ایک روز سرِ شام ڈیوڑھی پر شور سنائ دیا-
بایر نکلے تو ساتھ والے احاطے میں کوئ اونچی اونچی آواز میں سنتری سے لڑ رہا تھا-
"دیکھ پانڈے .... ہمارا رستہ چھوڑ دے ..... ہم کو جیل کی دیواریں ناہیں روک سکتیں "
" سمجھو سائیں ... تم کو ڈنّو شاہ کا واسطہ .... کیوں ہمارا نوکری برباد کرتا ہے .... واپس چلا جا "
" ہم کہتا ہوں درواجہ کھول سالے .... نئیں تو ٹھاکر تیرا سر کھول دے گا ... !!! "
یہ بحث جاری تھی کہ میں نے آواز لگائ :
"بھائ کیا مسئلہ ہے ؟ کس سے لڑ رہے ہو ؟ ... کون ہے اُدھر ؟ "
"ہم بھوبت ہے ... بھوبت ڈاکو !!! " دروازے کے پیچھے سے آواز آئ-
"بھوبت ..... ؟؟؟ تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟؟"
"ہم کو تمہارے پاس آنا ہے مولی ساب .... یہ سالا پُلس والا درواجہ نہیں کھولتا ... "
بھوبت ڈاکو ہماری بیرک کے ساتھ والے احاطے میں شفٹ ہو چکا تھا- جیل سرکار نے اس کی بیرک تبدیل کر دی تھی- دونوں احاطوں کے بیچ ایک دروازہ تھا- اب وہ ہمارے پاس آنے کےلئے سنتری سے لڑ رہا تھا-
"دیکھ بھوبت " میں نے کہا- "یوں لڑنا بالکل ٹھیک نہیں .... ہم بھی تمہاری طرح قیدی ہیں ... ہم کل سپریڈنٹ سے بات کریں گے- وہ آپ کو ہم سے ملنے کی اجازت دے دیگا "
جیل سپریڈنٹ شیخ اللہ بخش ایک شریف انسان تھے- اگلے ہی روز ہماری کوٹھڑی میں تشریف لائے تو ہم نے ان سے بات کی-
" اڑے توبہ کرو مولی سائیں .... !! وڈّا خطرناک دھاڑیل ہے .... اوپر سے ھندو .... آپ لوگ پاک صاف رہتے ہو .... نماز پڑھتے ہو ... کمرہ پلید کرے گا !!! "
" مانا کہ ڈاکو ہے ..... لیکن ایک انسان تو ہے .... اسے ہمارے پاس آنے دو ... کیا معلوم اللہ اسے کلمہ پاک کی نعمت بخش دے اور وہ ایک اچھا انسان بن جائے"
"سائیں بڑی اوکھی بات ہے .... بھوبت اور کلمہ ؟؟ "
"ہم کوشش تو کر سکتے ہیں .... باقی ھدایت تو سچّے رب نے دینی ہے ... "
سپریڈنٹ سوچ میں پڑ گیا پھر بولا :
" سائیں سرکاری طور پر تو ہم اجازت نہیں دے سکتا .... مگر تمہاری بات کا انکار کر کے گنہگار بھی نئیں ہونا چاھتا .... ہم کوشش کرے گا کہ چوری چھپے ملاقات ہو جائے ... "
اگلے روز بھوبت کا وارڈن تبدیل کر کے نسبتا ایک نرم مزاج سنتری لگا دیا گیا- اس نے روزانہ کچھ دیر بھوبت کو ہمارے پاس آنے کی اجازت دے دی- اور یوں ہماری کہانی میں ایک نیا کردار شامل ہو گیا ... بھوبت !!!
بھوبت کسی زمانے میں ایک بہادر سپاہی تھا- ھندوستان میں کانگریس ، انگریز کے کاسہ لیس جاگیرداروں اور نوابوں کے خلاف پہلی عوامی تحریک بن کر اُٹھی تو جاگیرداروں کو اپنا مستقبل ڈوبتا نظر آیا- انہوں نے کانگریس کے خلاف محاذ کھول دیا- انہیں بھوبت جیسے بہادر اور جرّی افراد کی اشد ضرورت تھی-
بھوبت کے دماغ میں یہ بات بٹھائ گئ کہ کانگریس بنیا لوگوں کی جماعت ہے جو گاندھی ٹوپی اور کھدر پہن کر جاگیرداروں کو شودر بنانا چاھتی ہے- اس سوچ نے بھوبت کے دل میں وہ چنگاری بھری کہ وہ اپنی سرکاری رائفل سونت کر کانگریس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا- بھوبت کا نشانہ بہت اچھا تھا اور رائفل اس کے لئے محض ایک کھلونا تھی-
بہت ہی جلد بھوبت ڈاکو کانگریسیوں کےلئے دھشت کی علامت بن گیا- وہ اکیلا کسی بھی جلسے میں گھس آتا اور اسے الٹا کر رکھ دیتا- ایک بار تو وہ رائفل اٹھائے سیدھا اسٹیج پر چڑھ گیا- اس وقت ایک کانگرسی لیڈر تقریر کر رہا تھا- ہر طرف سراسیمگی پھیل گئ- لیڈر سہم کر ایک طرف جا کھڑا ہوا اور بھوبت نے چندے کا بکسہ اٹھا کر عوام کے سامنے اٌلٹ دیا-
وہ کانگریس کو چندہ دینے والے سیٹھوں کے گھروں میں گھس کر انہیں لوٹتا پھر یہ پیسہ لوگوں میں تقسیم کر دیتا- اس کی بہادری کے قصّے دور دور تک پھیل گئے- گاؤں کے بڑے بوڑھے شام کو چوپال میں بیٹھ کر بھوبت کی کہانیاں سنایا کرتے تھے-
پولیس نے بارہا اس کا پیچھا کیا لیکن بھوبت ہر بار جل دے کر نکل جاتا- وہ جس گاؤں میں داخل ہو جاتا لوگ سہم کر دروازے بند کر لیتے- بھوبت کے ساتھی شراب کے رسیا تھے سو ایک ایک کر کے پولیس مقابلوں میں مارے گئے لیکن بھوبت شراب اور عورت سے ہمیشہ دور رہتا تھا- ایک طویل مدت تک کانگریس اور ھندوستانی پولیس کو ناکوں چنّے چبوانے کے بعد بالاخر وہ ایک پولیس مقابلے میں زندہ پکڑا گیا- لیکن اس وقت تک بٹوارا ہو چکا تھا-
بھوبت کو حیدرآباد جیل میں بند کر دیا گیا اور "معزّز ڈاکو" ہونے کی وجہ سے اے کلاس بھی دے دی گئ- ایک باورچی سائے کی طرح اس کے ساتھ ساتھ رہتا تھا-
آج وہ ہمارے پاس رونق جمائے بیٹھا تھا-
ہمیں جیل خانے میں فرصت ہی فرصت تھی- بھوبت ہمارے لئے ایک ناول کی حیثیت رکھتا تھا جسے ہم روز پڑھتے تھے- ہر روز وہ اپنی بہادری کا کوئ نیا قصّہ سناتا- کبھی کبھی عین قصّے کے بیچ سنتری سر پر آن کھڑا ہوتا ، لیکن بھوبت اُٹھنے کو تیار ہی نہ ہوتا- آخر ہم ہی منّت سماجت کرتے اور اگلی ملاقات کا وعدہ کر کے اسے رخصت کرتے- اتفاق سے وہ جب بھی ہمارے پاس آتا ہم نماز میں مشغول ہوتے- وہ پلنگ پر باادب بیٹھ جاتا اور بڑے غور اور عقیدت سے ہمیں دیکھتا رہتا- ہم نے نہ تو بھوبت کو کبھی تبلیغ کی اور نہ ہی مذھب پر ہماری گفتگو ہوئ-
ایک دن وہ اچانک کہ اٹھا "مولوی صاحب ہم کو بھی نماز سکھا دو ناں .... ہمارا بہت جی کرتا ہے !!! "
میں نے کہا " ٹھاکر !! یہ عقیدے کی بات ہے .... پہلے عقیدہ آتا ہے پھر نماز "
وہ سادگی سے بولا " وہ کیسے مولی ساب ؟؟"
پھر مولانا لال حسین اختر نے اسے آہستہ آہستہ اسلام کا تعارف کرانا شروع کیا- وہ جاھلوں کی طرح سوال کرتا اور عقلمندوں کی طرح غور سے ایک ایک بات سنتا- وہ اسلام کی طرف مائل ہونے لگا- داڑھی اس نے پہلے ہی رکھی ہوئ تھی-
میں نے کہا " ٹھاکر اسلام بہادر لوگوں کا مذھب ہے- بہادروں کے دل میں خود بخود اترتا ہے ... اور بزدلوں کے حلق سے کبھی نہیں اترتا "
ایک دن صبح ہی صبح بھوبت سے ملاقات ہوئ تو وہ اپنی داڑھی صاف کر چکا تھا-
میں نے کہا " ٹھاکر یہ کیا ظلم کیا ؟ داڑھی تو عزّت کی علامت ہوتی ہے ... !!! "
وہ افسردگی سے بولا " مولی ساب .... اب عجّت ہی کھترے میں ہے .... دشمن جب بے گیرتی پر اترتا ہے تو پہلے داڑھی کھلاس کرتا ہے ... پھر مُنڈی کاٹتا ہے"
" آخر ہوا کیا ہے ؟ کون ہے تمہارا دشمن ؟" میں نے حیرت سے پوچھا-
"پاکستانی سرکار مجھے بھارت کے حوالے کرنے کا کاریکرم بنا چکی ہے .... اور بھارت میں کانگریس کا راج ہے .... مجھے یہ پھیسلہ منجور ناہیں .... ہم آتما ہتیا کر لے گا لیکن سالی کانگریس کو آتما سبارپن کبھی نہیں کرے گا "
میں نے کہا " اس وہم کو دل سے نکال دو .... اللہ نے چاہا تو تمہیں کوئ ھندوستان نہیں بھیجے گا ... تم یہیں رہو گے ... اسی ملک میں .... ایک شریف شہری بن کر ..... انشاءاللہ !!! "
کچھ ہی روز بعد اس کی بیرک تبدیل کر دی گئ- لیکن جو دیپ اس کے من میں جل چکا تھا ، پھر کبھی نہ بجھ سکا- وہ پڑھا لکھا تو تھا ہی ، نئ بیرکس میں جا کر اسلام کا باقاعدہ مطالعہ بھی کرنے لگا- ہم نے بھی دُعا کی اور شاید اس نے بھی رب تعالی کو پکارا ہو ..... اللہ تعالی نے اس کےلئے آسانی پیدا فرما دی- حکومتِ ھندوستان نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور حکومتِ پاکستان نے اس کی رہائ کے احکامات جاری کر دئے-
ہماری بھوبت سے پھر کبھی ملاقات نہ ہوئ- البتہ سپریڈنٹ شیخ اللہ بخش کی زبانی معلوم ہوا کہ جیل خانے سے باہر جاتے ہی اس نے مولانا محمد یوسف کلکتوی کے ہاتھ پر باقاعدہ اسلام قبول کیا اور ایک شریف شہری بن کر کسبِ روزگار کرنے لگا-
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers