امریکہ، جسے سپرپاور سمجها جاتا ہے اپنی آزادی کے وقت سے اب تک دنیا کے ہر خطے اور ملک پر اپنا حق سمجهتا ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کےنام پر کسی بهی ملک پر حمله کرکے تباہی و بربادی کادروازه کهول دینا اپنا حق سمجهتا هے.
ایسا ہی کچھ "کیوبا" میں ہوا، 1959 کیوبا میں امریکہ نواز جمهوری حکومت قائم تهی لیکن 1959 میں کیوبن انقلابی "فیڈل کاسٹرو" نے کیوبن حکومت کا تخته پلٹ دیا اور خود اقتدار پر قبضہ کرلیا، کاسٹرو امریکہ کا سخت مخالف تها اور اس نے امریکی کارپوریشنوں اور کمپنیوں پر قبضہ کرلیا اور بہت سے امریکیوں کو کیوبا سے ملک بدر کردیا. یه صورتحال امریکہ کے لیے انتهائی شرمناک تهی. امریکی صدر آئزن ہاور نے فیدل کاسٹرو کی نئی حکومت کو گرانے کا فیصلہ کیا اور یه کام سی-آئی-اے کے سپرد کیا.
سی-آئی-اے نے فید کاسٹرو کے مخالفین کو گوئٹے مالا میں اکٹها کیا اور انهیں کیوبا پر حمله کرنے کے لیے عسکری تربیت دی جانے لگی، جلدہی جدید اسلحے سے لیس ایک کاسٹرو مخالف فوج تیار کرلی گئی جسے 2506 سالٹ بریگیڈ کا نام دیا گیا.اس بریگیڈ نے کشتیوں کے ذریعے "خلیج پگز" پر حملہ کرکے کاسٹرو کی حکومت کو گراناتها.

15 اپریل 1961 کو امریکہ نے "نکارگوا" سے کیوبا پر فضائی حملوں کا آغاز کیا جس کا مقصد کیوبا کی فضائیہ کو اصل حملے سے پہلے هی تباه کردیا جائے تاکه وه سمندرکے راستے زمینی حملے کو نا روک سکے. انهوں نے "ہوانا" اور "گوانتانامو" کے کیوبن ائیر بیسز پر بمباری کی. اس کارروائی میں 8 امریکی بمبار طیاروں نے حصہ لیا جن میں سے دو کو کیوبن فوج نے مارگرایا.
16 اپریل 1961 کو اصل حملے سے ایک دن پہلے امریکیوں نے ہوانا سے کچھ فاصلے پر واقع ایک ساحل پرایک مصنوعی حملہ کیا تاکه کیوبن فوج کی توجہ اس طرف مبذول کرکے "خلیج پگز" پر جارہانہ حملہ کیاجاسکے. اس حملے میں رات کی تاریکی میں چند امریکی فوجی بوٹس نےکیوبا کے ساحل کے قریب لاوڈ سپیکرز پر فائرنگ کی آواز سے حملے کا تاثر پیدا کیا.
17 اپریل 1961 کو خلیج پگز پر اصل حملے کا آغاز کردیا گیا،
لیکن.........امریکہ نہیں جانتا تها کہ کیوباکی انٹیلی جنس کو اس حملے کی اطلاعات پہلے ہی مل چکی تهیں.
امریکہ نواز جنگجوؤں کو امریکی فوجی بوٹس کے ذریعے خلیج پگز کے ساحل پر اتارا گیا اور چند گهنٹوں بعد امریکی طیاروں کے ایک سکواڈ نے ان کی سپورٹ میں کیوبن فوج پر بمباری کرنی تهی.
حملے کا آغاز جارہانہ انداز میں ہوا، لیکن پہلے سے چوکس کیوبنز نے امریکہ نوازجنگجووں کو آڑہے ہاتھوں لیا اور جنگ کے آغاز سے ہی جنگجووں کو بھاری نقصان ہونے لگا، کاسٹرو کی فوج چن چن کر امریکہ نوازوں کو نشانہ بنارهی تهی. اور وه کسی مورچے پر بهی ڈٹ کر لڑ نهیں پارہے تهے.
یہاں پر امریکیوں سے ایک اور بهیانک غلطی سرزد ہوگئی، جن امریکی پائلٹوں نے حملہ آوروں کی سپورٹ میں کیوبن فوج کو نشانہ بنانا تها وه اپنے گهڑیوں کو کیوبا کے وقت کے مطابق کرنا بهول گئے اور پورے ایک گهنٹے کی تاخیر سے پہنچے جب کیوبنز نے 800 سے زیاده حمله آوروں کو ٹهکانے لگادیا تها اور کئی کو گرفتار کرلیا تها.
دو دن تک گهسمان کی لڑائی لڑی گئی اور دودن کے بعد معرکے کے اختتام پر طرفین کے نقصانات کے اعداد و شمار مندرجہ ذیل تهے...
امریکہ اور اسالٹ بریگیڈ:
1000 کے قریب امریکه نواز باغی ہلاک(کاسٹرو کی ملیشیا کا دعوی)
360 زخمی
1202 گرفتار.
2 بی-26 بمبار طیارے تباه.
جبکه کیوبا کا نقصان:
176 فوجی اہلکار جاں بحق.
500 کے قریب زخمی.
اسطرح "خلیج پگز" کے معرکے کا خوشگوار اختتام ہوا.
معرکے کے کچھ ہی عرصے بعد کاسٹرو نے امریکی حکومت سے گرفتار شده باغیوں کرلی رہائی کی ڈیل کی جس کے عوض امریکہ نے کاسٹرو حکومت کو 58 ملین ڈالرز کی ادائیگی کی.

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers