘ یہ دونوں اس وقت پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے‘ گوگل کا مقصد انٹرنیٹ پر موجود مواد کو درجوں میں تقسیم کرنا اور اسے لوگوں کےلئے آسان بنانا تھا‘ گوگل 2000ءتک دنیا کا معتبر ترین سرچ انجن بن گیا‘ یہ کمپنی دنیا بھر سے نیا ٹیلنٹ تلاش کرتی رہتی ہے‘ سندر راجن پچائی بھی اس کی دریافت تھا‘ یہ نوجوان 1972ءمیں تامل ناڈو میں پیدا ہوا‘ یہ 1993ءمیں سٹینڈفورڈ یونیورسٹی پہنچا‘ 1995-96ءمیں ایم ایس اور 2002ءمیں ایم بی اے کیا‘ یہ زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتا تھا اور گوگل نے اسے یہ بہت کچھ کرنے کا موقع دے دیا‘ یہ اپنے دلچسپ آئیڈیاز کے ذریعے بہت جلد کمپنی میں اپنی جگہ بنا گیا‘ یہ تیزی سے ترقی کرتے ہوئے 10 اگست 2015ءکو گوگل کا سی ای او اور لیری پیج کا نائب بن گیا‘ کمپنی نے اسے شیئر بھی دے دیئے‘ یہ اس وقت 60 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کے شیئرز کا مالک بھی ہے۔
گوگل نے پچائی کو فروری 2016ءکے دوسرے ہفتے 19 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تنخواہ کا چیک دیا‘ پچائی یہ چیک وصول کرتے ہی دنیا کا سب سے زیادہ معاوضہ لینے والا ”سی ای او“ بن گیا‘ ہم اگر انہیں پاکستانی روپوں میں تبدیل کریں تو یہ دوسو کروڑ روپے بنیں گے گویا تامل ناڈو کا 43 برس کا ایک غریب جوان سالانہ دو سو کروڑ روپے تنخواہ لے رہا ہے اور غریب بھی ایسا جس نے 18 سال کی عمر تک فرش پر سو کر اور فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کی اور جو 12 سال کی عمر تک ٹیلی فون اور امریکا آنے تک ٹیلی ویژن اور گاڑی سے محروم تھا اور جس کا پورا بچپن دوسرے جوتے‘ تیسری شرٹ اور چوتھے پین کو ترستے گزرا اور جو آج بھی ہندی لہجے میں انگریزی بولتا ہے اور اپنے گندمی رنگ کی وجہ سے دور سے پہچانا جاتا ہے ۔
22 اپریل ..... 1953ء
ہم لاہور پہنچے تو دنیا ہی بدل چکی تھی-
شہر کے معاملات کافی حد تک درست ہو چکے تھے- فوج نے لوکوشیڈ ، ٹیلی فون ، بجلی اور پانی کا نظام بحال کر دیا تھا-
ہزاروں مسلمانوں کو خاک و خون میں تڑپا کر ، ایک لاکھ افراد کو پسِ زنداں دھکیل کر اور تقریباً 10 لاکھ کو متاثر کر کے تحریکِ مقدّس کو بزورِ قوّت دبایا جا چکا تھا- لاہور کے علاوہ سیالکوٹ ، گوجرانوالا ، راولپنڈی ، فیصل آباد ، ساہیوال ، اوکاڑہ اور اندرونِ سندھ میں بھی کم و بیش داستانِ لاہور ہی دہرائ گئ- کہیں لاٹھی چارج سے کام چلایا گیا تو کہیں گولی سے تحریک کو دبایا گیا-
لاہور کے شاھی قلعے میں اب بھی بے شمار لوگ مبحوس تھے جن پر قادیانی انتظامیہ جی بھر کے تشدّد کر رہی تھی- شہر بھر کی مساجد خفیہ والوں کے پہرے میں تھیں- اور منابر و مجالس سے تین الفاظ ادا کرنا مملکت سے غدّاری تصوّر کیا جا رہا تھا ..... ختمِ نبوّت ، قادیانیّت اور سرظفراللہ خان !!!
اگلے روز ہم شہر کی صورتحال جاننے کےلئے باہر نکلے- شالیمار کے قریب ایک بازار میں ہنگامہ نظر آیا- بارڈر پولیس کے دو اہلکار ایک صحت مند قسم کے مولوی صاحب سے دست و گریبان تھے- مولوی صاحب مسجد کی طرف زور لگا رہے تھے اور پولیس والے انہیں وین کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہے تھے- اس رسّہ کشی کو دیکھ کر وہاں کافی لوگ اکٹّھے ہو گئے-
پولیس والے رش دیکھ کر پریشان ہو گئے اور مولوی صاحب کو چھوڑ دیا- ان کا گریبان پھٹ چکا تھا-
" او کی ہو گیا جوانوں ؟ .... کی کیتا مولی صاب نے ؟؟ " مجمع میں سے ایک بزرگ نے آواز لگائ-
" یہ خانہ خراب کا بچہ .... لوڈ سپیکر پہ غدّاری کا بات کرتا ہے .... " باڈر پولیس والے نے کہا-
" جھوٹ اے ..... میں کوئ غدّاری دی گل نئیں کیتی ...." مولوی صاحب نے بٹن بند کرتے ہوئے کہا-
" تم نے ختمِ نبوّت بولا .... ام نے خود آنکھوں سے سُنا "
"اپنے کنّاں دا علاج کراء .... میں ختم شریف دا اعلان کیتا سی ... " مولوی صاحب نے صفائ پیش کی-
"تم نے ختم کا نام تو لیا ناں .... اب پوجی عدالت پھیسلہ کرے گا ... "
"آپ جانتے ہیں ختمِ نبوّت کا مطلب کیا ہے ؟" چاند پوری نے پولیس والے کو مخاطب کیا-
" جانتا ہے ..... یہ ملک سے غدّاری کا بات ہے " پولیس والے نے کہا-
" تٌم احمدی ہو یا غیر احمدی ؟"
"وہ کیا ہوتا ہے ؟"
"مرزا غلام احمد قادیانی کا نام سنا ہے "
"ہاں سنا ہے "
"کون تھا وہ ؟"
"جھوٹا نبی تھا ... "
" بالکل ٹھیک .... اسی جھوٹے نبی کے ماننے والے ختمِ نبوّت کے منکر ہیں .... جب کہ مسلمان ختم نبوّت پر کامل یقین رکھتے ہیں .... ختم نبوّت کا مطلب ہے کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد کوئ شرعی غیر شرعی نبی نہیں آ سکتا ... ختمِ نبوّت کی بات کرنا کوئ گناہ نہیں بھائ .... بلکہ یہ تو بڑے ثواب کا کام ہے "
" لیکن ہمارا آپیسر تو بولتا ہے یہ غدّاری کا بات ہے !!!"
" تمہارا افیسر قادیانی ہے .... یا پھر قادیانیّت نواز .... بھائ ایک دن ہم سب کو مرنا ہے ... اللہ کے حضور پیش ہونا ہے ..... نبی پاک ﷺ کے مبارک ہاتھوں سے جامِ کوثر پینا ہے .... قادیانی اس نبی کریم ﷺ کے دشمن ہیں .... اس ملک میں غلام احمدی نظام لانا چاھتے ہیں ..... تحریک ختم نبوّت کی جدوجہد اسی کافرانہ نظام کے خلاف ہے "
چاند پوری کا لیکچر سن کر پولیس والا کچھ موم ہوا اور مولوی صاحب کو چھوڑ دیا-
شاھی قلعے میں فوجی عدالت قائم تھی جو ریوڑیوں کی طرح سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں بانٹ رہی تھی- ہر روز کوئ نہ کوئ نئ خبر عوام کے زخموں پر نمک بن کر گرتی-
ایک دن خبر آئ کہ مونا عبدالستار نیازی کو بھی سزائے موت سنا دی گئ ہے-
مولانا نیازی مارشل لاء کی آمد کے ساتھ ہی روپوش ہو گئے تھے- ان کا ارادہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اچانک وارد ہو کر ایک پرجوش تقریر کر کے گرفتاری دینے کا تھا لیکن یہ خبر حکومت کے کانوں میں بھی پہنچ گئ- اسمبلی کا اجلاس ایک ہفتے کےلئے ملتوی کر دیا گیا اور شہر بھر میں نیازی صاحب کی تلاش میں چھاپے پڑنے لگے- ایک ہفتہ بعد اجلاس کی تاریخ مزید آگے بڑھائ گئ تو نیازی صاحب بھیس بدل کر لاہور سے نکل گئے- وہ پہلے اوکاڑہ تشریف لے گئے ، وہاں سے پاکپتن گئے لیکن ختم نبوّت کے پروانوں کےلئے روئے زمین تنگ ہو چکی تھی- پاکپتن کے گدی نشینوں نے انہیں وقتی پناہ دینے سے بھی انکار کر دیا- اس کے بعد وہ بزریعہ دیپالپور قصور تشریف لے گئے-
نیازی صاحب کا ارادہ تھا کہ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی وہ لاہور قصور روڈ پکڑیں گے ، اور پنجاب اسمبلی کے سامنے اتر کر بھاگم بھاگ ایوان کے اندر چلے جائیں گے جہاں پولیس کسی کو گرفتار کرنے کی مجاز نہ تھی- اس کے بعد تقریر کر کے اپنا مؤقف پیش کریں گے ، اور اسمبلی گیٹ پر گرفتاری دیں گے- لیکن قصور میں ان کے قیام کے دوران ہی مخبری ہو گئ اور وہ دھر لئے گئے-
مولانا نیازی اور مولانا خلیل احمد قادری پر فوجی عدالت میں کئ روز تک مقدمہ چلتا رہا- ان پر اور ان کے نو ساتھیوں پر ڈی ایس پی فردوس شاہ کے قتل کا جھوٹا مقدمہ تیار کیا گیا- ان کے خلاف پیش ہونے والے گواہوں میں مولوی سلیم بھی پیش پیش تھا- یہ وہی مولوی سلیم تھا جس نے قران پاک کے اوراق گندے نالے سے نکال کر عوام کو مشتعل کیا تھا ، جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی فردوس شاہ کا قتل ہوا تھا-
ایک دن "چلتی پھرتی عدالت" نیاز ھسپتال پہنچی جہاں مولانا عبدالستار نیازی بغرضِ علاج داخل تھے- فوجی افسران کے کے ہاتھ میں فیصلے کی کاپی تھی- تمام ملزمان کو ایک کمرے میں جمع کر کے فیصلہ سنایا گیا:
"آپ حضرات پر ڈی ایس پی فردوس شاہ کے قتل کا الزام ثابت نہیں ہو سکا .... عدالت آپ سب کو باعزّت برّی کرتی ہے"
رضاکاروں کے چہرے خوشی سے تمتا اٹھے- جب سب لوگ جانے لگے تو آفیسر نے نیازی صاحب کو روک لیا:
" مولانا آپ پر بغاوت کا الزام بھی ہے ؟؟ "
"ہاں ..... ہے تو سہی " مولانا نیازی نے جواب دیا-
"آپ کے بارے میں کچھ اور فیصلہ ہے .... " آفیسر جیب سے ایک دوسری پرچی نکالتے ہوئے بولا-
"جی سنائیے .... !!!" نیازی صاحب ہمہ تن گوش ہو گئے-
فوجی آفیسر نے کانپتے ہاتھوں سے پرچی میں لکھا فیصلہ سنایا:
" عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ تمہیں گردن میں رسی ڈال کر موت واقع ہونے تک پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جائے !!! "
" بس یا کچھ اور بھی ؟؟ .... " مولانا نیازی نے اطمینان سے کہا- " اگر اس سے بھی بڑی کوئ سزا ہے تو دے دیجئے .... میں ناموسِ رسالت ﷺ کی خاطر سب کچھ برداشت کرنے کو تیّار ہوں "
" ناؤ سائن دس پیپر .... !! " آفیسر نے کچھ کاغذات آگے بڑھائے-
نیازی صاحب نے جواب دیا .... " I will sign , when I will kiss the rope ..."
" لیکن سائن تو آپ کو ابھی کرنے ہونگے ..... "
" آپ مجھے ابھی پھانسی کے پھندے پر لے جاؤ .... میں ابھی سائن کر دیتا ہوں !!! "
" مولانا ...... مجھے اپنے سینئرز کو جواب دینا ہے کہ میں نے نوٹس آپ تک پہنچا دیا ہے "
" اچھا ..... اگر سینئرز کا اتنا ہی خوف ہے تو لائیے .... " یہ کہ کر مولانا نیازی نے موت کے پروانے پر دستخط کر دیے-
آفیسر سراسیمہ ہو کر باہر نکلا جبکہ مولانا وجدانہ کیفیّت میں یہ شعر پڑھتے ہوئے کمرے سے باہر آئے:
کشتگانِ خنجر تسلیم راء
ہر زماں از غیب جانِ دیگر است
جو تیری رضاء کے خنجر سے ذبح ہوتے ہیں ، ہر دور میں ، غیب سے اک نئ حیات پاتے ہیں .... !!!

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت کا ایک بے مثال واقعہ سناتے ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام حضرتِ سیِّدُنا اَسلم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم فرماتے ہیں: ''میں ایک رات امیر المؤمنین ،خلیفۃالمسلمین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا۔ آبادی سے باہرآگ کی روشنی نظر آئی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''اے اَسلم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم! شاید وہاں کوئی قافلہ ٹھہرا ہوا ہے، آؤ! وہاں چلتے ہیں، شاید! کسی کو کوئی حاجت ہو۔'' وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت نے آگ روشن کرکے دیگچی چولہے پر رکھی ہوئی ہے اور اس کے قریب ہی چھوٹے چھوٹے بچے بلند آواز سے رورہے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:'' اے روشنی والو! اَلسلام عَلَیْکُم'' عورت نے کہا:''خیر وسلامتی کے ساتھ آ جاؤ ۔'' امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قریب جا کر پوچھا: ''تمہارا کیا معاملہ ہے؟ ''عورت نے کہا:'' رات اور سردی کی وجہ سے ہم نے آگ روشن کر لی۔'' پوچھا:''
یہ بچے کیوں رو رہے ہیں ؟''کہا:'' بھوک کی وجہ سے۔'' فرمایا: ''اس دیگچی میں کیا ہے ؟''عورت نے غمگین ہوکر کہا:'' ہمارے پاس کھانے کو کوئی چیز نہیں،مَیں نے دیگچی میں پانی ڈال کر چولہے پر رکھ دی ہے تاکہ اسے دیکھ کر بچوں کو کچھ سکون ملے اور وہ سو جائیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے اورامیر المؤمنین کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے۔ ہمارے خلیفہ حضرتِ عمر کو اللہ عَزَّوَجَلَّ پوچھے گا۔'' یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کانپ اٹھے اور اس سے فرمایا:'' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندی !عمرکوکیا معلوم! تمہارا کیا حال ہے؟'' کہا: ''وہ ہمارا خلیفہ ہو کر بھی ہم سے بے خبرہے؟''
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندی! تم یہیں ٹھہرنا، اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ میں کچھ ہی دیر میں واپس آتا ہوں۔''چنانچہ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیت المال کے گودام میں آئے ،ایک بوری میں جَو کا آٹا، چربی اور گھی وغیرہ ڈال کر مجھ سے فرمایا: ''اے اسلم! یہ بوری میری پیٹھ پر رکھو۔'' میں نے کہا:'' حضور!آپ کا غلام حاضر ہے، یہ بوری میں اٹھاؤں گا۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میری طرف دیکھ کر غصے سے فرمایا: ''جو کہا جارہا ہے اس پر عمل کرو اور بوری میری پیٹھ پر لاد دو۔'' میں نے کہا:'' حضور !میں اُٹھا لیتا ہوں۔'' فرمایا: ''کیا قیامت کے دن بھی تو میرا وزن اٹھا کر چلے گا؟ جلدی کر یہ بوری میری پیٹھ پر رکھ دے ۔'' حضرت اسلم کہتے ہیں کہ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی بوری آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیٹھ پر رکھ دی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلے اور عورت کےـ پاس پہنچ کر بوری اُتارکر زمین پر رکھ دی۔ پھر جو کا آٹا، چربی اور دیگر اشیاء ہانڈی میں ڈال کر خود ہی اسے ہلاتے رہے اور خود ہی چولہے میں پھونک مارتے رہے۔ میں نے دیکھا کہ امتِ مسلمہ کا عظیم خلیفہ، ایک غریب وبے سہار ا عورت اور اس کے بچوں کے لئے اپنے ہاتھوں سے کھانا تیار کر رہا ہے۔ اور دُھواں اس کی گَھنی داڑھی سے گزر رہا ہے۔ میں حیرت کی تصویر بنے یہ منظردیکھ رہا تھا۔

جب کھانا تیا ر ہوگیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ہاتھ سے برتن میں ڈالا اور اسے ٹھنڈا کرتے ہوئے کہا :''زیادہ گرم کھانا بچوں کو نقصان دے گا۔'' جب کھانا ٹھنڈا ہو گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''میں تمہیں کھانا ٹھنڈا کر کے دیتا ہوں،اب تم اپنے ننھے منے بچوں کو کھلاؤ اور خود بھی کھاؤ ۔'' امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ہاتھوں سے انہیں کھانا دیتے رہے یہاں تک کہ وہ سب سیر ہو گئے ۔ پھر عورت نے کہا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے جزائے خیر عطا فرمائے ! تُوامیرالمومنین سے زیادہ خلافت کا حق دار ہے '' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بند ی!امیر المؤمنین کے بارے میں اچھا کلام کر اور اچھا گمان رکھ۔تو جب بھی امیرالمؤمنین کے پاس آئے گی مجھے وہیں پائے گی میں ضرور تیر ی سفارش کروں گا۔'' عورت کومعلوم نہ تھا کہ امیرالمؤمنین اس کے سامنے موجود ہے ۔ اس نے پوچھا:'' اے نیک دل انسان !اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے، تو کون ہے؟''وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دعائیں دیتی رہی اور پوچھتی رہی ، لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اپنے متعلق کچھ نہ بتایا پھر کچھ دورجا کر چوپایوں کی طرح چار زانوں بیٹھ گئے اور ایسی آوازیں نکالنے لگے کہ بچے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودیکھ کر خوش ہو گئے۔
حضرتِ سیِّدُنا اَسلم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم فرماتے ہیں کہ''میں نے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حالت دیکھی تو متعجب ہو کر کہا: ''اے مسلمانوں کے عظیم خلیفہ !آپ کی شان اس سے بہت زیادہ بلند ہے، یہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیسی حالت بنالی ہے؟'' فرمایا:''خاموش ہوجاؤ! میں نے ان ننھے مُنّے بچوں کو بھوک سے روتادیکھا تھا اب مجھے اس وقت تک سکون نہیں ملے گا جب تک انہیں ہنستا نہ دیکھ لوں۔'' بچے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قریب آکر کھیلنے اور ہنسنے لگے، ان کا دل خو ش ہو گیا ۔پھرجب وہ سوگئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا ۔ پھر فرمایا:'' اے اَسلم !بھوک نے ان بچوں کو رُلادیا تھا ،ان کو روتا دیکھ کر میں نے تہیّہ کرلیا تھا کہ میں اس وقت تک نہ جاؤں گا جب تک انہیں ہنستا نہ دیکھ لوں۔ اب میرے دل کو سکون مل گیا ۔آؤ! واپس چلیں۔''
پیارے دوستو! اسلام اور اس کے ماننے والے سب سے اعلیٰ ہیں ،روئے زمین پر خیر خواہی کی ایسی عظیم مثال اسلام کے علاوہ اور کسی مذہب میں ہرگز نہ ملے گی۔ مسلمانوں کے علاوہ کائنات میں ایسا تاریخی واقعہ کہیں نہ ملے گا کہ بادشاہ ہو کر خود ہی اپنی کمر پر بوری لادے اور پھر ایک غریب عورت اور اس کے بچوں کی دل جوئی کے لئے اپنے آپ کو ان کے لئے سواری بنائے ۔ یہ سب خوبیاں صرف اور صرف مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ دین اسلام ہی ایسی عاجزی وتواضع اور عدل وانصاف کا حکم دیتا ہے۔یہ سب ہمارے پیارے نبی اکرم ،شفیع امت، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تعلیم وتربیت کا نتیجہ ہے کہ گلشنِ اسلام میں خلفاء راشدین جیسے گلِ بے مثال کھِلے ،جنہوں نے اپنی خوشبو سے سارے عالم کو مہکا دیا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پر کروڑہاکروڑ رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم
آرائیں ایک ذات (Caste) ہے۔ اس ذات کے لوگ پاکستان اور بھارت میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔آپ میں سے بھی بہت سے دوست آرائیں قوم سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ آئیے اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو ان کی تاریخ کے بارے میں کچھ بتاتے ہیں جو یقینا آپ کے لئے دلچسپی اور معلومات میں اضافے کا باعث ہوگی۔ذہن میں رہے ذات صرف ہماری پہچان کے لئے ہوتی ہے ۔ اس پر فخر کرنا مناسب نہیں۔ہم پہلے مسلمان ہیں پھر پنجابی پٹھان آرائیں بلوچ راجپوت جاٹ وغیرہ ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم میں سے بہترین وہ ہے جو متقی ہے۔اب اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔
آرائیں ذات کے آباؤاجداد اریحائی فلسطینی عرب تھے، جو 712ء ميں دریائے اردن کے کنارے آباد شہر اريحا سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ محمد بن قاسم کے ساتھ برصغير ميں داخل ہونے والی فوج کی تعداد 12,000 تھی، جس میں سے 6,000 اریحائی تھے۔ محمد بن قاسم تقریباً 4 سال تک سندھ میں رہے۔ اسی دوران گورنر عراق حجاج بن یوسف اور خلیفہ ولید بن عبدالملک کا یکے بعد دیگرے انتقال ہوگیا۔ خليفہ سلیمان بن عبدالملک نے تخت نشینی کے بعد حجاج بن یوسف کے خاندان پر سخت مظالم ڈھائے۔ اسی دوران اس نے محمد بن قاسم کو بھی حجاج بن یوسف کا بھتیجا اور داماد ہونے کے جرم میں گرفتار کرکے عرب واپس بلایا، جہاں وہ 7 ماہ قید میں رہنے کے بعد انتقال کر گئے۔
خليفہ کی ان ظالمانہ کارروائيوں کی وجہ سے اریحائی فوجیوں نے اپنے آبائی وطن واپس نہ جانے اور برصغیر ہی میں ہی قيام کا فيصلہ کرليا۔ خلیفہ کے عتاب سے بچنے کیلئے انہوں نے فوج کی ملازمت چھوڑ دی اور کھیتی باڑی کواپنا ذریعہ معاش بنا لیا۔ کچھ عشروں بعد وہ آہستہ آہستہ وسطی اور مشرقی پنجاب کی طرف چلے گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی اگلی نسلیں پورے برصغیر میں پھیل گئیں۔
اریحائی یا الراعی سے آرائیں
صدیوں تک غیرعرب علاقے میں رہنے اور مقامی آبادیوں کے ساتھ گھل مل جانے کی وجہ سے عرب اریحائی جہاں اپنی عربی زبان چھوڑ کر عجمی ہوگئے، وہاں انہوں نے برصغیر کی مقامی زبانوں پر بھی گہرا اثر چھوڑا۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر کی زبانوں میں بےشمار عربی الفاظ شامل ہوتے چلے گئے۔ مقامی لوگوں کیلئے عربی کے حرف ’ح‘ کا اصل تلفظ کرنا مشکل تھا اور لفظ اریحائی وقت کے ساتھ ساتھ ’’ارائی‘‘ پھر ’’ارائیں‘‘ اور پھر بالآخر آرائیں بن گیا۔
ایک دوسرے امکان کے مطابق پہلے اریحائی لفظ الراعی سے تبدیل ہوا، جو عربی کا ہی ایک لفظ ہے، جس کے معنی چرواہے کے ہیں۔ الراعی میں ’ر‘ حرف شمشی ہے، جب اس سے پہلے ’الف لام‘ لگتا ہے تو ’الف‘ بولا جاتا ہے اور ’ل‘ حذف ہوجاتا ہے، یوں ’الراعی‘ سے اراعی ہوگیا۔ عجم حرف ’ع‘ کی ادائیگی نہیں کرتے، اس لئے حرف ’ع‘ حرف ’ء‘ کے ساتھ تبدیل ہوگیا، یوں ارائی سے جمع کی صورت میں ارائیں ہوگیا۔
ایک اور ضیعف روایت کے مطابق یوں بھی بعض کتب میں لکھا ہے کہ آرائیں آریان تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں، جس کا پتہ ہڑپہ سے چلتا ہے، جہاں وہ لوگ تین ہزار قبل مسیح آباد تھے۔اس کے علاوہ ایک اور روایت بھی موجود ہے کہ یہ لوگ وسط ایشیائی ریاستوں سے برصغیر آئے تھے۔
مذکورہ بالا ضعیف روایات کی تردید میں آج کی آرائیں ذات کو ماضی کے اریحائی ثابت کرنے والے کہتے ہیں کہ برصغیر میں بسنے والے دیگر مسلمانوں کے برخلاف آرائیوں کی سو فیصد آبادی مسلمان ہے۔ اگر یہ کسی آریان تہذیب کی نسل سے ہوتے تو دیگر نومسلم ذاتوں کی طرح ان کی اتنی کثیر آبادی کا بیس تیس فیصد حصہ یقیناً ہندو یا سکھوں پر مشتمل ہوتا۔
محمد بن قاسم (علیہ رحمہ)کے لشکر سے آرائیں لفظ کی تشریح راجہ داہر کی قید میں ایک مسلمان لڑکی کی آواز پر لبیک کہنے والا بارہ ہزار عوام کا اسلامی لشکر چار حصوں پر مشتمل تھا پہلا حصہ کا نام مقدمتہ الجیش تھا جو کہ تھوڑے سے آدمیوں پر مشتمل تھا اور لشکر سے تین چار میل آگے سے راستہ کی راہنمائی کر رہا تھا ۔باقی دائیں طرف کا لشکر (میمنہ) اور بائیں طرف والا (میسرہ) اور درمیان والے لشکر کا نام( قلب )تھا ۔ ہر اسلامی لشکر کے پاس ایک جھنڈا ہوتا تھا جس کو فوج ہر صورت میں بلند رکھتی ہے ۔اور جنگ کے اختتام پر یہ مفتوحہ زمین پر گاڑ دیا جاتا ہے ۔اس جھنڈے کا ذکر نبی اکرم محمد ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ) نے جو غزوات خود لڑے ان میں بھی ہے اور صحابہ اکرام (ر ضوان اللہ تعالی اجمعین )نے ان کو گرنے سے بچانے کے لیے شہادتیں نوش فرمائیں ہیں ۔ اس فتح کے نشان والے جھنڈے کا نام (الرائیہ) ہوتا تھا ۔ فتح کے بعد اس شامی فوج کے سپاہی کو الرائیہ کی نسبت سے الرائیی کہا جانے لگا لفظ الرائیی عربی میں جب بولا جاتا ہے تو سننے میں آرائیں ہوتا ہے کیونکہ اسکے بعد ل بولی نہیں جاتی ۔الرائیی لفظ کو انگلش میں آرین کہتے ہیں ۔ انگلش تاریخ دانوں نے جو یہ لکھا ہے کہ آرین Arian نے یورپ سے آکر یہاں حملہ کیا اور آباد ہوئے بالکل ٹھیک لکھا ہے کیونکہ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت شام میں اسلامی خلافت اور دنیا کی سپر پاور تھی اور اس سلطنت کے علاقے یورپ میں بھی تھے اس وقت جب یہ لشکر شام کے جس علاقے سے بھیجا گیا وہ آج بھی شامی علاقہ یورپ کی حدود میں واقعہ ہے.۔خلاصہ کلام یہ کہ آرائیں قوم برصغیر پاک وہند میں عرب سے محمد بن قاسم کی قیادت میں ہی آئی تھی۔جو بعد میں مستقل طور پریہاں رہائش پذیر ہوگئی۔ان میں زیادہ تر لوگ آج بھی کھیتی باڑی کے شعبے سے ہی منسلک ہیں۔ واللہ اعلم
سکھّر میں شام ڈھل رہی تھی-
ہمیں آج ہی رات دس بجے بزریعہء خیبر میل لاہور کےلئے روانہ ہونا تھا-
جیل گیٹ پر ایک حسرت آمیز نظر ڈالتے ، ہم بیگ آٹھائے واپس چل دیے- نہر پار کر کے ہم لاہور کراچی روڈ تک پہنچے اور ریلوے اسٹیشن جانے کےلئے یکّہ کے انتظار میں کھڑے ہو گئے- ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئ تھی کہ جیل روڈ کی طرف سے ایک سائیکل سوار سنتری آتا دکھائ دیا- نہر کنارے آ کر اس نے سائیکل کھڑی کی اور ہمیں آواز دینے لگا-
میں نے چاندپوری کو اس طرف متوجہ کیا تو وہ مجھے بیگ پکڑا کر اس کی طرف چلے گئے- دونوں کے بیچ کچھ دیر گفتگو ہوئ پھر چاند پوری نے اشارہ کر کے مجھے بھی بلا لیا-
"خیریت تو ہے ... کیا مسئلہ ہو گیا ؟ " میں نے پُوچھا-
" معلوم نہیں .... وارڈن نے بلایا ہے "
" وارڈن نے ؟ خیریت ؟ آخر کس لئے ؟"
" یہ تو جا کر ہی معلوم ہوگا .... اللہ بہتر کرے گا ... !!"
ہم نصف کلومیٹر چل کر واپس جیل گیٹ پر پہنچے تو نئے سنتری اپنی ڈیوٹی سنبھال چکے تھے- انہوں نے نہایت اخلاق سے ہمارا استقبال کیا- ہمارا بیگ اتروا کر اندر چوکی میں رکھّا- پھر ایک حوالدار نے اپنے ساتھی کو آواز دی-
" اللہ بچائیو ... مہمانوں کو اندر ابڑو صاحب کے پاس چھوڑ آؤ !!! "
"یہ ابڑو صاحب کون ہیں بھائ ؟"
" فکر کی بات نئیں ہے بابا .... وارڈن صاب نے آپ کو یاد کیا ہے .... "
ہم دھڑکتے دل کے ساتھ سنتری کے پیچھے پیچھے چل دیے- وہ ہمیں مختلف برامدوں سے گزارتا وارڈن کے دفتر تک چھوڑ آیا-
یہاں ایک گھنّی داڑھی اور بھاری مونچھوں والا شخص بیٹھا ہوا تھا- اس نے اٹھ کر ہمارا یوں استقبال کیا جیسے مدت سے ہماری راہ دیکھ رہا ہو- حالات کے بدلتے تیور دیکھ کر ہم دریائے حیرت میں غوطے کھانے لگے-
"اللہ بچائیو .... سائیں کڑک چائے بنواؤ فٹا فٹ !!! " وارڈن نے سنتری کو حکم کیا اور ہمیں بڑی عزت سے کرسیوں پر بٹھا دیا-
"اور سائیں ... حال سُٹّھو آہے ناں ..."
"جی الحمد للہ " چاند پوری نے جواب دیا-
" ہم قادر بخش ابڑو ہئے ... یہاں کا وارڈن .... !!! "
" کہیے کیسے یاد فرمایا ؟؟ "
" ارے بابا .... بس ایک چھوٹی سی مجبوری ہئے " وہ ہنستے ہوئے بولا-
"خیریت ؟ کیسی مجبوری ؟ "
" او سائیں .... بڑی ڈاڈھی مجبوری ہئے .... لیکن مسئلہ سرکاری ہئے .... ورنہ آپ کو مشقّت نہ دیتا ...."
"سرکاری مسئلہ .... ہم سمجھے نہیں "
" اوپر سے کچھ ڈاک آیا ہے ..... ہمارا منشی عید کی چھُٹّی چلا گیا ہئے .... ادھر کوئ مانڑوں زیادہ پڑھا لکھا نئیں ہئے ... سویرے یہ ڈاک ............. قیدیوں تک پہنچانا ہے" وہ کچھ لفافے دراز سے نکالتے ہوئے بولا-
" لیکن آپ نے ہمیں کس لئے زحمت دی .... ؟؟"
" ہم آپ کو سمجھاتا ہے بابا ... " وارڈن لفافے میز پر سجاتے ہوئے بولا- " دراصل جیل میں آنے والی ڈاک سنسر ہوتی ہئے ... خاص طور پر مولبی لوگوں کی چٹھیاں .... مجبوری ہئے .... اوپر سے یہی آرڈر ہے بابا ... یہ کام ہمارا منشی خیر محمد کرتا تھا ... لیکن آج دوپہر کو وہ چھٹی لیکر چلا گیا ہئے .... عید آرہی ہے ناں .... اس لئے .... نیا آدمی دو روز بعد آئے گا .... سویرے سویرے جیل سپریڈنٹ کو رپورٹ دینا ہوتی ہے ... اب ادھر سب چٹے ان پڑھ ہیں بابا .... سنتری لوگوں نے بتایا کہ ایدھر کوئ اخبار والا آیا ہوا ہے .... پھر مالوم ہوا کہ آپ لوگ چلا گیا ہے ... اس لئے دوست محمد کو آپ کے پیچھے بھگایا .... "
" ٹھیک ہے .... لیکن یہ کام آپ کسی قیدی سے بھی کروا سکتے تھے ..... "
"بابا .... منہائ ہے .... یہ سب خفیہ ماملا ہے ... کیا کریں ؟ "
چاند پوری کرسی گھسیٹ کر وارڈن کے قریب ہو گئے- اور خطوط کی جانچ پڑتال کرنے لگے-
کل چار خطوط تھے- ان میں دو تو غیر متعلقہ تھے- ایک سرکاری چٹھی تھی جو شاید لاہور سے آئ تھی- اس میں کسی سرکاری کمیشن کا تذکرہ تھا جو اگلے مہینے بیٹھنے والا تھا- اس کے علاوہ ایک خط سیّد مظفر علی شمسی کے نام تھا ، جو شاید گھر سے ان کی چھوٹی بہن نے لکھّا تھا-
"بس ایک یہی خط ہے مولوی لوگوں کا ... باقی تو سب سرکاری چٹھیاں ہیں " چاند پوری نے کہا-
"اچھا بابا ..... یہی ہم کو پڑھ کر سمجھا دو .... " وارڈن نے کہا-
"لیکن کسی کا خط پڑھنا .... غیر مناسب ہے ... "
"مجبوری ہائے بابا .... ورنہ آپ کو کیوں تکلیف دیتا .... "
چاند پوری نے نہایت احتیاط سے لفافہ چاک کیا اور با آوازِ بلند خط پڑھنے لگے :
میرے پیارے بھیّا ..... اسلام علیکم !!!
اللہ تعالی نے آپ کو جس امتحان میں ڈالا ہے ، کامیاب کرے- میں آپ کو پریشان تو نہیں کرنا چاھتی لیکن انتہائ مجبوری ہے ، جس کی وجہ سے یہ خط لکھ رہی ہوں- میں کچھ ماہ سے سخت بیمار ہوں- کھانسی زوروں پر ہے ، بخار دامن نہیں چھوڑتا ، اور ٹمپریچر 104 سے نیچے نہیں آتا- ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ ٹی بی کی آخری اسٹیج ہے- ماں باپ نے مجھے آپ کے سپرد کیا تھا ، اب موت مجھے لئے جا رہی ہے- کاش آخری وقت میں آپ میرے پاس ہوتے-
آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ناموس کےلئے مصائب برداشت کر رہے ہیں- اللہ آپ کو استقلال بخشے- اور قیامت کے روز آپ کی قربانی ہمیں دربارِ رسالت میں سرخرو کر دے- آپ بہادری سے قید کاٹیں- اگر زندگی رہی تو مل لوں گی- ورنہ میری قبر پر تو آپ ضرور آئیں گے- سب بچّے سلام کہتے ہیں- اب ہاتھ میں طاقت نہیں اس لئے خط ختم کرتی ہوں-
واسلام آپ کی بہن !!!
اس مختصر مگر المناک خط نے ہماری جان نکال کر رکھ دی- چاند پوری کی آواز بھی لڑکھڑانے لگی- جانے تاریک کوٹھڑی کے اسیر تک یہ خط پہنچا ہوگا تو وہ کس کیفیت سے گزرا ہوگا- زخموں سے چور جسم پر کیسی نمک پاشی ہوئ ہو گی- اس خط کا درد وہی سمجھ سکتا تھا جو وطن سے دور ہو اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر رہا ہو-
تھوڑی ہی دیر میں چائے آ گئ- چاند پوری اُٹھ کھڑے ہوئے-
"بابا چائے تو پی کر جاؤ .... "
"دل درد سے بھر چکا ہے سائیں .... چائے کی طلب نہیں رہی " چاند پوری نے کہا اور مجھے اُٹھنے کا اشارہ کیا-
درد تو پہلے بھی کم نہ تھا لیکن دکھ کی جو گٹھڑی اس خط نے ہمارے سر پر رکھّی اس نے تو کمر ہی توڑ دی تھی-
رات کے آٹھ بج چکے تھے- وارڈن نے کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں پولیس وین مہیا کرنے کی آفر کی لیکن چاند پوری نہ مانے- چوکی سے ہم نے اپنے بیگ اُٹھائے ، اور تھکے قدموں سے چلتے ہوئے دوبارہ نہر کے کنارے آکر کھڑے ہو گئے-
الیکٹرانک کامرس یا برقی کاروبار دنیا میں بہت عرصہ سے جاری ہے اور مستقبل کی دکانیں اور مارکیٹیں، سب کچھ ڈیجیٹل ہوگا۔ ہر چند کہ پاکستان میں 2000 میں ای کامرس پر کام کا آغاز ہوچکا ہے اور ایکسپورٹ سے وابستہ اور دیگر کچھ کمپنیز نے اپنے کاروبار کو انٹرنیٹ پر منتقل کیا ہے لیکن ابھی بھی جدید دنیا اور مقامی مارکیٹ میں کافی فرق ہے. ہمارے تجارتی مراکز میں ابھی ’ای کامرس‘ کا دور دورہ نہیں، اور یہاں آج بھی کاروبار روایتی انداز میں ہو رہا ہے۔
کچھ جگہوں پر بزنس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش بھی ہو رہی ہے لیکن اس میں ’ہارڈ وئیر‘ تو کافی خرید لیا گیا ہے، مگر بزنس کو ڈیجیٹل کرنے کے عمل سے ہم ابھی بہت دور ہیں۔ کیا بزنس کو آئی ٹی سے آراستہ کرنے سے مراد چند کمپیوٹر خرید کر کمپوزنگ/ای میل کرنا، سوشل میڈیا پر کمپنی کا ایک آدھا پیج تیار کرنا یا ایک سادہ سی ویب سائٹ قائم کرنا ہے؟
بزنس کو ڈیجیٹل کرنے سے کمپنی کی ’آپشن کاسٹ‘ میں کمی ہوتی ہے لیکن اس طرح تو کمپنی کو آئی ٹی کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، الٹا کمپنی کے سالانہ لاکھوں روپے دیکھ بھال/تنخواہوں پر خرچہ ہو رہا ہے۔
جدید رجحانات پر درست طریقے سے عمل نہ کرنے کی بے شمار وجوہات ہیں۔ بدقسمتی سے بزنس مالکان کی اکثریت میں کاروبار کی ترقی کے لیے، ماہرین سے ملاقات، کتب بینی، ورکشاپس اور سیمینارز میں شرکت کا رجحان انتہائی کم ہے۔ اگر پوچھا جائے کہ سیمینار میں شرکت کیوں نہیں کی تو جواب ملتا ہے کہ یار کیا کریں ٹائم ہی نہیں ہے۔
لیکن سیاسی/مذہبی تقریبات، فیشن شو، فلم، اسٹیج ڈرامے ہر ہفتے دیکھتے ہیں۔ تقریباً 90 فیصد سے زیادہ بزنس مالکان کے آفس میں ٹی وی آن رہتا ہے۔ اکثریت کا پسندیدہ موضوعِ گفتگو بزنس کی ترقی کے بجائے حالات حاضرہ، خارجہ تعلقات، عالمی سازشیں ہیں۔

ممکنہ خطرے کا انتباہ

اگر آپ پہلے سے بزنس (اشیاء/خدمات) سے وابستہ ہیں۔ اور آپ ابھی تک قدیم اور روایتی طریقے سے اپنے بزنس کو چلا رہے ہیں تو آئندہ کچھ عرصہ بعد آپ کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ اب آپ کا مقابلہ اپنے روایتی حریفوں کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی سے بھی ہے۔
وہ وقت گزرتا جا رہا ہے جب لوگ صرف بازار میں آکر خریداری کرتے تھے اور مارکیٹ میں جس کے پاس اچھی اور بڑی دوکان تھی وہ ہی ہمیشہ کامیاب ہوتا تھا۔ ’’قدیم دوکان"، ’’اصلی دوکان‘‘ 1905 سے قائم شدہ، آج کا صارف ان باتوں سے مرعوب نہیں ہوتا۔ اب لوگ گھر بیٹھے بیٹھے ٹی وی پر کئی ہزار کلومیٹر دور سے اشیاء/خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی تیزی سے سب کچھ تبدیل کرتی جا رہی ہے۔
پاکستان میں بہت تیزی سے آن لائن شاپنگ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ابتدائی سالوں میں تو آن لائن شاپنگ زیادہ تر لوگوں کی رسائی سے دور تھی کیونکہ ادائیگی کی واحد ذریعہ کریڈٹ کارڈ ہوا کرتا، جو کہ آج بھی زیادہ تر لوگوں کے پاس موجود نہیں۔ لیکن اب کچھ عرصے سے پاکستانی ویب سائٹس نے ڈلیوری پر کیش کی ادائیگی اور موبائل فون کمپنیوں کے ذریعے ادائیگی کے آپشن متعارف کروائے ہیں، جس سے آن لائن شاپنگ اب زیادہ مشکل نہیں رہی۔
ای کامرس کی بدولت صارف اپنی من پسند مصنوعات کو بغیر وقت ضائع کیے دیکھ اور خرید سکتا ہے اور اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے مختلف اشیاء کی قیمت، مقدار، اجزا ترکیب کا موازنہ کر سکتا ہے، جو کہ روایتی بازار میں شاید ممکن نہیں۔ اس لیے اگر آپ اپنی مصنوعات کو ای کامرس سے ہم آہنگ نہیں کریں گے، تو کوئی دوسرا یہ کام کر لے گا۔

ای کامرس کے معنی اور فائدہ

اگر آپ پہلے سے کوئی کاروبار کر رہے ہیں یا آپ کوئی نیا کاروبار شروع کرنے چاہتے ہیں، تو آپ کو ای کامرس کے بارے میں معلومات ضرور حاصل کرنی چاہیے۔ ای کامرس کی بنیادی معلومات کے بعد آپ کے لیے فیصلہ سازی آسان ہوجائے گی کہ آپ نے اس سمت میں قدم بڑھانا ہے یا نہیں۔
ای کامرس کے اردو میں معنی الیکٹرونک تجارت ہے، سادہ الفاظ میں آن لائن ویب سائٹ کے ذریعہ اشیاء یا خدمات کی خرید و فروخت کو ای کامرس کہتے ہیں۔ بے شمار فوائد کی وجہ سے یہ تصور دنیا بھر میں بہت تیزی سے عام ہوگیا ہے۔

بزنس مین کو بچت

آپ کو جگہ، اسٹاف، نگرانی، کرایہ، وغیرہ کے اخراجات میں کمی ہوتی ہے ۔ مثلاً آپ اپنے سیل پوائنٹ/شوروم کا سائز چھوٹا کرسکتے ہیں۔ اشیاء کو اپنے پاس زیادہ مقدار میں ذخیرہ کرنے کے ضرورت نہیں۔ آرڈر کے حساب سے اشیاء کو خریدا جا سکتا ہے۔ کاروبار کو منظم کرنے سے آپ کو درست معلومات ملتی ہیں، جس سے آپ کی فیصلہ سازی آسان ہو جاتی ہے، اور نہ صرف آپشن کاسٹ میں کمی ہوتی ہے، بلکہ منافع میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
آپ اپنے گاہکوں سے دوبارہ رابطہ کرسکتے ہیں۔ ان کو خود کار طریقے سے ای میل، ایس ایم ایس ارسال کر سکتے ہیں، اس کے ساتھ آپ کی ویب سائٹ ہر وقت کھلے شوروم کا کام کرتی ہے، جس پر آپ اپنی دیگر اشیاء/خدمات کے اشتہارات بھی لگا سکتے ہیں، جیسے ڈان ٹی وی کی اس ویب سائٹ پر ڈان کے اپنے ٹی وی پروگرامز کے اشتہارات نظر آتے ہیں۔ نیز ای کامرس سے ہر قسم کی 'انسانی غلطیوں' سے نجات ملتی ہے۔
فرنٹ کی دوکان یا "موقع کی جگہ" کا حصول ہر ایک کے لیے ممکن نہیں، لیکن اپنی جگہ تبدیل کیے بغیر اپنے گاہکوں کی تعداد میں اضافہ سو فیصد ممکن ہے۔

صارف کے لیے بچت

صارف کے وقت اور توانائی کی بچت ہوتی ہے۔ بعض اوقات یہ ذریعہ سستا بھی ہے۔ مثلاً اگر ایک طالب علم کسی چھوٹے شہر میں رہتا ہے، اور اس کو کوئی کتاب درکار ہے، تو کئی دفعہ کتاب کی قیمت سے زیادہ اخراجات سفر کے ہوجاتے ہیں۔
اشیاء کے صارف تک پہنچنے تک درمیان میں کافی سارے مڈل مین ( ڈسٹری بیوٹر) آتے ہیں، جن کا منافع بھی گاہک ہی ادا کرتا ہے، جس سے اشیاء /خدمات کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ ای کامرس کی بدولت "تیار کنندہ" کا براہ راست رابطہ "استعمال کنندہ" سے ہو جاتا ہے۔

ای کامرس کا آغاز کیسے کریں؟

اگر آپ پاکستان میں ای کامرس کی لائن میں قدم رکھنے چاہتے ہیں تو آپ کو ان بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے.
ای کامرس ویب سائٹ
نظام کی تیاری
اشتہاری مہم

ای کامرس ویب سائٹ

آپ کو سب سے پہلے ضرورت ہے ایک ’ای کامرس ویب سائٹ‘ کی، جس پر آپ اپنی اشیاء/خدمات کو پیش کرسکیں، اگر آپ سنجیدہ بزنس کرنا چاہتے ہیں تو میری رائے یہ ہے کہ اپنے ذاتی ڈومین نیم سے کام شروع کریں نہ کہ سوشل میڈیا پر ایک پیج سے۔ آپ ’’ای کامرس ویب سائٹ‘‘ کسی ماہر شخص/کمپنی سے تیار کروا سکتے ہیں، یا پھر خود بھی ویب سائٹ ڈیزائننگ سیکھ سکتے ہیں، جو بہت زیادہ مشکل کام نہیں، بلکہ یہ ایک دلچسپ سرگرمی ہے۔ خاص طور پر اگر آپ نوجوان ہیں اور آپ کے پاس سرمایہ کم اور وقت زیادہ ہے، تو پھر آپ کو میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ ’’ویب سائٹ ڈیزائننگ‘‘ سیکھیں۔ (اس کے لیے آپ ہماراگذشتہ مضمون پڑھ سکتے ہیں جو آپ کے لیے کافی مفید ہوگا۔)

نظام کی تیاری

ای کامرس کو شروع کرنے میں زیادہ محنت درکار ہوتی ہے لیکن بعد میں کام آسان تر ہوجاتا ہے۔ کام کو آسان، اور سروس کو بہتر اور منظم کرنے کے لیے آپ کو ایک نظام (سسٹم) درکار ہے جسے آپ نے اپنی ضروریات کے مطابق ترتیب دینا ہے۔
روایتی کاروبار میں گاہک خود دکان پر آتا ہے، پیسے دیتا اور چیزیں لے جاتا ہے۔ لیکن یہاں گاہک صرف آپ کی ویب سائٹ پر آرڈر دیتا ہے۔ آرڈر کو وصول کرنا، سامان کو پیک کرنا، گاہک کے گھر تک پہنچانا اور رقم وصول کرنا سب آپ کی ذمہ داری ہے۔
گھبرائیے نہیں جناب، ای کامرس پہلے کی نسبت اب بہت آسان ہے۔ اب تمام امور "ریڈی میڈ" انداز میں حل ہوتے ہیں۔
ذمہ داری کون ادا کرے گا، دکان/شوروم پر سامان کون سیٹ کرے گا: ویب سائٹ۔
سیلز مین کا کام کون کرے گا: ویب سائٹ۔
آرڈر کون نوٹ کرے گا: ویب سائٹ۔
رقم کون وصول کرے گا: کوریئر یا آپ کا بینک
آرڈر کے مطابق پیکنگ کرنا اور کوریئر سے رابطے کی ذمہ داری: خود آپ کی یا آپ کا کوئی ملازم
سامان کی گاہک کے گھر ڈلیوری کون کرے گا: کورئیر
پیسے کا لین دین: اشیاء یا خدمات کی ادائیگی کے لیے صارف اپنے کریڈٹ کارڈ استعمال کرسکتا ہے۔ بہت سی غیر ملکی کمپنیاں اس سلسلے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان کے تمام بینکوں میں ’انٹربینک فنڈز ٹرانسفر‘ کی سہولت موجود ہے، یعنی صارف گھر بیٹھے اپنے بینک کی ویب سائٹ سے آپ کے اکاؤنٹ میں رقم ارسال کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ رقم کی ادائیگی کے لیے تمام موبائل فون کمپنیز کی سروسز موجود ہیں۔
لیکن پاکستان میں زیادہ تر آن لائن خریدای ’سی او ڈی‘ (کیش آن ڈلیوری) کی شکل میں ہوتی ہے۔ اس کے لیے آپ کو خود سے کوئی اسٹاف وغیرہ نہیں رکھنا بلکہ بہت سی کوریئر کمپنیز یہ کام کر رہی ہیں۔ فرض کریں آپ نے لاہور سے حیدرآباد گاہک کو کوئی چیز فروخت کی، تو بس گاہک کے آرڈر کو پیک کریں اور کوریئر کمپنی کے سپرد کردیں۔ وہ خود ہی گاہک کو سامان پہنچائے گی اور سامان کی قیمت وصول کر کے آپ تک پہنچا دے گی۔ اس کے بہت ہی مناسب اخراجات ہیں۔

اشتہاری مہم

ویب سائٹ کی تکمیل کے بعد سب سے مشکل کام گاہکوں کا آنا ہے۔ جتنے زیادہ سنجیدہ کسٹمر آپ کی ویب سائٹ کا وزٹ کریں گے، کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ اب آپ آن لائن گاہکوں کی توجہ کیسے حاصل کریں؟ تو جناب گھبرائیں نہیں۔ اس کام کے لیے بھی حل موجود ہے۔ مارکیٹ میں بہت سے افراد/کمپنیز بہت ہی مناسب فیس میں یہ آپ کی آن لائن اشتہاری مہم کو منظم انداز میں چلانے کا کام سرانجام دینے کے لیے موجود ہیں۔ شروع میں آپ ان کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔ آہستہ آہستہ آپ خود یہ مہارتیں سیکھ سکتے ہیں۔
’گوگل ایڈ ورڈز‘ آن لائن اشتہاری مہم کے لیے ایک بہت مزیدار حل پیش کرتا ہے۔ اس میں آپ طے کرسکتے ہیں کہ یہ اشتہار کس طرح کے شخص، علاقے، عمر، جنس، دل چسپی رکھنے والے کو نظر آئے۔ نہایت فوکس کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے ’’گوگل ایڈ ورڈز‘‘ کے رزلٹ بہت شاندار ہیں۔ اس کے علاوہ آپ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر مناسب فیس میں اشتہاری مہم چلا سکتے ہیں۔ جس سے دنوں میں آپ کا کاروبار چمک اٹھتا ہے۔
یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں حکومتی عدم توجہ، تعلیم کی کمی، یا دیگر اسباب کی وجہ سے انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان کی تعداد کم ہے۔ لیکن پھر بھی موجودہ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد تقریباً 2 کَروڑ کے قریب ہے اور آئندہ اس میں اضافہ ہی ہونا ہے، کمی نہیں ہونی۔ بے شمار کمپنیز انٹرنیٹ کے ذریعے پاکستان کی مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں کامیاب کاروبار کر رہی ہیں۔ تو آپ کیوں نہیں کر سکتے؟

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers