سوچ بچار کے بعد میں نےفیصلہ کیا ہے کہ آئی ٹی سے وابستہ وہ کریئر جو کم وقت اور کم سرمایہ سے شروع ہوں، ان کی معلومات اکٹھی کر کے پیش کی جائیں۔ اس سلسلے میں پہلے مضمون کے لیے میں نے ویب سائٹ کے موضوع کا انتخاب کیا ہے۔ میرے خیال میں یہ مضمون ایسے تمام دوستوں کے لیے مفید ثابت ہوگاجو پہلے ہی سے اس بزنس سے وابستہ ہیں، اور ان معلومات سے ان کے کام میں    بہتری ا سکتی ہے -  وہ نوجوان جو انٹرپرینیورشپ شروع کرنا چاہتے ہیں.  
 ایسے خواتین و حضرات جو اپنے فارغ وقت کو استعمال کر کے کمانا چاہتے ہیں۔
·         وہ بے روزگار افراد جو نوکری کے لیے کسی ہنر کی تلاش میں ہیں.
ویب سائٹ ڈیزائننگ کہاں سے سیکھیں؟
ویب سائٹ ڈیزائننگ کی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کم از کم میٹرک تعلیم درکار ہوتی ہے۔ یہ خواتین و حضرات دونوں کرسکتے ہیں۔ اس کا بنیادی کورس تین ماہ کا ہوتا ہے، جس کے بعد مزید چار سے چھ ماہ کے مختلف اعلیٰ کورسز بھی ہوتے ہیں، جن کے لیے کم از کم ایف اے کی تعلیم درکار ہوتی ہے۔
ویب سائٹ ڈیزائننگ سیکھنے کے لیے پاکستان میں دونوں طریقے موجود ہیں، یعنی رسمی اور غیر رسمی طریقہ تعلیم۔ آپ اپنی پسند کے کسی بھی طریقے کا انتخاب کرسکتے ہیں۔
ویب سائٹ ڈیزائننگ کی تعلیم کے رسمی طریقے
پاکستان بھر میں ہزاروں کی تعداد میں سرکاری اور نجی ادارے اس کی بنیادی اور اعلیٰ تعلیم دے رہے ہیں، جن کی فیس پانچ ہزار سے بیس ہزار تک ہے، جبکہ صوبہ پنجاب میں ’’یو کے ایڈ‘‘ کے تعاون سے مختلف ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں مستحق افراد کو نہ صرف مفت تربیت بلکہ ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ہر صوبے میں فنی تعلیم کے لیے قائم ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ( ٹیوٹا) کے سرکاری ادارے قائم ہیں۔ جہاں اس کی سستی اور معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ اکثر بڑی یونیورسٹیاں بھی چھٹیوں میں اس کے شارٹ کورسز کرواتی ہیں۔
ویب سائٹ ڈیزائننگ کی تعلیم کے غیر رسمی طریقے
اگر آپ کسی وجہ سے (مثلاً عمر زیادہ ہے، خاتون خانہ ہیں، جاب کرتے ہیں، یا طالب علم ہیں) اور کسی تعلیمی ادارے میں جا کر باقاعدہ کلاسز نہیں لے سکتے، تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ آپ ویب سائٹ ڈیزائننگ کی مہارت غیر رسمی طریقوں سے حاصل کرسکتے ہیں۔ مارکیٹ میں اردو اور انگریزی زبان میں بہت سی کتابیں، اور ویڈیو سی ڈیز اس موضوع پر دستیاب ہیں، جبکہ آن لائن یوٹیوب سمیت بے شمار ویب سائٹ پر اس سلسلے میں ویڈیو لیکچرز دستیاب ہیں۔
آن لائن ویڈیو کورسزکے لیے ایک بڑی مشہور ویب سائٹ lynda ہے جو 1995 سے کام کر رہی ہے اور lynda نامی ایک امریکی خاتون نے قائم کر رکھی ہے۔ اس کی کچھ ممبر شپ فیس ہے لیکن اس کے ویڈیو کورسز بہت معیاری ہیں۔ میں نے خود "کورل ڈرا" کا کورس lynda سے صرف تین دن میں مکمل کیا تھا جس کی بدولت مجھے نہ صرف مالی بچت ہوئی بلکہ وقت اور توانائی سمیت اضافی زحمت سے بھی نجات ملی۔
ویب سائٹ ڈیزائننگ سیکھ لی، اب کیا کریں؟
وہ افراد جو ابھی کاروبار کرنے کی پوزیشن میں نہیں، ان کو یہ ہنر سیکھنے کے بعد نوکری ملنے کے امکانات زیادہ ہوجائیں گے۔ مارکیٹ میں چھوٹی اور درمیانے درجہ کی آرگنائزیشنز، اخبارات، میڈیا ہاؤسز، مالیاتی ادارے، امپورٹ/ ایکسپورٹ، ای کامرس سے وابستہ اداروں، سوفٹ ویئر ہاؤسز، این جی اوز وغیرہ میں ایسے افراد کی شدید ضرورت ہوتی ہے اور ہنرمند افراد کو زیادہ جلدی وائٹ کالر جاب مل جاتی ہے۔
آج کل مارکیٹ میں ایف اے پاس افراد جن کو ویب ڈیزائننگ خاص طور پر پی ایچ پی (PHP) میں ایک سالہ تجربہ ہو، 25 ہزار روپے ماہانہ کی تنخواہ پر جاب مل جاتی ہے ۔ جب کہ بی اے، ایم اے اور ایک سالہ کام کے تجربہ کار افراد کو صرف 15 سے 20 ہزار سے تک کی جاب مل رہی ہے۔
دیگر وہ افراد جو فل ٹائم یا پارٹ ٹائم کوئی بزنس کرنا چاہتے ہیں، وہ ہنر کو بزنس کے لیے بطور اوزار استعمال کر کے جلدی ترقی کرسکتے ہیں خاص طور پر اگر آپ کے پاس بزنس شروع کرنے کے لیے بنیادی سرمائے کی کمی ہے۔ اس کے دو بزنس ماڈل ہیں۔ آپ اپنے حالات کے مطابق کسی ایک بزنس ماڈل کا انتخاب کرسکتے ہیں۔
فری لانسنگ یا پراجیکٹ کی بنیاد پر
اس بزنس ماڈل میں آپ اپنے گاہک کی ضرورت کے مطابق اس کی ویب سائٹ ڈیزائننگ کرتے ہیں اور طے شدہ معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ اس کام کو آپ گھر میں بیٹھ کر یا چھوٹے آفس یا شیئر آفس کی صورت میں کرسکتے ہیں۔ اس طرح کے کام کرنے والوں کو فری لانسرز بھی کہتے ہیں۔ لوکل مارکیٹ میں اس وقت چھوٹی ویب سائٹ کی تیاری، جس میں تقریباً دو دن سے کم وقت صرف ہوتے ہیں، پر معاوضہ 6 سے 7 ہزار روپے آسانی سے مل جاتے ہیں جبکہ بڑی یا میڈیم سائز ویب سائٹ کی صورت میں یہ معاوضہ ہزاروں روپے تک ہوتا ہے۔
بیرون ملک سے کام حاصل کرنا
اگر آپ کو انگریزی زبان میں مہارت ہے تو آپ اپنے گھر میں بیٹھ کر بیرون ملک سے بھی کام حاصل کرسکتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر، خاص طور پر ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین و حضرات اپنے گھر میں بیٹھ کر دنیا بھر سے کام حاصل کر رہے ہیں اورحقیقت میں ماہانہ ہزاروں ڈالرز کما رہے ہیں۔
دونوں افراد (کام دینے والے اور کام کرنے والے) میں رابطے کے لیے کافی ساری ویب سائٹس قائم ہیں۔ یہ ویب سائٹ (دونوں افراد سے) کام مکمل کرنے کے بعد بل میں سے اپنا کمیشن وصول کرتی ہیں لیکن ان کی سروس اتنی شاندار ہے کہ ان کا کمیشن ادا کرتے ہوئے خوشی ہوتی ہے۔ ای لانس، او ڈیسک، گرو،فری لانسر، 99 ڈیزائنز، اور مائیکرو ورکرز اس طرح کی مشہور ویب سائٹس ہیں۔
اپنی مصنوعات/خدمات کی فروخت
اس بزنس ماڈل میں آپ اپنی ذاتی ویب سائٹ تیار کرتے ہیں اور خود اپنی کوئی مصنوعات یا خدمات آن لائن فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں۔ یہ چیزیں بھی ہوسکتی ہیں جیسے موبائل، کتابیں، کپڑے، وغیرہ اور خدمات بھی جیسے سوفٹ ویئر، آرٹ ورک، لوگو ڈیزائن وغیرہ۔
اس کے علاوہ آپ اپنی ویب سائٹس سے عوام الناس یا مارکیٹ کے کسی خاص طبقے کے درمیان رابطے کا کام کرنے کی خدمات پیش کرسکتے ہیں جس کی مثالیں جاب/شادی کی ویب سائٹ، جائیداد/گاڑیوں کی خرید و فروخت کی ویب سائٹ، زمین ڈاٹ کام، روزی پی کے، پاک ویلز ڈاٹ کام ہیں۔ اس بزنس ماڈل میں آمدنی کے ذرائع، ممبر شپ/رجسٹریشن فیس اور اشتہارات ہیں۔ اس طرح کے کام کرنے والے افراد کو ’ویب انٹرپرینیور‘ کہتے ہیں۔
بس ہمت کریں
دوسرے شعبہ جات کے طرح اس شعبے کے مزید بہت سے فوائد ہیں اور اسی طرح اس میں کچھ نہ کچھ مشکلات بھی ضرور ہوں گی، جن سب کو یہاں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن مشکلات در اصل ایک موقع بھی تو پیدا کرتی ہیں۔ اگر کچھ دن غور و فکر کے بعد آپ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ آپ نے اس فیلڈ میں قدم رکھنا ہے تو پھر دیر مت کریں اور ہمت کریں، تمام مشکلات آہستہ آہستہ خود ہی دور ہوجائیں گی اور کچھ ہی سالوں کے بعد آپ ایک بہتر، خوشحال اور باوقار زندگی بسر کر رہے ہوں گے.
 اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دو سال بعد‘عوامی جمہوریہ چین 1949 ء میں آزاد ہوا۔لیکن جس رفتار سے اس ملک نے ترقی کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس وقت چین عالمی معیشت پر تیزی سے چھا یا ہوا ہے۔ عالمی کساد بازاری میں ہر ملک بحران کا شکار ہے لیکن چین اور برازیل واحد ممالک ہیں جن کی ترقی پر عالمی کساد بازاری کا فرق نہیں پڑا۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس میں چین کی مصنوعات استعمال نہ ہورہی ہوں۔ چین نے کیسے ترقی کی اس کے بارے میں اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو بتاتے ہیں۔
1۔ ماؤزے تنگ جدید چین کا بانی شمار کیا جاتا ہے۔ چین کو ترقی دینے میں اس کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ چین کے لوگ افیون اور ہیروئین کے نشہ کی لت میں مبتلا تھے لیکن ماؤزے تنگ نے اپنی قوم سے یہ لت چھڑوا کر اسے دنیا کی ایک محنتی قوم بنادیا۔
2۔ ماؤزے تنگ نے تاریخ کے سب سے بڑے لانگ مارچ کے دوران اپنی قوم کو ہدایت کی تھی کہ وہ لانگ مارچ کے دوران چنے اور گرم پانی ساتھ رکھیں۔ چنے تھوڑے سے کھانے سے آپ کی بھوک ختم ہوجائے گی اور گرم پانی آپ کو پیٹ کی بیماریوں سے بچائے گا۔ آج بھی چینی قوم گرم پانی استعمال کرتی ہے جس کی وجہ سے یہ قوم صحت مند اور توانا ہے۔
3۔چین کی کمیونسٹ پارٹی نے بیجنگ میں ایک انسٹی ٹیوٹ قائم کررکھا ہے جہاں پارٹی کے اراکین کومتعلقہ شعبوں میں وزیر‘ مشیر بنانے اور چین کے لئے نئی قیادت تیار کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد ان کو سر ٹیفکیٹ دیا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس اس انسٹی ٹیوٹ کا سر ٹیفکیٹ نہ ہو تواسے وزیر یا مشیر کے قابل نہیں سمجھاجاتا۔ یہاں تک کہ چین کے آنیوالے صدر کو پانچ سال پہلے ہی صدر بننے کی تربیت دی جاتی ہے۔
4۔ چین کے رہنما ماؤزے تنگ کو یہ اعزازحاصل ہے کہ بہترین انگلش جاننے کے باوجود انہوں نے پوری زندگی کبھی انگریزی نہیں بولی یہاں تک کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ بھی سنایا جاتا تو وہ اس وقت تک ہنستے نہیں تھے جب تک کہ اس کا ترجمہ نہیں کیا جاتا۔ یعنی اپنی زبان سے محبت بھی چین کی ترقی کی وجہ ہے۔
5۔چین کے تمام لوگ بشمول افسران‘ مزدور سب مل کر ایک ہی جیسا کھانا کھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کسی بھی ملک جاتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ چینی مصنوعات بھی لے آتے ہیں تاکہ دنیا کو چین کی مصنوعات سے متعارف کروایا جاسکے۔
6۔ چین میں چوری کی سزا موت ہے‘ چور کو سر پر گولی ماری جاتی ہے اور گولی کا معاوضہ اس کے ورثاء سے وصول کیا جاتا ہے‘ جب تک ورثاء معاوضہ نہ دیں لاش نہیں لے جاسکتے۔
7۔ چینی لوگوں کا قول ہے کہ اگر آپ ایک سال کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہو تو مکئی لگاؤ‘ اگر تم دس سال کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہو تو درخت لگاؤ‘ اگر تم صدیوں کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہو تو لوگوں کی تربیت کرو اور تعلیم دو۔
8۔ ایوب خان کے دورمیں واہ کے آرڈیننس کمپلیکس کی تعمیر کی گئی تو چین کے ایک وفد نے دورہ کیا اور انہوں نے دورے کے دوران عمارت کو ٹپکتے ہوئے پایا۔میزبان نے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ عمارت ابھی نئی نئی بنی ہے اس لئے ٹپک رہی ہے تو چین کے ایک رکن نے ہنستے ہوئے کہا کہ شروع شروع میں ہماری عمارتیں بھی ٹپکتی تھیں لیکن ہم نے ایک ٹھیکیدار کو گولی ماردی ‘اس کے بعد چھت نئی ہو یا پرانی کبھی نہیں ٹپکتی۔
9۔رچرڈ نکسن ایک مرتبہ چینی صدر چواین لائی سے ملے اور انہیں ایک تصویر دی جس میں چواین لائی اپنے گھر کے لان میں بیٹھ کر اخبار پڑھ رہے تھے اور اخبار کی سرخیاں بھی واضح نظر آرہی تھیں‘چواین لائی نے پوچھا آپ نے یہ تصویر کیسے کھینچی‘ رچرڈ نکسن نے فخریہ انداز میں کہا کہ ہمارے پاس ہنڈرڈ بلین ڈالر کی سٹیلائٹ ٹیکنالوجی ہے جو صرف ہمارے پاس ہے‘ یہ تصویر ہم نے اسی سے کھینچی ہے۔ چواین لائی مسکراکر اٹھے‘ اپنی میز پر گئے اور ایک تصویر اٹھائی اور صدر نکسن کو پیش کردی۔ اس تصویر میں صدر نکسن وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر سی آئی اے کی کانفیڈنشل (خفیہ) فائل پڑھ رہے تھے۔ یہ تصویر دیکھ کر نکسن کا رنگ فق ہوگیا اور اس نے پوچھا کہ آپ نے یہ تصویر کیسے کھینچی تو چواین لائی نے جواب دیا کہ آپ جو کام ہنڈرڈ بلین ڈالر کی ٹیکنالوجی سے کررہے ہیں ہم نے ہنڈرڈ ڈالر کی ٹیکنالوجی سے کردیا۔ صدر نکسن نے وضاحت مانگی تو چواین لائی نے کہا کہ ہم نے وائٹ ہاؤس کے ایک ملازم کو ہنڈرڈ ڈالر دے کر یہ تصویر حاصل کی ہے۔
10۔ چین کے 97 فی صد نوجوان چین میں ہی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں‘ ان کے خیال میں چین کا تعلیمی نظام اور تعلیمی اخراجات دنیا میں سب سے کم ہیں۔
11۔ چین میں اس وقت 50 ہزار ملٹی نیشنل کمپنیاں کام کررہی ہیں۔ اورصرف 35 ہزار شنگھائی میں ہیں۔
کل میں نے اپنی پوسٹ کا آغاز ان الفاظ سے کیا تھا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں جمعہ کے روز ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں پاکستان اور چین کے جھنڈے اکٹھے لہرائے جاتے رہے ۔ اس پراجیکٹ سی پیک کا سب سے زیادہ بینیفٹ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو حاصل ہوگا۔ کوہالہ میں 1100 میگا واٹ بجلی کا منصوبہ ہے۔ جی ھاں 1100 میگا واٹ ، نیلم جہلم میں 969 میگا واٹ کا پراجیکٹ ہے اس کے علاوہ 1300 کلومیٹر کی سڑک گلگت بلتستان میں بن رہی ہے ۔ یہ تو ہے پاکستان کے زیراہتمام کشمیر کے ترقیاتی منصوبے جن کی وجہ سے یہ علاقے جنت نظیر بن جائیں گے۔ جبکہ دوسری جانب انڈیا کے قبضے میں کشمیر کی یہ صورتحال ہے کہ ترقیاتی منصوبے تو رہ گئے ایک طرف، الٹا ان بیچاروں کو بارود اور لاشوں کے تحائف انڈیا سے مل رھے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے کشمیری جب چین کے تعاون سے پاکستانی کشمیر کے یہ عظیم الشان منصوبے دیکھے ہیں تو پہلی بار انہوں نے یک زبان اور ایک سوچ کے ساتھ انڈیا پر مکمل طور پر لعنت بھیج کر پاکستان میں شامل ھونے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے ۔ پہلی بار تاریخ میں کشمیریوں نے بغیر کسی بیرونی سپورٹ کے بھرپور جدوجہد آزادی کا آغاز کر دیا ہے ۔ یہ صورتحال انڈیا کے لئے انتہائی تشویشناک رخ اختیار کر گئی ہے لہٰذا وہ کشمیر کو ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر اور زیادہ شدومد سے اس منصوبے کی مخالفت کر رہا ہے۔
مودی کے جھولے۔۔
پچھلے سال جب چینی صدر نے انڈیا کا دورہ کیا تو آپ نے ایک مشہور تصویر دیکھی ہوگی جس میں مودی چین کے وزیراعظم کو اپنے ساتھ جھولے میں بٹھا کر جھولے لے رہا تھا۔ انڈیا نے اس تصویر کو بنیاد بنا کر مودی کا خوب مذاق اڑایا ہے انڈین چینلز کہتے ہیں کہ مودی جھولے لیتا رہ گیا اور پاکستان بازی لے گیا۔ اویہ سچ ہے کہ منی اور شیلا بدنام ہوتی رہ گئی اور پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر انڈیا منجی ٹھونک دی ہے ۔
جیسا کہ پچھلی تحریر میں میں نے کہا تھا کہ ھندو ایک بزدل ، کمینہ اور کینہ پرور دشمن ہے یہ خود لڑنے سے گھبراتا ہے ہمیشہ سازش کے ذریعے دوسروں کے لڑوا کر اپنا مطلب نکالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ چنانچہ اس نے پاکستان کے اندر ہی کچھ لوگوں کو خریدا جن میں سے اکثریت کا تعلق میڈیا کے شعبے سے ہے تاکہ میڈیا اور صحافیوں کے ذریعے پاکستان میں پراپیگنڈا اور سازشوں کے سہارے عوام کو مایوس کیا جا سکے ۔آپ سب دوست ایسے تمام چینلز اور صحافیوں کو اچھی طرح جانتے ہونگے جو کھل کر کشمیر کی آزادی کی مخالفت کرتے ہیں، پاکستان میں محب وطن پاکستانیوں کو نظرانداز کرکے پاکستان مخالف عناصر کے بیانات کو خوب اچھالتے ہیں اور دینا اور عام پاکستانیوں کو وہ خوفناک تصویر بنا کر دکھاتے ہیں جسے دیکھ کر ھر کوئی سمجھنے لگتا ہے کہ خدانخواستہ پاکستان اب گیا تب گیا۔ جبکہ حقیقت یہ ھے کہ اس وقت پاکستان مکمل طور پر محفوظ ہاتھوں میں ہے اس کا دفاع پاکستان کی شیردل افواج اور غیرتمند عوام کی بدولت ناقابل تسخیر بن چکا ہے ۔
دوسری طرف انڈیا کے منصوبے کچھ اس طرح کے ہیں ۔ انڈیا ، را کے چند خریدے ہوئے ایجنٹوں سے انڈیا آئے دن پاکستان مخالف بیان تو دلوا لیتا ہے لیکن پاکستانی عوام کی حب الوطنی اور غیرت کے سامنے یہ مٹھی بھر ایجنٹ بے بس ہوجاتے ہیں۔ انڈیا کی خواھش ھے کہ پاکستان کے اندر انڈیا کی مانند سینکڑوں علیحدگی پسند تحریکیں شروع ہو جائیں ۔ ہر پاکستانی دوسرے پاکستانی کے خون کا دشمن ہوجائے ۔ لوگ لسانی صوبائی مذہبی اور برادری کی بنیادوں پر قتل عام کرتے پھریں اور خانہ جنگی جیسا ماحول بن جائے ۔ اس کے علاوہ پاکستانی فوج کو اندرونی مسائل یعنی مارشل لاء یا دہشت گردی کے واقعات میں اس طرح الجھا دیا جائے کہ پاک فوج سب کچھ بھول بھال کر ملکی حالات کو ٹھیک کرنے لگ جائے ۔ سیاستدانوں کے ذریعے کرپشن لوٹ مار فوج مخالف بیانات کا ایسا بازار گرم کروا دیا جائے کہ عوام چیخ چیخ کر خود فوج کو مارشل لاء لگانے کے لئے دعوت دینے لگ جائیں او ر اس طرح فوج کو ایسے اھم دفاعی اور ترقیاتی منصوبوں سے دور کرکے ملکی سیاست کی دلدل میں پھنسا دیا جائے ۔
آپ دیکھ رہے ہیں ایک جانب اخبارات اور ٹی وی چینلز پر فوج کے کردار کو متنازعہ بنانے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب کرپشن سکینڈلز اور لوٹ مار کھل کر کی بھی جا رہی ہے اور ڈھٹائی سے اس کے خلاف کارروائی بھی نہیں ہونے دی جاتی تاکہ فوج کو مشتعل کیا جا سکے یا عوام کے زھنوں میں تاثر بٹھایا جا سکے کہ فوج یا تو خود نظرانداز کر رہی ہے یا پھر شاید ان کے ساتھ ہی شامل ہے جس کی وجہ سے خاموشی سے تماشہ دیکھ رہی ہے ۔
ایک چیز آپ سب نے نوٹ کی ہوگی اچانک سے ہی کچھ کو فاٹا پاکستان کا نہیں لگ رہا کسی کو بلوچستان الگ نظر آتا ہے کوئی کراچی کو متنازعہ بنا رہا ہے کوئی پاکستان کے خلاف نعرے بازی کرنے لگ گیا ہے ۔ یہ سب بے سوچا سمجھا نہیں بلکہ یہ وہ سرمایہ کاری بول رہی ہے جس سے انڈیا پاکستان میں اربوں ڈالرز خرچ کرکے بندے خرید چکا ہے کچھ صحافیوں کے پیٹوں میں انسانی حقوق کے مروڑ اٹھ رہے ہیں کسی کو ایجنسیاں دہشت گردی کی حمایت کرتی نظر آتی ہیں کچھ کو پاکستان ہی خدا نخواستہ خدانخواستہ دنیا کے نقشے سے غائب نظر آتا ہے ۔
آجکل انڈین ٹی وی چینلز پر ایک انتہائی بے غیرت شخص طارق فتح کے نام سے بھونکتا نظر آئے گا ۔ اسے انڈین چینلز پاکستانی دانشور کے طور پر ٹی وی سکرینوں پر پیش کرتے ہیں اور یہ خنزیر ھفتوں دنوں میں پاکستان کو تقسیم ھوتا دیکھتا ہے حالانکہ اس خنزیر کا پاکستان سے تعلق صرف اتنا ہی ہے جتنا میر جعفر میر صادق کا مسلمانوں سے تھا۔ ایک طرح سے یہ ٹھیک بھی ہے کہ اس وقت انڈیا کو بہت سے ایسے ٹھگ نچوڑ نچوڑ کر اپنا پیٹ بھر رھے ھیں جن سے پاکستانی عوام شدید نفرت کرتے ہیں اور ان کی بکواسیات کو کسی کتے کے بھونکنے سے زیادہ نہیں سمجھتے ۔ کچھ پاکستانی صحافی اور چینلز بھی اسی طرح انڈیا کو چونا لگا کر اپنا بینک بیلنس بڑھا رہے ہیں اور انڈیا کو بتاتے ہیں کہ بس جی اب دیکھنا کس طرح ھم پاکستان کو نقصان پہنچاتے ہیں بس ھمیں نوٹ دیتے رھو۔ یہ فراڈئیے کبھی کبھار ایک آدھا ایسا بیان داغ دیتے ہیں جس سے پاک فوج اور پاکستان کے بارے غلط تاثر بنتا ہے مگر ان کی کسی کوشش سے پاکستانی قوم پر معمولی سا اثر بھی نہیں پڑتا۔ ایک خبیث کبھی کبھی پاک فوج کو گالیاں دے کر انڈیا کا کلیجہ ٹھنڈا کرتا تھا مگر پچھلے دنوں ایک گندا نعرہ لگا کر انڈیا کے لئے چلا ہوا کارتوس بن چکا ہے جس سے اب انڈیا کو کوئی امید نہیں رہ گئی کیونکہ پاکستان کی غیرتمند عوام اور محب وطن مہاجروں نے اسے گندا انڈا سمجھ کر باہر پھینک دیا ہے ۔
آپ کے اردگرد صرف دھوئیں کے بادل ہیں۔ ان کی کچھ بھی اہمیت نہیں۔ صرف اتنا سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سب انڈیا کی شرارتوں کا نتیجہ ہیں جو وہ را کے ذریعے پاکستان میں کروا رہا ہے۔
پاکستانی قوم کو کیا کرنا چاہئیے؟۔
متحد رھئیے ۔ کسی بھی قسم کے لسانی صوبائی مذھبی یا علاقائی تعصب پھیلانے والوں سے نفرت کیجئیے ۔ ان کو کمزور کیجئیے یہ صرف دشمن کے خریدے ہوئے ایجنٹ ہیں۔ جب تک آپ متح ہیں اور ان کی سازشوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں یہ کچھ بھی نہیں کر سکتے ۔ اپنی افواج اور محب وطن سیاستدانوں سے محبت کیجئیے انڈیا کیا انڈیا کا باپ بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہوچکا ہے کوئی انڈیا کا علیحدگی کی آگ بھڑکانے والا ایجنٹ کچھ بھی نہیں کرسکے گا یہ 71 نہیں 2016 ہے ۔ اگر انڈیا نے اب 71 کی تاریخ دہرانے کی کوشش کی تو یقین کیجئیے وہ دن انڈیا کا اس دنیا میں آخری دن ہوگا۔ اسی طرح حکومت کو بھی بالکل اسی طرح انڈیا کے علیحدگی پسندوں کی حمایت کرنی چاھئیے جن پر واقعی بھارت میں ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں۔
میری لسٹ میں بہت سے قابل احترام اساتذہ بھی موجود ہیں ۔ مجھے بتاتے ہیں کہ ھم اپنے طالبعلموں کی آپ کی تحریریں اکثر پڑھ کر سناتے ہیں۔ یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ مجھے اس قابل سمجھتے ہیں یا میری بہنیں بیٹیاں جب مجھے کہتی ہیں کہ ھم اپنے بچوں کو اپنے والدین کو آپ کا لکھا ہوا سناتے ہیں اور وہ بزرگ میرے لئے دعائیں کرتے ہیں تو یقین کیجئیے مجھے اپنی خوش قسمتی پر ناز ہونے لگتا ہے ۔ اللہ پاک آپ سب کو ہمیشہ راضی رکھے۔ یہ ملک بہت آگے جائے گا مایوسی کی شکار مت ھوا کریں۔ بہت جلد آپ دیکھیں گے یہ زمین پاکستان دنیا کے اہم ترین ممالک کی فہرست میں سب سے اوپر ہوگی ۔ کیونکہ پاکستان ایک معجزہ ہے ۔ یہاں کے رھنے والے اللہ کو بہت ہی پیارے ہیں۔۔
مجنوں
اللہ کے دو مزدوروں نے 2510ء قبل مسیح میں پانچ قسم کے پتھروں کو ہاتھوں سے توڑ توڑ کر ایک بغیر چھت والی عمارت کھڑی کی ... یہ عمارت عین اس جگہ پر اٹھائ گئ جہاں طوفانِ نوح نے اسے مسمار کیا تھا- اس مستطیل نماء عمارت میں دو دروازے تھے جو زمین سے برابر رکھے گئے- انبیاء کی مزدوری بیت الله کی صورت تکمیل پزیر ہوئ تو ابراھیم خلیل اللہ نے لوگوں کو اللہ کی عبادت کی طرف بلایا ...
604 عیسوی میں قریش نے پہلی بار اس عمارت میں کچھ ترمیم کی- قریش نےبیت اللہ کے شمال کی طرف تین ہاتھ جگہ چھوڑ کر مستطیل عمارت کو مکعب نما بنادیا۔ اسی مکعب نماء ڈیزائن کی وجہ سے بیت اللہ کو "کعبہ" کہا جانے لگا- ڈیزائن میں اس تبدیلی کی وجہ روپے پیسےکی کمی تھی ، کہ رزقِ حلال ہردور میں کم ہی پڑ جاتا ہے-
قریش نے پہلی بار کعبہ پر چھت ڈالی تاکہ عمارت اوپر سےبھی محفوظ رہے- ساتھ ساتھ مغربی بھی دروازہ بند کردیا گیا- مشرقی دروازےکو زمین سےاتنا اونچا کردیا تاکہ صرف خواص ہی قریش کی اجازت سےاندر جاسکیں۔ اللہ کےگھر کو بڑا سا دروازہ اور تالا بھی لگادیا گیا جو مقتدر حلقوں کےمزاج اور سوچ کےعین مطابق تھا۔ یہ واقعہ بعثت سے پہلے کا ہے- نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس بیت اللہ میں حجر اسود کی تنصیب فرمائ- اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خواہش تھی کہ بیت اللہ کو ابراہیمی طرزِ تعمیر کےمطابق ہی بنایا جائے۔ لیکن آپ نے اس کا اظہار نہ فرمایا کہ قریش اس کی استعداد نہ رکھتے تھے-
امام مسلم رحمہ اللہ تعالٰی نے عائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا سے حدیث بیان فرمائی ہے کہ :
"عائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حطیم کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ بیت اللہ کا ہی حصہ ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا جی ہاں!، عائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں میں نے پوچھا کہ اسے پھر بیت اللہ میں داخل کیوں نہیں کيا گيا ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب تھا کہ تیری قوم کے پاس خرچہ کے لیے رقم کم پڑگئی تھی ۔
دورِ نبوّت میں بھی خانہ کعبہ کی عمارت میں کوئ تبدیلی نہ کی گئ-
اسی حدیث میں آگے چل کر حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں:
" میں نے کہا کہ بیت اللہ کا دروازہ اونچا کیوں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تیری قوم نے اسے اونچا اس لئے کیا تا کہ وہ جسے چاہیں بیت اللہ میں داخل کریں اورجسے چاہیں داخل نہ ہونے دیں ۔اور اگرتیری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوتی اوران کے دل اس بات کوتسلیم سے انکارنہ کرتے تو میں اسے ( حطیم ) کوبیت اللہ میں شامل کردیتا اوردروازہ زمین کے برابرکردیتا"۔
اگلے 80 برس تک کعبہ کی عمارت میں کوئ تبدیلی نہ ہوئ-
684ء میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کی عمارت نئے سرے سے تعمیر کرائ- عبداللہ بن زبیر رض حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی پیاری بیٹی حضرتِ اسماء رضی اللہ عنہا کے فرزند اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے- آپ نے شہادتِ امام حسین رض کے بعد یزید کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کیا اور حجاز میں اپنی حکومت قائم کر لی- یزیدی فوج کی سنگباری سے کعبہ کی عمارت مسمار ہو چکی تھی- ابن زبیر رض نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خواہش کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بیت اللہ کو ابراھیمی طرزِ تعمیر پر مستطیلی عمارت بنایا- حطیم کو عمارت کے اندر شامل کیا گیا اور مشرقی و مغربی دروازے بنائے گئے- عود کی خوشبودار لکڑی سے بیت اللہ کی چھت اٹھائ گئ-
695ء میں عبدالملک بن مروان اور ابن زبیر کے درمیان سیاسی کشمکش نے ایک بڑے المئے کو جنم دیا۔ مروان نے حجاج بن یوسف کو ابن زبیر کے خلاف مہم کا انچارج بنا کر مکّہ روانہ کیا۔ حجاج نے مکہ کا محاصرہ کرکے شہر پر سنگباری شروع کر دی۔ اس بمباری نے مکّہ کے ساتھ ساتھ بیت اللہ کو بھی مسمار کر دیا۔
یہ محاصرہ سات ماہ تک جاری رہا- آخر عبداللہ بن زبیر رض کو شکست ہوئ اور وہ مردانہ وار لڑتے ہوئے شہید ہو گئے-
حجاج نے بیت اللہ کو ازسرِ نو تعمیر کرایا اور قریش کے طرزِ تعمیر پر دوبارہ مکعب نماء کر دیا- دو دروازوں کی بجائے ایک دروازہ رکھا اور حطیم کو ایک بار پھر عمارت سے باہر کر دیا- اور شاید یہی مشیّتِ الہی تھی تاکہ لوگ یہاں کھڑے ہو کر عبادت کر سکیں- اگر ابراہیمی طرز تعمیر برقرار رکھا جاتا تو آج کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کی جستجو میں شدید دھکم پیل ہوتی-اور آج ہم حطیم میں باآسانی نماز پڑھ کر کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کا اجر نہ وصول کر رہے ہوتے-
بعد میں آنے والے حکمرانوں نے عمارت کا یہ ڈیزائن برقرار رکھا-
1996ء میں آلِ سعود نے اسے نئے سرے سے تعمیر کیا ... بے شمار کاریگروں اور مزدوروں نے مل کر کعبہ کی موجودہ عمارت اٹھائ ... چھت اور سیلنگ تبدیل کی گئ البتہ پتھّر قدیم دور کے ہی برقرار رکھے گئے- آج بھی دور ابراھیمی کے پتھر بیت اللہ کی بنیادوں میں محفوط ہیں-
آج کا دِن اللہ کے ان مزدوروں کے نام جنہوں نے بغیر چھت والی یہ عمارت کھڑی کی ... ان گمنام کارگروں کے نام جنہوں نے اس عمارت کو دنیا کی خوبصورت ترین تعمیر میں ڈھالا.... ان بابرکت ہاتھوں کے نام جو بیت اللہ اور مسجدِ نبوی کی تعمیرو توسیع ، صفائ اور انتظام میں استعمال ہوئے اور آج بھی ہو رہے ہیں .... الکاسب حبیب اللہ !!!!
کیا آپ جانتے ہیں کہ جمعہ کے روز مقبوضہ جموں کشمیر میں احتجاج کے دوران پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کے پرچم بھی لہرائے گئے ؟۔ اس کی وجہ میں آگے چل کر بتاتا ہوں۔ سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ انڈیا کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھ رہے ہیں۔ انڈیا بلوچستان میں آگ بھڑکانے کی کوششوں میں کیوں مصروف ہے۔ گوادر میں آخر ایسا کیا ہے کہ انڈیا اربوں روپے خرچ کرکے بلوچستان میں سے دو چار غداروں کو کیوں خرید رہا ہے ۔ اپنے حاضر سروس فوجی افسروں کو، را کے ذریعے( کلبھوشن یادو) بھیج رہا ہے کہ وہ بلوچستان میں کام دکھائیں۔ میں بتاتا ہوں کہ گوادر کیا ہے ۔ سب سے پہلی بات آپ اس بات پر یقین رکھئیے کہ میں آپ کے سامنے صرف سچ پیش کرتا ہوں۔ پرانے سبھی دوست جانتے ہیں کہ میں کسی خوش فہمی میں نہ تو خود مبتلا ہوتا ہوں اور نہی آپ کو جھوٹی کہانیاں سنا کر خوش فہمیوں میں ڈالتا ہوں۔ میرے فیکٹ اور فگرز جو بھی دوست چیک کرنا چاہے کر سکتا ہے انشااللہ ایک بھی بات فرضی یا من گھڑت نہیں ہوگی۔
ایک بدنصیب اور لاعلم قوم پر قدرت کی نوازشیں ؛
کسی بھی بندرگاہ کو دو خوبیوں کی بنیاد پر پرکھا جاتاہے۔نمبر ایک اس کے ساحل کی گہرائی کتنی ہے ۔ نمبر دو اس بندرگاہ پر بیک وقت کتنے جہا ز ساحل پر لگائے جا سکتے ہیں،۔
سب سے پہلے گہرائی ۔ گہرائی جتنی زیادہ ہوگی اتنے ہی بڑے شپ ، یعنی سمندری جہاز اس بندرگاہ پر آ سکیں گے۔اگر ساحل کی گہرائی کم ہو گی تو جہاز کو ساحل سے دور سمندر کے بیچ میں کھڑا کرکے اس سے سامان یا تیل وغیرہ کشتیوں میں لاد کر ساحل پر لایا جاتا ہے جس پر بے انتہاء خرچہ بھی آتا ہے اور وقت بھی بہت سا برباد ہوتا ہے جہاز کا کرایہ وقت کے لحاظ سے ادا کیا جاتا ہے ۔ ھم یہاں اس خطے کی دوسری بڑی بندرگاہوں کا گوادر بندرگاہ سے مقابلہ کرکے دیکھتے ہیں۔ ایران کی بندرگاہ بندر عباس کی گہرائی 9 میٹر ہے ۔ دمام بندرگاہ کی گہرائی بھی 9 میٹر ہے ۔ دوحہ قطر کی بندرگاہ کی گہرائی 11 میٹر ہے ۔ عمان سلالہ بندرگاہ کی گہرائی 10 میٹر ہے۔ انڈیا جس چاہ بہار کے مقام پر بیس ارب ڈالر خرچ کرکے ایران میں بندرگاہ بنا رہا ہے اور جس کے لئے انڈین حکومت اور عوام خوشی سے اچھل اچھل کر پاگل ہو رھے ہیں اس کی گہرائی 11 میٹر ہے ۔ جبل علی کی گہرائی 10 میٹر ہے ۔ اور گوادر کی بندرگاہ کی۔۔۔۔ آپ خوشی سے اچھل پڑیں گے کہ اس خطے میں سب سے زیادہ گہرائی والی بندرگاہ گوادر ہے جس کی گہرائی 18 میٹر ہے ۔ جی ہاں 18 میٹر ۔۔۔
اگلا نمبر آتا ہے بندرگاہ پر زیادہ سے زیادہ جہازوں کی تعداد ۔ جبل علی میں 67جہاز ۔بندرعباس 24 جہاز۔ دمام 39 جہاز۔ دوحہ 30 جہاز ۔ عمان سلالہ 19 جہاز۔ چاہ بہا ر10 جہاز ۔ اور گوادر 120 بحری جہاز ایک وقت میں لنگرانداز ہوسکتے ہیں۔ یہاں بھی اللہ نے آپ پر اپنی فیاضی کی انتہاء کر دی ہے ۔
ہندو کا ایمان ہوتا ہے کہ " چمڑی جائے دمڑی نہ جائے"۔ پاکستان جیسے چھوٹے ( رقبے اور آبادی کے لحاظ سے) ملک پر اللہ کی ان عنایات ھندو کو ایک آنکھ نہیں بھاتی ۔ سی پیک منصوبے میں انڈیا جب دیکھتا ہے کہ پاکستان میں بے شمار نئے منصوبے ایئرپورٹس ، ریلوے اسٹیشن سڑکوں کا جال اور بجلی کی پیداواری پروجیکٹ چین کی وجہ سے بننے جا رہے ہیں تو اس کی راتوں کی نیند برباد ہوکر رہ گئی ہے ۔ دوسری طرف پاک چین کے اس طرح باھم شیروشکر ہونے ان دونوں ممالک کا دفاع ناقابل تسخیر ہونے جا رہا ہے خود انڈیا کو اپنی سلامتی خطرے میں نظر آ رہی ہے تو اس کی چیخیں نکل رہی ہیں ۔ انڈیا کو اب نہ تو کشمیر کی پرواہ رہ گئی ہے نہ ہی کسی اور داخلی خارجی مسلے کی ، وہ ہر صورت میں یہ منصوبہ ناکام کرنے کے پیچھے پڑ گیا ہے ۔ آپ دیکھ رھے ھونگے ایک طرف تو مودی پوری دنیا میں بھاگا پھر رہا ہے ھے اسے بیرون ملک کے دورے پر دورے پڑ رھے ہیں تاکہ دنیا کو اپنے ساتھ ملا کر کسی طرح اس منصوبے کو رکوایا جا سکے ، دوسری طرف وہ امریکہ کا کتا بننے پر بھی تیار ہوگیا ھے تاکہ امریکہ کا سہارا لے کر پاکستان کو کسی طرح دہشت گرد ملک قرار دے کر بالکل اسی طرح دنیا کو پاکستان پر چڑھائی کے لئے مجبور کر دے جس طرح نیٹو افواج نے عراق شام لیبیا افغانستان پر چڑھائی کر دی تھی ۔ مگر کہا رام رام اور کہاں ٹیں ٹیں ۔ امریکہ تو ٹشو کی طرح ہر کسی کو استعمال کرنے کا عادی ہے صرف اپنے مفادات کے لئے غنڈے پالتا ہے کسی اور کا غنڈہ بننا کبھی قبول نہیں کر سکتا۔
انڈیا اس منصوبے کو ہر صورت میں ناکام کرنا چاہتا ہے ۔آپ یوٹیوب پر جا کر صرف اتنا لکھیں " انڈیا آن سی پیک پروجیکٹ" آپ کے سامنے ہزاروں ایسی ویڈیوز آ جائیں گی جن میں سب یہی باتیں ہونگی جو میں نے آپ کو بیان کی ہیں۔ ریٹارڈ انڈین جرنیل ، تجزیہ کار ، سیاستدان اور صحافی اس منصوبے کو انڈیا کی تباہی قرار دے رہے ہونگے ۔ انڈیا اس منصوبے کو رکوانے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے لیکن فوج کشی کے ذریعے اس منصوبے کو روکنے کا پنگا نہیں لے سکتا کیونکہ یہ منصوبہ چین کے لئے بھی زندگی موت کا مسلہ بن چکا ہے چین اور پاکستان ۔۔۔ انڈیا کو مچھر کی طرح مسل کر رکھ دیں گے ۔
انڈیا جنگ نہیں لڑ سکتا لیکن اس منصوبے کو ناکام کرنے کے لئے ہر حربہ ہر سازش کا سہارا لے رہا ہے ۔اس کے لئے وہ پاکستان میں بہت سے لوگوں کو اربوں ڈالرز سے خرید چکا ہے جن میں میڈیا صحافی دہشت گرد تنظیموں اور کچھ تانگہ قسم کی پارٹیوں کے لیڈر اور کچھ مفاد پرست علاقائی اور صوبائی تنظیموں کے ڈان قسم کے ایجنٹ ۔ ایک ایجنٹ تو پچھلے دنوں پاکستان کے خلاف نعرے لگا کر ٹھس ہوچکا ہے باقی بھی انشااللہ ناکام ہونگے ۔ انڈیا جو سازشیں کر رہا ہے ان کی تھوڑی سی تفصیل آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جسے جان کر آپ کا خون کھول اٹھے گا اور آپ کا دل کرے گا کہ آبھی کے ابھی انڈیا کی گردن مروڑ دی جائے ۔
سب سے پہلے بلوچستان ۔ سی پیک کا سب سے اہم کردار بلوچستان ہے کیونکہ گوادر بندرگاہ بلوچستان صوبے میں واقع ہے ۔ یک دم ہی مودی کو ۔۔۔۔۔ تار آ گئی ہے کہ بلوچستان کے لوگ بہت پریشان ہیں اور مودی کو فون کرکرکے ان کو آزاد کرنے کے لئے اس سے مدد کی بھیک مانگ رھے ہیں۔ اسے بلوچستان سے ہمدردی پیدا ہو گئی ہے مودی کہتا ہے کہ بلوچستان پاکستان حصہ ہی نہیں۔ اس لئے اس کو پاکستان سے الگ کر دینا چاہئیے ۔ بلوچستان کے ایک بھگوڑے کو اپنے پاس شہریت دے کر اسے شاہانہ زندگی دی گئی ہے تاکہ وہ بلوچستان کا نمائندہ بن کر بنگلہ دیش کی طرح انڈیا کو پاکستان میں مداخلت کی دعوت دے سکے ۔ وہ شخص جسے اس نے اپنے پاس پناہ دے رکھی ہے ایک چلا ہوا کارتوس ہے جس سے بلوچ عوام بے انتہاء نفرت کرتے ہیں اور اسے غدار قرار دے کر خود سے خارج کر چکے ہیں۔ پندرہ اگست دو ہزار سولہ کو مودی نے جب بلوچستان کا ذکر کیا تو بلوچستان کے عوام نے پورے بلوچستان میں مودی کے پٌتلے جلائے مظاھرے کئے اور مودی کو کتا بنا کر رکھ دیا۔ اس احتجاج کو دیکھ کر مودی کی بے بے ہی مر گئی ۔ اسی طرح اس نے ایک عورت کو باچا خان کی رشتہ دار قرار دے کر کہا کہ وہ عورت اس کے پاس کے پی کے کی آزادی کے لئے آئی ہے ۔ اس کے جواب میں باچا خان فیملی نے اس عورت سے کسی بھی قسم کے رشتے کی سختی سے تردید کر دی ہے ۔
اب ایک اور بات جسے پڑھ کر آپ کا دماغ گرم ہوجائے گا۔ اچانک سے ہی مودی کو یاد آ گیا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر تو انڈیا کا حصہ ہے ۔ یاد رہے کہ یہ علاقہ بھی گوادر کی طرح اس منصوبے کا اھم حصہ ہے کیونکہ یہی سے یہ راہداری چین میں داخل ہوتی ھے ۔ مودی کہتا ہے کہ یہ علاقہ کیونکہ انڈیا کا ہے اس لئے چین اور پاکستان کو یہاں سے راہداری انڈیا کی اجازت کے بغیر نہیں بنانی چاھئیے ۔ انڈین میڈیا چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ انڈیا کو اس علاقے میں فوج کشی کرکے اپنے قبضے میں لے لینا چاہئیے جبکہ مودی اور انڈین فوج کو اچھی طرح پتہ ھے کہ انڈیا نے اس طرف منہ بھی کیا تو چین اور پاکستان اس کو نانی یاد دلا دیں گے ۔ یہاں بھی وہ کچھ لوگوں کو خرید نے کے چکر میں ھے جن سے پاکستان کے خلاف نعرہ لگوایا جا سکے ۔
یہ پوسٹ بھی لمبی ہو گئی ہے اس کا اگلا حصہ مختصر ہے انشااللہ آج ہی آپ کی خدمت میں پیش کر دونگا۔
آپ کا مجنوں۔

جینا بھائ یا جناح بھائ
پونجا محمد علی جناح کے دادا تھے۔
قائد اعظم کے بھائ اور بہنیں۔
قائد اعظم کے وارث۔۔۔
بھارتی صوبے گجرات کی ریاست گوندل کے ایک گاؤں کا نام تھا پانیلی۔ اس چھوٹے سے گاؤں میں
ایک شخص پونجا میگھ جی نامی بھی رہتا تھا۔یہ ہندو لوہانا خاندان سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ ان کے تین بیٹے تھے والجی بھائی ، نتھو بھائی اور جناح بھائی۔ بیٹی صرف ایک تھی جس کا نام مان بائ تھا۔ شیریں جناح کے مطابق جناح بھائی سب سے چھوٹے تھے۔ چھریرابدن اور کمزور صحت ، چھوٹا قد غالباً اسی لئے جھینا کہلاتے تھے جس کے معنی ہیں (دبلا ،پتلا)۔ جینا کو جناح انہوں نے خود بنایا یا یہ اصلاح سسرال والوں نے کی، یہ بات تحقیق طلب ہے۔ جھنو سںدھی زبان کا بھی ایک لفظ ہے۔ جناح کے معنی ہیں بازو۔

بہر حال بعد ازاں پونجا کو پونجاہ اور جینا کو جناح لکھا جانے لگا۔اس طرح محمد علی جناح کے والد کا نام جناح پونجا یا جینا پونجا ہوا۔ پونجا کھڈی کے کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ انہوں نے جناح کو بھی اسی کام میں لگا دیا۔ جناح کاروبار کو موضع پانیلی تک محدود رکھنے کے خلاف تھے اور اسے گوندل جیسے بڑے شہر تک وسعت دینا چاہتے تھے۔ ایک مرتبہ والد نے جناح ؒ کو کچھ رقم دیکر کہا کہ اسے کسی نفع بخش کام میں لگاؤ۔ جناح نے ایسا ہی کیا اور معقول منافع کمایا۔ باپ نے خوش ہو کر جناح کے لئے اپنی اسماعیلی خوجہ برادری میں لڑکی تلاش کرنی شروع کر دی۔ بالآخر نواحی گاؤں ڈھرفا کا اسماعیلی خاندان پسند آگیا اور اس کی لڑکی میٹھی بائ (شیریں موسى) کی شادی جناح ؒ سے کر دی گئی۔ یہ 1874ء کا واقعہ ہے۔ شادی کے بعد جب تجارت کو فروغ حاصل ہوا تو جناح خاندان کراچی آگیا۔ یہاں آکر نیو نہام روڈ(کھارادر) پر ایک عمارت کا کچھ حصہ کرایہ پر حاصل کر لیا گیا۔ جناح بھائی نے کراچی میں، مشکلات پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ تجارت میں کافی رقم جمع کر لی۔ کراچی میں اس وقت انگریزوں نے کچھ کمپنیاں قائم کر رکھی تھیں جو درآمد اور برآمد کا کام کرتی تھیں۔ ان میں ایک فرم گراہم سن شپنگ اینڈٹریڈنگ کمپنی تھی۔
 اس کے جنرل منیجر فریڈرک لیہہ کے ساتھ جناح بھائی کے مراسم استوار ہوئے تو ان کی وساطت سے انگلستان اور ہانگ کانگ کے بعض تاجروں کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات قائم ہو گئے۔ جو افغان تاجر قندھار (افغانستان) سے کراچی آتے تھے ان سے جناح بھائی نے فارسی زبان سیکھی۔ انگریزی میں انہوں نے پہلے ہی کچھ شدبد حاصل کر لی تھی۔ اگرچہ جناح خاندان گجراتی زبان بولتا تھاتاہم کراچی میں قیام کے دوران انہوں نے سندھی کے علاوہ کچھ اور زبانوں پر بھی عبور حاصل کرلیا۔ جناح ؒ بھائی کی زوجہ میٹھی بائی کے ہاں 25دسمبر 1876ء کو ایک لڑکا تولد ہوا جس کا نام محمد علی رکھا گیا۔ بعد ازاں دو بیٹیاں رحمت اور مریم پھر احمد علی اور بعد ازاں شیریں پیدا ہوئیں 31جولائی1893ء کو میٹھی بائی کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام فاطمہ رکھا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب جناح پونجا کے بیٹے محمد علی اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے انگلستان میں تھے۔
فاطمہ جناح ؒ کے بعد مٹھی بائی کے ہاں صرف ایک ولادت ہوئی۔ اس بچے کا نام بندے علی رکھا گیا اس ولادت کے بعد میٹھی بائی وفات پا گئیں
تو اس لہز سے قائد اعظم سمیت کل بہن بھائ بالترتیب مندرجہ ذیل ہوئے۔
محمد علی جناح
رحمت بائ جناح
مریم بائ جناح
احمد علی جناح
شیریں بائ جناح
فاطمہ جناح
بندے علی جناح
یعنی کل تین بھائ اور چار بہنیں۔ قائد اعظم کے بھائ احمد علی جناح کی صرف دو تصاویر دستیاب ہیں۔ انہوں نے ایک یورپین خاتون ایمی سے شادی کی تھی جس کے ساتھ ان کی ایک تصویر دستیاب ہے۔ بندے علی جناح کی نہ تو کوئ تصویر دستیاب ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئ تفصیلات دستیاب ہیں۔
سندھ کے لو گون کے مظابق جناح ٹھٹہ ضلع میں جھرک میں پیدا ہوئے۔ 1960 کی دہائی کے آواخر میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے شایع ہونی والی کتابوں میں بھی آپ کی پیدائش کی جگہ جھرک ہے۔ تو پھر جھرک کو کراچی سے 1970 میں کیسےبدلا گیا؟ اگر یہ بات صحیع بھی مان لی جائے تو جھرک 1875 - 1876 میں انتظامی طور پر کراچی کا حصہ تھا۔ اگر قائد اعظم جھرک میں بھی پیدا ہوئے تو وہ کراچی ہی تھا۔ قائد اعظم نے بذاتِ خود کراچی میں تقریر کے دوران کہا کہ میں اس شہر میں پیدا ہوا ہوں۔ محترم فاطمہ جناح نے اپنی کتاب میرا بھائی میں بھی کراچی کو قائد اعظم کا مولد لکھا ہے۔ اس کے علاوہ جی الانا، پروفیسر کرم حیدری، شریف المجاہد، رضون احمد وغیرہ نے بھی قائد اعظم کی جائے پیدائش کراچی ہی لکھا ہے۔ کچھ سندھی دانشور حضرات جھرک کا کہتے تو ہیں لیکن دستاویزی ثبوت کوئی نہیں دیتا۔ محققین کی اکثریت کااتفاق محمدعلی جناح کی پیدائش کے سلسلے میں 25،دسمبر 1876 ،پر ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں کی رہنمائی کرنے والے بچے محمد علی جناح،جسکو مسلمان قوم نے قائداعظم کے عظیم خطاب سے نواز کی پیدائش صبح اذان کے وقت گھر کی بالائی منزل پر ہوئی ۔ اس وقت کراچی میں مشکل ہی سے کہیں زچہ خانہ ہوتا ہوگا۔ گھر پر ہی ایک ماہر دایا کا انتظام کردیامگریہ ’’ بچہ بہت کمزور اور دبلا پیدا ہوا جس کے پتلے پتلے لمبے ہاتھ تھے،سر لمبوتراتھا،والدین اس کی صحت کی وجہ سے بہت پریشان تھ۔ جنا ح پونجا کے پہلے فرزند کے پیدا ہونے پر سارے گھر میں خوشیاں منائی گئیں۔ سماجی قاعدے کے مطابق بچے کے والدین کو مبارک باد دینے اور بچے کو دیکھنے کے لئے لوگوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ پہلوٹھی کے اس بچے کا نام خاندانی روایات کے مطابق،بچے کے ماموں قاسم موسیٰ نے محمد علی رکھا۔ جناح پونجا اور ان کی بیگم نے اپنے پہلے بیٹے کے نام’’ محمد علی جناح کو نیک فال تصور کیا۔ی
جس وقت پہلی مرتبہ محمد علی جناح سندھ مدرسۃ الاسلام میں داخل کرایاگیا توسندھ مدرسۃالاسلام میں محمد علی جناح کا جنرل رجسٹر نمبر 114، ہے نام محمد علی جناح جائے پیدائش کراچی،تاریخِ پیدائش کا کالم خالی ہے۔سر پرست کے دستخط کا خانہ بھی خالی ہے،ذات میں خوجہ درج ہے،سابقہ تعلیم کے خانے میں گجراتی کی چار جماعتیں درج ہے،فیس کے خانے میں (paying)فیس ادا کرنے والا لکھا ہے ،تاریخ داخلہ 4،جولائی 1887 درج ہے۔ان کا داخلہ انگریزی کی پہلی جماعت میں کیا گیاتھاان اندراجات سے اندازہ ہوتا ہے کہ شائدقائد اعظم کا داخلہ خود ان کے والد جناح پونجا نے نہیں کرایا تھا۔ بلکہ کاروباری مصروفیات کے پیش نظر انہوں نے محمد علی جناح کو کسی قریب رشتے دار یا دوست کے ذریعے اسکول میں داخل کرایا ہوگا۔جسکا ثبوت یہ ہے کہ تاریخِ داخلہ کا خانہ اور سر پرست کے دستخط دونوں کے ہی خانے خالی ہیں
محمد علی جناح نے گجراتی کی چار جماعتیں پڑھنے کے بعدسندھ مدرسۃ الاسلام کے اسٹینڈرڈ فرسٹ میں (انگریزی کی پہلی جماعت) میں داخلہ لیا تھا۔بہر حال گجراتی کی چار جماعتیں محمد علی جناح نے غالب خیال یہ ہی ہے کہ گھر پر پڑھی ہونگی کیونکہ چھوٹی عمر محمد علی جناح کے لئے گھر سے دور کسی اسکول میں جانا دشوار تھا۔اور ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ وہ اپنے والدین کے اس وقت سب سے بڑے بیٹے تھے ان کے والدین ان سے محبت بھی بہت زیادہ کرتے تھے۔
قائد اعظم کی پہلی شادی صرف سولہ سال کی عمر میں ایمی بائ سے ہوئ جو رشتے میں والدہ کی طرف سے ان کی کزن لگتی تھیں۔ شادی کے وقت ایمی بائ کی عمر صرف چودہ برس تھی۔ شادی کے بعد جناح نے کراچی واپس آکر چرچ مشن ہائ اسکول میں چھٹی کلاس میں داخلہ لیا تھا اور شادی کے کچھ ماہ بعد ہی جناح اعلی تعلیم کے لئے انگلینڈ چلے گیے جبکہ 1893 میں ہی ایمی بائ کا ہیضے کی وبا میں صرف پندرہ یا سولہ سال کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے بعد جناح نے پچیس سال تک شادی نہیں کی۔ جناح نے دوسری شادی اپنے پارسی دوست پیٹٹ مانک جی ڈنشا کی اٹھارہ سالہ بیٹی رتی سے1918 میں کی ۔ رتی نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام مریم رکھا۔ اس شادی کا تفصیلی احوال آپ رتی اور جناح کی پوسٹ میں پڑھ سکتے ہیں۔ رتی سے قائد اعظم کی ایک ہی بیٹی تھیں جن کا نام دینا جناح تھا۔ رتی یا مریم جناح 1929 میں انتقال کر گئی تھیں۔ قائد اعظم کی اکلوتی بیٹی دینا جناح کی زندگی کے بارے میں تفصیل آپ قائد اعظم کی اکلوتی بیٹی دینا جناح والی پوسٹ میں پڑھ سکتے ہیں۔
پاکستان میں محمد علی جناح کی املاک کے ٹرسٹی اور ان کی بہن مریم بائی کے نواسے لیاقت مرچنٹ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جناح کا صرف ایک نواسہ نصلی واڈیا ہے جو انڈیا میں ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا کوئی نواسہ، پوتا یا پڑپوتا نہیں ہے۔
’جناح پونجا کے سب سے بڑے بیٹے محمد علی جناح تھے، بیٹی رحمت بائی جن کی کلکتہ شادی کرائی گئی تھی، اس کے بعد مریم بائی اور ان کے بعد احمد جناح تھے جن کا ممبئی میں انتقال ہوا۔ ان کی شادی ایک سوئس خاتون سے ہوئی تھی۔ ان کی ایک ہی بیٹی تھیں فاطمہ۔ ان کا بھی انتقال ہوگیا ہے۔ تیسری بہن شیریں بائی جن کی جعفر بھائی سے شادی ہوئی تھی جو اسماعیلی خوجہ تھے۔ شیری بائی کا ایک ہی بیٹا تھا اکبر جعفر جو ماں سے پہلے کراچی مہتا پیلس میں انتقال کرگئے۔ اس وقت ان کے خاندان میں کوئی نہیں ہے۔‘
’سب سے چھوٹی بہن فاطمہ جناح نے کبھی شادی نہیں کی تھی،
لیاقت مرچنٹ کے مطابق وہ پاکستان میں انیس سو چھیاسٹھ سے موجود ہیں اور مریم بائی کے نواسے ہیں اور جناح کی زندگی کے بارے میں کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جناع کی جائیداد اور ٹرسٹ کے نگران ہیں مگر حکومت نے اس فیصلے کے بارے میں کبھی پوچھا نہیں نہ اور ہی رابطہ کیا۔
انہوں نے بتایا ’محمد علی جناح نے اپنی تحریری وصیت میں بھی تمام خاندان کا حصہ مقرر کردیا تھا، جس کے تحت بیٹی دینا واڈیا کے لیےدو لاکھ روپے چھوڑے۔ چار بہنوں رحمت بائی، مریم بائی، شیریں، فاطمہ اور بھائی احمد جناح کے لیے ماہانہ سو روپے تاحیات مقرر کیے۔ دینا واڈیا کو ابھی تک دو لاکھ روپے کا منافع بھیجا جاتا ہے۔‘
لیاقت مرچنٹ کے مطابق جائیداد کا اکثر حصہ وصیت کے مطابق تعلیمی اداروں کودیا گیا۔ جن میں اردو عربی کالج، ممبئی یونیورسٹی، پشاور یونیورسٹی، اسلامیہ کالج، سندھ مدرسہ، علی گڑھ یونیورسٹی کو بڑی بڑی رقومات دینے کو کہا تھا۔ ’جب علی گڑھ یونیورسٹی کی باری آئی تو پتہ چلا کہ بھارتی حکومت نے قانون تبدیل کردیا ہے اب یہ وہ ادارہ نہیں تھا جس کے لئے انہوں نے اپنے پیسے چھوڑے تھے۔ ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا کہ پیسے بھارت نہ بھیجے جائیں اسی نام سے یہاں ادارہ بنایا جائے جو ضرورت مند طالب علموں کو اسکالرشپ فراہم کرے۔‘
انہوں نے بتایا کہ انیس سو چھیاسٹھ میں جب فاطمہ جناح کا انتقال ہوا تو شیریں بائی ممبئی میں تھیں۔ وہ اور شیریں بائی اسی سال پاکستان آئے۔ شیریں بائی کی دیکھ بھال ان کا خاندان کرتا تھا اور ان کہ وہاں حالات ٹھیک نہیں تھے۔ یہاں خاندان میں تھوڑے اختلافات ہوئے اور شیریں بائی نے فاطمہ جناح کی تمام جائیداد پر دعویٰ کردیا ہے اور ہائی کورٹ میں کیس دائر کردیا۔
’ان کے اس دعوے کی قائد اعظم کے چچا والجی بھائی کے خاندان نے مخالفت کی۔ شیریں بائی کا مؤقف تھا کہ فاطمہ جناح کا جب انتقال ہوا تو وہ شیعہ تھیں، شیعہ قانون کہتا ہے اگر ایک بہن بچ گئی ہے تو ساری جائیداد اس کے پاس جائے گی۔ جبکہ سنی حنفی قانون کہتا ہے کہ ان کا حصہ آدھا ہے اور آدھا مرد لواحقین کو جائے گا جس میں والجی بھائی کے خاندان کے لوگ آتے تھے۔ ہائی کورٹ نے والجی خاندان کے حق میں فیصلہ دیا مگر شیری بائی کا انتقال ہوگیا یہ معاملہ ابھی تک عدالت میں ہے۔‘
لیاقت مرچنٹ کا کہنا ہے کہ محمد علی جناح کے چچا نتھو پونجا کے خاندان میں اس وقت کون ہے انہیں پتہ نہیں کیونکہ ان سے کبھی رابطہ ہی نہیں ہوا۔
 
https://en.m.wikipedia.org/wiki/Jinnah_family
 اس کہانی کا تعلق ھمارے آپ کے بچوں اور ملک پاکستان کے مستقبل بلکہ پوری دنیا کے مستقبل سے ہے ۔اصل کہانی یہی ہے لیکن اس کو چھپانے کے لئے آپ کے اردگرد ہزاروں کہانیاں چھیڑ دی گئی ہیں تاکہ آپ کو معلوم نہ ھوسکے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے ۔ یہ جو آپ کو طالبان ، پاکستان کے خلاف نعرے بازی ، پاکستانی اداروں کے خلاف پارلیمنٹ میں تقریریں یا بلوچستان کی شورش وغیرہ وغیرہ جیسی کہانیاں ، سب کچھ صرف ایک کہانی کی اولاد ہیں۔ یہ کہانی چائنہ اور پاکستان کی دوستی سے شروع ہوتی ہے اور ختم بھی اسی دوستی کے ساتھ انڈیا کی دشمنی پر ہوتی ہے۔ اس ساری داستان کو سمجھنے کے لئے ایک نقشہ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں اس نقشے کو سمجھنا اور اسے یاد رکھنا بہت ضروری ہے ۔ میں نے اس پر اپنے ہاتھ سے کچھ لکیریں کھینچی ہیں کوشش کرونگا کہ آسان الفاظ میں سب کچھ آپ کو بتا سکوں۔
سب سے پہلے اس نقشے پر دو ملکوں کو دیکھئیے جن کو گلابی رنگ سے دوسری دنیا سے الگ کیا ہوا ہے۔ یہ دو ملک ، دو بھائی ، دو عظیم ہمسائے پاکستان اور چین ہیں۔سب سے پہلے ہمیں چین کی جغرافیائی صورتحال سمجھنا ہوگی ۔ .میں نے چین کے نقشے پر ایک سرخ رنگ کی لکیر اے اور بی کھینچ کر اسے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ اس لکیر کے ایک طرف چین کا مشرقی حصہ ہے دوسری طرف مغربی حصہ ہے ۔ مشرقی حصہ جو کہ چین کے کل رقبے کا تقریبا" چالیس فیصد ہے اس میں چین کی 94 فیصد آبادی رہتی ہے ۔دوسرا مغربی حصہ جس کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں یہ ساٹھ فیصد ہے یعنی مشرقی حصے سے بڑا علاقہ ہے اس کی ساری آبادی صرف 6 فیصد ہے جب کہ باقی سارے کا سارا غیر آباد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرقی حصے کے ساتھ سمندر ہے اسی مشرقی حصے میں چین کی بندرگاہیں ہیں جن کی وجہ سے چین دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ اسی سمندری راستے سے چین کا تجارتی سامان دنیا بھر میں جاتا ہے جس پر چین کی ساری معیشت کا دارومدار ہے اور اسی مشرقی راستے سے چین کے جہاز تیل پیدا کرنے والے ملکوں سے تیل لے کر آتے ہیں۔ اسی لئے چین کی تمام تر آبادی اسی مشرقی حصے میں رہتی ہے یہ مشرقی حصہ اسی وجہ سے خوشحال اور ترقی یافتہ ہے اور چینی عوام کے ساروکاروبار اور صنعت اسی حصے میں ہے ۔
اسی نقشے پر آگے بڑھتے ہیں ۔ میں نے ایک سبز رنگ کی ایک بہت لمبی سی لکیر بھی بنائی ہوئی ہے یہ لکیر اوپیک ممالک(آرگنائزیشن آف پیٹرولیم ایکسپورٹ کنٹریز) سے شروع ہوتی ہے۔اوپیک ممالک میں دنیا کے سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ملک شامل ہیں۔یہ ملک ایران عراق اور سعودی عرب ہیں۔ یہ سبز لکیر ان ملکوں سے تیل لے کر جانے والے جہازوں کا سمندری روٹ ہے ۔ دنیا کا ایک بٹا تین تیل اسی راستے سے جاتا ہے ۔ اس راستے کا پہلا ملک پاکستان ہے ۔ یعنی پاکستان کا تیل کے ممالک سے سب سے کم فاصلہ ہے۔ اس کے بعد انڈیا کو بھی آگے جا کر اسی راستے سے تیل ملتا ہے ۔ پاکستان میں گوادر کے راستے تیل کی سپلائی ملتی ہے ۔ چین تک تیل کی سپلائی کا یہ انتہائی لمبا راستہ ہے۔جیسا کہ آپ کو نقشے میں نظر آ رہا ہے یہ سبز رنگ کی لمبی سی لکیر سمندر کا ایک انتہائی طویل راستہ طے کرکے چین تک پہنچتی ہے ۔ چین کو تیل کی سپلائی لمبا راستہ ہونے کی وجہ سے انتہائی مہنگی پڑتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس راستے میں چین کے لئے بہت سی مشکلات بھی آتی ہیں ۔ پہلی مشکل تو یہ کہ انڈیا سے جنگ کی صورت میں انڈیا چین کی تیل کی اور تجارت کی سپلائی لائن کو بڑی آسانی سے کاٹ کر چین کو مفلوج کر سکتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ کہ چین کے جہازوں کی آمدورفت کا راستہ انڈیا کے قریب سے گذرتا ہے ۔
تیسری وجہ یہ راستہ چین کے لئے مستقبل میں کئیوجوہات کی بنا پر بہت سی مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے ۔ اس راستے میں جو کہ تقریبا" اٹھارہ ہزار جزائر پر مشتمل ہے اس پر بہت سے ممالک اپنی نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔ یہ جزائر معدنی لحاظ سے سونے کی چڑیا ہیں۔ ملائشیا،برونائی ، فلپائن اور ویتنام اس میں سے اپنے اپنے حصے کے دعویدار ہیں۔اس سمندر کو جو کہ ساؤتھ چائنہ سی کہلاتا ہے اسے چین اپنا سمجھتا ہے ۔دوسری طرف امریکہ ، چین کے دشمنوں ویتنام ، جاپان اور انڈیا وغیرہ سے روابط بڑھا رہا ہے تاکہ ان کے ذریعے چین کا راستہ بند کرکے اس کی ناک میں دم کیا جا سکے ۔ یہ راستہ جس پر چین کی معیشت کا سارا دارومدار ہے چین کے لئے خطرناک ہوچکا ہے ۔
اس موقع پر پاکستان چین کے لئے اللہ کی سب سے بڑی نعمت سے کم نہیں ہے۔ اگر چین کو ایک ایسا راستہ مل جائے جو اس کے مغربی ساٹھ فیصد علاقے کو سمندر سے ملا دے تو چین کی یہ تینوں بڑی مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔ نمبر ایک چین کا ساٹھ فیصد حصہ جو غیراباد پڑا ہوا ہے اسے چین آباد کر سکتا ہے ۔ اسی چھوٹے سے راستے اپنا تجارتی سامان پوری دنیا میں انتہائی آسانی سے اور انتہائی کم خرچے سے بیچ سکتا ہے ۔ اپنی تیل کے سپلائی کے راستے کو ھزار گنا چھوٹا کرکے بہت تھوڑے سے خرچے سے تیل حاصل کر سکتا ہے دوسرا جہازوں کے آنے جانے والے طویل سمندری راستے کے تمام خطرات کا مکمل خاتمہ ھو سکتا ھے ۔
چین نے پاکستان سے اس سلسلے میں بات کی ۔ گوادر بندرگاہ اس مقصد کے لئے انتہائی سوٹ ایبل اور بہترین تھی۔ دونون بھائیون پاکستان اور چین نے طے کیا کہ گوادر سے لے کر چین کے شہر کاشگار تک تین ہزار کلومیٹر لمبا ایک بہترین راستہ بنایا جائے ۔ چین اپنی مصنوعات اس راستے سے گوادر کی بندرگاہ تک پہنچایا کرے گا جہاں سے یہ تجارتی سامان جہازوں میں لاد کر مڈل ایسٹ اور باقی دنیا میں بھیجا جایا کرے گا، اسی راستے سے اوپیک ممالک سے خریدا گیا تیل بہت ہی کم خرچ میں اور تھوڑے وقت میں چین تک پہنچایا جائے گا۔
یہ راستہ جسے سی پیک یا چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کہا جاتا ہے اس سے پاکستان کو کیا حاصل ہوتا ھے؟۔یہ صرف گذرنے کا ایک راستہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی انتہائی ترقی اور کامیابی کا عظیم راستہ ہے ۔ اس راستے کے بننے سے پاکستان کا شمار دنیا کے امیرترین ممالک میں ہونے لگ جائے گا۔یہ منصوبہ کیونکہ انتہائی اہم ہے چنانچہ اسے پاک فوج کے حوالے کر دیا گیا۔ 1947 میں برصغیر کے مسلمانوں نے الگ وطن حاصل کیا لیکن آج پاک فوج اس منصوبے کے ذریعے پاکستان کو دنیا کے ممالک میں اہم ترین مقام دینے میں دن رات مصروف ہے ۔ اس راہداری کے بننے کے بعد اولیاء اللہ کی وہ تمام پشین گوئیاں سچ ثابت ہو جائیں گی جن میں بتایا گیا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب پاکستان کی ہاں میں ہاں ملانے سے دنیا کے فیصلے ہوا کریں گے اور پاکستان کا مقام دنیا میں وہ ہو جائے گا جہاں دنیا بھر کے لوگ روزگار کے لئے ویزے حاصل کرنے کے لئے ترسا کریں گے۔ یہاں پاکستانیوں کے لئے روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوجائیں گے۔دوسرا فائدہ یہ سڑک جو کہ پاکستان کے ہر صوبے میں سے گذرے گی یہ پاکستان کو ایک مضبوط زنجیر میں ایسا باندھ دے گی کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا خواب دیکھنے والوں کے خواب ھمیشہ کے لئے مردہ ہو جائیں گے۔ چین اور پاکستان کے اس طرح مل جانے سے پاکستان کا دفاع اتنا مضبوط ہوجائے گا کہ دنیا کی کوئی طاقت ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکے گی۔ چین گوادر پورٹ پر ایک ایسا دفاعی نظام بنا سکتا ہے جس کے بعد انڈیا کی بغیر ایک بھی گولی چلائے موت واقع ہوجائے گی کیونکہ آپ نقشے میں دیکھ سکتے ہیں کہ گوادر وہ راستہ ھے جہاں سے ہوکر انڈیا کے بحری جہاز سامان تجارت لے کر آتے جاتے ہیں اسی راستے انڈیا کا تیل آتا جاتا ہے گوادر پر چین کا پہرہ لگ جانے کے بعد چین اور پاکستان جب چاہیں انڈیا کا دنیا سے بحری راستہ بند کر سکتے ہیں۔ اگر انڈیا ہمارا پانی بند کر سکتا ہے تو ہم بھی چین کے ساتھ مل کر اس کی معاشی شہ رگ کاٹ سکتے ہیں۔ گوادر سے ایک سرخ رنگ کی لکیر چلتی ہوئی بلوچستان ، سندھ ، پنجاب ،کے پی کے ، فاٹا ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے گزرتی ہوئی چین میں داخل ہو جاتی ہے اور چین کے شہر کاشگار تک پہنچ جاتی ہے یہی پاک چین راہداری کا راستہ ہے ۔
انڈیا کیا چاہتا ہے ؟ یہ ساری صورتحال انڈیا کے لئے موت سے کم نہیں ہے ۔ اس راہداری کے ذریعے انڈیا کا چین گھیراؤ کر لے گا ۔ انڈیا چین کا راستہ بند کرنے کے خواب دیکھتا ہے لیکن اس منصوبے کے بعد چین کا راستہ تو ہمیشہ کے لئے بن جاتا ہے مگر انڈیا کا اپنا ہی راستہ بند ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے اس طرح انڈیا کی معاشی شہ رگ چین اور پاکستان کی مٹھی میں آ جائے گی۔ دوسرا اس منصوبے کے بعد پاکستان کی غربت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوجاتا ہے جبکہ انڈیا پاکستان کو ھمیشہ مقروض اور بھوکا ننگا ملک دیکھنے کا خواھشمند ہے۔ اس کی خواھش پر پانی پھر جاتا ہے ۔ تیسرا پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہوجانے کے بعد انڈیا کا پاکستان کو نقصان پہنچانے یا ڈراوے دینے کے ڈرامے ہمیشہ کے لئے دم توڑ جائیں گے۔ چوتھا پاکستان اور چین کے ایک ہو جانے کے بعد خود انڈیا کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ چنانچہ اس منصوبے کو ناکام کرنا انڈیا کے لئے زندگی موت کا مسلہ بن گیا ہے ۔
تحریر لمبی ہو گئی ہے میری اس کہانی کا آخری اور اہم حصے اگلی پوسٹ میں ۔ اگلی پوسٹ میں آپ کو بتاؤں گا کہ پاکستان میں یہ سب کیا ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے کون کروا رہا ہے کیسے کروا رہا ہے اور اس سے نمٹنے کا کیا علاج ہے ۔۔
آپ کا مجنوں
حضورِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نسب شریف والد ماجد کی طرف سے یہ ہے: بخاری شریف کی حدیث کے مطابق
(۱)حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (۲) بن عبداللہ (۳) بن عبدالمطلب (۴) بن ہاشم (۵)بن عبد مناف(۶)بن قصی(۷)بن کلاب(۸)بن مرہ(۹)بن کعب (۱۰)بن لوی(۱۱)بن غالب(۱۲)بن فہر(۱۳)بن مالک(۱۴) بن نضر (۱۵) بن کنانہ(۱۶) بن خزیمہ(۱۷) بن مدرکہ(۱۸) بن الیاس (۱۹) بن مضر (۲۰) بن نزار(۲۱) بن معد(۲۲)بن عدنان ۔
(صحیح البخا ری،کتاب مناقب الانصا ر،باب مبعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم،ج2،ص573)
اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا شجره نسب یہ ہے:
(1) حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم(2) بن آمنہ(3)بنت وہب(4) بن عبد مناف(5) بن زہرہ(6) بن کلاب(7) بن مرہ۔
(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،اولاد عبد المطلب،ص48)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والدین کا نسب نامہ ''کلاب بن مرہ '' پر مل جاتا ہے اور آگے چل کردونوں سلسلے ایک ہو جاتے ہیں۔ '' عدنان'' تک آپ کا نسب نامہ صحیح سندوں کے ساتھ باتفاق مؤرخین ثابت ہے اس کے بعد ناموں میں بہت کچھ اختلاف ہے اورحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب بھی اپنا نسب نامہ بیان فرماتے تھے تو ''عدنان'' ہی تک ذکر فرماتے تھے۔
(کرمانی بحوالہ حاشیہ بخاری ج 1، ص543)
مگر اس پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ ''عدنان'' حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں، اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرزند ارجمند ہیں۔
خاندانی شرافت
حضورِاکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خاندان و نسب نجابت و شرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے اشرف و اعلیٰ ہے اور یہ وہ حقیقت ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن کفار مکہ بھی کبھی اس کا انکار نہ کر سکے۔ چنانچہ حضرت ابو سفیان نے جب وہ کفر کی حالت میں تھے بادشاہ روم ہر قل کے بھرے دربار میں اس حقیقت کا اقرار کیا کہ ''ھو فیناذونسب'' یعنی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ''عالی خاندان'' ہیں۔
(بخاری ج1 ص4)
حالانکہ اس وقت وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن تھے اور چاہتے تھے کہ اگر ذرا بھی کوئی گنجائش ملے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات پاک پر کوئی عیب لگا کر بادشاہ روم کی نظروں سے آپ کا وقار گرا دیں۔
مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ''کنانہ'' کو برگزیدہ بنایا اور ''کنانہ'' میں سے ''قریش'' کو چنا ،اور ''قریش'' میں سے ''بنی ہاشم'' کو منتخب فرمایا،اور ''بنی ہاشم'' میں سے مجھ کو چن لیا۔
(صحیح مسلم، کتاب الفضائل ، باب فضل نسب النبی صلی اللہ علیہ وسلم الحدیث:2276، ص1249)
بہر حال یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضورِانور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خاندان اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ کوئی بھی حسب و نسب والا اور نعمت و بزرگی والا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مثل نہیں ہے۔
عرب ان کو ''قریش'' کے لقب سے پکارنے لگے۔ چنانچہ اس بارے میں مشہور ہے کہ ''قریش'' ایک جانور ہے جو سمندر میں رہتا ہے۔اسی کے نام پر قبیلۂ قریش کا نام ''قریش '' رکھ دیا گیا۔ (زرقانی علی المواہب ج 1 ص76)
حضرت ہاشم
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پردادا ' 'حضرت ہاشم'' بڑی شان و شوکت کے مالک تھے۔ ان کا اصلی نام ''عمرو'' تھا انتہائی بہادر ،بے حد سخی، اور اعلیٰ درجے کے مہمان نواز تھے۔ ایک سال عرب میں بہت سخت قحط پڑ گیااور لوگ دانے دانے کو محتاج ہو گئے تو یہ ملکِ شام سے خشک روٹیاں خرید کر حج کے دنوں میں مکہ پہنچے اور روٹیوں کا چورا کرکے اونٹ کے گوشت کے شوربے میں ثرید بنا کر تمام حاجیوں کو خوب پیٹ بھر کر کھلایا۔اس دن سے لوگ ان کو''ہاشم''(روٹیوں کاچورا کرنے والا)کہنے لگے۔ ( مدارج النبوۃ ج2 ص8)
چونکہ یہ ''عبدمناف'' کے سب لڑکوں میں بڑے اور با صلاحیت تھے اس لئے عبد مناف کے بعد کعبہ کے متولی اور سجادہ نشین ہوئے بہت حسین و خوبصورت اور وجیہ تھے جب سن شعور کو پہنچے تو ان کی شادی مدینہ میں قبیلہ خزرج کے ایک سردار عمرو کی صاحبزادی سے ہوئی جن کا نام ''سلمیٰ'' تھا۔اور ان کے صاحبزادے ''عبد المطلب'' مدینہ ہی میں پیدا ہوئے چونکہ ہاشم پچیس سال کی عمر پاکر ملک شام کے راستہ میں بمقام ''غزہ'' انتقال کر گئے۔ اس لئے عبدالمطلب مدینہ ہی میں اپنے نانا کے گھر پلے بڑھے،اور جب سات یا آٹھ سال کے ہو گئے تو مکہ آکر اپنے خاندان والوں کے ساتھ رہنے لگے۔
حضرت عبدالمطلب
حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دادا ''عبدالمطلب''کااصلی نام ''شیبہ'' ہے۔ یہ بڑے ہی نیک نفس اور عابد و زاہد تھے۔ ''غار حرا'' میں کھانا پانی ساتھ لے کر جاتے اور کئی کئی دنوں تک لگاتار خداعزوجل کی عبادت میں مصروف رہتے۔ رمضان شریف کے مہینے میں اکثر غارِ حرا میں اعتکاف کیا کرتے تھے، اور خداعزوجل کے دھیان میں گوشہ نشین رہا کرتے تھے۔ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نورِ نبوت ان کی پیشانی میں چمکتا تھااور ان کے بدن سے مشک کی خوشبو آتی تھی۔ اہل عرب خصوصاً قریش کو ان سے بڑی عقیدت تھی۔ مکہ والوں پر جب کوئی مصیبت آتی یا قحط پڑ جاتا تو لوگ حضرت عبدالمطلب کو ساتھ لے کر پہاڑ پر چڑھ جاتے اور بارگاہِ خداوندی میں ان کو وسیلہ بنا کر دعا مانگتے تھے تو دعا مقبول ہو جاتی تھی۔ یہ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے لوگوں کو بڑی سختی کے ساتھ روکتے تھے اور چور کا ہاتھ کاٹ ڈالتے تھے۔ اپنے دسترخوان سے پرندوں کو بھی کھلایا کرتے تھے اس لئے ان کا لقب ''مطعم الطیر''(پرندوں کو کھلانے والا) ہے۔ شراب اور زنا کو حرام جانتے تھے اور عقیدہ کے لحاظ سے ''موحد'' تھے۔ ''زمزم شریف'' کا کنواں جو بالکل پٹ گیا تھا آپ ہی نے اس کو نئے سرے سے کھدوا کر درست کیا، اور لوگوں کو آب زمزم سے سیراب کیا۔ آپ بھی کعبہ کے متولی اور سجادہ نشین ہوئے۔اصحاب فیل کا واقعہ آپ ہی کے وقت میں پیش آیا۔ جس کا تذکرہ بڑی تفصیل سے ایک پوسٹ میں گزر چکا ہے۔ایک سو بیس برس کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ۔ اللہ تعالٰی نے مخلوق پید اکی تو مجھے بہترین مخلوقات میں رکھا۔ پھر ان کے دو گروہ کئے تو مجھے بہتر گروہ میں رکھا۔ پھران کے خاندان بنائے تو مجھے بہتر خاندان میں رکھا۔ پس میں تمام مخلوق الہٰی سے خود بھی بہتر اور میرا خاندان بھی سب خاندانوں سے افضل ۔
(سنن الترمذی کتاب الدعوات حدیث ۳۵۴۳ دارالفکر بیروت۵ /۳۱۴)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان معظم ہے کہ۔ اللہ تعالٰی نے خلق کی دو قسمیں کیں تو مجھے بہتر قسم میں رکھا ۔ اوریہ وہ بات ہے جو خدا تعالٰی نے فرمائی ۔ دہنے ہاتھ والے اوربائیں ہاتھ والے ، تو میں دہنے ہاتھ والوں سے ہوں ، اور میں سب دہنے ہاتھ والوں سے بہتر ہوں ۔ اوریہ خدائے تعالٰی کا وہ ارشاد ہے کہ دہنے ہاتھ والے اوربائیں ہاتھ والے ۔اورسابقین ، تو میں سابقین میں سے ہوں ، اور میں سب سابقین سے بہترہوں ۔ پھر ان حصوں کے قبیلے بنائے تو مجھے بہتر قبیلے میں رکھا ۔ اوریہ خدائے تعالٰی کا وہ فرمان ہے کہ ہم نے کیا تمہیں شاخیں اورقبیلے ۔(یعنی الی قولہ تعالٰی ان اکرمکم عنداللہ اتقٰکم بیشک تم سب میں زیادہ عزت والا خدا کے یہاں وہ ہے جو تم سب میں زیادہ پرہیزگار ہے ) تو میں سب آدمیوں سے زیادہ پرہیز گار ہوں ، اورسب سے زیادہ اللہ کے یہاں عزت والا ، اورکچھ فخر مراد نہیں ۔پھر ان قبیلوں کے خاندان کئے تو مجھے بہتر خاندان میں رکھا۔ اوریہ اللہ تعالٰی کا وہ کلام ہے کہ خدائے تعالٰی یہی چاہتاہے کہ تم سے ناپاکی دورکرے اے نبی کے گھروالو!اورتمہیں خوب پاک کردے ستھرا کر کے۔
( المعجم الکبیر حدیث۱۲۶۰۴ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۲ /۱۰۴)
ان جیسی احادیث کی شرح میں بہت سے محدثین نے لکھا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آباؤ اجداد میں سے کوئی بھی بت پرست نہیں تھا۔ بلکہ وہ دین ابراہیم پر ہی قائم تھے۔ اور سارے مطاہر وموحد یعنی ایک خدا کو ماننے والے تھے۔
( واللہ اعلم ورسولہ اعلم)
(زرقانی علی المواہب ج1 ص72)
سکھر شہر سے دو میل دور ، کراچی لاہور روڈ پر ایک نہر بہتی ہے-
تانگے والا ہمیں اسی نہر کے کنارے اتار کر چلا گیا- سورج مشرق سے سر نکال رہا تھا- ہم پیدل چلتے ہوئے اس قلعہ نماء عمارت تک پہنچے جسے "سکھر جیل" کہا جاتا تھا-
جیل کے دروازے پر کھڑے سنتریوں نے ہمیں دور ہی سے گھورنا شروع کر دیا- ہمارے کندھوں پر سفری بیگ تھے اور حالت درویشوں جیسی ہو چکی تھی- یوں لگ رہا تھا جیسے ہم برسوں کا سفر کر کے یہاں پہنچے ہوں-
رمضان کا مہینہ تھا اور عید کی آمد آمد- سکھّر اپنی شدید گرمی کے سبب ان دنوں " سقّر " بنا ہوا تھا- 126 ڈگری فارن ہائیٹ درجہء حرات میں حالت یہ تھی کہ انڈہ پانی میں ڈال کر دھوپ میں رکھ دو تو پانچ منٹ میں ابل جائے-
جیل کے سامنے درختوں کا گھنّا سایہ تھا- ہم نے پتھر کے ایک بنچ پر اپنے بیگ دھرے- دو چار لمبی لمبی سانسیں لیں ، پھر چہرے پر ایک زبردستی کی مسکراہٹ سجائے ہوئے سنتریوں کے پاس تشریف لے گئے-
"اسلام علیکم ادا .... سُٹھو حال سائیں !!! " چاند پوری نے آغازِ کلام کیا-
" پلی کری آیاں " ایک عمر رسیدہ سنتری چاند پوری کو سرتا پاؤں دیکھتے ہوئے بڑبڑایا-
"سائیں ادھر کچھ مولوی حضرات آئے ہوئے ہیں کارانچی سے .... ہم ان کا ملاقاتی آیا ہے "
" کیدھر سے آیا ہے تم بابا ؟؟ " سنتری نے پوچھا-
" لاہور سے .... !!! "
" اور یہ مُلّے لوگ تمہارا کیا لگتا ہے ؟؟"
" دیکھو بابا ہم صحافی ہیں .... اور جیل کے قیدیوں پر ایک رپورٹ لکھ رہے ہیں"
"دیکھو سائیں .... ایدھر رپوٹر شپوٹر کا سخت منہائ ہئے .... اور کسی مُلّے سے ملاقات کا آرڈر بھی ناہیں ہئے .... جیل سپریڈنٹ بوہت ڈاڈھا بندہ ہئے سائیں .... سنتریوں پہ غُصّہ کرتا ہئے بابا "
" چلو پھر جیل سپریڈنٹ سے ہی ملاقات کروا دو " چاند پوری نے کہا-
"ارے بابا جیل سپریڈنٹ مانڑوں مانڑوں کو تھوڑی ملتا ہے .... "
"ہم مانڑوں نہیں صحافی ہے "
" تم آئسا کرو بابا کہ عید پر آجانڑاں .... ملاقات کروا دیں گے"
"عید میں تو ابھی ایک ہفتہ ہے سائیں .... ہم اتنا انتظار نہیں کر سکتے .... تم سپریڈنٹ کو اطلاع دے دو کہ لاہور سے کچھ صحافی آئے ہیں"
" کائسے اطلاع دے دوں بابا .... پادری صاب تو چرچ گئے ہوئے ہائیں .... "
"پادری صاحب کون ؟ "
" مسٹر کنیزرو پادری ہے ناں .... وہی جیل کا سپریڈنٹ ہے"
چاند پوری مونہہ لٹکائے واپس آ گئے- ہم دونوں پتھر کے بنچ پر خاموش بیٹھ گئے-
اس دوران سائیکل پر سوار ایک بابا ادھر آیا- کوئ پچاس پچپن کا سن ، سفید ریش اور بارعب چہرہ- اس نے سائیکل گیٹ کے ایک طرف کھڑی کی- ہمیں "سلاماں لیکم" کہا پھر کیرئیر سے ایک لحیم شحیم جھاڑو اتار کر جیل کے سامنے سڑک پر صفائ کرنے لگا- شکل سے وہ کسی طور بھنگی نہیں لگ رہا تھا- ہم خاموشی سے اسے دیکھتے رہے-
کام ختم کر کے وہ سیدھا ہمارے پاس چلا آیا-
سلام دعا ہوئ ، تعارف ہوا- اس کا نام یعقوب قادری تھا- وہ سکھّر میں فرنیچر کا کام کرتا تھا- یعقوب پنجابی میں شاعری بھی کرتا تھا اور حبِ آلِ رسول ﷺ اس کا اوڑھنا بچھونا تھا- اسے ختم نبوّت تحریک کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں-وہ تو بس اتنا جانتا تھا کہ کراچی سے کچھ سادات سکھّر جیل آئے ہوئے ہیں- یہ معلومات بھی اسے جیل کے اندر لکڑی کا کام کرتے ہوئے دستیاب ہوئ تھیں- اس کا ٹھیکہ ختم ہوا تو وہ جیل کو ہی درگاہ بنا کر بیٹھ گیا- وہ روزانہ سائیکل پر یہاں آتا ، سادات کی زیارت کےلئے سنتریوں کی منّت سماجت کرتا- پھر جیل کے دروازے پر جھاڑو لگا کر واپس چلا جاتا-
"جیلر بوہت چنگا بندہ اے .... ہے تے پادری .... پر اخلاق بوہت وھیا اے " یعقوب نے بتایا-
" اس کا مطلب ہے ملاقات ہو جائے گی ؟؟" چاند پوری نے پُوچھا-
" ناں جی ناں .... یزیدیاں دی حکومت وچ سیّداں نال ملاقات کس طرح ہو سکدی اے .... آلِ رسول ﷺ نوں تپدیاں کوٹھیاں وچ سُٹیا اے ظالماں نے .... رب انہاں نوں پچھے گا .... !!! "
"پھر بھی .... کوئ صورت تو ہو گی ؟؟ " چاند پوری نے امید بھری نظروں سے سوال کیا-
" زیارت ہو سکدی اے .... !!! " وہ پٹکے سے چہرہ صاف کرتے ہوئے بولا-
" زیارت ؟؟ کیا خواب میں ہوگی زیارت ؟؟ "
" او سرکاراں .... اودھر پیچھے اِک باگ ہے .... شام نوں پیر بادشاہ اودھر گشت کردے نیں .... سنتری نوں دو روپے چٹّی دے کے تُسّی وی زیارت کر لوؤ "
عصر تک ہم وہیں بیٹھے یعقوب قادری کی گپیں سنتے رہے- اس بہانے روزہ بھی اچھا گزر گیا- یعقوب نے ہمیں اپنا کچھ کلام بھی سنایا جو ہمارے فہم و ادراک سے کافی اونچا تھا- اس دوران وہاں کچھ اور ملاقاتی بھی آ گئے- ان میں سے بعدوں کو ملاقات کی اجازت بھی مل گئ- کچھ لوگ کھانے پینے کا سامان بھی اندر لے گئے- یعقوب نے بتایا کہ یہ عام قیدیوں کے رشتہ دار ہیں- مثلاً چور ڈاکو قاتل لٹیرے دھاڑیل- سید بادشاہوں کے بارے میں بہت سختی ہے- اس نے بتایا کہ سادات کو ایسی تنگ و تاریک کوٹھڑیوں میں رکھا گیا ہے جہاں تک پہنچنے کےلئے پانچ کوٹھڑیوں سے گزرنا پڑتا ہے- جہاں نہ تو کھڑکیاں ہیں نہ روشن دان- دن کو کوٹھڑیاں تندور کی طرح تپ جاتی ہیں تو قیدی دروازے کے پاس باری باری لیٹ کر تازہ ہوا لیتے ہیں- پینے کو افطار میں بھی گرم پانی ملتا ہے-
عصر کے بعد یعقوب نے سنتری سے جا کر بات کی پھر ہمیں بلایا-
" پہلے درگاہ تے دو روپے نزرانہ چڑھاؤ !!! "
ہم نے دو دو روپے سنتری کو ادا کئے اور یعقوب کے پیچھے پیچھے چل دیے- وہ ہمیں ایک لمبا چکر لگوا کر جیل کے پچھواڑے میں لے آیا- یہاں کافی جھاڑ جھنکار تھا اور ایک طرف پختہ اینٹوں کا ایک ڈھیر سا لگا ہوا تھا- ہم جیسے تیسے کر کے اینٹوں پر چڑھ گئے- اب دیوار سے پار کا منظر صاف دیکھا جا سکتا تھا-
سامنے کوئ دو سو قدم کے فاصلے پر وہ تنگ و تاریک کوٹھڑیاں تھیں جن میں ابولحسنات سید احمد قادری ، سیّد عطاءاللہ شاہ بخاری ، سید عبدالحامد بدایونی ، علامہ سیّد مظفر شمسی ، مولانا عبدالرحیم جہلمی ، صحافی اللہ نواز اور صاحبزادہ سیّد فیض الحسن عشق کی قید کاٹ رہے تھے- کوٹھڑیوں کے سامنے ریت کا ایک چٹیل میدان تھا جس میں دو ٹنڈ منڈ درخت لگے ہوئے تھے-
" باغ کدھر ہے قادری صاحب .... یہاں تو ریت ہی ریت ہے" میں نے پوچھا-
"او سرکاراں .... اسے نُوں باغ کہندے نیں .... جیل وچ کوئ امروداں دا باغ تھوڑی ہوندا !!! "
" اس گرم ریت پر چہل قدمی کرتے ہیں سیّد زادے ؟؟ .... روزے کی حالت میں .... ؟؟"
" تے ہور کی .... ہُن آپ ای اندازہ کر لؤو کہ کوٹھڑی دے اندر کی حالت ہونی ایں "
اس دوران ایک سنتری نے آکر کوٹھڑیوں کے تالے کھولنے شروع کئے- آہنی کواڑ دلدوز چیخیں مارتے ہوئے کھلنے لگے-
تھوڑی دیر بعد اندر سے قیدی باہر آنا شروع ہوئے- ان کے معطر اجسام پسینہ پسینہ تھے- اور بال گرد آلود-
سنتری کچھ دور جاکر کھڑا ہو گیا ، اور سید زادے تپتے ہوئے ریگزار کو باغِ ارم سمجھ کر وہاں چہل قدمی کرنے لگے-
" عشق احساسِ تکلیف بھلا دیتا ہے ..... بس .... جسے رب قبول کر لے !!! " چاند پوری نے ایک سرد آہ بھر کر کہا -
اس دوران یعقوب قادری اپنا کلامِ عشق گنگنانے لگے ..... اور ہم خاموش ہوگئے !!!
کھائیو نہ وِساہ سیّو
عشقے اُڈ جانڑیں دا
ڈاڈھا اوکھا جے راہ سّیو
عشقے اُڈ جانڑیں دا
سکھیو !!! عشقِ بے درد کا بھروسہ کبھی نہ کرنا- عشقِ خانہ سوز کا رستہ بہت ہی کٹّھن ہے-
مونہہ لاندا نئیں شودیاں نُوں
بے درد بے ہُودیاں نوں
اوکھا ویڑا جے لاء سیّو
عِشقے اُڈ جانڑیں دا
سکھیو !!! عشقِ کرشمہ ساز کی لگن بڑی ہی کٹھن ہے- یہ کم ظرف ، بے درد اور بے ہودہ لوگوں کے قریب بھی نہیں پھٹکتا-
کونین دے مالِکاں نیں
حیدر دیاں پالکاں نیں
مُل چھڈیا اے پاء سیّو
عشقے اُڈ جانڑیں دا
سکھیو !!! اس عشقِ مایہء انمول کی قیمت سردارانِ جنّت نے ہی چُکائ ہے ، جو حیدرِ کرار کے جگر گوشے تھے-
(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے پھرتے کہ لوگو تم نے کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو، پھر کہنے لگے کہ اب مدینے میں میرا رہنا دشوار ہے، اور شام کے شہر حلب میں چلے گئے۔ تقریباً چھ ماہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے : 
ما هذه الجفوة، يا بلال! ما آن لک أن تزورنا؟
حلبي، السيرة الحلبيه، 2 : 308
’’اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟‘‘
خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر لبیک! یا سیدی یا رسول اﷲ! کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسجدِ نبوی پہنچ کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نگاہوں نے عالمِ وارفتگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا کہ آکر مل جاؤ، غلام حلب سے بہرِ ملاقات حاضر ہوا ہے۔ یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزارِ پُر انوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل گئی کہ مؤذنِ رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔ مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے کہ بلال! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو اشہد ان محمداً رسول اﷲ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا؟
بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ حسنین کریمین رضی اﷲ عنہما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کرسکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :
يا بلال! نشتهی نسمع أذانک الذی کنت تؤذن لرسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فی المسجد.
سبکی، شفاء السقام : 239هيتمی، الجوهر المنظم : 27
’’اے بلال! ہم آج آپ سے وہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ (ہمارے ناناجان) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مسجد میں سناتے تھے۔‘‘
اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو انکار کا یارا نہ تھا، لہٰذا اسی مقام پر کھڑے ہوکر اذان دی جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں دیا کرتے تھے۔ بعد کی کیفیات کا حال کتبِ سیر میں یوں بیان ہوا ہے :
’’جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بآوازِ بلند) اﷲ اکبر اﷲ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اضافہ ہوتا چلا گیا)، جب أشهد أن لا إلٰه إلا اﷲ کے کلمات ادا کئے گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب أشهد أنّ محمداً رسول اﷲ کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں (رقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا) لوگوں نے کہا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔
علامہ اقبال رحمۃ اﷲ علیہ اذانِ بلال رضی اللہ عنہ کو ترانۂ عشق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں
:
اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اُس کے نظارے کا اک بہانہ بنی
امریکہ، جسے سپرپاور سمجها جاتا ہے اپنی آزادی کے وقت سے اب تک دنیا کے ہر خطے اور ملک پر اپنا حق سمجهتا ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کےنام پر کسی بهی ملک پر حمله کرکے تباہی و بربادی کادروازه کهول دینا اپنا حق سمجهتا هے.
ایسا ہی کچھ "کیوبا" میں ہوا، 1959 کیوبا میں امریکہ نواز جمهوری حکومت قائم تهی لیکن 1959 میں کیوبن انقلابی "فیڈل کاسٹرو" نے کیوبن حکومت کا تخته پلٹ دیا اور خود اقتدار پر قبضہ کرلیا، کاسٹرو امریکہ کا سخت مخالف تها اور اس نے امریکی کارپوریشنوں اور کمپنیوں پر قبضہ کرلیا اور بہت سے امریکیوں کو کیوبا سے ملک بدر کردیا. یه صورتحال امریکہ کے لیے انتهائی شرمناک تهی. امریکی صدر آئزن ہاور نے فیدل کاسٹرو کی نئی حکومت کو گرانے کا فیصلہ کیا اور یه کام سی-آئی-اے کے سپرد کیا.
سی-آئی-اے نے فید کاسٹرو کے مخالفین کو گوئٹے مالا میں اکٹها کیا اور انهیں کیوبا پر حمله کرنے کے لیے عسکری تربیت دی جانے لگی، جلدہی جدید اسلحے سے لیس ایک کاسٹرو مخالف فوج تیار کرلی گئی جسے 2506 سالٹ بریگیڈ کا نام دیا گیا.اس بریگیڈ نے کشتیوں کے ذریعے "خلیج پگز" پر حملہ کرکے کاسٹرو کی حکومت کو گراناتها.

15 اپریل 1961 کو امریکہ نے "نکارگوا" سے کیوبا پر فضائی حملوں کا آغاز کیا جس کا مقصد کیوبا کی فضائیہ کو اصل حملے سے پہلے هی تباه کردیا جائے تاکه وه سمندرکے راستے زمینی حملے کو نا روک سکے. انهوں نے "ہوانا" اور "گوانتانامو" کے کیوبن ائیر بیسز پر بمباری کی. اس کارروائی میں 8 امریکی بمبار طیاروں نے حصہ لیا جن میں سے دو کو کیوبن فوج نے مارگرایا.
16 اپریل 1961 کو اصل حملے سے ایک دن پہلے امریکیوں نے ہوانا سے کچھ فاصلے پر واقع ایک ساحل پرایک مصنوعی حملہ کیا تاکه کیوبن فوج کی توجہ اس طرف مبذول کرکے "خلیج پگز" پر جارہانہ حملہ کیاجاسکے. اس حملے میں رات کی تاریکی میں چند امریکی فوجی بوٹس نےکیوبا کے ساحل کے قریب لاوڈ سپیکرز پر فائرنگ کی آواز سے حملے کا تاثر پیدا کیا.
17 اپریل 1961 کو خلیج پگز پر اصل حملے کا آغاز کردیا گیا،
لیکن.........امریکہ نہیں جانتا تها کہ کیوباکی انٹیلی جنس کو اس حملے کی اطلاعات پہلے ہی مل چکی تهیں.
امریکہ نواز جنگجوؤں کو امریکی فوجی بوٹس کے ذریعے خلیج پگز کے ساحل پر اتارا گیا اور چند گهنٹوں بعد امریکی طیاروں کے ایک سکواڈ نے ان کی سپورٹ میں کیوبن فوج پر بمباری کرنی تهی.
حملے کا آغاز جارہانہ انداز میں ہوا، لیکن پہلے سے چوکس کیوبنز نے امریکہ نوازجنگجووں کو آڑہے ہاتھوں لیا اور جنگ کے آغاز سے ہی جنگجووں کو بھاری نقصان ہونے لگا، کاسٹرو کی فوج چن چن کر امریکہ نوازوں کو نشانہ بنارهی تهی. اور وه کسی مورچے پر بهی ڈٹ کر لڑ نهیں پارہے تهے.
یہاں پر امریکیوں سے ایک اور بهیانک غلطی سرزد ہوگئی، جن امریکی پائلٹوں نے حملہ آوروں کی سپورٹ میں کیوبن فوج کو نشانہ بنانا تها وه اپنے گهڑیوں کو کیوبا کے وقت کے مطابق کرنا بهول گئے اور پورے ایک گهنٹے کی تاخیر سے پہنچے جب کیوبنز نے 800 سے زیاده حمله آوروں کو ٹهکانے لگادیا تها اور کئی کو گرفتار کرلیا تها.
دو دن تک گهسمان کی لڑائی لڑی گئی اور دودن کے بعد معرکے کے اختتام پر طرفین کے نقصانات کے اعداد و شمار مندرجہ ذیل تهے...
امریکہ اور اسالٹ بریگیڈ:
1000 کے قریب امریکه نواز باغی ہلاک(کاسٹرو کی ملیشیا کا دعوی)
360 زخمی
1202 گرفتار.
2 بی-26 بمبار طیارے تباه.
جبکه کیوبا کا نقصان:
176 فوجی اہلکار جاں بحق.
500 کے قریب زخمی.
اسطرح "خلیج پگز" کے معرکے کا خوشگوار اختتام ہوا.
معرکے کے کچھ ہی عرصے بعد کاسٹرو نے امریکی حکومت سے گرفتار شده باغیوں کرلی رہائی کی ڈیل کی جس کے عوض امریکہ نے کاسٹرو حکومت کو 58 ملین ڈالرز کی ادائیگی کی.

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers