اللہ کے دو مزدوروں نے 2510ء قبل مسیح میں پانچ قسم کے پتھروں کو ہاتھوں سے توڑ توڑ کر ایک بغیر چھت والی عمارت کھڑی کی ... یہ عمارت عین اس جگہ پر اٹھائ گئ جہاں طوفانِ نوح نے اسے مسمار کیا تھا- اس مستطیل نماء عمارت میں دو دروازے تھے جو زمین سے برابر رکھے گئے- انبیاء کی مزدوری بیت الله کی صورت تکمیل پزیر ہوئ تو ابراھیم خلیل اللہ نے لوگوں کو اللہ کی عبادت کی طرف بلایا ...
604 عیسوی میں قریش نے پہلی بار اس عمارت میں کچھ ترمیم کی- قریش نےبیت اللہ کے شمال کی طرف تین ہاتھ جگہ چھوڑ کر مستطیل عمارت کو مکعب نما بنادیا۔ اسی مکعب نماء ڈیزائن کی وجہ سے بیت اللہ کو "کعبہ" کہا جانے لگا- ڈیزائن میں اس تبدیلی کی وجہ روپے پیسےکی کمی تھی ، کہ رزقِ حلال ہردور میں کم ہی پڑ جاتا ہے-
قریش نے پہلی بار کعبہ پر چھت ڈالی تاکہ عمارت اوپر سےبھی محفوظ رہے- ساتھ ساتھ مغربی بھی دروازہ بند کردیا گیا- مشرقی دروازےکو زمین سےاتنا اونچا کردیا تاکہ صرف خواص ہی قریش کی اجازت سےاندر جاسکیں۔ اللہ کےگھر کو بڑا سا دروازہ اور تالا بھی لگادیا گیا جو مقتدر حلقوں کےمزاج اور سوچ کےعین مطابق تھا۔ یہ واقعہ بعثت سے پہلے کا ہے- نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس بیت اللہ میں حجر اسود کی تنصیب فرمائ- اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خواہش تھی کہ بیت اللہ کو ابراہیمی طرزِ تعمیر کےمطابق ہی بنایا جائے۔ لیکن آپ نے اس کا اظہار نہ فرمایا کہ قریش اس کی استعداد نہ رکھتے تھے-
امام مسلم رحمہ اللہ تعالٰی نے عائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا سے حدیث بیان فرمائی ہے کہ :
"عائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حطیم کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ بیت اللہ کا ہی حصہ ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا جی ہاں!، عائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں میں نے پوچھا کہ اسے پھر بیت اللہ میں داخل کیوں نہیں کيا گيا ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب تھا کہ تیری قوم کے پاس خرچہ کے لیے رقم کم پڑگئی تھی ۔
دورِ نبوّت میں بھی خانہ کعبہ کی عمارت میں کوئ تبدیلی نہ کی گئ-
اسی حدیث میں آگے چل کر حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں:
" میں نے کہا کہ بیت اللہ کا دروازہ اونچا کیوں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تیری قوم نے اسے اونچا اس لئے کیا تا کہ وہ جسے چاہیں بیت اللہ میں داخل کریں اورجسے چاہیں داخل نہ ہونے دیں ۔اور اگرتیری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوتی اوران کے دل اس بات کوتسلیم سے انکارنہ کرتے تو میں اسے ( حطیم ) کوبیت اللہ میں شامل کردیتا اوردروازہ زمین کے برابرکردیتا"۔
اگلے 80 برس تک کعبہ کی عمارت میں کوئ تبدیلی نہ ہوئ-
684ء میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کی عمارت نئے سرے سے تعمیر کرائ- عبداللہ بن زبیر رض حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی پیاری بیٹی حضرتِ اسماء رضی اللہ عنہا کے فرزند اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے- آپ نے شہادتِ امام حسین رض کے بعد یزید کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کیا اور حجاز میں اپنی حکومت قائم کر لی- یزیدی فوج کی سنگباری سے کعبہ کی عمارت مسمار ہو چکی تھی- ابن زبیر رض نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خواہش کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بیت اللہ کو ابراھیمی طرزِ تعمیر پر مستطیلی عمارت بنایا- حطیم کو عمارت کے اندر شامل کیا گیا اور مشرقی و مغربی دروازے بنائے گئے- عود کی خوشبودار لکڑی سے بیت اللہ کی چھت اٹھائ گئ-
695ء میں عبدالملک بن مروان اور ابن زبیر کے درمیان سیاسی کشمکش نے ایک بڑے المئے کو جنم دیا۔ مروان نے حجاج بن یوسف کو ابن زبیر کے خلاف مہم کا انچارج بنا کر مکّہ روانہ کیا۔ حجاج نے مکہ کا محاصرہ کرکے شہر پر سنگباری شروع کر دی۔ اس بمباری نے مکّہ کے ساتھ ساتھ بیت اللہ کو بھی مسمار کر دیا۔
یہ محاصرہ سات ماہ تک جاری رہا- آخر عبداللہ بن زبیر رض کو شکست ہوئ اور وہ مردانہ وار لڑتے ہوئے شہید ہو گئے-
حجاج نے بیت اللہ کو ازسرِ نو تعمیر کرایا اور قریش کے طرزِ تعمیر پر دوبارہ مکعب نماء کر دیا- دو دروازوں کی بجائے ایک دروازہ رکھا اور حطیم کو ایک بار پھر عمارت سے باہر کر دیا- اور شاید یہی مشیّتِ الہی تھی تاکہ لوگ یہاں کھڑے ہو کر عبادت کر سکیں- اگر ابراہیمی طرز تعمیر برقرار رکھا جاتا تو آج کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کی جستجو میں شدید دھکم پیل ہوتی-اور آج ہم حطیم میں باآسانی نماز پڑھ کر کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کا اجر نہ وصول کر رہے ہوتے-
بعد میں آنے والے حکمرانوں نے عمارت کا یہ ڈیزائن برقرار رکھا-
1996ء میں آلِ سعود نے اسے نئے سرے سے تعمیر کیا ... بے شمار کاریگروں اور مزدوروں نے مل کر کعبہ کی موجودہ عمارت اٹھائ ... چھت اور سیلنگ تبدیل کی گئ البتہ پتھّر قدیم دور کے ہی برقرار رکھے گئے- آج بھی دور ابراھیمی کے پتھر بیت اللہ کی بنیادوں میں محفوط ہیں-
آج کا دِن اللہ کے ان مزدوروں کے نام جنہوں نے بغیر چھت والی یہ عمارت کھڑی کی ... ان گمنام کارگروں کے نام جنہوں نے اس عمارت کو دنیا کی خوبصورت ترین تعمیر میں ڈھالا.... ان بابرکت ہاتھوں کے نام جو بیت اللہ اور مسجدِ نبوی کی تعمیرو توسیع ، صفائ اور انتظام میں استعمال ہوئے اور آج بھی ہو رہے ہیں .... الکاسب حبیب اللہ !!!!

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers