کوروش اعظم جن کو سائرس اعظم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جبکہ کئی کتب میں خورش اعظم یا فورش اعظم بھی لکھا ہے۔ ان کا دور حکومت 559 قبل از مسیح سے لیکر 530 قبل از مسیح تک ہے جو کہ تقریبا 30 سال بنتے ہیں۔ جبکہ کچھ مورخین اور کچھ علماء ان کو ہی حضرت ذوالقرنین بتاتے ہیں۔
تاریخ میں کورشِ اعطم کے بارے یوں لکھا ہے۔
کورش اعظم قدیم ایران کا ایک عظیم بادشاہ تھا۔ اس نے ایران میں ہخامنشی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اس کی قیادت میں ایران نے جنوب مغربی ایشیا ، وسطی ایشیا ، یورپ کے کچھ علاقے اور کوہ قاف فتح کیا۔ مغرب میں بحیرہ روم اور در دانیال سے لیکر مشرق میں ہندوکش تک کا علاقہ فتح کرکے سائرس نے اس وقت تک کی تاریخ کی عظیم ترین سلطنت قائم کی۔ سائرس کو یہودیت میں بھی احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ اس نے بابل فتح کرکے یہودیوں کو آزاد کردیا تھا جو اس وقت سلطنت بابل کے غلام تھے۔
خورس یا کورش یا قورش یا سائرس دوم کا شمار دنیا کے بڑے فاتحین میں شمار ہوتا ہے ۔ اس نے غیر معمولی شجاعت ، قوت اور تدبر کے باعث ایک امیر سے ترقی کرکے اپنے لیے شہنشاہوں کی صف میں جگہ پیدا کرلی۔ اس نے تین بڑی سلطنتوں میڈیا ، لیڈیا اور بابل کو زیر کرکے فارس کی چھوٹی سی ریاست کو ایک عظیم الشان سلطنت میں بدل دیا ۔ خورس نے تخت نشین ہونے کے بعد سب سے پہلے پرساگر کی متوازی حکومت کو ختم کیا اور پورے عیلام اور فارس پر اپنی دھاک بیٹھائی ۔ اس کے بعد اس نے بابل کے بادشاہ بنو نید یا نیو نیدس کے ساتھ ساز باز کرکے میڈیا کے خلاف بغاوت کردی ۔ اس واقع سے پہلے بابل اور میڈیا کی ریاستیں ہمیشہ ایک دوسرے کی حلیف رہی تھیں ۔ آشوریوں کے زوال کے بعد صورت حال بدل گئی اور دونوں کے درمیان کشمکش شروع ہوگئی ۔ خورس نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بنویدس کی حمایت حاصل کی اور استاغیس کے سالاروں کو اپنے ساتھ ملا لیا ۔ چنانچہ استاغیس کی فوج نے استاغیس کو گرفتار کرکے خورس کے حوالے کردیا ۔ استاغیس کی گرفتاری کے بعد مع توابع فارس کی ریاست میں ضم کردی گئی ۔ اس فتح کے بعد اس نے ایک متحدہ ایرانی سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ جس کی سرحد مغرب میں لیڈیا اور بابل تک وسیع ہوگئی ۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی تعلقات میں تبدیلی واقع ہوگئی ۔ لیڈیا ، بابل اور مصر نے ساز باز کر کے خورس کی بڑھتی ہوئی طاقت کو توڑنے کی کوشش کی ۔ اس سے پہلے یہ اتحاد مستحکم ہوتا خورس نے لیڈیا ہر حملہ کردیا ۔ کیوں کہ لیڈیا کی فوج معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے ہیلس کے دوسرے کنارے تک بڑھ آئی تھی۔ جنگ میں لیڈیا کو شکست ہوئی اور خورس نے لیڈیا کے دالحکومت سارڈیس پر قبضہ کرلیا ۔ اس کا حکمران کروٹس گرفتار ہوگیا ۔ اس کامیابی کے بعد ایران کی سرحدیں بحیرہ ایجین تک پھیل گئیں ۔ لیڈیا کی سلطنت کے ساتھ ایشائے کوچک اور یونانی مقبوضات خورس کے قبضہ میں آگئے ۔ اس کامیابی سے فراغت پانے کے بعد اس نے مشرق کی طرف توجہ دی اور ہرایو موجودہ ہرات کو فتح کیا ۔ پھر دریائے سیحوں اور دریائے جیہوں کے درمیانی علاقہ صغدیہ کو فتح کیا ۔ اس طرح اس کی سلطنت ماورالنہر اور ہندو کش تک پھیل گئی ۔ چند سال کے بعد اس نے ( 539ق م ) بابل پر حملہ کر کے بابل کو فتح کرکے نبویدوس کو گرفتار کرلیا اور اس کی مغرب کی فتوحات نے ایرانی سرحدوں کو مصر سے ملا دیا ۔
خورس کا دوسرا بڑا کارنامہ مذہبی رواداری اور آزادی ہے فتح بابل کے بعد اس نے اس نے اسرائیلیوں کو فلسطین جانے کی اجازت دے دی اور بیت المقدس کی تعمیر ثانی کا حکم صادر کیا اوراس سلسلے میں ہر طرح کی مدد دی ۔ نیز وہ تمام طلائی اور نفری ظروف جو مذہبی طور پر مقدس سمجھے جاتے تھے اسرائیلیوں کے حوالے کردئے ۔ بابل کے تمام بتوں کو جو دوسرے مقامات سے لائے گئے تھے ان کی جگہ پہنچایا۔ اور ہر ایک کو اس کے مذہب کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق دیا۔مذہب کے معاملے میں کسی سے جبر نہ کیا گیا۔ یہ اس کے کارنامے ہیں جن کی بدولت اس کو “ نجادت دہندہ “ اور “ قوم کا باپ “ کا خطاب دیا ۔ نیز تاریخ میں اس کو اعظم کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔ خورس اعظم نے پرساگر کو اپنا دارالحکومت قرار دیا اور وہاں ایک محل تعمیر کیا ۔ اس کی موت اچانک واقع ہوئی ۔ 529 ق م میں ایک قبیلہ سک نے بغاوت کردی ، وہ وہاں گیا اور ان کے خلاف جنگ کرتے ہوئے مارا گیا ۔
بعض مورخین کورشِ اعظم کو ہی حضرت ذوالقرنین بتاتے ہیں۔ اور اس سلسلے میں کچھ دلائل بھی دئیے جاتے ہیں۔ جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ دونوں کا دور 600 سے 500 قبل از مسیح کے درمیان ایک ہی تھا۔ پھر کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ آدھی سے زائد دنیا کو فتح کرنے والے (حضرت ذوالقرنین) کو اپنے قریب کورش اعظم کی بہت بڑی حکومت کی خبر ہی نہ ہو اور وہ اس کو فتح کئے بغیر ہی آگے بڑھ گئے ہوں۔ اس لئے مورخین ان دونوں کو ہی شخصیت کے دونام بتاتے ہیں۔
لیکن ناقدین اس بات پر یوں اعتراض کرتے ہیں کہ کوروش اعظم نے زرتشت کا مذہب قبول کرلیا تھا اور اس نے زرتشتی مذہب کو تمام ملک میں حکماً رائج کیا۔ جبکہ ان کے نزدیک زرتشت شائد کوئی نبی تھے جن کی تعلیمات کو بعد میں ان کے پیروکاروں نے شیطان کے نرغے میں آکر تبدیل کردیا۔ جیسا عیسائیوں اور یہودیوں نے حضرات انبیاء کی تعلیمات کو شیطان کے ورغلانے سے تحریف کردیا ۔کوروش اعظم اور حضرت ذوالقرنین کا تاریخی دور ایک ہی لگتا ہے۔ اور میں نے آج تک حضرت ذوالقرنین کا تذکرہ کسی تاریخ کی کتاب میں نہیں پڑھا۔ ہاں تفاسیر میں ہی ان کا ذکر ہے۔ بہرحال اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ دونوں شخصیات ایک ہی یا جدا جدا۔
حضرت ذوالقرنین کو صرف قرآن پاک میں ذوالقرنین یعنی دو قرن یا سینگ والاکہا گیا ہے۔ جس مراد مفسرین دنیا کے دو کونے لیتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے دنیا کے دو کونوں تک کا سفر کیا تھا۔ یا پھر مفسرین یہ بتاتے ہیں۔ کہ آپ جو سر پر جو خول یا تاج یا ٹوپی پہنتے تھے اس پر دو سینگ بنے ہوئے تھے۔ اس لئے آپ کو ذوالقرنین کہا گیا۔ واللہ اعلم
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers