نصف شب ایک سرکاری گاڑی ہمیں حیدرآباد جیل چھوڑ آئ-
جیل کے مرکزی گیٹ پر ہمارا اندراج بطور طبیب کیا گیا- سپریڈنٹ اللہ بخش ہمارا منتظر تھا- وہ ہمیں مختلف راہداریوں سے گزارتا "ماڑی" پر لے گیا- یہ جگہ نسبتاً اونچی تھی اور یہاں سے پوری جیل کا نظارہ صاف دکھائ دیتا تھا-
ماڑی پر دو چھوٹے چھوٹے احاطے بنے ہوئے تھے- اللہ بخش نے ایک احاطے کی کنڈی کھٹکائ ، پھر آواز لگائ:
"فتح محمد سائیں .... بوہا کھول "
کچھ دیر بعد ایک سنتری نے دروازہ کھولا- سپریڈنٹ نے جانے اس کے کان میں کیا "خپ خپ " کی ، وہ ہمیں ساتھ لئے وسیع احاطے سے گزارتا ایک دوسرے صحن میں لے آیا- یہاں دو کوٹھڑیوں کے سامنے ایک خوبصورت باغیچہ تھا- چاندنی رات میں فضاء موتئے کی خوشبو سے مہک رہی تھی- باغیچے کی ایک جانب کچھ چارپائیاں اور کرسیاں لگی تھیں- یہ جگہ کسی غریب کسان کے ڈیرے سے مشابہ تھی-
چارپائیوں پر بیٹھے اب ہم ماسٹر تاج الدین انصاری کی داستانِ اسیری سن رہے تھے:
" جیل گاڑیوں نے ہمیں کراچی سے اٹھایا اور حیدر آباد جیل میں لا پھینکا .... میری صحت تین چار روز پہلے سے خراب تھی ..... کراچی سے حیدرآباد کے سفر نے اور زیادہ مضحمل کر دیا- جیل پہنچتے ہی ہمیں کوٹھڑیوں میں بند کر کے تالے ڈال دیے گئے ..... رات جاگتے سوتے کٹ گئ ..... صبح سویرے کوٹھڑیاں کھلیں تو حکم ملا کہ سکھر جانے والے آٹھ نظر بند اپنا اسباب باندھ لیں ..... باہر پولیس کی لاری انتظار کر رہی ہے ..... !!!
خیر جلدی جلدی اُٹّھے ، وضو کیا اور آخری بار ایک ساتھ نمازِ فجر ادا کی-
ہجرتوں کی حبس میں اب ہجر کی تپش بھی شامل ہو رہی تھی- ہمارا بہت پرانا دوستانہ تھا ..... 1934ء سے ہم ختمِ نبوّت کا علم اٹھائے ساتھ ساتھ چل رہے تھے ..... آج یہ ساتھ بھی چھوٹ رہا تھا- زندگی اور موت کا بھی کچھ اعتبار نہ تھا ..... حکومت سے کم از کم پھانسی کی امید ہی رکھّی جا سکتی تھی- ہم ایک دوسرے کی کیفیّت کن اکھیوں سے بھانپتے ہوئے بناوٹی مسکراہٹیں تلاش کرنے لگے ..... مگر دل بجھ جائے تو بناوٹیں کب تک ساتھ دیتی ہیں .... !!!
سیّد ابولحسنات ، سیّد مظفّر حسین شمسی اور صاحبزادہ سیّد فیض الحسن ہم سے بغل گیر ہوئے ..... ان احباب کو سکھّر جیل بھیجا جا رہا تھا ..... مظفّر شمسی اپنے آنسو ضبط نہ کر سکے ..... ہم تسلّی دینے کے سوا اور کر بھی کیا سکتے تھے- ہمارے بہادر سردار اور مدتوں کے رفیق سیّد عطاءاللہ شاہ بخاری بھی ایک ٹھنڈی سانس لے کر اُٹّھے ..... میرے قدم لڑکھڑا رہے تھے اور حوصلہ جواب دے چکا تھا ..... لیکن شاہ صاحب تو عزم و ہمّت کا پہاڑ تھے- میرے قریب آئے ، اور مسکرا کر کہا :
"اوہو !!! ضروری کام تو ہم بھول ہی گئے .... ٹھہرو ہم تمہارے لئے ایک آخری پان لگاتے ہیں !!! "
انتہائ خوبصورتی سے جزبات کے بپھرے ہوئے سمندر کا رخ موڑنا شاہ صاحب پر تمام ہے- وہ زیر لب کچھ بڑبڑاتے ہوئے ایک پوٹلی سے سامان نکال کر میرے لئے پان بنانے لگے ..... سیّد زادے سے آخری پان وصول کرتے ہی میں نے معانقہ کیا ، فی امان اللہ ... فی امان اللہ کی صدا بلند ہوئ اور ہمارا کارواں دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا-
سادات کا قافلہ ہم سے جدا ہو کر جیل گیٹ کی طرف چل دیا اور ہم حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہی رہ گئے-
اک آہ دل سے نکلی ، ٹپکا لہو جگر سے
شاید وہ جا رہے ہیں چھپ کر مری نظر سے
وہ جانتے تو ہوں گے مجبوریاں ہماری
ہم جن کو دیکھتے ہیں حسرت بھری نظر سے
اس ملک میں سادات کا روپ دھار کر جاہ و حشمت سمیٹنے والے تو بہت ہیں ..... آلِ رسول کی چھتری تان کر نذرانوں اور شیرینیوں پر جھپٹنے والوں کی بھی کمی نہیں ..... لیکن نانا کریم ختم المرسلین ﷺ کی ناموس کےلئے ..... رسمِ شبیری ادا کرنے والے سیّد بس گنے چنے ہی رہ گئے ہیں ..... !!!
تین روز بعد ہمارا نمبردار یہ خبر لایا کہ ہمارے لئے ایک خاص احاطے میں بندوبست ہو چکا ہے - شام کو وارڈن نے اطلاع دی کہ اسباب اٹھا لیجئے ، آپ کی کوٹھی تبدیل کی جا رہی ہے- ہم سامان اٹھا کر چل پڑے ..... وہ ہمیں مختلف راہداریوں سے گزارتا اس احاطے میں لے آیا جہاں دو کوٹھڑیاں ہماری منتظر تھیں- پچھواڑے میں ایک غسل خانہ اور لیٹرین کا انتظام بھی تھا- یہ جگہ کچھ بہتر تھی- قہردرویش برجاں درویش ، میں اور مولانا نیاز لدھیانوی ایک کوٹھڑی میں بند ہو گئے اور مولانا لال حسین اختر دوسری میں قبضہ جما کر بیٹھ گئے ..... !!!
عموماً سیاسی قیدیوں کو جیل میں اے کلاس مہیا کی جاتی ہے ..... کم از کم انگریز کے دور میں یہی رواج تھا- لیکن اسلامی ملک کی خاص مسلمان سرکار نے ہمیں سی کلاس میں رکھنے کا حکم صادر فرمایا تھا ..... البتہ یہاں سونے کے واسطے دریوں کی بجائے پلنگ مہیّا کئے گئے ، جنہیں تختِ شاھی سمجھ کر ہم لیٹ گئے ..... !!!
ہم تین نظربندوں پر سات پہرے دار متعیّن ہیں- ان کی نگرانی ایک جمعدار کرتا ہے ..... !!!
سی کلاس کے قیدیوں کا کھانا بھی کمال کا ہے ..... چاول کی سخت روٹی کہ کسی کے سر میں مارو تو کھوپڑی پھٹ جائے ، ساتھ پانی میں تیرتی ہوئ دال کہ جسے پی کر نہ پیاس بجھتی ہے نہ بھوک مٹتی ہے ..... میری صحت تیزی سے گرنا شروع ہو گئ- اور ساتھ ساتھ دانتوں میں تکلیف بھی شروع ہو گئ ..... کبھی کبھار ایک میسنا قسم کا ڈاکٹر آتا اور ہماری نبض چیک کر کے چلا جاتا- کمزوری زیادہ غالب ہوئ تو ڈاکٹر نے کمال فیاضی سے ایک پیالی دودھ لگوا دیا ..... میں چائے اور پان کا رسیا تھا ..... یہاں آکر طبیعت درست ہو گئ ..... ان صعوبتوں کے باوجود ڈان اخبار یہاں بلاناغہ مہیا کیا جاتا تھا ..... !!!
قید تو ہم نے برطانوی دور میں بھی بارہا کاٹی تھی ..... مگر اس دور میں اتنی سنگ دلّی نہ تھی ..... وہ لوگ قانون کے مطابق پکڑتے ، ضابطے کے مطابق سزا دیتے اور شریفوں کا سا برتاؤ کرتے تھے- کافر حکمرانوں اور آج کے مسلمان حکمرانوں میں کیا فرق ہے ہمیں یہاں آ کر معلوم ہوا- یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے صرف چھ سال پہلے لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگا کر ایک اسلامی مملکت کی بنیاد رکھی تھی ..... آج اسی مملکت میں ختم نبوّت کا نعرہ لگانے سے بڑا کوئ جرم نہ تھا- ہم پر اللہ کا خاص کرم رہا کہ اس بدسلوکی کے باوجود طبیعت میں کوئ محتاجگی نہ آئ ..... اس قیدو بند نے ہمارے ارادوں میں اور زیادہ پختگی پیدا کر دی ..... !!"
ایک روز صبح سویرے جب ہمارے پہرے دار بدل رہے تھے تو احاطے سے کچھ اجنبی آوازیں سنائ دیں ..... میں کوٹھڑی سے باہر نکلا تو ایک باریش نوجوان قیدی کو دیکھا جس کے ساتھ دو سپاہی تھے ..... شاید وہ اسے غسل و حاجت کےلئے ہمارے واش روم میں لائے تھے ..... مجھے یہ نوجوان کچھ جانا پہچانا سا لگا لیکن حافظے پر زور دینے کے باوجود نام یاد نہ آ سکا .... !!!
جب وہ غسل سے فارغ ہو کر واپس جانے لگا تو میں نے سپاہیوں سے پوچھا " یہ بندہ کون ہے ؟"
"ملا سائیں آپ اس مانڑوں کو نہیں جانتے ؟ بہت وڈّا دھاڑیل ہے سائیں .... !!! "
" اوہ .... تو یہ ہے بھوبت ڈاکو .... واہ ....!!! " میں نے بے ساختہ کہا-
مجھے یاد آگیا کہ کچھ روز پہلے ڈان اخبار میں اس کی تصویر اور گرفتاری کی خبر چھپی تھی- بھوبت نے مُڑ کر میری طرف دیکھا تو میں نے مسکرا کر کہا:
" کیسے ہو ٹھاکر ؟ یہیں آجاؤ ناں ہمارے ساتھ !!! "
اس کے چہرے پر ایک تلخ سی مسکراہٹ ابھری اور وہ خاموشی سے سرہلاتے ہوئے چلا گیا-
حیدر آباد سینٹر جیل ان دنوں خطرناک لوگوں کا سینٹر تھا- بھوبت کو جیل کے درمیانی حصّے میں نہایت سخت پہرے میں رکھا گیا تھا- اس کے علاوہ راولپنڈی سازش کیس کے مجرم بھی یہیں رکھے گئے تھے-
پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ابھرے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا- راولپنڈی کے ایک گھر میں دو میجر جنرل ، دو بریگیڈیئر ، ایک ائیرکموڈور ، کئ کرنل اور کچھ صحافی اکٹّھے ہوئے ..... گرما گرم بحث ، دلائل اور جوابی دلائل سگریٹوں کے دھویں اور چائے کی بھاپ میں مدغم ہونے لگے ..... یہ حضرات وزیراعظم لیاقت علی خان کی امریکہ نواز پالیسی سے برانگیختہ تھے اور روس کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے ..... آٹھ گھنٹوں پر محیط اس نشست میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کا تختہ الٹ کر ملک میں روس نواز سوشلسٹ حکومت قائم کرنے پر غور کیا گیا ..... حکمِ ربّی کہ اس سازش کی بھنک حکومت کے کان میں پڑ گئ اور یوں اس طائفے کو بروقت دھر لیا گیا ..... ان میں جنرل اکبر اور کچھ دیگر آرمی آفیسرز کے علاوہ روزنامہ امروز کے ایڈیٹر اور مشہور شاعر فیض احمد فیض بھی شامل تھے ..... !!!!
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers