مجھے یہ کہنے میں کوئی آر نہیں کے لڑکپن کے دور میں مجھے گناہ سے بہت لگاؤ تھا. نیکی مجھے بوجھ سی لگتی تھی. ایک بزرگ کی وجہ سے مسجد جانا شروع کیا. کچھ عرصہ پانچ وقت نماز باقاعدگی سے باجماعت پڑھی. شروع میں بہت مزا آیا. پھر سمجھ آیا کے مزہ خدا سے نزدیکی کا نہیں بلکہ مخلوق خدا پر برتری کا تھا. مسجد آتے جاتے اپنے کاموں میں مصروف لوگوں کو حقارت سے دیکھتا. ‘بیوقوف لوگ. یہ کیا جانیں قرب خدا کی لذّت؟’ اپنا قد بہت لمبا ہوتا محسوس کرنے لگا. پھر ایک دن میری نظر اپنے اسی قدر لمبے ہوتے ساے پر پڑی تو سمجھ آی کے قد لمبا ہونے کے ساتھ ساتھ دل کی تاریکی بھی بہت بڑھ چکی تھی. اتنی سمجھ تو تھی نہیں کے اپنی ذات کا اندھیرا دور کر سکتا لہذا صرف نماز چھوڑ دی. تھوڑا اور جوان ہوا تو گناہ کو سمجھنے کا ارادہ کیا. سوچا جب تک اندھیرے سے واقفیت نہیں ہوگی، نور سے شناسائی مشکل.
اونچے فلسفے ایک طرف، گناہ میں کشش بھی بہت تھی. اس دور سے ابھی بہت دور تھا جب انسان گناہ کا گھونگٹ اٹھا کر اس کی بدصورتی دیکھتا ہے. جوانی میں تو گناہ ایک خوبصورت دلہن دکھائی دیتا ہے. عمر بڑھتی ہے تو اندازہ ہوتا ہے کے گناہ دراصل ایک چڑیل ہے جو خوبصورت دلہن کا روپ دھارے پھرتا ہے. ذرا قدم بہکے نہیں اور چڑیل نے لمبے ناخنوں سے دبوچ لیا. اب یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کے عمر کے درمیانی حصّے میں گو یہ معلوم ہے کے گناہ ایک چڑیل ہے، مگر پھر بھی دلہن کی خوبصورتی دل لبھاتی ہے. یہ بھی معلوم ہے کے چڑیل کے ناخن پچھتاوا بن کر روح کو گھاؤ گھاؤ کر دیں گے مگر دل ہے کے مانتا نہیں
خیر بات ہورہی تھی جوانی کی. گناہ کی کشش ایک دن کھینچ کر بازار حسن لے گیئ. ایک عجیب بازار تھا. پھولوں کی مہکتی دکانیں، میٹھی میٹھی خوشبوؤں سے بھرے ہوا کے جھونکے  اور اس خوشبو تلے سڑتے گوشت کی سی سڑاند، اونچے مکان، تنگ دروازے اور تاریک سیڑھیاں اور دروازوں کے باہر کھڑے بوسکی کے کرتوں میں ملبوس، باریک مونچھوں کو تاؤ دیتے دلال.میں نے آس پاس دیکھا . ایک ہجوم تھا جو گناہوں کے میلے میں شرکت کے لئے ٹوٹا پڑا تھا. امیر غریب سب ایک ہی صف میں کھڑے تھے. فرق تھا تو صرف اتنا کے امیر لمبی موٹر کاروں پر اور غریب پیدل، امیر ریشمی کرتوں میں تو غریب سادہ اور پیوند لگے کپڑوں میں. مجھے سمجھ آ گیئ کے اس دنیا میں امیر اور غریب صرف خواہشیں خریدنے اکٹھے ہوتے ہیں: مسجد میں بھی اور بازار حسن میں بھی. خواہش بھی شراب کی طرح ہوتی ہے، کسی کی خواھش مہنگی بلیک لیبل کی طرح، کسی کی سستی دیسی ٹھرے کی طرح، مگر مقصد ایک ہی ہوتا ہے، شراب کا مقصد من جلانا اور خواھش کا مقصد من بہلانا
لوگوں کی دیکھا دیکھی میں نے بھی موتیے کا ہار خریدا اور مٹھی میں دباے سونگھنے لگا. مقصد تھا کے کسی کو یہ نا لگے کے میں محض تماشبینی کی غرض سے کھڑا تھا ، بلکہ لوگ مجھے پرانا پاپی سمجھیں. لیکن کہاں صاحب؟ دائی سے پیٹ چھپانا ناممکن اور دلال سے ارادہ چھپانا لاحاصل. ایک دلال جو شکل و صورت سے ہی خبیث روحوں کا سردار دکھائی دیتا تھا، میری طرف بڑھا
.کیا ارادہ ہے ماسٹر؟’ اس نے پان کی پیک ایک جانب تھوکتے ہوئے کہا’
.بس بازار دیکھ رہا ہوں.’ نا چاہتے ہوئے بھی میرے منہ سے سچ پھسل گیا’
‘بازار؟’ اس نے ایک میسنا سا قہقہہ لگایا. ‘بازار میں کیا ہے دیکھنے کو؟ دیکھنا ہے تو بازار والیوں کو دیکھو‘
.بازار والیاں کہاں ہیں؟’ میں نے ہچکچاتے ہوئے دریافت کیا’
میاں کمال آدمی ہو. زیورات کا بازار تھوڑی ہے کے شوکیسوں میں مال سجا ہوگا؟ اپنے اپنے کوٹھوں پر ہیں.’ اس نے سر جھٹک کر جواب دیا. پھر کچھ سوچ کر بولا: ‘گانا وانا سننے آے ہو یا پھر……….؟’ اس نے سوال ادھورا چھوڑ کر کان میں انگلی گھما کر میل کا ایک چھوٹا سا گیند برآمد کیا او ہاتھ اوپر کر کے روشنی میں غور سے اس کا معائینہ کرنے لگا
گانا سننے نہیں آیا.’ میں نے گھن کھاتے ہوئے جواب دیا. پھر خیال آیا کے گانا سننے نہیں آیا مگر کچھ اور بھی تو کرنے نہیں آیا. لیکن میرے مزید وضاحت کرنے سے پہلے ہی اس کمبخت نے میرا ہاتھ دبوچا اور کھینچ کر ایک تاریک دروازے کی جانب بڑھ گیا
.کتنے پیسے ہیں جیب میں؟’ اس نے نہایت بیتکلّفی سے میری جیب پر ہاتھ مارا’
.کافی ہیں.’ میں نے سٹپٹاتے  ہوے کہا’
ہنہ کافی؟’ اس نے میری جیب سے برآمد ہوئے پانچ سو کے نوٹ پر حقارت سے نظر ڈالی. اپنے آپ کو لٹتے دیکھ کر اور اس کی آنکھوں میں خطرناک چمک دیکھ کر میں نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا
 تم بھی کیا یاد کرو گےکے بخشو سے واسطہ پڑا ہے.  پہلی دفعہ آے ہو. میں لحاظ کر لیتا ہوں. اب اوپر جاؤ اور شہناز سے ملو. بتا دینا کے بخشو نے بھیجا ہے.’ اس نے میری کمر پر ہاتھ رکھا اور سیڑھیوں کی جانب ہلکا سا دھکّا دیا. مرتا کیا نا کرتا، سیڑھیاں چڑھتا گیا مگر ٹانگوں پاؤں سے جان نکل رہی تھی. نیچے بخشو اور اوپر شہناز. آگے کنواں پیچھے کھائی کا مطلب پہلی دفعہ سمجھ میں آیا تھا. اوپر پہنچا تو مستطیل کی شکل میں جھلکتی روشنی سے دروازے کا اندازہ ہوا. دباؤ ڈالا تو کھل گیا. میرا خیال تھا کے دروازہ کھلے گا تو الف لیلوی سماں ہوگا. کھلے جھروکوں پر حریر و ریشم کے پردے لہرا رہے ہونگے، فرش پر خوبصورت ٹائلیں ہونگی، کہیں کہیں شفّاف چاندنیاں بچھی ہونگی اور کہیں ایرانی قالین، چست پاجاموں اور مخمل کے غراروں میں ملبوس حسین طوائفیں بڑھ کر میرا استقبال کریں گی اور میرے ہاتھوں پر عطر چھڑکیں گی. لیکن دروازے میں داخل ہوتے ہی مجھے احساس ہوگیا کے فلموں اور اصل زندگی میں ایک سو اسی ڈگری کا فرق ہوتا ہے. میں ایک چھوٹی سی ڈیوڑھی میں کھڑا تھا جس کے فرش پر شاید کسی زمانے میں سیاہ و سفید ٹائلیں ضرور رہی ہونگی مگر اب میل کی دبیز تہ تلے صرف ایک سلیٹی مائل نمونے کا احساس ہوتا تھا، مٹیالی اور مکڑی کے جالوں سے ڈھکی چھت سے ایک پچیس واٹ کا بلب جھول رہا تھا جس کی تار پر سینکڑوں مکھیاں صبح ہونے کے انتظار میں مصروف استراحت تھیں. ڈیوڑھی میں نیلے سیاہی مائل رنگ کے دو بند اور ایک کھلا دروازہ تھا جس سے آتے بدبو کے بھبوکے اس کے بیت الخلا ہونے کا خاموش اعلان کر رہے تھے. میں نے انگلیوں میں اپنی ناک دبآیی اور واپسی کا ارادہ کیا. لیکن ابھی مڑنے کا سوچا ہی تھا کے سامنے کا ایک دروازہ کھلا اور ایک عورت ڈیوڑھی میں داخل ہوئی
.کیا ہے؟’ اس نے مجھے دیکھ کر چیخ مارنے کے انداز سے پوچھا’
.جی وہ……جی وہ مجھے بخشو صاحب نے بھیجا ہے.’ میں نے گڑبڑا کر جواب دیا’
‘بخشو صاحب نے؟’ اس نے طنزیہ لہجے میں پوچھا. ‘اور کیوں بھیجا ہے بخشو صاحب نے؟‘
جی وہ شہناز صاحبہ کے پاس جانے کو کہا تھا.’ میں نے اپنے لہجے کی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کرتے جواب دیا
شہناز صاحبہ؟’ اس نے شاید مزید طنز کا ارادہ کیا مگر پھر میری حالت پر ترس آ گیا. ‘پیچھے آؤ میرے’ وہ مڑ کر اسی دروازے میں داخل ہوگیی جس سے نکلی تھی
میں اس قدر حواس باختہ ہوچکا تھا کے بھاگنے کا خیال بھلا کر چپ چاپ اس کے پیچھے بڑھ گیا. چھوٹا سا نیم روشن کمرہ تھا. میلی دیواروں پر گلابی چونا، تین چار نہایت عریاں تصاویر، سفید رنگ کی چھت اور اس سے لٹکتا ایک پرانا چکنائی میں لیپا پنکھا، گلی کی جانب ایک چھوٹی سی کھڑکی جس کی جالی اس قدر گندی تھی کے پردے کا کام دے رہی تھی اور کھڑکی کے سامنے شراب کی خالی بوتل میں سجے سستے پلاسٹک کے نمائشی پھول. ایک کونے میں جھولتی ڈگمگاتی چھوٹی سی ڈریسنگ ٹیبل جس پر کاسمیٹک کے سستے سامان کا انبار لگا تھا اور جس کا شیشہ کئی جگہ سے تڑخ چکا تھا. ایک معمولی سی سستی کرسی جس کی پشت پر میلے کپڑے لٹک رہے تھے اور ایک پلنگ جس پر سرخی مائل مخمل کی چادر بچھی تھی اور دو تکئے پڑے تھے. پلنگ کے اوپر دیوار پر ٹنگی ایک صلیب اور اس کی بغل میں جھولتا کسی عیسائی مشنری تنظیم کا شائع شدہ ایک پرانا کیلنڈر. میں نے کمرے کی کل کائنات کا جائزہ لے کر اپنی میزبان کی طرف دیکھا تو وہ کرسی سے کپڑے اٹھا کر سنبھالنے میں مشغول تھی. چونکے اوسان کچھ کچھ واپس آ چکے تھے اور اس کی توجوہ بھی میری طرف مبذول نہیں تھی تو میں نے اطمینان سے اس کا مشاہدہ شروع کیا.
تیس یا پھر پینتیس کا سن، گہرا سانولا رنگ، بھورے مائل سیاہ لمبے بال اور ان میں بےترتیبی سے الجھا سرخ ربن، ہونٹوں پر گہرے کاسنی رنگ کی لپ سٹک، موٹے نقوش جو کسی طور بھی پرکشش تو نہیں تھے مگر بدصورت بھی نہیں کہے جا سکتے تھے، فربہی کی طرف مائل جسم جو سرخ رنگ کے ریشمی قمیض شلوار میں جکڑا نظر آ رہا تھا اور پاؤں میں سرخ اور کالی گرگابی. میں نے پاؤں سے نظریں اٹھا کر دوبارہ چہرے کی طرف دیکھا تو اس کی نظریں معنی خیز انداز میں مجھے ہی ٹٹول رہی تھیں. اس کے پورے وجود میں اگر کوئی دلکشی تھی تو وہ اس کی آنکھیں تھیں. شفّاف سفید رنگ کی زمین پر دو گہرے کالے پانی کے تالاب کے جن میں جتنے بھی کنکر پھینکو، لہریں نہیں اٹھتیں
.یہ بٹر بٹر کیا دیکھ رہے ہو؟ پہلے کبھی لڑکی نہیں دیکھی کیا؟’ نہایت کھردرا لہجہ تھا’
.جی دیکھی ہے. آپ شہنازصاحبہ ہیں؟’ میں نے اس کے ممکنہ طنز سے بچنے کے لئے ساتھ ہی سوال جڑ دیا’
نہیں، میں شہناز صاحبہ نہیں، صرف شہناز ہوں. کہو کیا کام ہے مجھ سے؟’ اس کے ہونٹوں پے ایک شرارت آمیز مسکراہٹ ناچ رہی تھی
مجھ سے کوئی جواب نا بن پایا تو میں نے سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا. ساتھ ہی میری نظر دوبارہ صلیب پرپڑی
.آپ عیسائی ہیں؟’ میں نے اپنا رہا سہا اعتماد مجتمع کر کے پوچھا’
میں عیسائی، مسلمان، یہودی یا ہندو، صحیح پیسوں کے لئے اور کچھ دیر کے لئے کچھ بھی بن سکتی ہوں. سوال یہ نہیں کے میں کیا ہوں. سوال یہ ہے کے تم کیا چاہتے ہو.’ اس نے بدستور میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا
.جی میں بھلا کیا چاہوں گا؟ میں کچھ نہیں چاہتا.’ میں اس کی نیم فلسفیانہ گفگتگو سے کچھ الجھ رہا تھا’
کچھ نہیں چاہتے تو گناہ کی اس بستی میں کیا راستہ بھول کر آ گئے ہو؟’ اس نے طنز کا نشتر چلایا مگر پھر کچھ سوچ کر بولی: ‘دیکھو لڑکے، خواھش بہت اہم چیز ہے .اور اپنی خواھش کی شناخت ضرور ہونی چاہیے. کیا خواھش ہے؟ کیوں ہے؟ اور کیسے پوری کرنی ہے؟ ان سب سوالوں کا جواب ڈھونڈنا بہت ضروری ہے
جی کیوں ضروری ہے ان سوالات کا جواب ڈھونڈنا؟ خواھش تو بس خواھش ہوتی ہے’. میں اس کی بات سمجھ نہیں پا رہا تھا
نہیں، خواھش صرف خواھش نہیں ہوتی. خواھش ایک راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنے حصّے کی آگ تک پہنچتے ہیں. خود کو جلانا انجام ہے تو یہ تو علم ہونا چاہیے نا کے کیوں جل رہے ہیں .’ وہ جھانک تو میری آنکھوں میں رہی تھی مگر مجھے کچھ یوں محسوس ہوا کے جیسے اس کی نظر بہت گہرائی میں اتر کر میری روح کو ٹٹول رہی ہو. میں نے گھبرا کر نظریں چرا لیں
میری آنکھوں میں دیکھنے سے ڈر لگتا ہے؟’ اس نے مسکرا کر پوچھا. پھر میرے اثبات میں ہلتا سر دیکھ کر پوچھنے لگی: ‘کیوں ڈر لگتا ہے؟ سچ سچ بتاؤ
.شاید تمہاری آنکھوں میں شرم نہیں ہے.’ میں نے کچھ سوچ کر جواب دیا’
ہاں صحیح کہتے ہو. میری آنکھوں میں شرم نہیں ہے. پر جانتے ہو کیوں نہیں ہے؟’ حیرت انگیز طور پر میری اس قدر سخت بات نے بھی اس کی پیشانی پرکوئی تیوری نہیں ڈالی تھی
.طوائفوں کی آنکھ میں شرم نہیں ہوتی’. میں نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا’
‘نہیں ایسا نہیں ہے’، وہ ہنس کر بولی. ‘جو لوگ اندر سے مر جاتے ہیں، ان کی آنکھوں میں شرم نہیں ہوتی‘     
اس کی باتیں سن کر میں گھبرا گیا تھا. کوئی طوائف ایسی فلسفیانہ گفتگو بھی کر سکتی ہے، یہ میرے وہم و گمان میں بھی نا تھا. عجیب عورت تھی اور عجیب باتیں کر رہی تھی. ‘شاید بیچاری کسی دماغی پریشانی یا بیماری کا شکار ہے.’ یہ سوچ ذھن میں آتے ہی میں نے آہستہ آہستہ دروازے کی طرف کھسکنا شروع کیا مگر میری یہ کوشش اس کی تیز نظروں سے نا چھپ سکی
گھبراؤ نہیں، میں پاگل نہیں ہوں. صرف حقیقت پسند ہوں.’ اس نے مجھے مسکرا کر دیکھا. ‘ارے میں تو بھول ہی گیی تھی کے تم گاہک ہو. بجلی بجھا کر کپڑے اتاروں یا روشنی میں ہی اتار دوں؟’ اس کے ہاتھ قمیض کی پشت پر غالباً زپ کھولنے کے لئے بڑھے اور زپ کھولنے کے بعد اس نے قمیض کا دامن پکڑ کر اونچا کیا
.نہیں نہیں، رہنے دیں. پلیز کپڑے نا اتاریں.’ اس کی سانولی کمر کی ایک جھلک نے ہی میرے حواس باختہ کر دیے’
کپڑے نا اتاروں؟’ اس نے حیرانی سے میری طرف دیکھا: ‘اوہ اچھا! پہلا تجربہ ہے تمہارا؟ فکر مت کرو. سب مجھ پر چھوڑ دو
.نہیں پلیز، ایسے نا کریں.’ بےبسی سے میری آواز روہانسی ہو چلی تھی’
شاید اس کو میری حالت پر پھر ترس آ گیا. اس نے قمیض اتارنے کا ارادہ چھوڑا، مجھے کندھے سے پکڑا اور بستر پر بیٹھا دیا. پھر ڈریسنگ ٹیبل کے پاس گیی، شیشے کے جگ سے گلاس میں پانی انڈیلا اور مجھے لا کر دیا. میرے حواس واپس آے تو شرمندگی کا شدید احساس ہوا. مجھ سے اس سے نظریں نہیں ملائی جا رہیں تھیں
کوئی بات نہیں. شاید ابھی تمہارا وقت نہیں آیا، خواھش کے راستے پر چلنے کا.’ اس نے مجھے تسّلی دینے کی کوشش کی. پھر بھی میری نظریں نا اٹھیں تو اس نے بات کا رخ پلٹنے کی کوشش کی. ‘تم پوچھ رہے تھے نا میرے مذہب کے بارے میں؟ ہاں میں ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئی. میرا باپ کمیٹی میں خاکروب کی نوکری کرتا تھا. آدمی بہت محنتی تھا مگر انتہائی بیوقوف بھی تھا
.بیوقوف کیوں تھا؟’ میں نے دلچسپی سے پوچھا’
بیوقوف اس لئے کے مجھے پڑھانا چاہتا تھا. وہ سمجھتا تھا کے تعلیم میری ذات سے خاکروبی کا لیبل اتار دے گی.’ اس کے ہونٹوں پر ایک طنزیہ مگر افسردہ مسکراہٹ کا سایہ منڈلا رہا تھا
.وہ غلط تو نہیں سمجھتا تھا. تعلیم میں بہت طاقت ہوتی ہے.’ میں نے اس کے باپ کی حمایت ضروری سمجھی’
ہاں، تعلیم میں بہت طاقت ہوتی ہے مگر اتنی نہیں کہ معاشرے کی متعین کردہ آہنی حدود کو توڑ دے.’ اس نے بدستور اسی افسردہ لہجے میں جواب دیا
میرے خیال میں ایسا نہیں ہے. تعلیم سب کچھ کر سکتی ہے.’ میں نے ایک طوائف کے مقابلے میں ہار ماننا مناسب نہیں سمجھا
.تم تعلیم یافتہ ہو؟ کتنا پڑھے ہو؟’ اس نے بات کا رخ میری طرف موڑ دیا’
.ابھی حال ہی میں میں نے ایم اے کیا ہے انگریزی ادب میں.’ میں نے ایک احساس برتری کے ساتھ اس کو آگاہ کیا’
میں نے بھی کیا تھا ایم اے فلسفے میں’. اس نے اتنے عام سے انداز میں اپنی تعلیمی قابلیت کا اظہار کیا کہ ایک لمحے کے لئے میں گھبرا گیا
.فلسفے میں ماسٹرز اور بازار حسن؟ میں کچھ سمجھا نہیں.’ میری حیرت کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا’
میں پڑھائی میں بہت اچھی تھی. گھر کے حالات تو ایسے نہیں تھے کے مجھے پڑھایا جا سکتا مگر پھر مشن والوں نے میری قابلیت دیکھی تو وظیفہ جاری کر دیا. اسی وظیفے کی بدولت اور اپنی محنت کے بلبوتے پر میں یونیورسٹی تک پہنچ گیی.’ اس نے اپنی کہانی کا آغاز کیا
.لیکن یونیورسٹی سے بازار حسن تک کیسے پہنچیں آپ؟’ شہناز کی ذات میں میری دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی’
یونیورسٹی سے بازار حسن مجھے محبت نے پوھنچایا.’ اس نے مسکرا کر جواب دیا. پھر میری آنکھوں میں حیرت لپکتے دیکھ کر بولی: ‘یونیورسٹی میں داخلہ لیتے وقت مجھے علم تھا کے مخلوط تعلیمی ماحول کے سبب لڑکے لڑکیوں کا عشق لڑانا ایک معمول کی بات تھی. مگر میرا مقصد کچھ اور تھا. میں تعلیم حاصل کر کے اپنے باپ کا غرور بننا چاہتی تھی، اپنا معاشرتی درجہ بلند کرنا چاہتی تھی.’ وہ بولتی چلی گیئ اور بولتے بولتے اس کی کالی آنکھوں کے تالابوں میں بھنور پڑنا شروع ہو گئے. کمرے کا گنہگار ماحول اور کمرے کے مکین کے دل میں اترتی گہری تاریک شام. میرا دل گھبرا گیا اور میں اٹھ کر کھڑکی کے سامنے کھڑا ہوگیا
سامنے ہی ایک اوراونچا مکان تھا اور اس کی دو ایک کھڑکیوں کا رخ شہناز کے کمرے کی جانب تھا. ایک کھڑکی تو جانے کس زمانے کی بند پڑی تھی کے اس کی چوکھٹ پر چڑیوں نے دو گھونسلے بنا رکھے تھے. دوسری میں ہلکی ہلکی پیلی روشنی تھی اور کمرے کا داخلی دروازہ واضح نظر آ رہا تھا. میرے دیکھتے ہی دیکھتے دروازے کے پٹ کھلے اور ایک لڑکی تقریباً دوڑتی ہوئی اندر داخل ہوئی. اس کے چہرے پر خوف واضح تھا. اس نے اندر داخل ہوتے ہی مڑ کر دروازہ بند کرنے کی کوشش کی مگرکسی نے لات مار کر پھر سے دروازہ کھول دیا. میں نے دیکھا کے لڑکی کے پیچھے پیچھے ایک موٹا تازہ کالا بھجنگ آدمی بھی کمرے میں گھس گیا لیکن جہاں لڑکی کے چہرے پر سراسیمگی ناچ رہی تھی، آدمی کے چہرے پر ایک شیطنیت آمیز غلیظ مسکراہٹ نے ڈیرے ڈال رکھے تھے. میرے دیکھتے ہی دیکھتے مرد نے لڑکی کے چہرے پر ایک زور کا طمانچہ مارا تو وہ الٹ کر بستر پر گر پڑی. نہایت فلمی قسم کا سین تھا. مرد نے قمیض کا دامن اٹھا کر غالباً ازار بند کھولنے کا ارادہ کیا تھا کے اس کی نظر مجھ پر پڑ گیئ. اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا، ایک آنکھ ماری اور آگے بڑھ کر کھڑکی بند کر دی
کیا دیکھ رہے ہو؟’ میں نے چونک کر داییں جانب دیکھا. شہناز پتا نہیں کب سے آ کر میرے ساتھ کندھا ملاے کھڑی تھی
.وہ سامنے ……….، وہ سامنے اس کمرے میں ایک آدمی اس لڑکی کی عزت لوٹ رہا ہے.’ میرا گلا خشک ہورہا تھا’
عزت لوٹ رہا ہے؟ اچھا؟’ شہناز نے ایک قہقہہ لگایا. ‘یہاں کے مکین اس بازارکے سمندر میں غرق ہونے سے پہلے عزتوں کا بوجھ اتار کر آتے ہیں
.لیکن وہ لڑکی……….؟’ میرا دل اب بھی اس لڑکی کی بیچارگی میں اٹکا ہوا تھا’
وہ لڑکی بھی ایک طوائف ہے. زیادہ عرصہ نہیں ہوا ابھی اسے آے. دس بارہ گاہک بھی بھگتا چکی ہے. لیکن ابھی تک حقیقت سے سمجھوتہ نہیں کر سکی .بیوقوف سمجھتی ہے کے جو چھوڑ گیا ہے، وہ پچھتا کر واپس آ جائے گا. جلد اس کے اندر کی روح بھی مر جائے گی اور جب حقیقت پرسہ دینے آے گی تو اس کی آنکھیں بےشرم ہوجاییں گیں.’ شہناز بولتی چلی گیی اور میں اس کی آنکھوں کے گہرے تالابوں کا کالا پانی چھلکنے کا انتظار کرتا رہا
. تم بتاؤ، تمہاری آنکھیں کب بےشرم ہوئیں؟’ میں نے پانی چھلکتا نا دیکھ کر تالاب میں کنکر پھینکا’
میرا ایک کلاس فیلو تھا. اونچا لمبا، گورا چٹا رنگ اور چہرے پر کشش بہت تھی. جب اپنی مونچھ کا ایک کونہ لبوں تلے دباے میری طرف دیکھتا تو ایک دفعہ روح ہی کھینچ لیتا. اس زمانے میں میں بہت پرکشش تھی. وزن بھی کم تھا اور اپنے آپ کو بنا سنوار کر رکھنے کا سلیقہ بھی تھا. کافی عرصہ میں اس سے نظریں چراتی رہی اور پڑھائی میں دل لگانے کی کوشش کرتی رہی. مگر پھر آہستہ آہستہ مجھے ہر لفظ میں اس کا نام چھپا نظر آنے لگا اور آخر کار عقل ہار گیئ اور جس طرح سے ہمیشہ ہوتا آیا ہے،  دل جیت گیا.’ بولتے بولتے اچانک شہناز نے میری طرف دیکھا، ‘تم اپنے بچپن میں مقناطیس کے ٹکڑوں سے توضرور کھیلے ہوگے؟’ پھر میرے اثبات میں ہلتے سر کو دیکھ کر بولی: ‘جب مقناطیس کے دو ٹکڑوں کو آپس میں قریب لے کر آؤ، اور اگر ان کے قطب مخالف ہوں تو پہلے تو ہمیں آہستہ آہستہ ان کے درمیان کشش کا احساس ہوتا ہے. مگر جب ان کا درمیانی فاصلہ بہت کم ہوجاے تو دونوں ٹکڑے لپک کر ایک دوسرے سے بغلگیر ہو جاتے ہیں. بس کچھ یوں ہی ہمارا قصہ بھی ہوا. کہاں پہلے تو میں دور دور بھاگتی تھی اور کہاں یک دم درمیان کے تمام فاصلے ختم ہوگے. کینٹین، کلاس، ہر جگہ ہم ساتھ ساتھ ہوتے. میری زندگی کا سورج ہر صبح اس کی آنکھوں سے طلوع ہوتا. لیکن کیا جانتی تھی کے میری زندگی کی شام بھی اس ہی کے ہاتھوں لکھی تھی
شہناز؟ ٹائم پورا ہو گیا ہے. جلدی جلدی گاہک کو فارغ کرو. کیا حسن کی سبیل کھول رکھی ہے؟’ دروازہ زور سے بجا اور باہر سے دلال کی کرخت آواز گونجی تو ہم دونوں بری طرح چونک گئے. میں نے کچھ بولنے کا ارادہ کیا ہی تھا کے شہناز نے میرے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اونچی آواز میں کہا: ‘گاہک ابھی اور بیٹھے گا،  ٹائم ڈبل ہوگا. فارغ ہونگے تو میں خود آواز دے کر بلا لوں گی
.ڈبل کیسے ہوگا؟ اس کے پاس پیسے کہاں ہیں اور؟’ دلال نے بدستور اسی کرخت لہجے میں جواب دیا’
پیسوں کی فکر مت کرو. لڑکے نے جراب میں ایک ہزار کا نوٹ چھپا رکھا تھا.’ شہناز نے میری طرف ایک آنکھ دبا کر کہا
.اوہ اچھا اچھا، بہت بڑھیا. پھر کوئی مسلہ نہیں، سکون سے بیٹھو’. دلال نے ہنس کرجواب دیا اور چلا گیا’
مگر میرے پاس تو اور پیسے نہیں. پانچ سو کا ایک ہی نوٹ تھا، وہ بھی اس خبیث نے نکال لیا’ میں نے جھجکتے ہوئے شہناز کے کان میں سرگوشی کی
.کیوں فکر کرتے ہو؟ تم سے کس نے مانگے ہیں پیسے؟’ شہناز نے مسکرا کر میری تھوڑی کو ہاتھ لگایا’
میں اس کے قرب سے اٹھتی حرارت اور اپنی تھوڑی پر اس کے نرم ہاتھوں کا لمس محسوس کر کے کچھ شرما بھی گیا اور گھبرا بھی گیا. اپنی گھبراہٹ چھپانے کے لئے میں نے ہاتھ بڑھا کر پانی کا گلاس اٹھایا اور ایک گھونٹ بھر کر پوچھا
‘ہاں تم بتا رہی تھی کے تمھیں اپنے کلاس فیلو سے محبت ہوگیی‘
ہاں مجھے اس سے محبت ہوگیی جو میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی’. اس نے دونوں ہاتھ آپس میں رگڑتے جواب دیا
.غلطی کیوں؟ محبت دیکھ بھال کر تھوڑی ہوتی ہے؟’ میں نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی’
ہاں صحیح کہتے ہو تم، محبت دیکھ بھال کر نہیں ہوتی مگر محبت کی دیکھ بھال تو کرنی پڑتی ہے نا؟’ اس نے اتنی گہری بات کر دی کے آج اتنے سالوں بعد بھی یاد آتی ہے تو مجھ میں گہرائی ناپنے کی ہمت نہیں ہوتی
میں نے تو بہت دیکھ بھال کرنے کی کوشش کی مگر وہ کمبخت باہر سے جتنا اجلا تھا، اندر سے اتنا ہی کالا تھا.’ میری خاموشی پر توجوہ دئے بغیر شہناز نے پھر سے اپنی کہانی کا آغاز کیا. ‘وہ سمجھتا تھا کے چونکہ میں ایک عیسائی کی لڑکی تھی، میرے لئے عزت ایک معمولی چیز تھی. حالانکہ مذہب کا عزت سے کیا تعلق؟ وہ خدا جس نے انسان کے خمیر میں عزت گوندھی، وہ خدا تو سب کا ایک ہے.’ اس نے میری طرف ٹٹولتی نگاہوں سے دیکھا تو میں سٹپٹا گیا اسلئے کے میں نے کبھی اس طرح سے سوچا ہی نہیں تھا. میرے نزدیک صرف مسلمان ہی قابل احترام تھے اور میں سمجھتا تھا کے خدا نے عزت صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص کی تھی
ہاں بالکل. عزت سب کی ایک جیسی ہوتی ہے.’ مرتا کیا نا کرتا، اس سے اتفاق کرنا ہی میری خالی جیب کے مفاد میں تھا
مگر شہناز بہت گہری لڑکی تھی. اس نے ہنس کر میری جانب دیکھا: ‘نہیں، تم ایسا نہیں سمجھتے. مگر ایک دن جب خدا کی محبت کو سمجھ جاؤ گے تو یہ بھی سمجھ میں آ جائے گا
خدا کی محبت؟ تم خدا کی محبت کوکیسے سمجھتی ہو؟’ میں زیادہ دیر اپنے نظریات کی بےحرمتی برداشت نہیں کر پایا
ہاں بالکل. کیوں نہیں؟’ اس نے میرے چہرے پر پھیلی نفرت انگیزحیرت کی کوئی پرواہ نہیں کی. ‘دیکھو، گناہ اور ثواب کے درمیان ایک بہت گہری خلیج  ہے ، ایک کھائی ہے، جسے نا مذہب پار کر سکتا ہے نا انسانوں کے دل، صرف خدا کی محبت اس کھائی کو عبورکرسکتی ہے اور کرتی ہے
تم بتا رہی تھی کے وہ تمہاری عزت کے پیچھے تھا.’ میں نے اس سے بحث کا کوئی فائدہ نا سمجھتے ہوئے دوبارہ اس کو کہانی کی طرف لانے کی کوشش کی
ہاں، اس بدبخت کی محبت مجھ سے میری عزت کی قربانی مانگ رہی تھی.’ وہ میرے دل میں چلتی تذبذب کی آندھی سے ناواقف، بولتی چلی گیی: ‘میں بھی کیا کرتی؟ محبت کی دیکھ بھال جو کرنی تھی. میں نے وہ قربانی بھی دے دی
.اس نے تمہاری عظیم الشان قربانی کی کوئی قدر نہیں کی؟’ میں نے طنزیہ لہجے میں پوچھا’
ارے مرد کب اپنی فتوحات اور ان سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کی قدر کرتا ہے؟’ اس نے میرے لہجے میں سانپ کی طرح سرسراتے طنز کی کوئی پرواہ نہیں کی. ‘میری عزت کی قربانی اس کی فتح تھی. اس نے تھوڑا عرصہ اپنی فتح کا جشن ضرور منایا مگر پھر دوسری فتوحات کی تلاش میں نکل گیا
.کیا؟ وہ تمھیں چھوڑ کر چلا گیا؟’ میں نے حیرانگی سے پوچھا’
نہیں، جانا کہاں تھا اس نے؟ وہیں یونیورسٹی میں رہا میری نظروں کے سامنے مگر آہستہ آہستہ مجھ سے دور ہوگیا. ہوسٹل میں رہتی تھی. ماں پاس نہیں تھی کے اس کے گلے لگ کر روتی. میں نے مایوس ہو کر کیڑے مار دوائی پی لی مگر ابھی میرا وقت نہیں آیا تھا. میری ایک سہیلی تھی جس کا باپ پولیس میں کوئی بڑا افسر تھا. خدا اس کو خوش رکھے، اس نے ناصرف بروقت ہسپتال لے جا کر میری جان بچائی بلکہ اپنے باپ سے کیہ کہلا کے پولیس کیس بھی نا ہونے دیا. ہسپتال سے واپس آی تو اپنے محبوب سے انتقام لینے کی سوچی. اس سے کیا انتقام لیتی، سارا غصّہ اپنی ذات پر مرکوز ہوگیا. عزت تو جا ہی چکی تھی، میں نے ایک کے بعد ایک عشق لڑانا شروع کر دیا . ایک آغوش سے دوسری آغوش، ایک بستر سے دوسرا بستر. مگر جس محبت آمیز حرارت کی مجھے تلاش تھی، ان سب مردوں سے مجھے نا مل سکی. آہستہ آہستہ اچھی سہیلیاں ساتھ چھوڑتی چلی گیئں اور بری صحبت نے مجھے گھیر لیا.’ اس کی اچانک خاموشی پر میں نے کالے تالابوں کے چھلکتے پانی کی امید میں نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا. مگر ان تالابوں کے پانیوں میں صرف ایک تاریک سکوت تھا
اچانک قریبی مسجد سے سپیکر پر کوئی اعلان ہوا تو اس نے چونک کر کھڑکی کی طرف دیکھا: ‘ارے! بہت دیر ہوگیی، تمہاری ماں پریشان ہورہی ہوگی
کوئی بات نہیں. میں چلا جاؤں گا. مگر یہ تو بتاؤ کے تم یہاں ہیرا منڈی تک کیسے پوھنچی؟’ میں اس کی کہانی کے اختتام تک پوھنچنا چاہتا تھا
بس ایک دن ایک سہیلی نے احساس دلایا کے جب جسم کا سودا کرنا ہی ہے تو محبت کی امید پر ہی کیوں کیا جائے؟ پیسوں کے یقین پر کیوں نا کیا جائے؟’ اس نے مسکراتے ہوئے میرے سوال کا جواب دیا. ‘پھر ایک دن میں یہاں آ گیی
اور تمہارے ماں باپ؟ بہن بھائی؟ انہوں نے تمھیں تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی؟’ مجھے اس کے خاکروب باپ کی فکرتھی
کی تھی لیکن پھر میں نے ایک دن خود ماں کو فون کر کے بتا دیا. پہلے بہت رویئ دھوئی مگر پھر اس نے بھی حقیقت سے سودا کر لیا.’ اس کے لہجے میں ہلکا سا ملال امڈ آیا
.سودا؟ کیسا سودا؟’ میں سمجھا کے شاید وہ سمجھوتے کی جگہ سودا که گیئ’
ہاں سودا. آخر اس غریب کو باقی بہنیں بھی تو بیاہنی تھیں. اور پھریہ ایک نوکری ہی تو ہے. لوگ اپنی محنت بیچتے ہیں، پسینہ بیچتے ہیں، خون بیچتے ہیں اور میں اپنا جسم بیچتی ہوں. جسم بچ کر جو کچھ کماتی ہوں، تھوڑا خود رکھ لیتی ہوں، باقی گھر بھیج دیتی ہوں. باپ باہر اکڑ کر بتاتا ہے کے میری بیٹی سعودی عرب میں نرس ہے اوریہ جھوٹ بولتے بولتے اس کو یہ ہی سچ معلوم ہونے لگا ہے. ماں بیچاری کا کیا ہے؟ رو دھو کر اس کے بھی آنسو خشک ہوچکے ہیں.’ اس کی کالی آنکھیں اب بھی خشک تھیں
.اور تم؟ تم یہاں اکیلی کیسے رہتی ہو؟ محبت کے بغیر؟’ میں نے اٹھتے ہوئے پوچھا.
اکیلی؟ محبت کے بغیر؟ نہیں نہیں، میں اکیلی نہیں، مجھ سے میرا خدا محبت کرتا ہے.’ اس کی کالی آنکھوں میں یقین کی نمی چمکی، ‘وہ مجھ سے بہت محبت کرتا ہے. میں گناہگار ہوں، جسم کا سودا کرتی ہوں، خواہشیں بیچتی ہوں، مگر میرے خدا کو پھر بھی مجھ سے محبت ہے
یہ کیسے ہوسکتا ہے؟’ میں نے شہناز سے پوچھا مگر اب میری آواز میں طنز نہیں، صرف سمجھنے کی خواھش تھی
ہوسکتا ہے! ضرور ہوسکتا ہے! محبت نا ہوتی تو وہاں اس دن ہسپتال ہی میں مار دیتا، محبت نا ہوتی تو میرے ہاتھ سے میرے گھر والوں کو رزق نا دیتا.’ شہناز کی آنکھوں کے تالاب آخر کارچھلک اٹھے. اور شاید اس کے الفاظ سے زیادہ اس کے آنسوؤں نے مجھے اس بات کا یقین دلا دیا کے خدا کو شہناز سے محبت کے لئے کسی نظریے یا گناہ و ثواب کے کسی پیمانے کی ضرورت نا تھی
.سنو!’ اس کی آواز نے میرے دروازے کی جانب بڑہتے شرمندہ قدم روک لئے’
یہ لو ایک ہزار، یہ نیچے دلال کو دے دینا. اور یہ لو پانچ سو اور، گھر جانے کے لئے سواری کی ضرورت پڑے گی.’ اس نے میری جانب دو نوٹ بڑھاہے
لے لو شاباش!’. وہ اٹھ کر میری جانب بڑھی، نوٹ میری جیب میں ڈالے اور میری پیشانی کو چوم کر مجھے ہلکے سے دروازے کی طرف دھکیل دیا
.میں یہ پیسے واپس کرنے آؤں گا.’ میں نے شرمندگی سے شہناز کی طرف دیکھا’
.اب جاؤ. کہیں بہت دیر نا ہوجاے. خدا حافظ’. شہناز واپس کھڑکی کی طرف مڑ گیی’
میں مڑ کر جانے لگا تو دیوار پے ٹنگی صلیب کے گرد ایک نور کا نا محسوس ہالا چمک رہا تھا. میں نے احترام سے نظریں جھکائیں اور شہناز کی زندگی سے نکل گیا. یہ بھی بتاتا چلوں کے بعد میں پیسے واپس کرنے کی نیت سے واپس ضرور گیا مگر بہت کوشش کے باوجود نا کبھی شہناز کا مکان ڈھونڈ پایا اور نا ہی کبھی بخشو دلال کا کچھ پتا لگ سکا. لیکن جب کبھی مجھے غلطی سے اپنے خود کے یا کسی اور گنہگارکے گناہوں سے نفرت محسوس ہوتی ہے تو مجھے فوراً یاد آ جاتا ہے کے کبھی ایک طوائف کے کوٹھے پر میری ملاقات خدا کی محبت سے ہوئی تھی
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers