ایک دن ایک سفید بوسکی والے اہلکار نے جیل میں آکر دریافت کیا:
"آپ میں سے ابوالحسنات کون ہیں ؟؟"
"جی میں ہوں ... فرمائیے ؟؟" سیّد احمد قادری مصحف سمیٹتے اُٹھ بیٹھے-
"خلیل احمد آپ کا بیٹا ہے ؟؟ " اس نے پوچھا-
"جی میرا بیٹا ہے ..... خیریت ؟"
" حیرت ہے ؟؟ .... آپ کا بیٹا موت کے دھانے پر کھڑا ہے ... اور آپ کو خبر تک نہیں؟؟"
" یا اللہ خیر !!! .... کیا ہوا خلیل کو ؟؟" ابوالحسنات پریشان ہو گئے-
" وہ ڈائریکٹ ایکشن کی قیادت کر رہا ہے .... اور مسجد وزیرخان میں محصور ہو چکا ہے .... مارشل لاء سرکار اسے کسی بھی وقت گولی سے اڑا سکتی ہے ...."
ابوالحسنات واقعی بے خبر تھے- سیّد خلیل احمد ان کا اکلوتا بیٹھا تھا جسے والدہ کی محبّت بھری گود بھی بچپن میں داغِ مفارقت دے گئ تھی- انہوں نے ماں اور باپ دونوں کا پیار اپنے نور نظر پر نچھاور کیا تھا- خلیل بڑا ہوا تو مولانا نے اسے اچھی تعلیم کےلئے لاہور طیبہ کالج بھیج دیا تاکہ پڑھ لکھ کر طبیب بن سکے- بیٹے نے کراچی میں اکابرین کی گرفتاری کی خبر سنی تو دم توڑتی تحریک میں نئ روح پھونکنے کےلئے حالات کے سامنے سینہ سپر ہو گیا-
"خلیل تو ایک شرمیلا اور سیدھا سادھا بچّہ ہے .... اس نے سیاسی جلسہ تو کیا کبھی مسجد میں بھی تقریر نہیں کی .... واقعی وہ قیادت کر رہا ہے تحریک کی ؟؟ " ابوالحسنات سکتے میں آ گئے-
" جی ہاں ... اگر آپ واقعی اس بات سے لاعلم ہیں تو آپ جیسا لاپرواہ باپ کوئ نہیں ... اور اگر جانتے بوجھتے اسے موت کے مونہہ میں دھکیلا ہے تو آپ جیسا ظالم کوئ نہیں" اہلکار تلخی سے بولا-
" اگر یہ سچ ہے .... کہ میرا اکلوتا بیٹا تحریکِ ختمِ نبوّت کی قیادت کر رہا ہے ..... تو مجھ سے زیادہ خوش قسمت باپ کوئ نہیں !!! "
" اکلوتا بیٹا ؟؟ مولانا .... کچھ تو پرواہ کرو" اہلکار نے کہا-
" کس بات کی پرواہ کروں؟؟ ارے جس نبی ﷺ کے نام پر آج تک روٹیاں توڑتے رہے .... جس سے عشق کے بلندو بانگ دعوے کرتے رہے .... آج اس کی ناموس کا وقت آیا تو نمک حرامی کر جائیں ....؟؟ ختمِ نبوّت کےلئے ... ہزار خلیل ہوتے تو بھی قربان کر دیتا "
اہلکار کچھ دیر ہکا بکا ہو کر اس عاشقِ صادق کو دیکھا رہا پھر اپنا سا مونہہ لیکر واپس چلا گیا-
پیرانہ سالہ ابوالحسنات کے حوصلہ اور صبر کو دیکھ کر عطاءاللہ شاہ بخاری رح بھی عش عش کر اُٹھے اور کہا:
" آپ واقعی صبر کا پہاڑ ہیں مولانا .... یہ بارِ گراں تو ہم بھی نہ اٹھا سکتے تھے !!! "
ابوالحسنات نے کہا:
" یہ سچ ہے کہ مجھے خلیل سے بے پناہ محبت ہے .... میں ہی اس کا باپ ہوں اور میں نے ہی اسے ماں بن کر پالا ہے .... اولاد سے کسے محبت نہیں ہوتی .... لیکن اس مقام پر میں صبر کروں گا ... اس نیک کام میں اگر خلیل قربان بھی ہو گیا تو سعادت دارین ہے .... وہ بھی تو ماؤں کے بیٹے تھے جنہیں اس تحریک میں شہید کر دیا گیا .... ان میں ایک خلیل بھی سہی .... اللہ ہماری قربانی کو قبول و منظور فرمائے"
اس کے بعد مولانا ابولحسنات نے کبھی خلیل کا تذکرہ نہ کیا- وہ پوری دلجمعی کے ساتھ قران کی تفسیر لکھنے بیٹھ گئے- مجال ہے کبھی کسی ساتھی یا جیل اہلکار سے بیٹے کا حال بھی جاننے کی کوشش کی ہو-
اپریل کی تمازت نے بہاروں کو رخصت کیا تو اسیرانِ ختمِ نبوّت کو کراچی جیل سے کہیں اور شفٹ کرنے کی افواہیں گرم ہوئیں- لیکن کوئ نہ جانتا تھا کہ سرکار انہیں کون سے "کالے پانی" بھجوانا چاھتی ہے-
بالاخر ایک دن روانگی کا پروانہ آ ہی گیا-
ایک ویگن اور ایک سال خوردہ پولیس بس جیل پھاٹک کے سامنے آن کھڑی ہوئیں- جیل کے اندر سے مشقتیوں نے بستر وغیرہ لا کر بس کے اندر رکھنے شروع کر دیے- ہم ہوٹل پر بیٹھے یہ منظر دیکھ رہے تھے-
" لگتا ہے آج قیدیوں کی روانگی ہے " چاند پوری یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے-
ہم تیز تیز چلتے بس کے قریب آ گئے- یہاں کچھ اور صحافی بھی خبر کی ساندھ سونگھتے پھرتے تھے- بہت سے دیوانے بس کو گھیرے ہوئے تھے-
کچھ ہی دیر بعد جیل کے مرکزی گیٹ سےاسیرانِ ختمِ نبوّت نمودار ہوئے- ان کے چہروں پر پہلی بار دکھ اور کرب کے آثار تھے- لاہور کاقتل عام اور اب ایک دوسرے سے جدا ہونے کا غم انہیں کسی قدر پس مردہ کئے ہوئے تھا- سپریڈنٹ کے آنے میں کچھ تاخیر تھی-- اسیران بس میں سوار ہوئے تو پروانے اپنے محبوب رہنماؤں کی جھلک دیکھنے کےلئے بس کی آہنی کھڑکیوں سے ٹکرانے لگے-
ہم بھی دھکّے کھاتے بس کے قریب ہوئے- کافی شور شرابہ تھا- کان پڑی آواز سنائ نہ دیتی تھی- اسی اثناء میں جیل سپریڈنٹ بھی آ گیا- مجمع کسی حد تک شانت ہو گیا-
سپریڈنٹ بس میں سوار ہو کر بڑے احترام سے بولا:
"حضرات .... میں نے آپ کو جیل میں اپنے طور پر اے کلاس دے رکھّی تھی .... میں جانتا ہوں کہ آپ معزّز قیدی ہیں اور اے کلاس کے مستحق ہیں .... مگر آج سے میرے یہ اختیارات بھی ختم ہو رہے ہیں .... حکومت آپ کو بہت بری جگہ بھیج رہی ہے .... میں اب بھی درخواست کرتا ہوں کہ حکومت سے مصالحت کر لیجئے ... ہم آپ کو مزید تکلیفیں سہتے نہیں دیکھ سکتے !!! "
" ہم مصالحت کا لفظ بھی نہیں سننا چاھتے " امیرِ شریعت نے کہا- " اس حکومت سے مصالحت کر لیں جس کی آستینوں سے بے گناہوں کا خون ٹپک رہا ہے .... ؟؟"
"پھر اتنا ضرور کیجئے گا کہ نئ جیل میں جا کر اے کلاس کےلئے درخواست ڈال دیجئے گا .... شاید کام بن جائے !!!"
" ہمیں کوئ درخواست نہیں کرنی .... جب کفن سر سے باندھ لیا ... تو کلاسوں کا کیا سوال ؟ "
" حضرت .... یہ فرمائیے گا کہ .... لاہور اور دوسرے شہروں میں جو قتل عام ہوا ہے .... اس کا ذمّہ دار کون ہے ؟؟ " چاند پوری نے امیر محترم سے سوال کیا-
" بھائ ہم ہرگز نہیں چاھتے تھے کہ حکومت یا عوام کسی بھی طور تشدّد پر اتر آئیں ----- اور کوئ ناخوشگوار صورتِ حال نمودار ہو ------ میں نے لاہور اور دوسرے مقامات پر گولی چلنے کے واقعات سنے ہیں ------ اور مجھے دکھ ہے کہ کئ بوڑھے باپوں کی لاٹھیاں ٹوٹ گئ ہیں ----- ماؤں کے چراغ گل ہو گئے ہیں ------ اور کئ سہاگ اجڑ گئے ہیں ------ کاش کوئ حکومت تک میرا یہ پیغام پہنچا دے کہ تحفظ ناموسِ رسول ﷺ کے سلسلے میں اگر کسی کو گولی مارنا ضروری ہو تو وہ گولی میرے سینے میں مار کر ٹھنڈی کر لو ------ کیونکہ میں ہی اس جرم کا سب سے بڑا مجرم ہوں ------ کاش اس سلسلے میں اب تک جتنی بھی گولیاں چلائ گئیں وہ مجھے ٹکٹکی پر باندھ کر چلائ جاتیں ------ "
"میں آپ کی سوانح حیات لکھنا چاھتا ہوں .... اب کہاں ملاقات ہوگی؟ " میں نے بھی ڈرتے ڈرتے سوال کیا-
" کون لکھّے گا ہماری سوانح حیات ---- ایک طوفان تھا جو گزر گیا ---- میں نے بنجر زمینوں میں ہل جوتے ---- تاریک صحراؤں میں سفر کیا ---- قبرستانوں میں اذانیں دیں ---- میں وہاں پہنچا ہوں جہاں دھرتی پانی نہیں دیتی تھی ---- میں نے ھندوستان کے کروڑوں انسانوں کے دل سے انگریز کا خوف نکال کر آزادی کا صور پھونکا ---- یہ کہانی اتنی تلخ اور ہمہ گیر ہے کہ سوائے میرے اسے کوئ نہیں لکھ سکتا ---- مگر ہم جس مقصدِ عالی کے حصول کےلئے جدوجہد کر رہے ہیں ---- وہاں کہانیاں لکھنے کی گنجائش کہاں ----- ایک سفر تھی زندگی ---- کچھ ریل میں کٹ گئ ---- کچھ جیل میں ----- "
گاڑیاں اسٹارٹ ہو گئیں- کراچی سینٹر جیل کی رونقیں ویران کرکے عشق کے یہ قیدی کسی نئ منزل کو روانہ ہو گئے- ان کا اگلا پڑاؤ کہاں تھا ، کسی کو معلوم نہ تھا-
ہم بالکل فارغ ہو کر رہ گئے- سارا دن کراچی کی سڑکوں پر جوتیاں چٹخانا ، جاگیردار ہوٹل سے کھانا کھانا اور لوٹیا بلڈنگ میں جا کر مسودات میں گم ہو جانا ہمارا معمول بن گیا- رات دیر گئے ہم ڈائریوں پر اپنی یاداشتیں لکھتے رہتے-
8 اپریل کی شام چاند پوری ریل کے دو ٹکٹ لیکر آئے-
" کیا لاہور کی تیاری ہے ؟؟"
" نہیں .... حیدرآباد !!!"
" حیدر آباد ؟؟ .... کیوں ؟؟
" عشق کے قیدیوں کا پتا معلوم ہو گیا !! " انہوں نے چہکتے ہوئے کہا-
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers