حیدرآباد کا سورج اپریل سے ہی وہ قہر برسانے لگتا ہے کہ خدا کی پناہ !!!
میرا نام زیڈ - زیڈ احمد ہے اور میں گزشتہ چھ ماہ سے بحیثیّت انسپکٹر جرنل جیل یہاں تعیّنات ہوں-
دن کو یہاں سرخ آندھی چلتی ہے تو گرم ریت اڑ اڑ کر چہرے کو جھلسانے لگتی ہے- رات کو ایسی حبس کہ پسینہ کپڑوں سے خود بخود نچڑنے لگتا ہے-
حیدرآباد کی یہ جیل خطرناک لوگوں کا سینٹر ہے- انگریز بھی اپنے خطرناک دشمنوں کو کالا پانی کی بجائے یہیں بھیجنا پسند کرتا تھا- دن کو جب درجہء حرارت 126 فارن ہائٹ تک پہنچ جاتا ہے تو کنکریٹ کے ڈربّے کسی تپتے ہوئے تندور کا روپ دھار لیتے ہیں- گھڑوں میں رکھا پانی تک ابل جاتا ہے-
جیل میں تین طرح کے ڈربّے ہیں- سب سے اوپر اے کلاس ہے جس میں "کھڑ پڑ" کرنے والے خراب حکومتی پرزے ، اسٹیبلشمنٹ کے ناپسندیدہ سیاستدان ، اور کرپٹ بیوروکریٹ آرام فرماتے ہیں- یہاں پلنگ ، کرسیاں ، میز تپائ ، کمبل ، ریڈیو سب کچھ میسر ہے- دھڑکن چیک کرنے کو ڈاکٹر ہے اور پیٹ بھرنے کو باورچی -
اس کے نیچے B کلاس ہے - یہاں " ناپسندیدہ سیاسی ورکرز" ، پڑھے لکھّے ڈاکو اور سچ لکھنے والے صحافی بند کئے جاتے ہیں- انہیں لوہے کی چارپائیاں ، دری ، تکیہ اور کرسی کے علاوہ کچا راشن بھی مہیا کیا جاتا ہے جسے وہ خود پکا کر کھاتے ہیں-
بچا کھچا مال C کلاس کے پھٹیچر ڈربوں میں رکھا جاتا ہے - چور ، ڈاکو ، جیب کترے ، موالی ، غُنڈے ، چرسی کچھ روز یہاں آکر رونق لگاتے ہیں .... پھر اپنے اپنے دھندے پہ نکل کھڑے ہوتے ہیں- سونے کےلئے فرشی بچھونے ہیں اور کھانے کو چاول کی سخت روٹی ...... اور جیل کی دال تو ویسے بھی مشہور ہے ... !!!
10 اپریل کی صبح میں اپنی ڈیوٹی پر پہنچا تو سپریڈنٹ اللہ بخش خلافِ توقع جیل گیٹ پر کھڑا نظر آیا-
" سائیں ... رات کاراچی سے وڈّے وڈے خطرناک مُلّے لوک آئے ہیں "
" مولوی لوگ ؟ کتنے ؟ " میں پریشان ہو گیا-
" رات کو تو 12 مولبی آیا تھا ... 8 اساں سویر موکلے چھڈیا سکھر جیل ... باقی 3 اساں وٹائے ... "
" اچھا ان تینوں پہ نظر رکھّو .... کسی سے ملنے نہ پائیں" میں نے رجسٹری حاضری دیکھتےہوئے کہا-
" تواں فکر نہ کریو سائیں .... میں نے ان پر تینوں پر گارڈ لگا دیا ہے "
11 بجے نمبردار یہ خبر لے کر آیا کہ مولوی لوگ ساتھ والی کوٹھڑی میں سیاسی کارکنان کے ساتھ بیٹھے چائے پی رہے ہیں-
میں نے ڈانٹ کر کہا " منع کرو .... اور پہرہ بڑھا دو !!! "
دو بجے جب میں چھٹی کر کے گھر جانےلگا تو یاد آیا کہ بیگم صاحبہ نے پانی کی بوتل دی تھی- ان دنوں ہمارا نومولود رات بھر روتا تھا اور زوجہ کا عقیدہ تھا کہ خدا ڈنو شاہ کے دم سے ہی آرام آئے گا- میں اگرچہ ان مذھبی ٹوٹکوں کو نہیں مانتا مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے ، بیگم صاحبہ تو مانتی ہیں-
اس گرمی میں پکاّ قلعہ جا کر خُدا ڈنّو شاہ سے پانی دم کروانا آسان نہ تھا- میں گاڑی میں بیٹھ کر سوچنے لگا کہ کیا کروں-
اس دوران سپریڈنٹ اپنی نائٹ پاس کی درخواست لیکر میرے پاس حاضر ہوا-
" اللہ بخش ... مولوی لوگ کس بیرکس میں ہے .... ؟؟ "
" دو سو چوّن میں پڑا ہے .... تواں فکر نہ کریو سائیں "
" اچھا ایسا کرو .... اپنی درخواست مجھے پکڑاؤ .... اور یہ بوتل کسی مولبی سے دم کرا کے لے آؤ "
اللہ بخش مجھے حیرت سے گھورتا ہوا بوتل پکڑے اندر چلا گیا-
تقریباً دس منٹ بعد وہ بڑی عقیدت سے بوتل پکڑے لوٹا تو میں سمجھ گیا کہ دم ہو چکا ہے-
"اللہ بخش مولوی لوگ کا خیال رکھنا .... کوئ تکلیف نہیں ہونی چاھئے ... ٹھیک ہے ؟ " اللہ بخش کی عرضی سائن کرتے ہوئے میں نے کہا-
"جو آپ کی مرضی سائیں .... ہم سنتری کو سمجھا دے گا ... "
راستے میں کچھّی پل کے پاس گاڑی اچانک گرم ہو گئ- مجبوراً وہی بوتل کارپوریٹر میں انڈیلنا پڑی- ویسے بھی اس رات نہ تو ہمارے ننّھے مہمان نے شور کیا نہ ہی بیگم صاحبہ کو دم والی بوتل یاد رہی- میں اس یقین کے ساتھ سو گیا کہ اللہ بخش نے مولوی لوگ کی آسائش کا ضرور خیال رکھا ہوگا-
اگلے روز آفس پہنچتے ہی میں نے سپریڈنٹ کو بلا کر کہا:
" اللہ بخش .... مولوی لوگ کیسا ہے ؟؟ "
" سائیں .... خُش باش بھلا چنگا ہے .... دعائیں دیتا ہے آپ کو ... " اس نے حسبِ عادت مجھے خوش کرنے کی کوشش کی-
" جیل میں کوئ اے کلاس ڈبّہ خالی ہے ؟؟"
" کیوں سائیں کوئ نیا لیڈر آنے والا ہے کیا ؟؟ "
" نہیں یار میں چاہ رہا تھا کہ مولوی لوگوں کو کسی اچھے ڈبّے میں شفٹ کیا جائے ... دوسو چوّن تو نری دوزخ ہے یار !!! "
" سائیں شمالی حصّے میں باندی زنانو کا جو احاطہ ہے ناں .... وہاں دو ڈبے خالی ہیں .... ؟ " وہ داڑھی کجھاتا ہوا بولا-
جیل کا یہ وارڈ 302 کے کیس میں گرفتار خواتین کےلئے مخصوص تھا اور کافی عرصہ سے خالی پڑا تھا- یہاں دو برابر کوٹھڑیاں تھیں- جن کے سامنے ایک بہت بڑا احاطہ تھا اور کمروں سے پیچھے ایک غسل خانہ اور لیٹرین بھی تھی-
میں نے کہا " ٹھیک ہے .... شفٹ کرنے سے پہلے وہاں اچھی طرح صفائ کرا دو .... اور آج ہی مولوی حضرات کو وہاں شفٹ کر دو .... دو دن بعد میں راؤنڈ لونگا .... کوئ شکایت نہیں آنی چاھئے !!! "
" تواں فکر نہ کرو سائیں .... ہو جائے گا ... "
عین چھُٹّی کے ٹائم حوالدار یار محمد ڈاک لیکر آ گیا-
"سائیں ایک ارجنٹ چٹھی ہے .... آپ کے لئے ... "
سرکاری و سیاسی قیدیوں کےلئے جب بھی مرکز سے کوئ خاص ھدایت آتی تو سربمہر ہوتی تھی اور اسے سیدھا مجھ تک پہنچایا جاتا تھا- ان دنوں راولپنڈی سازش کیس کے ملزمان بھی اسی جیل میں قید تھے- میں نے سوچا شاید سینئر فوجی افسران کے بارے میں کوئ تازہ ھدایت آئ ہے-
چٹھی پڑھ کر ماتھا ٹھنکا ... لکھا تھا :
" کراچی سے سات خطرناک مولوی اندرون سندھ کی جیلوں میں بھیجے جا رہے ہیں .... ان میں سے سید عطاءاللہ شاہ بخاری ، ابولحسنات سید احمد قادری ، سید مظفرحسین شمسی ، سیّد عبدالحامد بدایونی ، صاحبزادہ سیّد فیض الحسن ، اور اللہ نواز کو سکھر جیل بھیجا جا رہا ہے اور ماسٹر تاج الدین انصاری ، مولانا لال حسین اختر اور نیاز لدھیانوی کو حیدر آباد جیل منتقل کیا جا رہا ہے- جیل حکام کو تاکید کی جاتی ہے کہ ان ملاؤں سے جس قدر ہو سکے سختی برتے .... نرمی کی اطلاع پر اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کاروائ عمل میں لائ جائے گی"
ہمارے اوپر والے بھی عجیب ہیں- چھ ماہ پہلے یہاں بھوبت نامی ایک ڈاکو لایا گیا تھا- اس کے پکڑے جانے پر ڈان اخبار میں بڑے بڑے فوٹو چھپے تھے اور اہلکاروں کو کافی انعام بھی ملا تھا- آج کل وہی بھوبت جیل میں A کلاس کا لطف اٹھا رہا ہے- شاید اس لئے کہ وہ کانگریس مخالف ڈاکو تھا - دوسری طرف مولوی حضرات چونکہ مسلم لیگ کے مخالفوں میں شمار کئے جاتے ہیں سو ان پر عرصہء حیات تنگ کیا جا رہا ہے- کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے نمرود فرعون اور شداد کی روحیں جہنم سے چھٹی لیکر ارض پاک پر اتر آئ ہوں ....
کہنے کو تو میں یہاں سیاہ و سفید کا مالک ہوں اور میری آمد پر جیل کے سپاہی سے لیکر سپریڈنٹ تک سب الرٹ ہو جاتے ہیں لیکن میری بھی کچھ مجبوریاں ہیں- جیل حکام میں سے کون کون اندر کی بات اوپر پہنچا کر میرے تابوت میں کیلیں ٹھونکتا ہے ، سچّا رب ہی جانتا ہے لیکن تلخ حقیقت یہی ہے کہ کوئ بھی گورنمنٹ مخبروں کے بغیر نہیں چل سکتی-
سچ تو یہ ہے کہ مولوی حضرات ، جنہیں ابھی تک میں نے دیکھا بھی نہ تھا ، ان کےلئے میرے دل میں ایک نرم گوشہ ضرور پیدا ہو چکا تھا- اس نرم گوشے کو آپ عقیدت بھی کہ سکتے ہیں اور محبّت بھی !!!
یہ تو تھی میری کہانی ... باقی آپ مولوی حضرات کی زبانی سن لیجئے گا "
"اس کا مطلب ہے آپ قیدیوں سے ہماری ملاقات کروا رہے ہیں ... " چاند پوری نے چائے کی پیالی رکھتے ہوئے کہا-
" کیوں نہیں .... آپ خواجہ شریف آف سرامکی کا رقعہ لیکر آئے ہیں .... کچھ کرنا تو پڑے گا .... لیکن ایک شرط ہے کہ آپ کچھ چھاپئے گا نہیں .... ورنہ .... " جیلر نے جواب دیا-
" آپ بے فکر رہیں .... ویسے بھی اس حکومت سے خیر کی کوئ توقع نہیں .... ہو سکتا ہے مستقبل کا کوئ مؤرخ ہمارے چھوڑے ہوئے مسوّدات سے فیض حاصل کر سکے .... "
" ٹھیک ہے .... ہم رات گیارہ بجے اسیران سے آپ کی خفیہ ملاقات کا انتظام کرتے ہیں !!! "
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers