7 مارچ ... 1953ء .... کراچی
کراچی آئے ہمیں دوسرا دن تھا-
ہم سینٹر جیل کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے- یہ جگہ ان دنوں مرجع خلائق تھی-
چاند پوری اور میں ڈائری پینسل تھامے ادھر ہی گھومتے رہتے- جیل کے سامنے پھجّے کا ہوٹل ہمارا میڈیا سینٹر تھا- یہاں ایک پرانا والو ریڈیو نصب تھا جو صندوق سے تھوڑا بڑا اور پیٹی سے قدرے چھوٹا تھا- ہوٹل سے باہر دو بڑے بڑے پول تھے جن کے بیچ لٹکی موٹی سی ایک تار اس ریڈیو کا اینٹینا تھی- ہم سارا دن ریڈیو سیلون پر گانے سنتے اور دن میں دو دفعہ ریڈیو پاکستان کراچی سے خبریں-
اس دور کا میڈیا بھی سوائے جھوٹ کے کچھ نہ سناتا تھا- خبروں کے مطابق ملک میں امن کا " اُلّو " بول رہا تھا- فوج لاہور کو "بلوائیوں" سے پاک کر کے اداروں کو دوبارہ فعال کرنے میں لگی ہوئ تھی- حکومت مٹھی بھر "شرپسندوں" سے جلد نمٹنے کا راگ الاپ رہی تھی- مرزائ کی بکری بھی مر جاتی تو بریکنگ نیوز چل پڑتی- کلمہ گو ہزاروں شہید ہو گئے لیکن کسی نے تذکرہ تک نہ کیا-
جیل کے سامنے ہر گھڑی میلے کا سا سماں تھا- یہ ساری رونقیں اسیران ختم نبوت کے طفیل تھیں- کوئ چاولوں کی دیگ لا کر یہاں بانٹتا ، کوئ حلوے کی پرات لئے پہنچتا ، کوئ پاندان اٹھائے چلا آتا تو کوئ نئ رضائ کا تحفہ لئے اندر گھسنے کی کوشش کرتا- بدایونی صاحب کے کراچی میں ہزاروں مرید تھے ، ایک بڑا حلقہ مولانا ابوحسنات کا معتقد تھا ، حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری کے جانثاروں کی بھی کمی نہ تھی ، صاحبزادہ فیض الحسن کے دیوانے بھی ہزاروں تھے- کراچی کی شیعہ کمیونٹی میں علّامہ مظفرحسین شمسی کا نام گونجتا تھا- کمشنر کراچی اے ٹی نقوی بھی مومن تھے سو جیل میں ان اسیران کو کسی قسم کی کوئ تکلیف نہ ہونے دی- نقوی صاحب کے اسی حسنِ سلوک اور عدم تشدّد کی پالیسی کی وجہ سے کراچی میں ختم نبوّت کی تحریک 15 دن میں ہی ٹھنڈی ہو کر رہ گئ-
لاہور میں کون سی قیامت بیت گئ ، ادھر کسی کو مطلق خبر نہ تھی- حق و سچ کا پرچارک " زمیندار" مقیّد تھا اور جھوٹ دجل فریب کے کارخانے آزاد- سو ہر طرف سب اچھا کا راگ الاپا جا رہا تھا- لوگ بس اتنا جانتے تھے کہ ملک میں کچھ بدامنی ہے ، اور اس کے پیچھے دولتانہ ہے ... باقی اللہ اللہ خیر صلّہ !!!
" دو کپ چائے ... کڑک ... " چاند پوری نے پھجّے کو آرڈر دیا-
میں ہوٹل پر پڑا " ڈان " اٹھا کر پڑھنے لگا-
" تحریکِ ختم نبوّت کو امریکہ کی طرف سے خُفیہ فنڈنگ کا انکشاف ... !!! "
"اسی لئے میں انگریزی اخبار اُلٹا رکھ کر پڑھتا ہوں کہ اس میں کچھ بھی سیدھا نہیں لکھا ہوتا" چاند پوری نے کہا-
" احمدی مخالف تحریک کی وجہ سے ملک تباہی کے دھانے پر ..."
" پھر الٹا لکھ دیا .... حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے !!!" چاند پوری نے تبصرہ فرمایا-
اس دوران ہم نے ایک سرکاری گاڑی کو جیل خانے کی طرف آتے دیکھا- ھوٹل پر بیٹھے دیگر لوگ بھی ادھر متوجہ ہوگئے-
" یہ تو عبداللہ محمد خان ہیں ..... سرکاری قاصد ..... ضرور حکومت کا کوئ اہم پیغام لیکر آ رہے ہیں .... ہو سکتا ہے رہائ کا مژدہ ہو .... چلو چل کر دیکھتے ہیں"
عبداللہ محمد خان کاغذات کا ایک پلندہ لئے گاڑی سے اترے ، پھر جیل حکام سے کچھ دیر بات چیت کر کے اندر چلے گئے- ہم بھی جیل سنتری کو روپیہ پکڑاتے ان کے پیچھے پیچھے لپکے-
جیل کی مختلف راہداریوں سے گزرتے وہ سیدھا اے کلاس سیکشن جا کر ٹھہرے- اسیرانِ ختم نبوّت ایک بڑے ہال نما کمرے میں تشریف فرماء تھے- خان عبداللہ کو دیکھ کر صاحبزادہ فیض الحسن اور ماسٹر تاج الدین کھلکھلاتے ہوئے اُٹھے اور انتہائ خوش دلی سے ان کا استقبال کیا-
" حیرت ہے !!! اتنا بڑا غضب ہو گیا ... اور آپ لوگوں کے چہروں پر دکھ کے آثار تک نہیں ؟" خان بہادر کی آواز کپکپا رہی تھی-
" کیا ہو گیا خان بہادر صاحب ؟" سب حضرات اپنی اپنی چارپائیوں سے اٹھ کر خان عبداللہ کے گرد جمع ہونے لگے-
" یعنی .... واقعی ... آپ کو ..... لاہور کی ..... مطلق خبر نہیں ... ارے غضب ہو گیا بھائ .... غضب !!! "
" واللہ ... ہمیں کچھ معلوم نہیں ... جیل ملازمین کی زبانی اتنا معلوم ہوا ہے کہ وہاں ھڑتال چل رہی ہے" صاحبزادہ صاحب نے کہا-
" ارے ... خُدا کے بندو !!! ہزاروں لوگ قتل ہو گئے ہیں .... ہزاروں ... گولی چلی ہے وہاں گولی ... خون کی ندیاں بہہ گئیں ... اور آپ کو خبر تک نہیں .... حیرت ہے !!!"
یہ سنتے ہی سب حضرات کے چہروں پر غم و اندوہ کے سائے لہرانے لگے-
" میں سیدھا لاہور سے آ رہا ہوں بھائ ... میں نے لوگوں کو خون میں لت پت ہوتے .... سڑکوں پر دم توڑتے دیکھا ہے ..... یہ سب کیا ہو رہا ہے بھائ ... کیوں ہو رہا ہے ... ارے کوئ تو اس کو روکو ... !!! "
" ہم روکیں ؟؟ .... یہاں جیل میں بیٹھ کر ؟؟صاحبزادہ فیض الحسن بول اُٹّھے " ارے خان بہادر صاحب !!! حکومت نے عقل کو پابہ زنجیر کر کے جیل میں بند کر دیا .... اور جزبات کو کھُلا چھوڑ دیا ہے .... کچھ جو آپ دیکھ کر آئے ہیں ... اسی حماقت کا نتیجہ ہے ... ہم یہاں بند ہیں ... اس بے بسی کے عالم میں کیا کر سکتے ہیں ... جب تک ہم آزاد تھے کسی کی نکسیر بھی پھوٹی ؟؟
" ارے بھائ .... اس خون کو روکو .... کوئ ایک بیان دیکر .... شاید یہ ظلم کی چکّی تھم جائے " خان عبداللہ نے واویلہ کیا-
"ہم بیان دیں ؟؟ .... یہاں جیل میں بیٹھ کر ؟؟ کمال ہے !!! ہماری سُنے گا کون ؟؟ اور اعتبار کون کرے گا اس بیان کا ؟؟ حکومت کو جاکر بتائیے کہ بے گناہ لوگوں پر گولیاں چلانا بند کرے ... اور یہاں آکر ہمیں توپوں سے اُڑا دے ... سرکار کا کلیجہ بھی ٹھنڈا ہو جائے گا .... سرظفراللہ خان بھی راضی ہو جائیں گے ... اور اس خونی داستان کو سُن کر ہمیں آنسو بھی نہ بہانے پڑیں گے" صاحبزادہ کی آواز رندھ گئ اور وہ رومال سے آنکھیں صاف کرنے لگے-
خان محمد عبداللہ جن قدموں سے آئے تھے ، انہی سے واپس لوٹ گئے-
گرفتاریوں کے 15 روز بعد لاہور سے سی آئ ڈی کے دو ذمہ دار افسران کراچی جیل میں رہنماؤں سے ملنے آئے-
" حکومت آپ حضرات کو آزاد کرنا چاہ رہی ہے .... لیکن اس کےلئے آپ کو ایک چھوٹا سا بیان لکھ کر دینا پڑے گا"
"وہ چھوٹا سا بیان کیا ہے بھائ ؟؟ " ماسٹر تاج الدین صاحب نے پوچھا-
" بس ایک سطری جملہ ... کہ یہ تحریک میاں ممتاز دولتانہ کے کہنے پر چلائ گئ"
عطاءاللہ شاہ بخاری اپنی جگہ سے اٹھے اور سرکاری قاصد کے سامنے آن کھڑے ہوئے " یہ جھُوٹ ہے .... دولتانہ ایک دنیا دار آدمی ہے اور تحریکِ ختمِ نبوّت پاک جزبوں کی امین ..... اس کی ذمہ داری ایک فاسق و فاجر شخص پر کیوں ڈالتے ہو ؟؟ .... بتا دو جا کر ..... میں نے چلائ ہے یہ تحریک .... میں نے .... اور میں ہی اس کا ذمّہ دار ہوں ... اِس جہان میں بھی ... اور اُس جہان میں بھی !!! "
سرکاری ہرکارے ایسا کھسکا کہ پیچھے مُڑ کر نہ دیکھا-
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers