ماں اور بہن کے مقدس رشتوں کی تمیز سے عاری قادیانی امّت کا دوسرا خلیفہ مرزا بشیر الدين محمود 12 جنوری 1889 کو قادیان میں پیدا ہوا، اسکا بچپن آوارگی اور بے لگام گھٹیا خواہشات کی تکمیل میں گزرا، وہ غلیل لیکر طوطوں کا شکار کرتا اور انکا گوشت کھاتا، شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی نے لکھا ہے کہ مرزا محمود طوطے اور چڑیاں پکڑ کر انکے گلے مروڑا کرتا تھا (شاید اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ ایک دن معصوم لڑکیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کھل کھیلےگا) .
1914 میں حکیم نور دین کے جہنم واصل ہونے کے بعد جب مرزا محمود ابھی 25 سال کا تھا تو وہ ایک سازش کے تحت اور ساتھ غنڈوں کی مدد سے قادیان کا خلیفہ بن گیا (اسکی اسی غنڈہ گردی کی وجہ سے لاہوری جماعت کا وجود ہوا) وہ عیش عشرت اور بے لگام نفسانی خواہشات کا غلام تھا، لجنہ کی خوبصورت اور نوجوان لڑکیاں اس عیاش اور بد کردار خلیفہ کی شیطانی ہوس کے گھات اترتی رہیں (لجنہ اماء الله قادياني عورتوں کی تنظیم ہے) .جب بھی کسی نے مرزا محمود کی ان حرکتوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی کوشش کی تو اسکے غنڈے ان تمام سچی آوازوں کو خاموش کروادیتے لیکن پھر بھی اسکے کئی پیروکاروں نے اس پر زناکاری کے الزامات عائد کیے ، انمیں سے ایک کا نام شیخ عبدالرحمان مصرى تھا جو اسکا اعلى درجے کا مرید اور قادیان کے مدرسہ احمدیہ کا مہتمم تھا، اسکو حالات نے مجبور کر دیا کہ اس نے مرزا محمود کو تین خطوط لکھے کہ وہ اپنے کردار کی وضاحت کرے اور اپنی کرتوتوں کی معافی مانگے ورنہ وہ جماعت کے قائم کردہ كميشن کے سامنے سارا معاملہ رکھےگا لیکن خلیفہ مرزا محمود نے یہ تنبیہ نظرانداز کردی اور اپنی غلط حرکات پر اڑا رہا، اسنے الٹا شیخ عبدالرحمن مصرى اور اسکے دوستوں پر مظالم کرنا شروع کر دیے اور کچھ پر قاتلانہ حملے بھی بھی کیے گئے ، شيخ مصرى کو تنگ آکر قادیان چھوڑنا پڑا اور پھر اس نے 1937 میں پنجاب کی عدالت میں ایک بیان حلفی دیا جو یہ ہے"مجودہ خلیفہ سخت بعد چلن ہے یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کرتا ہے اس کام کے لئے اسنے بعض مردوں اور عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے انکے ذریعے یہ معصوم لڑکے لڑکیوں کو قابو کرتا ہے"مرزا محمود کی حيثيت ایک جنسی دیو کی ہے ، اسکی بدکاریوں کے بارے میں عبدالرحمان مصرى ، مسترى عبدالكريم قاديانى ، حيم عبدالعزيز قاديانى ، محممد على لاهورى ایم اے لاہوری، راحت ملک اور مسمات سلمیٰ ابو بکر اور دیگر بیشمار مرزائی لڑکے لڑکیوں نے اور مردوں عورتوں نے جو حلفاً گواہیاں دی ہیں وہ قادیانی تاریخ کا شرمناک باب ہے .
اس نے زمانہ طالب علمى میں ایک بار قاضی ظہور دین اکمل کی بیٹی کے ساتھ قادیان میں مبارک مسجد کی چھت پر منہ کالا کیا، جس پر اسکی ماں نصرت جہاں نے اسکو بڑی مشکل سے بچایا یہ دلیل دیکر کہ چار گواہ موجود نہیں ہیں ، انہی حرکتوں کی وجہ سے صرف 13 کی عمر میں اسکی پہلی شادی 1902 میں رشيدالدين کی بیٹی محمودہ سے کردی گئی، واضح رہے کہ میرا محمود نے اپنی زندگی میں ٹوٹل سات عورتوں کے ساتھ نکاح کیا اور اسکے 25 سے زیادہ بیٹے بیٹیاں ہووے.حتیٰ کہ اس حیوان نے اپنی بہن مبارکہ بیگم کو بھی نہ بخشا ، ان بہن بھائیوں کے درمیان ناجائز تعلقات کے بارے میں انکی ماں نصرت جہاں کو بھی علم تھا .جولائی 1923 میں مرزا محمود اور اسکے ساتھیوں نے قادیانی مبلغ جلال دین شمس کی بیٹیوں کے ساتھ زبردستی زنا کیا جب جلال شمس مبلغ بن کر ملک سے باہر گیا ہوا تھا ۔
معروف دانشور مرزا محمد حسین پہلے نہ صرف قادیانی تھے، بلکہ قادیانی قیادت کے اتنے قریب کہ مرزا محمودکے خاندان کی تمام مستورات کے اتالیق تھے۔ اندرون خانہ قادیانی قیادت کی اخلاقی باختگی کو دیکھا تو تڑپ گئے ۔مذہب کے نام پر اس حرام کاری و حرام خوری کو برداشت نہ کر سکے۔ غیرت و حمیت کے پیش نظر قادیانیت پر تین حرف بھیج کر مسلمان ہو گئے۔ اپنے مسلمان ہونے کی روداد میں لکھتے ہیں۔ ’’میں سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ قادیانیت، مذہب کے لبادہ میں اتنا خطر ناک اور شرمناک مذہب ہو گا۔ یہ سوچتے سوچتے صرف ایک رات میں میرے سر کے تمام بال گر گئے اور میں مستقل گنجا ہوگیا‘‘۔ موصوف خانہ ساز نبوت کے گھر کے بھیدی تھے۔ لہذا جو کچھ دیکھا، اسے اپنی معرکتہ العراء کتاب ’’فتنہ انکار ختم نبوت‘‘ میں لکھ دیا۔عرصہ ہوا معروف عالم دین جناب ڈاکٹر اسرار احمد نے مرزا محمد حسین کو اپنے ہاں کھانے پر مدعو کیا۔ وہاں موجود کئی جید علماء کرام، صاحبان، فہیم و فراست اور دانشوروں نے جناب مرزا محمد حسین سے درخواست کی کہ چونکہ آپ ایک عرصہ قادیانیوں کے خاص حلقہ میں رہے ہیں، آپ کو وہاں وی آئی پی کی حیثیت حاصل تھی اورآپ نے قادیانیت کو بہت قریب سے دیکھا ہے‘ لہذا آپ ہمیں اس فتنہ کے متعلق کچھ بتائیں۔ مرزا محمد حسین پہلے تو کچھ ہچکچائے آخر کار حاضرینِ محفل کے پرزور اصرار پرمرزا محمد حسین کہنے لگے کہ میں قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کی حمق کی حد تک پوجا کرتا تھا۔ جب اس کی سیاہ کاریوں کا پردہ چاک ہوا تو میرے اوساں و حواس جواب دے گئے۔ اور مجھے داخلی سطح پر اتنا گہرا صدمہ پہنچا کہ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ اس صدمہ کی شفت سے ایک ہی رات میں میرے سر کے بال غائب ہو گئے، پھر یہ حالت جسم تک محدود نہ رہی بلکہ دل کے نشیمن سے طائرایمان بھی پرواز کر گیا اور میں چند روز تک دہریت کی زندگی گزاری۔
مرزا محمد حسین ہچکیوں اور سسکیوں میں کہنے لگے کہ وہ لرزہ خیز واقعہ جسے میں سنانا نہیں چاہتا تھا، وہ یہ ہے کہ میں بچشم خود ہوش و حواس مرزا بشیر الدین محمود کو اپنی بیٹی ’’ امتہ الرشید‘‘ کے ساتھ زناء کرتے دیکھا۔ بچاری ابھی بلوغت کی عمر کو بھی نہیں پہنچی تھی۔ یہ بچی اپنے والد کی ہوسناکی کا شکار ہو کر بے ہوش ہو گئی۔ بعد ازاں یہ دیکھ کر مجھ پر سکتہ طار ہو گیا کہ بچی کے سرینوں کے نیچے قرآن مجید رکھا ہوا تھا۔ (نعوذ باللہ) :یہ جنسی تعلقات کا دلدادہ عیاش اور سر پھرا تھا جسے خلافت ملنے پر مرزا قادیانی کے وفادار مولوی محمد علی لاہوری نے جماعت قادیان چھوڑ کر اپنا لاہور ی مرزائیوں کا فرقہ بنا لیا۔ بشیر الدین محمود نے خلیفہ بنتے ہی ایسی گھناؤنی حرکتیں کیں کہ خود شرم بھی شرما گئی۔ ان کی قصر خلافت نامی رہائشگاہ دراصل قصرِ جنسی جرائم تھی جہاں عینی شاہدین کے مطابق صرف عقیدتوں کا خراج ہی بھینٹ نہیں چڑھا بلکہ مختلف حیلے بہانوں سے یہاں عصمتیں بھی لٹتی رہیں اس عیاش و اوباش خلیفے نے اپنے شکار گرفت میں لانے کے لیے نہایت دلکش پھندے لگا رکھے تھے اسے معصوم لڑکیوں کو رام کرنے کا ایسا سلیقہ آتا تھا کہ قصرِ خلافت کے عشرت کدے میں جانے والی بہت سی عورتیں اپنی عزت لٹا کر واپس آئیں۔ خلیفہ ثانی مذہب کی آڑ میں عصمتوں پر ڈاکے ڈالتا رہا۔ چناب نگر سابقہ ربوہ میں مختلف حیلوں بہانوں سے اس عیاش خلیفہ نے عصمتیں لوٹیں اور ظلم پہ ظلم کرتا رہا۔
اس خلیفہ کی رنگین داستانوں کے قادیانی جماعت کے اپنے ہی لوگوں کے تبصرے حلفیہ بیانات مباہلے اور قسمیں موجود ہیں۔ خدائے برتر ایسے ظالم انسان کو کبھی معاف نہیں کرتے چنانچہ احمدی جماعت کے اس خلیفہ ثانی کی زندگی کا خاتمہ بھی انتہائی دردناک حالات میں ہوا۔ اسے زندگی کے آخری بارہ سال فالج میں بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑتے ہوئے مرتے دیکھ کر لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے. اب آتے ہیں مرزا محمود كى تعليمى حالت کی طرف ، وہ خود اپنے بارے میں لکھتا ہے "میں پرائمری فیل ہوں مگر چونکہ گھر کا مدرسہ تھا اس لئے اوپر کی کلاسوں میں مجھے ترقی دے دی جاتی، پھر مڈل میں فیل ہوا، مگر پھر مجھے ترقی دے دی گئی، آخر میٹرک کے امتحان کا وقت آیا تو میری ساری پڑھائی کی حقیقت کھل گئی اور میں صرف عربی اور اردو میں پاس ہوا اسکے بعد پڑھائی چھوڑدی" (الفضل 2 اکتوبر 1935 ).
25 اپریل 1941 کو اخبار الفضل قادیان میں ایک اطلاع دی گئی کہ مرزا محمود کو بواسیر کی شکایت ہے اور انتڑیوں میں سوزش کی تکلیف ہے احباب دعا کریں .1946 میں اسے نقرس کے دورے پڑنے شروع ہو گئے اسکے علاوہ اسکے گھٹنوں میں بھی درد شروع ہوگیا ، ڈاکٹروں نے اسے چلنے پھرنے سے منع کر دیا تھا .
10 مارچ 1954 بروز بدھ مرزا محمود پر عبدالحميد نامى ایک آدمی نے چاقو سے وار کیا، چاقو کا یہ وار اسکی گردن پر شہ رگ کے قریب ہوا، جس سے گہرا زخم آیا، مرزا محمود چیخیں مارتا ہوا اپنے مکان میں داخل ہو گیا، لاہور سے مشہور سرجن ڈاکٹر ریاض قدیر کو لیا گیا اس نے سوا گھنٹے آپریشن کیا اور ٹانکے لگاۓ .. مرزا محمود کی دماغی حالت دن بدن بگڑنا شروع ہو گئی اس کی شکل و صورت جنونی پاگلوں کی سی بن گئی تھی۔ وہ سر ہلاتا رہتا منہ میں کچھ ممیاتا رہتا اس کے سرکے زیادہ تر بال اڑچکے تھے۔ پھر بھی انھیں کھینچتا رہتا،داڑھی نوچتا رہتا۔ وہ اپنی ہی نجاست ہاتھ منہ پر مل لیا کرتا تھا۔ بہت سے لوگ ان واقعات اور حالات کے عینی شاہد ہیں۔ اس خلیفہ ثانی نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ جماعت احمدیہ میں اٹھانوے فیصد منافق ہیں جس کی بنا پر جماعت کو ان کے پاگل ہونے کی افواہ اڑانی پڑی۔ ایک لمبا عرصہ اذیت ناک زندگی بستر پر گزارنے کے بعد جب یہ شخصیت دنیا سے رخصت ہوئی تو اس کا جسم بھی عبرت کا نمونہ تھا۔ ایک لمبا عرصہ تک ایک ہی حالت میں بستر پر لیٹے رہنے کی وجہ سے لاش اکڑ کر گویا کہ مرغ کا چرغہ بن چکی تھی۔ ٹانگوں کو رسیوں سے باندھ کر بمشکل سیدھا کیا گیا۔ چہری پر گھنٹوں ماہرین سے خصوصی میک اپ کروایا گیا۔ جسم کی کافی دیر تک صفائی کی گئی اور پھر عوام الناس کو دھوکہ دینے کے لیے مرکری بلب کی تیز روشنی میں لاش کو اس طرح رکھا گیا کہ چہرے پر مصنوعی نور نظر آئے لیکن قادیانی تو ساری حقیقت سے آشنا تھے.
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers