اس کہانی کا تعلق ھمارے آپ کے بچوں اور ملک پاکستان کے مستقبل بلکہ پوری دنیا کے مستقبل سے ہے ۔اصل کہانی یہی ہے لیکن اس کو چھپانے کے لئے آپ کے اردگرد ہزاروں کہانیاں چھیڑ دی گئی ہیں تاکہ آپ کو معلوم نہ ھوسکے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے ۔ یہ جو آپ کو طالبان ، پاکستان کے خلاف نعرے بازی ، پاکستانی اداروں کے خلاف پارلیمنٹ میں تقریریں یا بلوچستان کی شورش وغیرہ وغیرہ جیسی کہانیاں ، سب کچھ صرف ایک کہانی کی اولاد ہیں۔ یہ کہانی چائنہ اور پاکستان کی دوستی سے شروع ہوتی ہے اور ختم بھی اسی دوستی کے ساتھ انڈیا کی دشمنی پر ہوتی ہے۔ اس ساری داستان کو سمجھنے کے لئے ایک نقشہ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں اس نقشے کو سمجھنا اور اسے یاد رکھنا بہت ضروری ہے ۔ میں نے اس پر اپنے ہاتھ سے کچھ لکیریں کھینچی ہیں کوشش کرونگا کہ آسان الفاظ میں سب کچھ آپ کو بتا سکوں۔
سب سے پہلے اس نقشے پر دو ملکوں کو دیکھئیے جن کو گلابی رنگ سے دوسری دنیا سے الگ کیا ہوا ہے۔ یہ دو ملک ، دو بھائی ، دو عظیم ہمسائے پاکستان اور چین ہیں۔سب سے پہلے ہمیں چین کی جغرافیائی صورتحال سمجھنا ہوگی ۔ .میں نے چین کے نقشے پر ایک سرخ رنگ کی لکیر اے اور بی کھینچ کر اسے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ اس لکیر کے ایک طرف چین کا مشرقی حصہ ہے دوسری طرف مغربی حصہ ہے ۔ مشرقی حصہ جو کہ چین کے کل رقبے کا تقریبا" چالیس فیصد ہے اس میں چین کی 94 فیصد آبادی رہتی ہے ۔دوسرا مغربی حصہ جس کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں یہ ساٹھ فیصد ہے یعنی مشرقی حصے سے بڑا علاقہ ہے اس کی ساری آبادی صرف 6 فیصد ہے جب کہ باقی سارے کا سارا غیر آباد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرقی حصے کے ساتھ سمندر ہے اسی مشرقی حصے میں چین کی بندرگاہیں ہیں جن کی وجہ سے چین دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ اسی سمندری راستے سے چین کا تجارتی سامان دنیا بھر میں جاتا ہے جس پر چین کی ساری معیشت کا دارومدار ہے اور اسی مشرقی راستے سے چین کے جہاز تیل پیدا کرنے والے ملکوں سے تیل لے کر آتے ہیں۔ اسی لئے چین کی تمام تر آبادی اسی مشرقی حصے میں رہتی ہے یہ مشرقی حصہ اسی وجہ سے خوشحال اور ترقی یافتہ ہے اور چینی عوام کے ساروکاروبار اور صنعت اسی حصے میں ہے ۔
اسی نقشے پر آگے بڑھتے ہیں ۔ میں نے ایک سبز رنگ کی ایک بہت لمبی سی لکیر بھی بنائی ہوئی ہے یہ لکیر اوپیک ممالک(آرگنائزیشن آف پیٹرولیم ایکسپورٹ کنٹریز) سے شروع ہوتی ہے۔اوپیک ممالک میں دنیا کے سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ملک شامل ہیں۔یہ ملک ایران عراق اور سعودی عرب ہیں۔ یہ سبز لکیر ان ملکوں سے تیل لے کر جانے والے جہازوں کا سمندری روٹ ہے ۔ دنیا کا ایک بٹا تین تیل اسی راستے سے جاتا ہے ۔ اس راستے کا پہلا ملک پاکستان ہے ۔ یعنی پاکستان کا تیل کے ممالک سے سب سے کم فاصلہ ہے۔ اس کے بعد انڈیا کو بھی آگے جا کر اسی راستے سے تیل ملتا ہے ۔ پاکستان میں گوادر کے راستے تیل کی سپلائی ملتی ہے ۔ چین تک تیل کی سپلائی کا یہ انتہائی لمبا راستہ ہے۔جیسا کہ آپ کو نقشے میں نظر آ رہا ہے یہ سبز رنگ کی لمبی سی لکیر سمندر کا ایک انتہائی طویل راستہ طے کرکے چین تک پہنچتی ہے ۔ چین کو تیل کی سپلائی لمبا راستہ ہونے کی وجہ سے انتہائی مہنگی پڑتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس راستے میں چین کے لئے بہت سی مشکلات بھی آتی ہیں ۔ پہلی مشکل تو یہ کہ انڈیا سے جنگ کی صورت میں انڈیا چین کی تیل کی اور تجارت کی سپلائی لائن کو بڑی آسانی سے کاٹ کر چین کو مفلوج کر سکتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ کہ چین کے جہازوں کی آمدورفت کا راستہ انڈیا کے قریب سے گذرتا ہے ۔
تیسری وجہ یہ راستہ چین کے لئے مستقبل میں کئیوجوہات کی بنا پر بہت سی مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے ۔ اس راستے میں جو کہ تقریبا" اٹھارہ ہزار جزائر پر مشتمل ہے اس پر بہت سے ممالک اپنی نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔ یہ جزائر معدنی لحاظ سے سونے کی چڑیا ہیں۔ ملائشیا،برونائی ، فلپائن اور ویتنام اس میں سے اپنے اپنے حصے کے دعویدار ہیں۔اس سمندر کو جو کہ ساؤتھ چائنہ سی کہلاتا ہے اسے چین اپنا سمجھتا ہے ۔دوسری طرف امریکہ ، چین کے دشمنوں ویتنام ، جاپان اور انڈیا وغیرہ سے روابط بڑھا رہا ہے تاکہ ان کے ذریعے چین کا راستہ بند کرکے اس کی ناک میں دم کیا جا سکے ۔ یہ راستہ جس پر چین کی معیشت کا سارا دارومدار ہے چین کے لئے خطرناک ہوچکا ہے ۔
اس موقع پر پاکستان چین کے لئے اللہ کی سب سے بڑی نعمت سے کم نہیں ہے۔ اگر چین کو ایک ایسا راستہ مل جائے جو اس کے مغربی ساٹھ فیصد علاقے کو سمندر سے ملا دے تو چین کی یہ تینوں بڑی مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔ نمبر ایک چین کا ساٹھ فیصد حصہ جو غیراباد پڑا ہوا ہے اسے چین آباد کر سکتا ہے ۔ اسی چھوٹے سے راستے اپنا تجارتی سامان پوری دنیا میں انتہائی آسانی سے اور انتہائی کم خرچے سے بیچ سکتا ہے ۔ اپنی تیل کے سپلائی کے راستے کو ھزار گنا چھوٹا کرکے بہت تھوڑے سے خرچے سے تیل حاصل کر سکتا ہے دوسرا جہازوں کے آنے جانے والے طویل سمندری راستے کے تمام خطرات کا مکمل خاتمہ ھو سکتا ھے ۔
چین نے پاکستان سے اس سلسلے میں بات کی ۔ گوادر بندرگاہ اس مقصد کے لئے انتہائی سوٹ ایبل اور بہترین تھی۔ دونون بھائیون پاکستان اور چین نے طے کیا کہ گوادر سے لے کر چین کے شہر کاشگار تک تین ہزار کلومیٹر لمبا ایک بہترین راستہ بنایا جائے ۔ چین اپنی مصنوعات اس راستے سے گوادر کی بندرگاہ تک پہنچایا کرے گا جہاں سے یہ تجارتی سامان جہازوں میں لاد کر مڈل ایسٹ اور باقی دنیا میں بھیجا جایا کرے گا، اسی راستے سے اوپیک ممالک سے خریدا گیا تیل بہت ہی کم خرچ میں اور تھوڑے وقت میں چین تک پہنچایا جائے گا۔
یہ راستہ جسے سی پیک یا چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کہا جاتا ہے اس سے پاکستان کو کیا حاصل ہوتا ھے؟۔یہ صرف گذرنے کا ایک راستہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی انتہائی ترقی اور کامیابی کا عظیم راستہ ہے ۔ اس راستے کے بننے سے پاکستان کا شمار دنیا کے امیرترین ممالک میں ہونے لگ جائے گا۔یہ منصوبہ کیونکہ انتہائی اہم ہے چنانچہ اسے پاک فوج کے حوالے کر دیا گیا۔ 1947 میں برصغیر کے مسلمانوں نے الگ وطن حاصل کیا لیکن آج پاک فوج اس منصوبے کے ذریعے پاکستان کو دنیا کے ممالک میں اہم ترین مقام دینے میں دن رات مصروف ہے ۔ اس راہداری کے بننے کے بعد اولیاء اللہ کی وہ تمام پشین گوئیاں سچ ثابت ہو جائیں گی جن میں بتایا گیا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب پاکستان کی ہاں میں ہاں ملانے سے دنیا کے فیصلے ہوا کریں گے اور پاکستان کا مقام دنیا میں وہ ہو جائے گا جہاں دنیا بھر کے لوگ روزگار کے لئے ویزے حاصل کرنے کے لئے ترسا کریں گے۔ یہاں پاکستانیوں کے لئے روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوجائیں گے۔دوسرا فائدہ یہ سڑک جو کہ پاکستان کے ہر صوبے میں سے گذرے گی یہ پاکستان کو ایک مضبوط زنجیر میں ایسا باندھ دے گی کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا خواب دیکھنے والوں کے خواب ھمیشہ کے لئے مردہ ہو جائیں گے۔ چین اور پاکستان کے اس طرح مل جانے سے پاکستان کا دفاع اتنا مضبوط ہوجائے گا کہ دنیا کی کوئی طاقت ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکے گی۔ چین گوادر پورٹ پر ایک ایسا دفاعی نظام بنا سکتا ہے جس کے بعد انڈیا کی بغیر ایک بھی گولی چلائے موت واقع ہوجائے گی کیونکہ آپ نقشے میں دیکھ سکتے ہیں کہ گوادر وہ راستہ ھے جہاں سے ہوکر انڈیا کے بحری جہاز سامان تجارت لے کر آتے جاتے ہیں اسی راستے انڈیا کا تیل آتا جاتا ہے گوادر پر چین کا پہرہ لگ جانے کے بعد چین اور پاکستان جب چاہیں انڈیا کا دنیا سے بحری راستہ بند کر سکتے ہیں۔ اگر انڈیا ہمارا پانی بند کر سکتا ہے تو ہم بھی چین کے ساتھ مل کر اس کی معاشی شہ رگ کاٹ سکتے ہیں۔ گوادر سے ایک سرخ رنگ کی لکیر چلتی ہوئی بلوچستان ، سندھ ، پنجاب ،کے پی کے ، فاٹا ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے گزرتی ہوئی چین میں داخل ہو جاتی ہے اور چین کے شہر کاشگار تک پہنچ جاتی ہے یہی پاک چین راہداری کا راستہ ہے ۔
انڈیا کیا چاہتا ہے ؟ یہ ساری صورتحال انڈیا کے لئے موت سے کم نہیں ہے ۔ اس راہداری کے ذریعے انڈیا کا چین گھیراؤ کر لے گا ۔ انڈیا چین کا راستہ بند کرنے کے خواب دیکھتا ہے لیکن اس منصوبے کے بعد چین کا راستہ تو ہمیشہ کے لئے بن جاتا ہے مگر انڈیا کا اپنا ہی راستہ بند ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے اس طرح انڈیا کی معاشی شہ رگ چین اور پاکستان کی مٹھی میں آ جائے گی۔ دوسرا اس منصوبے کے بعد پاکستان کی غربت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوجاتا ہے جبکہ انڈیا پاکستان کو ھمیشہ مقروض اور بھوکا ننگا ملک دیکھنے کا خواھشمند ہے۔ اس کی خواھش پر پانی پھر جاتا ہے ۔ تیسرا پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہوجانے کے بعد انڈیا کا پاکستان کو نقصان پہنچانے یا ڈراوے دینے کے ڈرامے ہمیشہ کے لئے دم توڑ جائیں گے۔ چوتھا پاکستان اور چین کے ایک ہو جانے کے بعد خود انڈیا کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ چنانچہ اس منصوبے کو ناکام کرنا انڈیا کے لئے زندگی موت کا مسلہ بن گیا ہے ۔
تحریر لمبی ہو گئی ہے میری اس کہانی کا آخری اور اہم حصے اگلی پوسٹ میں ۔ اگلی پوسٹ میں آپ کو بتاؤں گا کہ پاکستان میں یہ سب کیا ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے کون کروا رہا ہے کیسے کروا رہا ہے اور اس سے نمٹنے کا کیا علاج ہے ۔۔
آپ کا مجنوں
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers