جون ایلیا نے کہا تھا.
آزادی نسواں کے اعلمبردار حقیقت میں عورت کی آزادی کے نام پر عورت تک پہنچنے کی آزادی چاہتے ہیں ___
اٹلی کے انٹریر منسٹر رابرٹ مارونی سے جب کہا گیا کہ جناب! ضرورت اس امر کی ہے حجاب کے بین لا پہ دستخط کر ہی دیا جائیں !رابرٹ مارونی اس وقت چائے کا مگ ہاتھ میں لیے کھڑے تھے ، سامنے لگے پور ٹریٹ کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگنے ، اگر کنواری ماں ماں مریم اپنی تمام تصویروں میں حجاب پہنے ظاہر کناں ہو سکتی ہے ، تو تم کون ہوتے ہو مجھے کہنے والے کہ میں حجاب بین لا پہ دستخط کر دوں؟ ؟؟؟
یمن کی عرب لڑکی توکل کامران کو جب نوبیل پرائز کے لیے نامزد کیا گیا جب وہ سپیچ کرنے ڈائس پہ آئ تو سٹیج سیکٹری نے مائیک میں سوال کیا_حیرت ہے آپ اک پڑھی لکھی خاتون ہیں پھر بھی حجاب کرتی ہیں؟ .اس نے کہا _ زمانہ قدیم میں جب لوگ جاہل تھے تو ننگے تھے ،کپڑوں سے باہر تھے ، جو کچھ آج میں پہنے کھڑی ہوں یہ تہزیبِ انسانیت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے ناکہ رجعت پسندی! اب اگر کوئ کپڑوں سے باہر آتا ہے تو وہ زمانہ قدیم کو تنزلی، رجعت پسندی ہوگی ___!!
علی ہجویری رح نے کہا تھا
عادت بھی حجاب ہے!
یعنی عادات و اطوار میں اک بچ بچاؤں الگ تھلگ ملبوسیت کے جیسا ہی حجاب ہے _
فرانس ، جرمنی ، ناروے ، کینڈا ، ہالینڈ ، مشرقی مغربی یورپ میں بل دھونس بندوق کی نوک پہ حجاب پہ پابندی کے بل کرائے گئے ، راہ چلتی مسلم خواتین کو عبائیوں سے پکڑ کر سڑکوں پہ گھسیٹا گیا جرمانے عائد کیے گئے جیلوں میں ڈالا گیا ، فقط اپنی مرضی کے کپڑے زیب تن کرنے پر؟ تف کہوں عقل پہ کیا زمانے اتنی ترقی کرلی کہ اب اپنی مرضی سےکوئ عورت کپڑے بھی نہیں پہن سکتی؟ ؟؟ 
کیا یہ آزادی اظہار ہے __ ؟؟؟
ایک آدمی سڑک بیچوں بیچ جا رہا تھا ، زور زور سے گول دائرے میں بانس کا ڈنڈا گھما رہا تھا ، بانس کی نوک اک راہگیر کی ناک کے قریب سے گزری تو اُس نے اُسے روک پوچھا!
جناب یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ ؟ اس نے کہا میں اپنی آزادی کا اظہار کر رہا ہوں ، راہیگر نے کہا ، دیکھیے جناب! درست مگر یادرہے!
آپکی آزادی وہاں ختم ہو چکی ہوتی ہے جہاں سے میری" ناک" شروع ہوتی ہے ___!
حیرت تو یہ کہ اس پہ پابند سلاسل کرنے والے کہاں کے روشن دماغ ہوئے جاتے ہیں؟ 
ہمیں کہتے ہیں نے سناں کی نوک اسلام رائج کیا - کیا ابھی یہ کوئ جواز رکھتے ہیں کہ بہ نوک بندوق پابند ِ سلاسل بے حیائ ، روشن خیالی پھیلانے والے یہ نہیں تو کون ہیں؟ ؟ حجاب جرمانہ و جیل کی نوک پہ صبط کرنے والوں کو کروڑہا بار سلیوٹ مارنے کو دل کرتا ہےاپنی تہزیب کی چورن آزادی اظہار کے نام پر بیچتے بیچتے ، ہمارے شعائر جب رو برو ہوں تو ہم اپنے آزادی اظہار حق یکے دم ناجانے کیوں کھو دیتے ہیں_ یہ یک طرفہ آزادی اظہارِ رائے کیا انکی ضمیر کی عدالت میں انہیں رسوا نہیں کرتا؟ ؟
ان یک طرفہ بے غیرتوں میں انہی میں سے کوئ ایک آدھا صاحب ظرف بھی ہوتا جو انہی کے منہ پہ تماچہ جڑ کے انہیں انکی اصل سے آشکار کرتے ہوئے کہتا ہے __ !
یورپ کی انسانی حقوق کونسل کے کمشنرتھامس حماربرگ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”اس طرح کے اقدامات سے خواتین کو آزادی دینے کی بجاے انھیں معاشرتی زندگی سے ہی نکال باہر کیا جارہا ہے۔ درحقیقت برقع پر پابندی، یورپ کے انسانی حقوق کے معیارات اور خاص طور پر کسی کی نجی زندگی اور ذاتی شناخت کے احترام کے منافی ہے۔ جس طریقے سے مسلم خواتین کے لباس کے معاملے کو اچھالا جارہا ہے، اس سے نمٹنے کے لیے بحث اور قانون سازی کی ضرورت ہے!
امریکا ہی کی ایک ہسپانوی النسل نومسلمہ نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”جب میں مغربی لباس میں ہوتی تھی تو مجھے خود سے زیادہ دوسروں کا لحاظ رکھنا پڑتا تھا، گھر سے نکلنے سے پہلے اپنی نمائش کی تیاری، ایک کرب انگیز اور مشکل عمل تھا۔ پھر جب میں کسی اسٹور، ریسٹورنٹ یا کسی ایسے مقام پر جہاں بہت سارے لوگ جمع ہوں، جاتی تھی تو خود کو دوسروں کی نظروں میں جکڑی ہوئی محسوس کرتی تھی، میں بظاہر آزاد وخود مختار ہوتی تھی؛ لیکن فی لحقیقت دوسروں کی پسند وناپسند کی قیدی ہوتی تھی، پھر یہ فکر بھی لاحق رہتی تھی کہ جب تک حسن اور عمر ہے، لوگ میری طرف متوجہ ہیں، عمر ڈھل جانے کے بعد خود کو قابل توجہ بنانے کے لیے مجھے اور زیادہ محنت کرنی پڑے گی؛ لیکن اب اسلامی پردے نے ان الجھنوں سے مجھے یکسر بے فکر وآزاد کردیا ہے۔____!
فقط حجاب پر ہالینڈ نے فی کس ایک سو پچاس یورو جرمانہ عائد کا قانون بنا رکھا _
پھر انکے منہ پر انہی کی تہزیب کی کیچڑ میں لتھڑا ہوا ہاتھ اٹھتا ہے ، تماچہ جڑ دیتا ہے!
فرانس کے بزنس مین نے جب دیکھا کہ فرانس میں حجاب پہ پابندی لگادی گئ ہے تو اس نے کہا _ 
مسلمان عورتیں حجاب کا حق رکھتیں ہیں وہ حجاب جاری رکھیں فی یوم کے حساب پورے فرانس میں اک بھی موجود مسلم خاتون کا جرمانہ میں ادا کروں گا ___ !
تم دراصل ہمارے شعائر کی جوتی کی انی کی برابر بھی نہیں پہنچ سکتے _ پانی راستہ خود بناتا ہے پل باندھیں گے تو حد سے تجاوز کرکے پل سے بہہ نکلے گا ،
اکبر الہ آبادی نے کہا تھا
یہی ہے عقدہ کشائ قوم تو اک دن 
ازار بند کو کہہ دیں گے حبس بے جا ہے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers