سکھر شہر سے دو میل دور ، کراچی لاہور روڈ پر ایک نہر بہتی ہے-
تانگے والا ہمیں اسی نہر کے کنارے اتار کر چلا گیا- سورج مشرق سے سر نکال رہا تھا- ہم پیدل چلتے ہوئے اس قلعہ نماء عمارت تک پہنچے جسے "سکھر جیل" کہا جاتا تھا-
جیل کے دروازے پر کھڑے سنتریوں نے ہمیں دور ہی سے گھورنا شروع کر دیا- ہمارے کندھوں پر سفری بیگ تھے اور حالت درویشوں جیسی ہو چکی تھی- یوں لگ رہا تھا جیسے ہم برسوں کا سفر کر کے یہاں پہنچے ہوں-
رمضان کا مہینہ تھا اور عید کی آمد آمد- سکھّر اپنی شدید گرمی کے سبب ان دنوں " سقّر " بنا ہوا تھا- 126 ڈگری فارن ہائیٹ درجہء حرات میں حالت یہ تھی کہ انڈہ پانی میں ڈال کر دھوپ میں رکھ دو تو پانچ منٹ میں ابل جائے-
جیل کے سامنے درختوں کا گھنّا سایہ تھا- ہم نے پتھر کے ایک بنچ پر اپنے بیگ دھرے- دو چار لمبی لمبی سانسیں لیں ، پھر چہرے پر ایک زبردستی کی مسکراہٹ سجائے ہوئے سنتریوں کے پاس تشریف لے گئے-
"اسلام علیکم ادا .... سُٹھو حال سائیں !!! " چاند پوری نے آغازِ کلام کیا-
" پلی کری آیاں " ایک عمر رسیدہ سنتری چاند پوری کو سرتا پاؤں دیکھتے ہوئے بڑبڑایا-
"سائیں ادھر کچھ مولوی حضرات آئے ہوئے ہیں کارانچی سے .... ہم ان کا ملاقاتی آیا ہے "
" کیدھر سے آیا ہے تم بابا ؟؟ " سنتری نے پوچھا-
" لاہور سے .... !!! "
" اور یہ مُلّے لوگ تمہارا کیا لگتا ہے ؟؟"
" دیکھو بابا ہم صحافی ہیں .... اور جیل کے قیدیوں پر ایک رپورٹ لکھ رہے ہیں"
"دیکھو سائیں .... ایدھر رپوٹر شپوٹر کا سخت منہائ ہئے .... اور کسی مُلّے سے ملاقات کا آرڈر بھی ناہیں ہئے .... جیل سپریڈنٹ بوہت ڈاڈھا بندہ ہئے سائیں .... سنتریوں پہ غُصّہ کرتا ہئے بابا "
" چلو پھر جیل سپریڈنٹ سے ہی ملاقات کروا دو " چاند پوری نے کہا-
"ارے بابا جیل سپریڈنٹ مانڑوں مانڑوں کو تھوڑی ملتا ہے .... "
"ہم مانڑوں نہیں صحافی ہے "
" تم آئسا کرو بابا کہ عید پر آجانڑاں .... ملاقات کروا دیں گے"
"عید میں تو ابھی ایک ہفتہ ہے سائیں .... ہم اتنا انتظار نہیں کر سکتے .... تم سپریڈنٹ کو اطلاع دے دو کہ لاہور سے کچھ صحافی آئے ہیں"
" کائسے اطلاع دے دوں بابا .... پادری صاب تو چرچ گئے ہوئے ہائیں .... "
"پادری صاحب کون ؟ "
" مسٹر کنیزرو پادری ہے ناں .... وہی جیل کا سپریڈنٹ ہے"
چاند پوری مونہہ لٹکائے واپس آ گئے- ہم دونوں پتھر کے بنچ پر خاموش بیٹھ گئے-
اس دوران سائیکل پر سوار ایک بابا ادھر آیا- کوئ پچاس پچپن کا سن ، سفید ریش اور بارعب چہرہ- اس نے سائیکل گیٹ کے ایک طرف کھڑی کی- ہمیں "سلاماں لیکم" کہا پھر کیرئیر سے ایک لحیم شحیم جھاڑو اتار کر جیل کے سامنے سڑک پر صفائ کرنے لگا- شکل سے وہ کسی طور بھنگی نہیں لگ رہا تھا- ہم خاموشی سے اسے دیکھتے رہے-
کام ختم کر کے وہ سیدھا ہمارے پاس چلا آیا-
سلام دعا ہوئ ، تعارف ہوا- اس کا نام یعقوب قادری تھا- وہ سکھّر میں فرنیچر کا کام کرتا تھا- یعقوب پنجابی میں شاعری بھی کرتا تھا اور حبِ آلِ رسول ﷺ اس کا اوڑھنا بچھونا تھا- اسے ختم نبوّت تحریک کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں-وہ تو بس اتنا جانتا تھا کہ کراچی سے کچھ سادات سکھّر جیل آئے ہوئے ہیں- یہ معلومات بھی اسے جیل کے اندر لکڑی کا کام کرتے ہوئے دستیاب ہوئ تھیں- اس کا ٹھیکہ ختم ہوا تو وہ جیل کو ہی درگاہ بنا کر بیٹھ گیا- وہ روزانہ سائیکل پر یہاں آتا ، سادات کی زیارت کےلئے سنتریوں کی منّت سماجت کرتا- پھر جیل کے دروازے پر جھاڑو لگا کر واپس چلا جاتا-
"جیلر بوہت چنگا بندہ اے .... ہے تے پادری .... پر اخلاق بوہت وھیا اے " یعقوب نے بتایا-
" اس کا مطلب ہے ملاقات ہو جائے گی ؟؟" چاند پوری نے پُوچھا-
" ناں جی ناں .... یزیدیاں دی حکومت وچ سیّداں نال ملاقات کس طرح ہو سکدی اے .... آلِ رسول ﷺ نوں تپدیاں کوٹھیاں وچ سُٹیا اے ظالماں نے .... رب انہاں نوں پچھے گا .... !!! "
"پھر بھی .... کوئ صورت تو ہو گی ؟؟ " چاند پوری نے امید بھری نظروں سے سوال کیا-
" زیارت ہو سکدی اے .... !!! " وہ پٹکے سے چہرہ صاف کرتے ہوئے بولا-
" زیارت ؟؟ کیا خواب میں ہوگی زیارت ؟؟ "
" او سرکاراں .... اودھر پیچھے اِک باگ ہے .... شام نوں پیر بادشاہ اودھر گشت کردے نیں .... سنتری نوں دو روپے چٹّی دے کے تُسّی وی زیارت کر لوؤ "
عصر تک ہم وہیں بیٹھے یعقوب قادری کی گپیں سنتے رہے- اس بہانے روزہ بھی اچھا گزر گیا- یعقوب نے ہمیں اپنا کچھ کلام بھی سنایا جو ہمارے فہم و ادراک سے کافی اونچا تھا- اس دوران وہاں کچھ اور ملاقاتی بھی آ گئے- ان میں سے بعدوں کو ملاقات کی اجازت بھی مل گئ- کچھ لوگ کھانے پینے کا سامان بھی اندر لے گئے- یعقوب نے بتایا کہ یہ عام قیدیوں کے رشتہ دار ہیں- مثلاً چور ڈاکو قاتل لٹیرے دھاڑیل- سید بادشاہوں کے بارے میں بہت سختی ہے- اس نے بتایا کہ سادات کو ایسی تنگ و تاریک کوٹھڑیوں میں رکھا گیا ہے جہاں تک پہنچنے کےلئے پانچ کوٹھڑیوں سے گزرنا پڑتا ہے- جہاں نہ تو کھڑکیاں ہیں نہ روشن دان- دن کو کوٹھڑیاں تندور کی طرح تپ جاتی ہیں تو قیدی دروازے کے پاس باری باری لیٹ کر تازہ ہوا لیتے ہیں- پینے کو افطار میں بھی گرم پانی ملتا ہے-
عصر کے بعد یعقوب نے سنتری سے جا کر بات کی پھر ہمیں بلایا-
" پہلے درگاہ تے دو روپے نزرانہ چڑھاؤ !!! "
ہم نے دو دو روپے سنتری کو ادا کئے اور یعقوب کے پیچھے پیچھے چل دیے- وہ ہمیں ایک لمبا چکر لگوا کر جیل کے پچھواڑے میں لے آیا- یہاں کافی جھاڑ جھنکار تھا اور ایک طرف پختہ اینٹوں کا ایک ڈھیر سا لگا ہوا تھا- ہم جیسے تیسے کر کے اینٹوں پر چڑھ گئے- اب دیوار سے پار کا منظر صاف دیکھا جا سکتا تھا-
سامنے کوئ دو سو قدم کے فاصلے پر وہ تنگ و تاریک کوٹھڑیاں تھیں جن میں ابولحسنات سید احمد قادری ، سیّد عطاءاللہ شاہ بخاری ، سید عبدالحامد بدایونی ، علامہ سیّد مظفر شمسی ، مولانا عبدالرحیم جہلمی ، صحافی اللہ نواز اور صاحبزادہ سیّد فیض الحسن عشق کی قید کاٹ رہے تھے- کوٹھڑیوں کے سامنے ریت کا ایک چٹیل میدان تھا جس میں دو ٹنڈ منڈ درخت لگے ہوئے تھے-
" باغ کدھر ہے قادری صاحب .... یہاں تو ریت ہی ریت ہے" میں نے پوچھا-
"او سرکاراں .... اسے نُوں باغ کہندے نیں .... جیل وچ کوئ امروداں دا باغ تھوڑی ہوندا !!! "
" اس گرم ریت پر چہل قدمی کرتے ہیں سیّد زادے ؟؟ .... روزے کی حالت میں .... ؟؟"
" تے ہور کی .... ہُن آپ ای اندازہ کر لؤو کہ کوٹھڑی دے اندر کی حالت ہونی ایں "
اس دوران ایک سنتری نے آکر کوٹھڑیوں کے تالے کھولنے شروع کئے- آہنی کواڑ دلدوز چیخیں مارتے ہوئے کھلنے لگے-
تھوڑی دیر بعد اندر سے قیدی باہر آنا شروع ہوئے- ان کے معطر اجسام پسینہ پسینہ تھے- اور بال گرد آلود-
سنتری کچھ دور جاکر کھڑا ہو گیا ، اور سید زادے تپتے ہوئے ریگزار کو باغِ ارم سمجھ کر وہاں چہل قدمی کرنے لگے-
" عشق احساسِ تکلیف بھلا دیتا ہے ..... بس .... جسے رب قبول کر لے !!! " چاند پوری نے ایک سرد آہ بھر کر کہا -
اس دوران یعقوب قادری اپنا کلامِ عشق گنگنانے لگے ..... اور ہم خاموش ہوگئے !!!
کھائیو نہ وِساہ سیّو
عشقے اُڈ جانڑیں دا
ڈاڈھا اوکھا جے راہ سّیو
عشقے اُڈ جانڑیں دا
سکھیو !!! عشقِ بے درد کا بھروسہ کبھی نہ کرنا- عشقِ خانہ سوز کا رستہ بہت ہی کٹّھن ہے-
مونہہ لاندا نئیں شودیاں نُوں
بے درد بے ہُودیاں نوں
اوکھا ویڑا جے لاء سیّو
عِشقے اُڈ جانڑیں دا
سکھیو !!! عشقِ کرشمہ ساز کی لگن بڑی ہی کٹھن ہے- یہ کم ظرف ، بے درد اور بے ہودہ لوگوں کے قریب بھی نہیں پھٹکتا-
کونین دے مالِکاں نیں
حیدر دیاں پالکاں نیں
مُل چھڈیا اے پاء سیّو
عشقے اُڈ جانڑیں دا
سکھیو !!! اس عشقِ مایہء انمول کی قیمت سردارانِ جنّت نے ہی چُکائ ہے ، جو حیدرِ کرار کے جگر گوشے تھے-
(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers