کالج میں Happy married life پر ایک workshop ہو رہی تھی، جس میں کچھ شادی شدہ جورے حصہ لے رہے تھے. جس وقت پروفیسر اسٹیج پر آئے انہوں نوٹ کیا کہ تمام شادی شدہ لوگ لطیفے سن کر ہنس رہے تھے ...
یہ دیکھ کر پروفیسر نے کہا کہ چلو پہلے ایک Game کھیلتے ہیں ....... اس کے بعد اپنے موضوع پر باتیں کریں گے.
سب خوش ہو گئے ...... اور کہا کونسا Game؟
پروفیسر نے ایک married لڑکی کو کھڑا کیا
اور کہا کہ آپ بلیک بورڈ پہ ایسے 25- 30 لوگوں کے نام لکھو جو تمہیں سب سے زیادہ پیارے ہوں.
لڑکی نے پہلے تو اپنے خاندان کے لوگوں کے نام لکھے، پھر اپنے سگے رشتہ دار، دوستوں، پڑوسی اور ساتھیوں کے نام لکھ دیے ...
اب پروفیسر نے اس میں سے کوئی بھی کم پسند والے 5 نام مٹانے کے لیے کہا ...
لڑکی نے اپنے دوستوں کے نام مٹا دیے ..
پروفیسر نے اور 5 نام مٹانے کے لیے کہا ...
لڑکی نے تھوڑا سوچ کر اپنے پڑوسيو کے نام مٹا دیے ...
اب پروفیسر نے اور 10 نام مٹانے کے لیے کہا ...
لڑکی نے اپنے سگے رشتہ داروں کے نام مٹا دیے ...
اب بورڈ پر صرف 4 نام بچے تھے جو اس کے ممي- پاپا، شوہر اور بچے کا نام تھا ..
اب پروفیسر نے کہا اس میں سے اور 2 نام مٹا دو ...لڑکی کشمکش میں پڑ گئی بہت سوچنے کے بعد بہت دکھی ہوتے ہوئے اس نے اپنے ممي- پاپا کا نام مٹا دیا ...
تمام لوگ دنگ رہ گئے لیکن پرسکون تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ کھیل صرف وہ لڑکی ہی نہیں کھیل رہی تھی بلکی ان کے دماغ میں بھی یہی سب چل رہا تھا.
اب صرف 2 ہی نام باقی تھے ..... شوہر اور بیٹے کا ...
پروفیسر نے کہا اور ایک نام مٹا دو ...
لڑکی اب سہمی سی رہ گئی ........ بہت سوچنے کے بعد روتے ہوئے اپنے بیٹے کا نام کاٹ دیا ...
پروفیسر نے اس لڑکی سے کہا تم اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاؤ ... اور سب کی طرف غور سے دیکھا ..... اور پوچھا: کیا کوئی بتا سکتا ہےکہ ایسا کیوں ہوا کہ صرف شوہر کا ہی نام بورڈ پر رہ گیا.
کوئی جواب نہیں دے پایا .......... تمام لوگر منہ لٹکا کر بیٹھے تھے ...
پروفیسر نے پھر اس لڑکی کو کھڑا کیا اور کہا ......... ایسا کیوں؟
جس نے تمہیں جنم دیا اور پال پوس کر اتنا بڑا کیا ان کا نام بھی تم نے مٹا دیا ........ اور تو اور تم نے اپنی کوکھ سے جس بچے کو جنم دیا اس کا بھی نام تم نے مٹا دیا؟
لڑکی نے جواب دیا .......
کہ اب مممي- پاپا بوڑھے ہو چکے ہیں، چند سال کے بعد وہ مجھے اور اس دنیا کو چھوڑ کے چلے جائیں گے ...... میرا بیٹا جب بڑا ہو جائے گا تو ضروری نہیں کہ وہ شادی کے بعد میرے ساتھ ہی رہے.
لیکن میرے شوہر جب تک میری جان میں جان ہے تب تک میرا نصف جسم بن کے میرا ساتھ نبھائینگے اس لئے میرے لئے سب سے عزیز میرے شوہر ہیں ..
پروفیسر اور باقی اسٹوڈنٹ نے تالیوں کی گونج سے لڑکی کو سلامی دی ...
پروفیسر نے کہا
تم نے بالکل صحیح کہا کہ آپ اور سب کے بغیر رہ سکتی ہو
پر اپنے نصف عضو یعنی اپنے شوہر کے بغیر نہیں رہ سکتی
مذاق مستی تک تو ٹھیک ہے
پر ہر انسان کا اپنی زندگی کے ساتھی ہی اس کو سب سے زیادہ عزیز ہوتا ہے ...
یہ لفظی سچ ہے.
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers