میں سائنسی اصطلاحات کی بجائے عام مثالوں اور سادہ الفاظ میں بتانے کی کوشش کرتا ھوں۔
یہ تو سبھی بہن بھائی جانتے ھیں کہ ایٹم سب سے چھوٹے ذرے کو کہا جاتا ھے۔ اس چھوٹے سے ذرے کے بھی چھوٹے چھوٹے ذرات ھوتے ھیں جن سب کے مجموعے کا نام ایٹم ھے۔ یہ ایٹم ویسے تو آج تک سب سے چھوٹا ذرہ سمجھا جاتا رھا ھے لیکن ایک اور بھی ذرہ جو سب سے چھوٹا ھے جسے گارڈ پارٹیکل یا ھگز بوسن (دریافت کرنے والے سائنسدان کا نام) کا نام دیا گیا ھے وہ سب سے چھوٹا ھے جسے 2013 میں دریافت کیا گیا تھا۔ ایٹم اتنا چھوٹا ھوتا ھے کہ ایک ناخن پر کروڑوں ایٹم سما سکتے ہیں۔ یہ ارسطو کے زمانے کی بات ھے اس دور میں آج سے تقریبا" پچیس سو سال پہلے ایک فلسفی مقراطیس نے ایک دن خیال کیا کہ اگر کسی چیز کو دو ٹکڑوں میں کاٹا جائے اور پھر ان دو میں سے ایک ٹکڑے کو بھی دو ٹکڑوں میں کاٹا جائے اور تقسیم در تقسیم کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے تو ہم ایک ایسے انتہائی چھوٹے ذرے تک پہنچ جایں گے جسے مزید تقسیم کرنا ممکن نہ ہوگا، دی مقراطیس وہ شخص تھا جس نے پہلی دفعہ ایسے ناقابل تقسیم ذرے کے لیے “ایٹم” کا لفظ استعمال کیا۔ اس کا نظریہ تھا کہ کائنات میں موجود ھر چیز ایٹموں سے مل کر بنی ھوئی ھے ۔
اس نظرئیے پر آنے والی صدیوں میں بہت سے لوگوں نے سوچا اور پھر اس حوالے سے بہت سے انکشافات ھوتے چلے گئے مثلا" اس سب سے چھوٹے ذرے ایٹم کے اپنے بھی ذرات ھوتے ھیں جو اس کے مرکزے کے گرد اسی طرح گردش کرتے ھیں جیسے سورج کے گرد سیارے کشش ثقل کی وجہ سے گردش کرتے ھیں۔ ایٹم کے مرکز نیوٹرون اور پروٹان موجود ھوتے ھیں جبکہ الیکٹران مرکز کے گرد مداروں میں گردش کرتے رھتے ھیں۔ الیکٹرون پر منفی چارج اور پروٹان پر مثبت چارج ھوتا ھے جبکہ نیوٹرون پر کوئی بھی چارج نہیں ھوتا۔ ھر ایٹم میں خلا ھوتا ھے آپ کو دلچسپ بات بتاتا ھوں کہ اگر صرف انسانوں کے ایٹموں کے بیچ کا خلا ختم ھوجائے تو ساری دنیا کے انسان آپ کے ھاتھ کی ھتھیلی پر سما جائیں۔ ھر چیز کے ایٹموں کا وزن مختلف ھوتا ھے اس کی وجہ ایٹم میں موجود پروٹان اور الیکٹران کی تعداد ھے ۔ الیکٹاونز اور پروٹان کی تعداد ایک جتنی ھوتی ھے ۔
گذرتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ھوگیا کہ ایٹم کو بھی توڑا جا سکتا ھے اور ایٹم کے ٹوٹنے سے توانائی خارج ھوتی ھے ۔ ایٹم کو توڑنے کے لئے نیوٹرون کو ایک گولی کی طرح استعمال کیا جاتا ھے کیونکہ نیوٹرون پر کوئی چارج نہیں ھوتا اس لئے یہ آسانی سے ایٹم کے مرکزے تک پہنچ کر اسے پھاڑ دیتا ھے ۔ نیوٹرون کو روشنی کی رفتار سے پھینکا جاتا ھے ۔
ایٹم بم کے ایٹم کیسے توڑے جاتے ہیں؟
یہاں میں بلیئرڈ یا سنوکر کی مثال دونگا جس طرح سنوکر کی دس بارہ گیندوں کو سٹرائیکر کے ذریعے زور سے ھٹ کرکے ایک گید کے ذریعے دوسری گیند سے ٹکرایا جاتا ھے دوسری آگے والی دو تین گیندوں کو ھٹ کرتی ھے اور دو تین آگے والی چار پانچوں کو ھٹ کرکے تیزی سے بکھیر دیتی ہیں بالکل اسی طرح نیوٹرون ایک ایٹم کو بے پناہ طاقت سے توڑتے ہیں اس ٹوٹنے والے ایٹم کے نیوٹرون اسی روشنی کی رفتار سے اگلے آیٹموں کو توڑتے چلے جاتے ہیں جس سے بے پناہ حرارت اور تونائی خارج ھوتی ہے یہ سارا علم ایک سیکنڈ کے لاکھویں حصے میں مکمل ھوجاتا ھے ۔
ایٹم بم اور ایٹمی بجلی گھروں کے کے لئے خالص حالت میں افزودہ یورینیم کی ضرورت ھوتی ھے جس پر نیوٹرون کی گولہ باری کرکے اسے پلوٹونیم میں تبدیل کرکے اسے ایٹم بم بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ھے یورینیم چاندی کے جیسی ایک سفید دھات ھوتی ھے تصویر کے اوپر والے حصے میں یورینیم دھات کی تصویر ھے ۔ یہ سب سے بھاری دھات ھوتی ھے اس کا ایٹمی نمر 235 ھے ۔ ایٹمی نمر 235 سے مراد یورنیم کے ایٹموں میں موجود پروٹان اور الیکٹرونز کی کی تعداد ھے ۔ اس کے ایٹموں کے ٹوٹنے سے زبردست انرجی خارج ھوتی ھے جس سے بجلی پیدا کی جاتی ھے ۔ صرف ایک ٹن یورینیم کے ایٹموں کو توڑ کر اتنی بجلی پیدا کی جا سکتی جتنی سولہ ھزار ٹن کوئلہ جلا کر یا 80 ھزار بیرل تیل خرچ کرکے پیدا ھوتی ھے ۔ لیکن افسوس کہ انسان نے اسے بجلی جیسی نعمت پیدا کرنے کی بجائے اس سے اپنی موت یعنی ایٹم بم پیدا کر لیا ۔
مضمون پھر تھوڑا لمبا ھوگیا ھے ۔ آخری حصے میں ایٹم بم کیسے چلتا ھے اس پر سادہ الفاظ میں تحریر پیش کرتا ھوں۔
مجنوں

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers