8 مارچ 1953 ---- مسجد وزیرخان لاہور
فوج نے مسجد کو پوری طرح محاصرے میں لے لیا-
پانی کے نل بند کر دیے اور بجلی کی فراہمی معطل کر دی-
مسجد وزیر خان میں رضاکاروں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ جمع تھے- مقرّرین خفیہ راستے سے آتے اور تقریریں کر کے چلے جاتے- پولیس اور فوج جلد سے جلد مسجد پر قبضہ کرنے کی فکر میں تھے-
اگلے روز فوج نے خفیہ راستوں کا پتا چلا کر وہاں بھی پہرے بٹھا دیے- مسجد سرکاری ایجنسیوں کا اکھاڑا بننے لگی - یہ لوگ مسلسل رضاکاروں کے حوصلے پست کرتے اور طرح طرح کی افواہیں پھیلاتے- مسلسل محاصرے کی وجہ سے اندر کی صورتِ حال لمحہ بہ لمحہ دگرگوں ہوتی جا رہی تھی- ریڈیو سے مسلسل اعلان نشر ہو رہا تھا:
"عبدالستار نیازی اور خلیل احمد قادری اپنے آپ کو حکام کے حوالے کر دیں .... ورنہ انہیں دیکھتے ہی گولی مار دی جائے گی"
ان حالات میں کچھ سرفروشان ، تحریک کے حق میں اشتہارات چھاپ چھاپ کر شہر بھر میں لگا رہے تھے ، سرکاری پروپگنڈہ کے توڑ کا یہی واحد ذریعہ تھا !!!
فوج مسجد میں داخل ہونے سے گریزاں تھی- شدید جانی خطرے کے باوجود رضاکاروں کا جزبہء شوق دیدنی تھا- میگافون پر مقررین کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو رہے تھے اور مسجد سے تقاریر کا سلسلہ بھی جاری تھا-
علماء کی جمہوریت سے دوری نے ایوان کو سیکولرز کا گڑھ بنا دیا تھا- چنانچہ ایوان میں اس بربریّت پر آواز اٹھانے والا بھی کوئ نہ تھا- مولانا نیازی رح جو پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر تھے ، خود مسجد میں محصور تھے-- تحریک کے قائدین نے مولانا نیازی کو مشورہ دیا کہ دو روز بعد ہونے والے صوبائ اسمبلی کے اجلاس میں کسی نہ کسی طور شریک ہو کر اپنا مؤقف پیش کریں اور بعد میں گرفتاری دے دیں ، تاکہ سرکاری پروپیگنڈے کا توڑ ہو-
اگرچہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن اس کے سوا کوئ چارہ بھی نہ تھا- اس رات مولانا نیازی بھیس بدل کر مسجد کی دیوار ٹاپ گئے اور لاہور کے ایک خفیہ مقام پر چھپ کر اسمبلی کے اجلاس کا انتظار کرنے لگے-
مسجد سے مولانا نیازی کی تقاریر بند ہوئیں تو حکومت کو پروپگنڈے کا موقع مل گیا- لاہور میں جگہ جگہ ان کی تلاش میں چھاپے مارے جانے لگے- سرکاری ریڈیو ان کے خلاف زہر اگلنے لگا- ڈان اخبار نے صفحہ اوّل پر مولانا نیازی کی ایک پرانی کلین شیو تصویر لگا کر سرخی جما دی :
" عبدالستار نیازی نے داڑھی منڈوا لی .... دیگ میں بیٹھ کر لاہور سے فرار !!! "
6 مارچ کو مسجد میں تقریباً تین چار ہزار رضاکار موجود تھے- روزانہ پانچ چھ جوان باوضو ہو کر باہر نکلتے اور ختم نبوّت کا نعرہ لگا کر خود کو گرفتاری کےلئے پیش کر دیتے-
ملک بھر میں عوام گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ چکی تھی- ساہیوال ، اوکاڑہ ، سیالکوٹ ، فیصل آباد ، گجرات ، راولپنڈی ، گوجرانوالا ، اور اندرونِ سندھ بوڑھے ، بچے ، جوان عورتیں مرد تھانوں کا گھیراؤ کئے بیٹھے تھے- حکومت جانتی تھی کہ مسجد وزیرخان کو فتح کئے بغیر تحریک کا خاتمہ ممکن نہیں- 7 مارچ کو کمانڈرانچیف جنرل محمد ایّوب خان کچھ دیگر افسران کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لینے پہنچے- انہوں نے مسجد سے متصل سڑک پر کھڑے ہو کر میگافون پر اعلان کیا:
" مولانا خلیل احمد قادری اور تمام رضاکار اپنے آپ کو حکام کے حوالے کر دیں .... ورنہ فوج مسجد کے اندر آ کر آپریشن کرے گی .... اور خون خرابہ کی تمام تر ذمّہ داری آپ لوگوں پر ہوگی "
اس کے جواب میں مولانا خلیل نے اسپیکر پر تقریر کرتے ہوئے کہا :
" جنرل صاحب !!! مسجد خانہء خدا ہے .... یہ آپ کی حدودِ سلطنت میں نہیں آتی .... فوج اور پولیس کو مسلمان پر گولیاں چلانے کا کوئ حق نہیں .... مسلمان کا خون مسلمان پر حرام ہے .... اگر فوج نے مسجد میں گھسنے کی کوشش کی تو اس کا بڑی سختی سے جواب دیا جائے گا .... اور تمام کشت و خُون کی ذمّہ داری پاک فوج کے سر ہو گی !! "
اس دوران ایک مرزائ افسر نے تجویز پیش کی کہ مسجد کو ڈائنامیٹ سے اُڑا دیا جائے لیکن جنرل صاحب نے یہ منصوبہ سختی سے مسترد کر دیا اور مزید احکامات کا انتظار کرنے کا کہ کر چلے گئے-
8 مارچ کو کرفیو کا وقفہ ہوا تو خلیل احمد قادری نے ایک مختصر سی تقریر کی:
"برادرانِ اسلام !!! ہم لوگ ناموس مصطفے ﷺ کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے کےلئے یہاں جمع ہوئے ہیں --- یہ راستہ شہادت کا رستہ ہے ---- لہذا جو شخص اپنے دل میں ذرا سی بھی کمزوری محسوس کرتا ہے --- یا جسے ذرا بھی اپنی جان پیاری ہے --- وہ اپنے گھر جا سکتا ہے ----"
اس تقریرکے بعد بہت سے رضاکار مسجد سے نکل کر اپنے اپنے گھروں کو جانے لگے- یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا اور مسجد میں صرف ڈیڑھ ہزار جانثار باقی رہ گئے- حالات کی تیز آندھیوں میں تحریک کا چراغ ٹمٹما رہا تھا لیکن قیادت کسی نہ کسی طرح اسے سنبھالے ہوئے تھی-
8 مارچ کو مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوا- حکومت کی طرف سے ایڈوکیٹ امیرالدین قدوائ قائدین تحریک کےلئے گورنر کا پیغامِ ملاقات لیکر آئے --- لیکن قائدین نے ملنے سے صاف انکار کر دیا-
8 مارچ کی شام تک رنگ محل ، شیرانوالا گیٹ اور موچی گیٹ تک ریت کی بوریاں چن دی گئیں- مسجد کے چہار اطراف گھر خالی کرا کے وہاں مشین گنیں اور دیگر ہتھیار نصب کر دیے گئے- رات کو کسی بھی وقت خونریز ملٹری آپریشن متوقع تھا- یہ رات اہلِ لاہور پر بہت بھاری تھی ، لیکن عشقِ رسول ﷺ سے سرشار پروانوں کےلئے للیةالقدر بنی ہوئ تھی- شب بھر مسجد میں ذکرِ الہی جاری رہا- نعرہء ہائے تکبیر ، نعرہء رسالت ، سے لاہور کی فضاء گونجتی رہی- درود و سلام کی صدائیں فضاء کو مشکبار کرتی رہیں ....
پڑھیں درود آپ پر ، مِلی زباں اسی لئے
فِدا ہو اُن کے دین پر ، ہے تن میں جاں اِسی لئے
جو اُن کے واسطے نہیں ، وہ زندگی فضول ہے
غلامیء رسول میں ---------- موت بھی قبول ہے
غلام ہیں غلام ہیں ---- رسول کے غلام ہیں
اگلے روز قدوائ صاحب پھر تشریف لائے-
امیرالدین قدوائ تحریکِ پاکستان کے کارکن اور حضرت ابولحسنات کے دوست تھے- وہ کسی صورت خون خرابہ نہیں چاھتے تھے- انہوں نے قائدین اور کارکنان سے کہا :
" سارے شہر میں فوج کا کنٹرول ہو چکا .... گرفتاری کے سوا کوئ رستہ نہیں .... آپ مزاحمت جاری رکھّیں گے تو کشت و خون ہوگا .... اور مسجد کی بے حرمتی بھی .... جتنا آپ کے بس میں تھا ، آپ نے کیا .... باقی رب پر چھوڑ دیں .... "
مولانا بہاءالحق قاسمی نے اسپیکر پر اعلان کیا :
" ختمِ نبوّت کے پروانوں ---- ہم نے یہ تحریک عدمِ تشدّد کے فلسفے پر چلائ تھی --- لیکن حکومت نے بالاخر اسے پرتشدّد بنا کر ہی چھوڑا ---سرکار اب بھی خون کی پیاسی ہے --- اور اس خون کا الزام بھی ہمارے سر پر دھرنا چاھتی ہے --- حالات کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے آپ کو گرفتاری یا شہادت کےلئے پیش کر دیں --- ایک دن یہ قربانیاں ایک دن ضرور رنگ لائیں گی ---- "
اس کے بعد ختم نبوّت کے پروانے باوضو ہو کر پانچ پانچ کی ٹولیوں میں باہر نکلتے رہے اور فوجی حکام انہیں گرفتار کرتے گئے- ڈیڑھ ہزار جانثاران ختمِ نبوّت نے گرفتاری پیش کی-
سیّد خلیل احمد قادری ، ایڈوکیٹ قدوائ صاحب کے ساتھ مسجد کے جنوبی دروازے سے باہر تشریف لے آئے تو فوجی افسروں نے ان پر بندوقیں اور ریوالورز تان لئے-
" جب میں خود گرفتاری پیش کر رہا ہوں تو اس تکلّف کی کیا ضرورت ہے ؟" سیّد خلیل نے مسکرا کر کہا-
" آپ لوگ ہمیں کافر سمجھتے ہیں --- اور مسجد میں اسلحہ جمع کر رکھّا ہے ---" ایک کرنل پستول لہراتے ہوئے بولا-
" اگر آپ مرزائ ہیں تو پھر یقیناً کافر ہیں --- اور اگر مسلمان ہیں تو پھر کسی مسلمان کو کافر سمجھنا بہت بڑا کفر ہے"
" مسجد میں کتنا اسلحہ ہے ؟؟"
" یہ ہوائ کسی دشمن نے اڑائ ہو گی --- دروازے کھلے ہیں --- آپ اندر جاکر دیکھ سکتے ہیں" خلیل احمد نے جواب دیا "
اس پر کرنل ہنس دیا اور مولانا کی گرفتاری کا حکم دیا-
ایک جوان آگے بڑھا اور سیّد خلیل کو ہتھکڑی پہنانے لگا-
سیّد نے بے ساختہ ہتھکڑی کو چوم کر کہا:
" یا اللہ تیرا شکر ہے --- مجھے فخر ہے کہ آج میں نے شافع محشر ﷺ کی ناموس اور عظمت کی خاطر یہ زیور پہنا ہے"
" دل تو ہمارے آپ کے ساتھ ہیں --- لیکن ہم بے بس ہیں --- " سپاہی نے کہا-
" یزیدی فوج بھی یہی کہتی تھی ---" سیّد خلیل نے جواب دیا-
کوتوالی میں فوجیوں نے بڑے بڑے وائرلیس سیٹ لگا رکھّے تھے- مارشل لاء حکام کو "خطرناک ملزمان" کی گرفتاری کی نوید سنائ جا رہی تھی- عشقِ رسول ﷺ کے قیدیوں کو پرانی کوتوالی سے دھلی دروازے تک پیدل لے جایا جا رہا تھا- قادیانیّت نواز ریاست سے کسی سمجھوتے کی بجائے جنہوں نے موت کی کوٹھڑی میں رہنا پسند کیا تھا-
کرفیو کے باوجود بے شمار عورتیں ، مرد اور بچّے گھروں سے نکل آئے اور تحریک کے حق میں نعرے لگانے لگے ..... ریاستی جبرو استعداد میں جکڑی امّت اس درد پر شاداں و فرحاں تھی ، جو سرکارِ دوعالم ﷺ کی ختم المرسلینی کے صدقے انہیں عطاء ہوا تھا ، اس نسبت پر فخر کر رہی تھی جس کے کانٹے بھی پھول معلوم ہوتے ہیں .... !!
کرم ہے خاص رب کا ، ملی ہیں اس کی رحمتیں
ہے اس کے پاک نام سے ، ہماری ساری نسبتیں
ہم اس کی اُمّت آخری ، وہ آخری رسول ہے
جو ہو نہ عشقِ مصطفے ، تو زندگی فضُول ہے
غلام ہیں غلام ہیں ---- رسول کے غلام ہیں
صلی اللہ علیہ والہ وسلم
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers