جس باغیچے کو ہم نے سینچا تھا ، آخر ایک دن ہرا بھرا ہو گیا-
احاطے کی دیواروں پر سرسبز راء بیل لہرا اُٹھی- چھوٹی چھوٹی کیاریوں میں ٹینڈے ، کدّو ، کریلے اور بھنڈی توری لہلہانے لگے- ہم سے پہلے یہاں نیم کے دوٹنڈ منڈ درخت تھے- احاطے میں سائے کا نام و نشاں تک نہ تھا- برسات آئ تو ہم نے مشقتّیوں سے پتھریلی زمین کھدوا کر تین بڑے بڑے کھڈّے بنائے- باہر سے نیم کے تین پودے منگوائے اور انہیں اس نیّت سے لگایا کہ چلو ہماری تو دھوپ میں کٹ ہی گئ ، کل کوئ اور تو نیم کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ سکے-
ایک روز ہم باغ کی گوڈی میں مصروف تھے کہ اچانک پیچھے سے آواز آئ-
" واہ ماسٹر صاحب !!! آپ نے تو جیل کو گل و گلزار بنا دیا"
مُڑ کر دیکھا تو جنرل انسپکٹر صاحب کھڑے مسکرا رہے تھے-
میں نے کہا " مقدر کی بات ہے .... جن ہاتھوں میں کل قلم تھا ، قدرت نے آج بیلچہ تھما دیا .... "
" جو کچھ آپ نے کیا ، واقعی بے مثال ہے .... کاش ہم آپ کو اس کا کچھ صلہ دے سکتے" وہ میرے پاس بیٹھتے ہوئے بولے-
میں نے پتھریلی زمین پر بیلچہ دھرتے ہوئے کہا:
" صاحب !!! ہمیں نہ تو مسلم لیگ سے کوئ صلہ چاھئے ، نہ ہی جیل حکام سے کوئ رعایت .... ہم تو بس یہ چاھتے ہیں کہ جو کچھ ہم پہ گزری کل کسی اور پر نہ بیتے .... مجبور قیدی ان درختوں کے سائے میں آرام کر سکیں .... گرمیوں میں لوگ اپنے ڈھور ڈنگر تک چھاؤں میں باندھ دیتے ہیں .... لیکن جیل ایسی جگہ ہے جہاں انسان ، انسان کا دشمن ہے .... جانوروں سے بھی بدتر سلوک ہوتا ہے یہاں .... باہر نکلیں تو دھوپ کھاتی ہے ... اندر جائیں تو کوٹھڑی .... پینے کو ابلا ہوا پانی ہے .... قیدی مجبور ہے اور حکمران مقہور .... جیل میں اے کلاس کے مزے لوٹنے والے سیاستدانوں کو کیا معلوم کہ سی کلاس میں انسانیت کس بھاؤ بک رہی ہے .... پھر باہر آکر عوام کے سامنے ڈینگیں مارتے ہیں کہ صاحب ہم نے تو جیلیں کاٹی ہیں .... جیسے حاجی مکّے مدینے کے قصّے سناتے ہیں .... اور عوام بے چاری سبحان اللہ ماشاءاللہ کرتی رہ جاتی ہے"
جیلر صاحب کچھ دیر سوچتے رہے پھر بولے " آپ ایک سچّے صحافی ہیں ، قیدیوں کی اصلاح پر ایک کتاب لکھ دیجئے ، ہم اسے شائع کروائیں گے .. ... "
میں نے مسکرا کر کہا " فی الحال تو نابینا صحافی ہوں ،جس رات کراچی سے ہمیں گرفتار کیا گیا ، ہمارا چشمہ وہیں رہ گیا تھا "
" آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا ، ہم کل ہی آپ کو چشمہ لگوا دیتے ہیں ... !!"
اگلے ہی روز انہوں نے باہر سے ایک چشمہ میکر اور نظر کے ڈاکٹر کو بلوا لیا- ڈاکٹر صاحب نے کورٹ روم میں سیاہ پردے تان کر دکان سجا لی- پھر ہمیں بھی بلوا لیا گیا-
وہاں کچھ اور قیدی بھی باری کے منتظر تھے- کچھ انتظار کے بعد ہماری باری آئ- ڈاکٹر صاحب بورڈ پر لکھے چھوٹے بڑے حروف ہم سے پوچھنے لگے- اسی اثناء میں وارڈن ایک اور قیدی کو لیکر اندر داخل ہوا-
ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ٹھٹھک کر رہ گئے-
زبان سے بس اتنا ہی نکل سکا " آپ اور یہاں ؟؟"
یہ کرنل فیض صاحب تھے- اردو کے مشہور شاعر فیض احمد فیض !!!
فیض کو آپ کمیونسٹ کہ لیجئے یا کوئ اور رائے قائم کر لیجئے ، بہرحال وہ بہت اچھے انسان ہیں ..... میں نے انہیں ہمیشہ ھمدرد اور ملنسار ہی پایا ہے ..... بہت سال پہلے تقسیم کے زمانے میں ان سے ملاقات ہوئ تھی ..... ان دنوں میں لدھیانہ میں مہاجرین کے ایک کیمپ کا انچارج تھا اور رات دن مہاجرین کی خدمت میں منمہک رہتا تھا ..... ایک روز اچانک معلوم ہوا کہ لاہور سے کچھ لوگ آ کر کیمپ کا معائنہ فرمائیں گے ..... میں آٹے کی تقسیم سے فارغ ہی ہوا تھا کہ فیض صاحب اچانک سامنے آئے اور مجھ سے بغل گیر ہو گئے ..... اس وقت بھی ہماری زبان سے یہی نکلا تھا " آپ اور یہاں .... ؟؟؟ "
بہرحال دو قیدی ، جو حکومت کے باغی تھے ، آپس میں کیا بات کر سکتے تھے- ایک زخم خوردہ مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا- پھر وارڈن کے تیور دیکھ کر ہم نے ایک دوسرے سے مونہہ پھیر لیا- نظر کا معائنہ کروا کے وہ اپنی کوٹھڑی میں تشریف لے گئے اور میں اپنی کوٹھڑی میں چلا آیا-
کچھ روز بعد جیل میں ڈینٹسٹ کا چیک اپ ہوا تو فیض صاحب سے وہاں بھی ملاقات ہوئ- ان کے ساتھ کچھ فوجی افسران بھی تھے جو راولپنڈی سازش کیس میں قید تھے- انہوں نے کہا " ماسٹر صاحب ہم آپ کی تحریک کے سخت مخالف تھے اور اسے ملاؤں کا انتشار سمجھتے رہے- لیکن اب ہماری آنکھوں سے بھی پردہ ہٹ چکا ہے- آج ایک سے بڑھ کر ایک قادیانی ہمارے خلاف جھوٹی گواہیاں دے رہا ہے- ہمیں اب معلوم ہوا ہے کہ یہ گروہ پاکستان کے خلاف کس طرح کام کر رہا ہے"
دین داروں اور دنیا داروں میں بس یہی فرق ہوتا ہے- دین دار قران و سنّت کے آئینے میں دوست دشمن کی پہچان رکھتا ہے ، اور دنیا دار کے سر پر ضرب پڑتی ہے تو اس کی آنکھ کھلتی ہے-
⊙---------------------⊙
7 اپریل 1953 کی ایک گرم صبح میں غسل خانے میں تھا کہ باہر ساتھیوں نے شور کیا-
" ماسٹر صاحب !!! جلدی باہر آئیے .... ایک تازہ خبر ہے .... !!! "
میں جیسے تیسے نہا کر باہر نکلا-
"خیریت تو ہے ؟ کیا خبر آ گئ ؟؟ "
" خواجہ ناظم الدین کا تختہ الٹ دیا گیا ہے .... انا للہ و انا الیہ راجعون !!! "
آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا- یہی بات ہم خواجہ صاحب کو آخری ملاقات میں بتا کر آئے تھے- اصل حکومت تو اللہ رب العزت کی ہے جسے کبھی زوال نہیں- حکومتی عہدے انسان کی آزمائش ہوتے ہیں- خواجہ صاحب وزارت عظمی کی جس مظبوط کشتی پر سوار تھے اسے اسٹیبلشمنٹ کی بے رحم موجوں نے عین منجدھار میں تتر بتر کر دیا- رہے نام اللہ کا ....
کچّے گھڑے نے جیت لی ندّی چڑھی ہوئ
مظبوط کشتیوں کو کنارہ نہیں ملا
رات نصف سے زیادہ بیت چکی تھی- میں اور چاند پوری بڑے انہماک سے ماسٹر تاج الدین انصاری کی داستان سن رہے تھے- باہر سے ایک سنتری نے آکر اطلاع دی کہ ملاقات کا وقت ختم ہو چکا ، اور جیلر صاحب باہر ڈیوڑھی پر منتظر ہیں-
ہم عشق کے قیدیوں سے گلے مل کر رخصت ہوئے- انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات جناب زیڈ احمد یقیناً ایک عظیم انسان تھے جنہوں نے ہمارے لئے ایک انتہائ ناممکن کام کو ممکن بنایا تھا-
تھکے قدموں سے چلتے ہوئے ہم ڈیوڑھی سے نیچے اترے- ہماری بائیں جانب جیل کی اونچی فصیل تھی اور دائیں طرف قیدیوں کی تاریک کوٹھڑیاں- ایک کمزور سا بلب راہداری کا اندھیرا دور کرنے کی کوشش کر رہا تھا- ایک کوٹھڑی کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک مترنّم آواز نے ہمارے قدم روک لئے اور ہم ایک ادھ کھلی کھڑکی سے کان لگا کر نغمہء فیض سننے لگے !!!
قفس اداس ہے یارو ، صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہرِ خُدا ، آج ذِکرِ یار چلے
جو ہم پہ گزری سو گزری ، مگر شبِ ہجراں
ہمارے آشک تری عاقبت سنوار چلے
مقام فیض کوئ راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers