اگلے روز آنکھ کھلی تو احاطے میں بھگدڑ مچّی ہوئ تھی-
ہر طرف شور برپا تھا ..." صاحب آ گئے ... صاحب آ گئے !!! "
میں نے کوٹھڑی سے سر نکال کر پوچھا:
" بھئ کون سے صاحب تشریف لا رہے ہیں .... ؟؟ "
"انسپکٹر جنرل صاحب دورے پر ہیں ...." باہر سے کسی نے آواز لگائ-
جیل میں ڈپٹی کمشنر یا سیشن جج آ جائے تو سب الرٹ ہو جاتے ہیں- انسپکٹر جنرل کی آمد پر تو اچھا خاصا تماشا برپا ہوگیا- کہیں جھاڑو دیا جا رہا تھا تو کہیں غسل خانوں کی صفائیاں ہو رہی تھیں- کہیں نمبرداروں اور قیدیوں کو نئے سوٹ بانٹے جا رہے تھے تو کہیں وارڈن اور سنتری اپنے بوٹ چمکا رہے تھے- غرض کہ ہر طرف ہٹّو بچّو کی صدا تھی-
ہم واپس آکر اپنے پلنگ پر لیٹ گئے- انسپکٹر کی آمد پر قیدی بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں- کسی کی مشقّت معاف ہو جاتی ہے تو کسی کو رہائ مل جاتی ہے- لیکن ہم ٹھہرے سیاسی قیدی ، جنہیں کوٹھڑوں میں بند کر کے چابی حکومت اپنی جیب میں رکھ لیتی ہے- کوئ آئے ، کوئ جائے ، ہمیں اس سے کیا !!!
گھنٹے بعد ایک سنتری بھاگا ہوا اندر آیا اور بے ترتیب سانسوں میں بولا ...
صاب ماڑی پر آگیا ہے .... اب تو اُٹھ جاؤ مُلا سائیں !!!
میں اور مولانا لدھیانوی اُٹھ کھڑے ہوئے- لال حسین اختر بھی اپنی کوٹھڑی سے باہر نکل آئے- تھوڑی ہی دیر بعد ملحقہ احاطے سے ایک نہایت ہی شریف اور بھلے مانس شخص برامد ہوا پھر بڑی کرّوفر سے چلتا ہوا ہمارے قریب آیا :
" اسلام علیکم !!! ... مولوی صاحبان کیسے مزاج ہیں ؟؟ "
میں سمجھا کوئ معزز جیل وزیٹر ہے سو عمومی لہجے میں جواب دیا:
" وعلیکم سلام بھائ ... ٹھیک ٹھاک ... آپ سناؤ ؟"
پھر ان صاحب کے پیچھے مؤدب جیل افسران کی قطار برامد ہوئ تو اندازہ ہوا کہ یہی انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات ہیں- انہوں نے باری باری ہم سب سے مصافحہ کیا اور بولے:
" آپ حضرات کو کوئ تکلیف ، مشکل یا پریشانی ؟؟ "
میں نے کہا " ہمیں کوئ تکلیف نہیں ہے ... ہم بہت خوش ہیں"
وہ بار بار اصرار کرتے رہے کہ ہم کچھ نہ کچھ پریشانی انہیں ضرور بتائیں- لیکن ہم نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ حکومت سے کوئ رعایت طلب نہیں کرنی- صبر اور شکر کے ساتھ اللہ کے بھروسے پر وقت گزارنا ہے-
کافی تکرار کے باوجود ہم نے کوئ مسئلہ پیش نہ کیا تو وہ خاموش کھڑے ہو گئے ، پھر باہر احاطے میں جا کر گردوپیش پر نظر ڈالنے لگے ، اور آخر غسل خانے کی طرف چلے گئے-
کچھ ہی دیر بعد انہوں نے جیل سپریڈنٹ کو آواز دی-
"اللہ بخش ادھر آؤ .... لیٹرین کا دروازہ کدھر ہے ؟؟"
" سائیں واڈھو کو بولا ہوا ہے ... دو چار روز تک لگ جائے گا دروازہ !!! "
" کل تک ضرور لگ جانا چاھئے .... کچھ تو احساس کرو .... مولوی صاحبان ہیں .... بے پردگی ہوتی ہے !!! "
اس کے بعد وہ ہماری طرف متوّجہ ہوئے اور کہا:
" اور سنائیں ..... کھانا وغیرہ کیسا مل رہا ہے ؟"
میں نے کہا " اللہ کا شکر ہے ، ہمیں کوئ شکایت نہیں !!! "
جاتے جاتے وہ دروازے پر جاکر ایک بار پھر ہماری طرف مڑے اور کہا:
" مولوی صاحبان .... کچھ تو خدمت کا موقع دیا ہوتا .... "
میں نے کہا " اللہ کا شکر ہے .... ہمیں کوئ تکلیف نہیں .... اللہ تعالی آپ کو اخلاق کی بلندیوں پر فائز رکھے !!! "
وہ بار بار ہماری طرف دیکھتے رہے کہ شاید ہم کوئ مطالبہ پیش کریں لیکن ہم ان صعوبتوں پر شاکر تھے جو ختمِ نبوّت کے صدقے ہمارے نصیب میں لکھی گئ تھیں-
دن یونہی گزرتے رہے- زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کٹتی چلی گئ- صبح سویرے کوٹھڑیوں کے تالے کھُلنا ، ڈان اخبار کے ساتھ چاول کی پتھریلی روٹی کھانا اور دال کا شربت پینا- دن کو تھوڑی دیر کےلئے باہر گرم احاطے میں جا بیٹھنا پھر سرِشام تپتی ہوئ اندھیری کوٹھڑوں میں بند ہو جانا .... یہی ہمارا معمول تھا-
چاول کی روٹی کھانے کی وجہ سے ہم سب دانتوں کی تکلیف کا شکار ہونے لگے- مجھے بلڈ پریشر کا عارضہ بھی تھا- اندھیری کوٹھڑی میں گھبراہٹ اور تکلیف سے کروٹیں بدلتے ہوئے رات گزرتی - لیکن ان حالات مں بھی باجماعت نمازوں ، قران اور ذکراذکار سے ایک لمحے کےلئے غافل نہ ہوئے- اللہ کی بارگاہ میں جب بھی ہاتھ اٹھائے ہمیشہ کلمہء شکر ہی زبان سے نکلا ، کبھی گلہ نہ کیا کہ عشقِ رسول ﷺ کا یہی تقاضا تھا-
پندرہ روز بعد انسپکٹر جنرل دوبارہ تشریف لائے-
اگرچہ ان سے واقفیّت ہو چکی تھی ، لیکن اس کے باوجود ہم نے ان کے روبرو کسی قسم کا گلہ یا شکایت پیش نہ کرنے کا عزم کر رکھا تھا- میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا صبر سے کام لینا اور کچھ نہ کہنا ، صرف میں بات کرونگا-
علیک سلیک کے بعد وہ کمرے میں تشریف لائے- صفائ ستھرائ دیکھ کر خوش ہوئے پھر کہا کرسیاں کہاں ہیں ؟
ہم نے حیرت سے کہا " کیسی کرسیاں ؟"
انہوں نے فوراً سپریڈنٹ کو آواز دی :
" اللہ بخش .... ابھی اور اسی وقت مولوی صاحبان کےلئے میز اور کُرسیاں منگواؤ .... میں یہیں کھڑا ہوں .... اور آئیندہ ایسی غفلت نہیں ہونی چاھئے"
سپاہی کرسیاں لینے دوڑ پڑے- انسپکٹر صاحب غسل خانے کی طرف گئے اور ہر چیز کا اچھّی طرح جائزہ لیا- لکڑی کے نئے دروازے کو ٹھوک بجا کر دیکھا- اس دوران ہم نے ایک چارپائ گھسیٹ کر صحن میں رکھّی اور کہا:
"جنرل صاحب تشریف رکھیں !!! "
وہ بیٹھ گئے- کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے پھر بولے:
" دن بھر کیا مصروفیّات ہوتی ہیں آپ حضرات کی ؟ "
میں نے کہا نماز پڑھتے ہیں ، تلاوت کرتے ہیں ، ذکر اذکار کرتے ہیں .... اور ہم کر بھی کیا سکتے ہیں-
فرمانے لگے صحت قائم رکھنے کےلئے ہلکی پھلکی ورزش بھی ہونی چاھئے-
میں نے کہا آپ جی بھر کے ورزش کیجئے .... ہم تو نظربند ہیں-
وہ کچھ دیر سوچتے رہے پھر کہنے لگے کیوں نہ اس احاطے میں ایک باغیچہ بنایا جائے .... کھدائ کا کام مشقّتی کریں گے ... آپ صرف نگرانی کیجئے گا .... ہلکی پھلکی مصروفیت بھی رہے گی اور سبزی ترکاری بھی خوب اگے گی-
یہ کام ہماری منشاء کے مطابق تھا- چنانچہ فوراً مشقتیوں کو حکم ہوا کہ احاطے کی پتھریلی زمین کھود کر اس میں تازہ مٹّی بھری جائے اور باغیچہ بنانا شروع کیا جائے-
تھوڑی دیر میں ہمارا فرنیچر بھی آگیا- جس میں کرسیاں میز اور سامان رکھنے کے واسطے ڈولیاں شامل تھیں-
اگلے نصف گھنٹے میں جنرل صاحب کافی بے تکلّف ہو چکے تھے-
جب رخصت ہونے لگے تو بولے:
" آپ حضرات خدمت کا موقع ہی نہیں دیتے .... کوئ تکلیف ، کوئ مسئلہ ، کچھ تو بتاؤ ؟"
مولانا لال حسین اختر صبر نہ کر سکے اور ایسے پھٹے کہ لٹیا ہی ڈبو دی :
" صاحب ... بس ایک تکلیف ہے ..... حکومت نے ختم نبوّت تحریک کی پاداش میں ہمیں سی کلاس میں رکھا .... کوئ گلہ نہیں .... ہمارے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا .... کوئ غمّ نہیں .... ہمارے ساتھ جو چاھے سلوک کیجئے .... ..... ہم بخوشی برداشت کریں گے .... لیکن خدارا ماسٹر صاحب پر رحم کھائیے ... ان کی عمر کا خیال کیجئے .... بلڈ پریشر کے مریض کو رات بھر اندھیری کوٹھڑی میں رکھنے کی کیا تک ہے ؟؟ .... یہ چاول کی روٹی چبا نہیں سکتے .... ایک ماہ سے دال پی پی کر گزارا کر رہے ہیں .... اگر قسطوں میں قتل کرنا ہے تو ہم حاضر ہیں .... ماسٹر صاحب کو تو چھوڑ دیجئے !!! "
جنرل صاحب یہ سن کر ہکّا بکّا رہ گئے- چہرے پر ایک رنگ آئے ایک جائے- پہلے انہوں نے نے سپریڈنٹ اللہ بخش کو جھاڑا پھر پاس کھڑے ڈاکٹر کو ڈانٹ پلائ- اس کے بعد کہا:
"بخدا مجھ سے غفلت ہوئ .... میں نے سپریڈنٹ کو آپ حضرات کا خاص خیال رکھنے کا کہا تھا .... آپ حضرات کے چہروں پر اطمینان اور خوشی دیکھ کر یہی سمجھتا رہا کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے .... مجھے معاف کر دیجئے !!! "
اگلے روز سے چاول کی روٹی رخصت ہوئ اور گندم کی روٹی بحال ہو گئ اور رات کو ہم کھلے احاطے میں چارپائیاں ڈال کر تازہ ہوا میں سونے لگے-
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers