انقلاب اور پاگل پن۔۔۔انقلاب فرانس کا دل کو چھونے والا ایک افسوس ناک نسوانی کردار۔۔théroigne de méricourt
یہ خاتون جب 5 سال کی بچی تھی تو اس کی والدہ انتقال کرگئی۔ اس کو ایک آنٹی نے مجبوری سے رکھ لیا۔۔ لیکن ایک نوکرانی جیسا سلوک شروع کردیا۔ اس کے باپ نے جب دوبارہ شادی کی تو اس نے اسے اپنے پاس بلا لیا۔ لیکن سوتیلی ماں نے اسے پیار بھرے گھر کا ماحول نہ دیا۔ یہ محبت اور گھر کی متلاشی بچی اپنے نانکے چلی گئی۔ لیکن وہاں بھی کوئی صورت حال بہتر نہ تھی۔ یہ پھر اسی آنٹی کے گھر آجاتی ہے۔ لیکن اسے وہی بدترین حالات کا سامنا تھا، چنانچہ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ زندگی کا سامنا خود کرے گی۔ چنانچہ اس نے کپڑے سینے سے لے کر ہر وہ کام کیا۔۔جس سے وہ زندہ رہ سکتی تھی۔ اسے ایک خاتون مل جاتی ہے، جو اسے پیانو بجانے اور گانا سکھانا شروع کردیتی ہے۔ اسے ایک انگریز فوجی آفیسرملتاہے۔ وہ شادی کے بہانے اسے پیرس لے آتا ہے۔۔اور مطلب پورا ہونے پر چھوڑدیتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کے تعلقات اونچی سوسائٹی کے لوگوں سے ہوگے۔۔چنانچہ یہ پیرس اشرافیہ کی 'چالو' لڑکی بن گئی۔ اسے وہاں سے قیمتی تحفے اور پیسے ملنے لگے۔ اس کے معروف لوگوں سے آفئیر چلتے رہے۔ اور ہر کوئی اسے چھوڑتا رہا۔ ساتھ ہی اس نے کوشش کی کہ اپنے میوزک اور گانے کے کیئریر کو بنا سکے۔ کچھ کنسرٹ کئے۔ لیکن کامیاب نہ ہوسکی۔ اس کی رومانی اور پروفیشنل زندگی دونوں ہی مایوسیوں اور ناخوشیوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس نے اپنی طرف سے بڑی کوشش کی کہ اپنی قسمت کو اپنے کنٹرول میں کرسکے۔ لیکن اسے مایوسیوں اور تلخی کے سوا کچھ نہ ملا۔ اب اس نے مردانہ لباس پہن گھوڑ سواری شروع کردی۔ تاکہ دوسرے سے ممتاز نظرآسکے۔ اس نے ایک بار اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا۔۔کہ عورت ہونے پر اس کی ہمیشہ تذلیل کی گئی ہے۔چونکہ مرد فخر کی علامت ہے۔ چنانچہ میں نے وہ روپ دھار لیا۔ ادھر انقلاب فرانس کے حالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ شاہی قلعے باسٹیل پر حملہ ہو جاتا ہے۔ یہ انقلابی سرگرمیوں میں شریک ہوجاتی ہے۔ اور انقلاب فرانس کے بااثر انقلابیوں اور قائدین کے ساتھ اس کا اٹھنا بیٹھنا ہوجاتا ہے۔ یہ ہرروز انقلابی اسمبلی میں بیٹھتی تھی۔ سب سے پہلے آتی اور سب سے آخر میں جاتی۔ یہ جوش بھری انقلابی تقریریں کرتی۔ وہ انقلاب فرانس میں آزادی نسواں کا سمبل بن گئی۔ اب فرانس میں اس کا نام سیلیبریٹی کے طور پر جانا جانے لگا۔۔ اسے جلد ہی محسوس ہوا کہ انقلاب کے ساتھیوں کو مردانہ حقوق میں زیادہ دلچسپی ہے۔ عورتوں کی آزادی اور برابری میں نہیں۔ پریس بھی عورتوں کی آزادی سے خوف زدہ تھا۔ چنانچہ اخباروں میں اس کے خلاف مضامین چھپنے شروع ہوگے۔ جس میں اس کی زات پر رقیق حملے ہوا کرتے۔۔اسے طوائف کہا جاتا۔ اسے اغوا کرکے آسٹریا لے جایا گیا۔۔دس دن کا خوفناک سفر تھا۔ راستے مین اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک ہوتا رہا۔ ریپ کرنے کی بھی کوشش کی گئی جس سے یہ بچ گئی۔ آسٹریا میں انقلاب فرانس کے بارے معلومات لینے کے لئے اس سے تفتیش کی گئی۔ لیکن اس کے پاس کوئی اہم معلومات نہ تھی۔ اسے وہاں ڈیپریشن، سردرد، خون کی تھوک آنی شروع ہوگئی۔ بیماری کی وجہ سے اسے رہا کردیا گیا۔ یہ پیرس واپس آئی اور اس نے وہاں پھر جوشیلی تقریریں کی۔ اور عورتوں کی مظلومیت اور ان کی آزادی پر زور دیا۔ اس نے عورتوں کی جنگجو تنظیم female warriors بھی بنانے کی کوشش کی۔ 1793 میں عورتوں کی ایک ٹولی نے اس پر حملہ کردیا۔۔ اس کے کپڑے پھاڑ کر سربازار ننگا اور چھڑیوں سے مارا۔۔۔ اس کی زہنی حالت ہمیشہ سے کمزور رہی تھی۔ اس واقعے نے کو نفسیاتی طور پر توڑکر رکھا دیا۔۔۔ اب یہ پاگل پن کی اندھیری کھائی میں گر چکی تھی۔ یہ زہنی امراض کے مختلف شفاخانوں میں 20 سال تک زندہ رہی۔ پاگل خانے میں برہنہ ہوجاتی تھی۔ وہ پاگل پن میں بھی انقلاب کی باتیں کیا کرتی تھی۔ اس کے بعد بھی جب اس کے سب ساتھی انقلابی خیالات کو چھوڑ چکے تھے۔۔ 9 جون 1817 کو مختصر بیماری میں مبتلا رہنے کے بعد مرگئی۔



Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers