کل میں نے اپنی پوسٹ کا آغاز ان الفاظ سے کیا تھا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں جمعہ کے روز ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں پاکستان اور چین کے جھنڈے اکٹھے لہرائے جاتے رہے ۔ اس پراجیکٹ سی پیک کا سب سے زیادہ بینیفٹ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو حاصل ہوگا۔ کوہالہ میں 1100 میگا واٹ بجلی کا منصوبہ ہے۔ جی ھاں 1100 میگا واٹ ، نیلم جہلم میں 969 میگا واٹ کا پراجیکٹ ہے اس کے علاوہ 1300 کلومیٹر کی سڑک گلگت بلتستان میں بن رہی ہے ۔ یہ تو ہے پاکستان کے زیراہتمام کشمیر کے ترقیاتی منصوبے جن کی وجہ سے یہ علاقے جنت نظیر بن جائیں گے۔ جبکہ دوسری جانب انڈیا کے قبضے میں کشمیر کی یہ صورتحال ہے کہ ترقیاتی منصوبے تو رہ گئے ایک طرف، الٹا ان بیچاروں کو بارود اور لاشوں کے تحائف انڈیا سے مل رھے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے کشمیری جب چین کے تعاون سے پاکستانی کشمیر کے یہ عظیم الشان منصوبے دیکھے ہیں تو پہلی بار انہوں نے یک زبان اور ایک سوچ کے ساتھ انڈیا پر مکمل طور پر لعنت بھیج کر پاکستان میں شامل ھونے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے ۔ پہلی بار تاریخ میں کشمیریوں نے بغیر کسی بیرونی سپورٹ کے بھرپور جدوجہد آزادی کا آغاز کر دیا ہے ۔ یہ صورتحال انڈیا کے لئے انتہائی تشویشناک رخ اختیار کر گئی ہے لہٰذا وہ کشمیر کو ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر اور زیادہ شدومد سے اس منصوبے کی مخالفت کر رہا ہے۔
مودی کے جھولے۔۔
پچھلے سال جب چینی صدر نے انڈیا کا دورہ کیا تو آپ نے ایک مشہور تصویر دیکھی ہوگی جس میں مودی چین کے وزیراعظم کو اپنے ساتھ جھولے میں بٹھا کر جھولے لے رہا تھا۔ انڈیا نے اس تصویر کو بنیاد بنا کر مودی کا خوب مذاق اڑایا ہے انڈین چینلز کہتے ہیں کہ مودی جھولے لیتا رہ گیا اور پاکستان بازی لے گیا۔ اویہ سچ ہے کہ منی اور شیلا بدنام ہوتی رہ گئی اور پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر انڈیا منجی ٹھونک دی ہے ۔
جیسا کہ پچھلی تحریر میں میں نے کہا تھا کہ ھندو ایک بزدل ، کمینہ اور کینہ پرور دشمن ہے یہ خود لڑنے سے گھبراتا ہے ہمیشہ سازش کے ذریعے دوسروں کے لڑوا کر اپنا مطلب نکالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ چنانچہ اس نے پاکستان کے اندر ہی کچھ لوگوں کو خریدا جن میں سے اکثریت کا تعلق میڈیا کے شعبے سے ہے تاکہ میڈیا اور صحافیوں کے ذریعے پاکستان میں پراپیگنڈا اور سازشوں کے سہارے عوام کو مایوس کیا جا سکے ۔آپ سب دوست ایسے تمام چینلز اور صحافیوں کو اچھی طرح جانتے ہونگے جو کھل کر کشمیر کی آزادی کی مخالفت کرتے ہیں، پاکستان میں محب وطن پاکستانیوں کو نظرانداز کرکے پاکستان مخالف عناصر کے بیانات کو خوب اچھالتے ہیں اور دینا اور عام پاکستانیوں کو وہ خوفناک تصویر بنا کر دکھاتے ہیں جسے دیکھ کر ھر کوئی سمجھنے لگتا ہے کہ خدانخواستہ پاکستان اب گیا تب گیا۔ جبکہ حقیقت یہ ھے کہ اس وقت پاکستان مکمل طور پر محفوظ ہاتھوں میں ہے اس کا دفاع پاکستان کی شیردل افواج اور غیرتمند عوام کی بدولت ناقابل تسخیر بن چکا ہے ۔
دوسری طرف انڈیا کے منصوبے کچھ اس طرح کے ہیں ۔ انڈیا ، را کے چند خریدے ہوئے ایجنٹوں سے انڈیا آئے دن پاکستان مخالف بیان تو دلوا لیتا ہے لیکن پاکستانی عوام کی حب الوطنی اور غیرت کے سامنے یہ مٹھی بھر ایجنٹ بے بس ہوجاتے ہیں۔ انڈیا کی خواھش ھے کہ پاکستان کے اندر انڈیا کی مانند سینکڑوں علیحدگی پسند تحریکیں شروع ہو جائیں ۔ ہر پاکستانی دوسرے پاکستانی کے خون کا دشمن ہوجائے ۔ لوگ لسانی صوبائی مذہبی اور برادری کی بنیادوں پر قتل عام کرتے پھریں اور خانہ جنگی جیسا ماحول بن جائے ۔ اس کے علاوہ پاکستانی فوج کو اندرونی مسائل یعنی مارشل لاء یا دہشت گردی کے واقعات میں اس طرح الجھا دیا جائے کہ پاک فوج سب کچھ بھول بھال کر ملکی حالات کو ٹھیک کرنے لگ جائے ۔ سیاستدانوں کے ذریعے کرپشن لوٹ مار فوج مخالف بیانات کا ایسا بازار گرم کروا دیا جائے کہ عوام چیخ چیخ کر خود فوج کو مارشل لاء لگانے کے لئے دعوت دینے لگ جائیں او ر اس طرح فوج کو ایسے اھم دفاعی اور ترقیاتی منصوبوں سے دور کرکے ملکی سیاست کی دلدل میں پھنسا دیا جائے ۔
آپ دیکھ رہے ہیں ایک جانب اخبارات اور ٹی وی چینلز پر فوج کے کردار کو متنازعہ بنانے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب کرپشن سکینڈلز اور لوٹ مار کھل کر کی بھی جا رہی ہے اور ڈھٹائی سے اس کے خلاف کارروائی بھی نہیں ہونے دی جاتی تاکہ فوج کو مشتعل کیا جا سکے یا عوام کے زھنوں میں تاثر بٹھایا جا سکے کہ فوج یا تو خود نظرانداز کر رہی ہے یا پھر شاید ان کے ساتھ ہی شامل ہے جس کی وجہ سے خاموشی سے تماشہ دیکھ رہی ہے ۔
ایک چیز آپ سب نے نوٹ کی ہوگی اچانک سے ہی کچھ کو فاٹا پاکستان کا نہیں لگ رہا کسی کو بلوچستان الگ نظر آتا ہے کوئی کراچی کو متنازعہ بنا رہا ہے کوئی پاکستان کے خلاف نعرے بازی کرنے لگ گیا ہے ۔ یہ سب بے سوچا سمجھا نہیں بلکہ یہ وہ سرمایہ کاری بول رہی ہے جس سے انڈیا پاکستان میں اربوں ڈالرز خرچ کرکے بندے خرید چکا ہے کچھ صحافیوں کے پیٹوں میں انسانی حقوق کے مروڑ اٹھ رہے ہیں کسی کو ایجنسیاں دہشت گردی کی حمایت کرتی نظر آتی ہیں کچھ کو پاکستان ہی خدا نخواستہ خدانخواستہ دنیا کے نقشے سے غائب نظر آتا ہے ۔
آجکل انڈین ٹی وی چینلز پر ایک انتہائی بے غیرت شخص طارق فتح کے نام سے بھونکتا نظر آئے گا ۔ اسے انڈین چینلز پاکستانی دانشور کے طور پر ٹی وی سکرینوں پر پیش کرتے ہیں اور یہ خنزیر ھفتوں دنوں میں پاکستان کو تقسیم ھوتا دیکھتا ہے حالانکہ اس خنزیر کا پاکستان سے تعلق صرف اتنا ہی ہے جتنا میر جعفر میر صادق کا مسلمانوں سے تھا۔ ایک طرح سے یہ ٹھیک بھی ہے کہ اس وقت انڈیا کو بہت سے ایسے ٹھگ نچوڑ نچوڑ کر اپنا پیٹ بھر رھے ھیں جن سے پاکستانی عوام شدید نفرت کرتے ہیں اور ان کی بکواسیات کو کسی کتے کے بھونکنے سے زیادہ نہیں سمجھتے ۔ کچھ پاکستانی صحافی اور چینلز بھی اسی طرح انڈیا کو چونا لگا کر اپنا بینک بیلنس بڑھا رہے ہیں اور انڈیا کو بتاتے ہیں کہ بس جی اب دیکھنا کس طرح ھم پاکستان کو نقصان پہنچاتے ہیں بس ھمیں نوٹ دیتے رھو۔ یہ فراڈئیے کبھی کبھار ایک آدھا ایسا بیان داغ دیتے ہیں جس سے پاک فوج اور پاکستان کے بارے غلط تاثر بنتا ہے مگر ان کی کسی کوشش سے پاکستانی قوم پر معمولی سا اثر بھی نہیں پڑتا۔ ایک خبیث کبھی کبھی پاک فوج کو گالیاں دے کر انڈیا کا کلیجہ ٹھنڈا کرتا تھا مگر پچھلے دنوں ایک گندا نعرہ لگا کر انڈیا کے لئے چلا ہوا کارتوس بن چکا ہے جس سے اب انڈیا کو کوئی امید نہیں رہ گئی کیونکہ پاکستان کی غیرتمند عوام اور محب وطن مہاجروں نے اسے گندا انڈا سمجھ کر باہر پھینک دیا ہے ۔
آپ کے اردگرد صرف دھوئیں کے بادل ہیں۔ ان کی کچھ بھی اہمیت نہیں۔ صرف اتنا سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سب انڈیا کی شرارتوں کا نتیجہ ہیں جو وہ را کے ذریعے پاکستان میں کروا رہا ہے۔
پاکستانی قوم کو کیا کرنا چاہئیے؟۔
متحد رھئیے ۔ کسی بھی قسم کے لسانی صوبائی مذھبی یا علاقائی تعصب پھیلانے والوں سے نفرت کیجئیے ۔ ان کو کمزور کیجئیے یہ صرف دشمن کے خریدے ہوئے ایجنٹ ہیں۔ جب تک آپ متح ہیں اور ان کی سازشوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں یہ کچھ بھی نہیں کر سکتے ۔ اپنی افواج اور محب وطن سیاستدانوں سے محبت کیجئیے انڈیا کیا انڈیا کا باپ بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہوچکا ہے کوئی انڈیا کا علیحدگی کی آگ بھڑکانے والا ایجنٹ کچھ بھی نہیں کرسکے گا یہ 71 نہیں 2016 ہے ۔ اگر انڈیا نے اب 71 کی تاریخ دہرانے کی کوشش کی تو یقین کیجئیے وہ دن انڈیا کا اس دنیا میں آخری دن ہوگا۔ اسی طرح حکومت کو بھی بالکل اسی طرح انڈیا کے علیحدگی پسندوں کی حمایت کرنی چاھئیے جن پر واقعی بھارت میں ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں۔
میری لسٹ میں بہت سے قابل احترام اساتذہ بھی موجود ہیں ۔ مجھے بتاتے ہیں کہ ھم اپنے طالبعلموں کی آپ کی تحریریں اکثر پڑھ کر سناتے ہیں۔ یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ مجھے اس قابل سمجھتے ہیں یا میری بہنیں بیٹیاں جب مجھے کہتی ہیں کہ ھم اپنے بچوں کو اپنے والدین کو آپ کا لکھا ہوا سناتے ہیں اور وہ بزرگ میرے لئے دعائیں کرتے ہیں تو یقین کیجئیے مجھے اپنی خوش قسمتی پر ناز ہونے لگتا ہے ۔ اللہ پاک آپ سب کو ہمیشہ راضی رکھے۔ یہ ملک بہت آگے جائے گا مایوسی کی شکار مت ھوا کریں۔ بہت جلد آپ دیکھیں گے یہ زمین پاکستان دنیا کے اہم ترین ممالک کی فہرست میں سب سے اوپر ہوگی ۔ کیونکہ پاکستان ایک معجزہ ہے ۔ یہاں کے رھنے والے اللہ کو بہت ہی پیارے ہیں۔۔
مجنوں
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers