کیا آپ جانتے ہیں کہ جمعہ کے روز مقبوضہ جموں کشمیر میں احتجاج کے دوران پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کے پرچم بھی لہرائے گئے ؟۔ اس کی وجہ میں آگے چل کر بتاتا ہوں۔ سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ انڈیا کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھ رہے ہیں۔ انڈیا بلوچستان میں آگ بھڑکانے کی کوششوں میں کیوں مصروف ہے۔ گوادر میں آخر ایسا کیا ہے کہ انڈیا اربوں روپے خرچ کرکے بلوچستان میں سے دو چار غداروں کو کیوں خرید رہا ہے ۔ اپنے حاضر سروس فوجی افسروں کو، را کے ذریعے( کلبھوشن یادو) بھیج رہا ہے کہ وہ بلوچستان میں کام دکھائیں۔ میں بتاتا ہوں کہ گوادر کیا ہے ۔ سب سے پہلی بات آپ اس بات پر یقین رکھئیے کہ میں آپ کے سامنے صرف سچ پیش کرتا ہوں۔ پرانے سبھی دوست جانتے ہیں کہ میں کسی خوش فہمی میں نہ تو خود مبتلا ہوتا ہوں اور نہی آپ کو جھوٹی کہانیاں سنا کر خوش فہمیوں میں ڈالتا ہوں۔ میرے فیکٹ اور فگرز جو بھی دوست چیک کرنا چاہے کر سکتا ہے انشااللہ ایک بھی بات فرضی یا من گھڑت نہیں ہوگی۔
ایک بدنصیب اور لاعلم قوم پر قدرت کی نوازشیں ؛
کسی بھی بندرگاہ کو دو خوبیوں کی بنیاد پر پرکھا جاتاہے۔نمبر ایک اس کے ساحل کی گہرائی کتنی ہے ۔ نمبر دو اس بندرگاہ پر بیک وقت کتنے جہا ز ساحل پر لگائے جا سکتے ہیں،۔
سب سے پہلے گہرائی ۔ گہرائی جتنی زیادہ ہوگی اتنے ہی بڑے شپ ، یعنی سمندری جہاز اس بندرگاہ پر آ سکیں گے۔اگر ساحل کی گہرائی کم ہو گی تو جہاز کو ساحل سے دور سمندر کے بیچ میں کھڑا کرکے اس سے سامان یا تیل وغیرہ کشتیوں میں لاد کر ساحل پر لایا جاتا ہے جس پر بے انتہاء خرچہ بھی آتا ہے اور وقت بھی بہت سا برباد ہوتا ہے جہاز کا کرایہ وقت کے لحاظ سے ادا کیا جاتا ہے ۔ ھم یہاں اس خطے کی دوسری بڑی بندرگاہوں کا گوادر بندرگاہ سے مقابلہ کرکے دیکھتے ہیں۔ ایران کی بندرگاہ بندر عباس کی گہرائی 9 میٹر ہے ۔ دمام بندرگاہ کی گہرائی بھی 9 میٹر ہے ۔ دوحہ قطر کی بندرگاہ کی گہرائی 11 میٹر ہے ۔ عمان سلالہ بندرگاہ کی گہرائی 10 میٹر ہے۔ انڈیا جس چاہ بہار کے مقام پر بیس ارب ڈالر خرچ کرکے ایران میں بندرگاہ بنا رہا ہے اور جس کے لئے انڈین حکومت اور عوام خوشی سے اچھل اچھل کر پاگل ہو رھے ہیں اس کی گہرائی 11 میٹر ہے ۔ جبل علی کی گہرائی 10 میٹر ہے ۔ اور گوادر کی بندرگاہ کی۔۔۔۔ آپ خوشی سے اچھل پڑیں گے کہ اس خطے میں سب سے زیادہ گہرائی والی بندرگاہ گوادر ہے جس کی گہرائی 18 میٹر ہے ۔ جی ہاں 18 میٹر ۔۔۔
اگلا نمبر آتا ہے بندرگاہ پر زیادہ سے زیادہ جہازوں کی تعداد ۔ جبل علی میں 67جہاز ۔بندرعباس 24 جہاز۔ دمام 39 جہاز۔ دوحہ 30 جہاز ۔ عمان سلالہ 19 جہاز۔ چاہ بہا ر10 جہاز ۔ اور گوادر 120 بحری جہاز ایک وقت میں لنگرانداز ہوسکتے ہیں۔ یہاں بھی اللہ نے آپ پر اپنی فیاضی کی انتہاء کر دی ہے ۔
ہندو کا ایمان ہوتا ہے کہ " چمڑی جائے دمڑی نہ جائے"۔ پاکستان جیسے چھوٹے ( رقبے اور آبادی کے لحاظ سے) ملک پر اللہ کی ان عنایات ھندو کو ایک آنکھ نہیں بھاتی ۔ سی پیک منصوبے میں انڈیا جب دیکھتا ہے کہ پاکستان میں بے شمار نئے منصوبے ایئرپورٹس ، ریلوے اسٹیشن سڑکوں کا جال اور بجلی کی پیداواری پروجیکٹ چین کی وجہ سے بننے جا رہے ہیں تو اس کی راتوں کی نیند برباد ہوکر رہ گئی ہے ۔ دوسری طرف پاک چین کے اس طرح باھم شیروشکر ہونے ان دونوں ممالک کا دفاع ناقابل تسخیر ہونے جا رہا ہے خود انڈیا کو اپنی سلامتی خطرے میں نظر آ رہی ہے تو اس کی چیخیں نکل رہی ہیں ۔ انڈیا کو اب نہ تو کشمیر کی پرواہ رہ گئی ہے نہ ہی کسی اور داخلی خارجی مسلے کی ، وہ ہر صورت میں یہ منصوبہ ناکام کرنے کے پیچھے پڑ گیا ہے ۔ آپ دیکھ رھے ھونگے ایک طرف تو مودی پوری دنیا میں بھاگا پھر رہا ہے ھے اسے بیرون ملک کے دورے پر دورے پڑ رھے ہیں تاکہ دنیا کو اپنے ساتھ ملا کر کسی طرح اس منصوبے کو رکوایا جا سکے ، دوسری طرف وہ امریکہ کا کتا بننے پر بھی تیار ہوگیا ھے تاکہ امریکہ کا سہارا لے کر پاکستان کو کسی طرح دہشت گرد ملک قرار دے کر بالکل اسی طرح دنیا کو پاکستان پر چڑھائی کے لئے مجبور کر دے جس طرح نیٹو افواج نے عراق شام لیبیا افغانستان پر چڑھائی کر دی تھی ۔ مگر کہا رام رام اور کہاں ٹیں ٹیں ۔ امریکہ تو ٹشو کی طرح ہر کسی کو استعمال کرنے کا عادی ہے صرف اپنے مفادات کے لئے غنڈے پالتا ہے کسی اور کا غنڈہ بننا کبھی قبول نہیں کر سکتا۔
انڈیا اس منصوبے کو ہر صورت میں ناکام کرنا چاہتا ہے ۔آپ یوٹیوب پر جا کر صرف اتنا لکھیں " انڈیا آن سی پیک پروجیکٹ" آپ کے سامنے ہزاروں ایسی ویڈیوز آ جائیں گی جن میں سب یہی باتیں ہونگی جو میں نے آپ کو بیان کی ہیں۔ ریٹارڈ انڈین جرنیل ، تجزیہ کار ، سیاستدان اور صحافی اس منصوبے کو انڈیا کی تباہی قرار دے رہے ہونگے ۔ انڈیا اس منصوبے کو رکوانے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے لیکن فوج کشی کے ذریعے اس منصوبے کو روکنے کا پنگا نہیں لے سکتا کیونکہ یہ منصوبہ چین کے لئے بھی زندگی موت کا مسلہ بن چکا ہے چین اور پاکستان ۔۔۔ انڈیا کو مچھر کی طرح مسل کر رکھ دیں گے ۔
انڈیا جنگ نہیں لڑ سکتا لیکن اس منصوبے کو ناکام کرنے کے لئے ہر حربہ ہر سازش کا سہارا لے رہا ہے ۔اس کے لئے وہ پاکستان میں بہت سے لوگوں کو اربوں ڈالرز سے خرید چکا ہے جن میں میڈیا صحافی دہشت گرد تنظیموں اور کچھ تانگہ قسم کی پارٹیوں کے لیڈر اور کچھ مفاد پرست علاقائی اور صوبائی تنظیموں کے ڈان قسم کے ایجنٹ ۔ ایک ایجنٹ تو پچھلے دنوں پاکستان کے خلاف نعرے لگا کر ٹھس ہوچکا ہے باقی بھی انشااللہ ناکام ہونگے ۔ انڈیا جو سازشیں کر رہا ہے ان کی تھوڑی سی تفصیل آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جسے جان کر آپ کا خون کھول اٹھے گا اور آپ کا دل کرے گا کہ آبھی کے ابھی انڈیا کی گردن مروڑ دی جائے ۔
سب سے پہلے بلوچستان ۔ سی پیک کا سب سے اہم کردار بلوچستان ہے کیونکہ گوادر بندرگاہ بلوچستان صوبے میں واقع ہے ۔ یک دم ہی مودی کو ۔۔۔۔۔ تار آ گئی ہے کہ بلوچستان کے لوگ بہت پریشان ہیں اور مودی کو فون کرکرکے ان کو آزاد کرنے کے لئے اس سے مدد کی بھیک مانگ رھے ہیں۔ اسے بلوچستان سے ہمدردی پیدا ہو گئی ہے مودی کہتا ہے کہ بلوچستان پاکستان حصہ ہی نہیں۔ اس لئے اس کو پاکستان سے الگ کر دینا چاہئیے ۔ بلوچستان کے ایک بھگوڑے کو اپنے پاس شہریت دے کر اسے شاہانہ زندگی دی گئی ہے تاکہ وہ بلوچستان کا نمائندہ بن کر بنگلہ دیش کی طرح انڈیا کو پاکستان میں مداخلت کی دعوت دے سکے ۔ وہ شخص جسے اس نے اپنے پاس پناہ دے رکھی ہے ایک چلا ہوا کارتوس ہے جس سے بلوچ عوام بے انتہاء نفرت کرتے ہیں اور اسے غدار قرار دے کر خود سے خارج کر چکے ہیں۔ پندرہ اگست دو ہزار سولہ کو مودی نے جب بلوچستان کا ذکر کیا تو بلوچستان کے عوام نے پورے بلوچستان میں مودی کے پٌتلے جلائے مظاھرے کئے اور مودی کو کتا بنا کر رکھ دیا۔ اس احتجاج کو دیکھ کر مودی کی بے بے ہی مر گئی ۔ اسی طرح اس نے ایک عورت کو باچا خان کی رشتہ دار قرار دے کر کہا کہ وہ عورت اس کے پاس کے پی کے کی آزادی کے لئے آئی ہے ۔ اس کے جواب میں باچا خان فیملی نے اس عورت سے کسی بھی قسم کے رشتے کی سختی سے تردید کر دی ہے ۔
اب ایک اور بات جسے پڑھ کر آپ کا دماغ گرم ہوجائے گا۔ اچانک سے ہی مودی کو یاد آ گیا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر تو انڈیا کا حصہ ہے ۔ یاد رہے کہ یہ علاقہ بھی گوادر کی طرح اس منصوبے کا اھم حصہ ہے کیونکہ یہی سے یہ راہداری چین میں داخل ہوتی ھے ۔ مودی کہتا ہے کہ یہ علاقہ کیونکہ انڈیا کا ہے اس لئے چین اور پاکستان کو یہاں سے راہداری انڈیا کی اجازت کے بغیر نہیں بنانی چاھئیے ۔ انڈین میڈیا چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ انڈیا کو اس علاقے میں فوج کشی کرکے اپنے قبضے میں لے لینا چاہئیے جبکہ مودی اور انڈین فوج کو اچھی طرح پتہ ھے کہ انڈیا نے اس طرف منہ بھی کیا تو چین اور پاکستان اس کو نانی یاد دلا دیں گے ۔ یہاں بھی وہ کچھ لوگوں کو خرید نے کے چکر میں ھے جن سے پاکستان کے خلاف نعرہ لگوایا جا سکے ۔
یہ پوسٹ بھی لمبی ہو گئی ہے اس کا اگلا حصہ مختصر ہے انشااللہ آج ہی آپ کی خدمت میں پیش کر دونگا۔
آپ کا مجنوں۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers