6 مارچ 1953 جمعہ المبارک !!!
نمازِ جمعہ کے بعد حکومت کا مذاکراتی وفد مسجد وزیر خان پہنچا-
وفد کی قیادت اسپیکر پنجاب اسمبلی خلیفہ شجاع الدین کر رہے تھے- وفد میں مسلم لیگ کے شیخ سردار محمد ، احمد سعید کرمانی اور بیگم سلمی تصدق حسین شامل تھے- یہ حضرات مسجد میں داخل ہوئے تو کارکنان کی آنکھوں میں نفرت کے شعلے بھڑکنے لگے- مسجد کے دروازے پر کھڑے جزباتی کارکنان ان پر فقرے چست کرنے لگے :
" ماشاء اللہ ....... سبحان اللہ ..... وفد آیا ہے !!! "
اب آپ کی آنکھ کھلی ہے ...؟؟ "
" ہزاروں لوگ قتل کر کے اب مذاکرات کرنے آگئے ہو .... ؟؟ "
" پہلے تماشا دیکھتے رہے ... اب ہماری جدوجہد پر پانی پھیرنے آئے ہو ..... ؟؟ "
رضاکاروں نے جوشیلے نوجوانوں کو سمجھا بجھا کر خاموش کرایا- اور اراکینِ وفد کو باحفاظت مسجد کے اندر لے گئے-
مسجد کے حُجرے میں مولانا عبدالستار نیازی ، مولانا بہاءالحق قاسمی ، مولانا غلام غوث ہزاروی اور سیّد خلیل احمد قادری موجود تھے- انہوں نے وفد کا استقبال کیا اور مذاکرات شروع ہوگئے-
"آپ کی تحریک کا میاب ہو چکی ہے ... صوبائ حکومت سرظفراللہ خان کی فوری برخواستگی سمیت آپ کے تمام مطالبات مرکزی حکومت کو بھجوا رہی ہے .... آپ تحریک ختم کرنے کا اعلان کر دیں .... تاکہ شہر میں امن قائم ہو سکے " وفد نے کہا-
" جب تک کراچی میں قید مجلس کے رہنماؤں کو آزاد نہیں کیا جاتا ... ہم حکومت کی نیّت پر اعتبار نہیں کر سکتے " مولانا نیازی رح نے دوٹوک جواب دیا-
"دیکھئے حکومت کوشش کر رہی ہے .... تھوڑا وقت لگے گا .... "
"کتنا وقت لگے گا ؟؟ ایک دن ، ایک مہینہ یا ایک سال ؟؟ "
" دیکھئے بہت خون بہہ چُکا ..... اب امن قائم کرنے میں حکومت کی مدد کیجئے "
" آپ ہمیں نصیحت فرمانے کی بجائے مسلم لیگ کو تھوڑی شرم دلائیے ... کیا رعایا کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتا ہے ؟؟ ... گولیوں کی اندھا دھند مونسلادھار بارش ..... ؟؟ ... کیا ہمارا مطالبہ اسلام کا بنیادی مطالبہ نہیں ہے ؟؟ "
"بے شک آپ کے مطالبات جائز ہیں ..... اور حکومت اب گفت و شنید چاہتی ہے "
" گفت وشنید ہم سے نہیں قیادت سے کیجئے .... !!! "
"لیکن اس وقت تو قیادت آپ ہی کے ہاتھوں میں ہے !!! "
" ہم مذاکرات کا اختیار نہیں رکھتے ... آپ پہلے مجلس کی قیادت کو آزاد کرائیے .... پھر مذاکرات کیجئے !!! "
اس گفتگو کے بعد کچھ مایوسی چھا گئ-
مولانا بہاءالحق قاسمی نے بیگم سلمی تصدّق حسین سے کہا-
" بیگم صاحبہ ... یہ مسلم لیگ کا جلسہ تو نہیں کہ آپ کھلے بندوں بے پردہ تشریف لے آئیں .... خانہء خُدا ہے .... اگر یہاں قدم رنجہ فرمانا ہی تھا تو پردے کا خیال بھی کر لیا ہوتا ... باہر لوگ اس بے پردگی پر سخت معترض ہیں ...."
بیگم صاحبہ نے خاموشی سے سر جھکا لیا-
"عبدالکریم .... جاؤ کسی مقامی رضاکار کو بولو کہ برقعہ لے کر آئے ... !!! "
باہر صحن میں بیٹھے کارکنان میں وفد کی وجہ سے اشتعال پھیل رہا تھا- مذاکرات ناکام ہو چکے تھے- کچھ دیر بعد ایک کارکن ٹوپی برقعہ لیکر حاضر ہوا جو بیگم صاحبہ کو اوڑھا دیا گیا- اس کے بعد مذاکراتی وفد کو مسجد کے بغلی دروازے سے واپس پیک کر دیا گیا-
تقریباً تین بجے ایک چھوٹا سا زرعی جہاز "بھوں بھوں " کرتا مسجد کے اوپر چکر لگانے لگا- اس نے فضاء سے پمفلٹ گرائے جن میں سے کچھ مسجد کے اندر گرے کچھ باہر :
" وزیر اعلی پنجاب یہ اعلان کرتے ہیں کہ ان کی حکومت تحفظ ختم نبوت کے لیڈران سے فوری گفتگو کےلئے تیار ہے- وہ عوام کو اطمینان دلاتے ہیں کہ فوج اور پولیس اب فائرنگ نہیں کرے گی- صوبائ حکومت کا ایک وزیر فوری طور پر قوم کے یہ متفقہ مطالبات لیکر بزریعہء طیارہ آج ہی دارالحکومت روانہ ہو رہا ہے- ہماری پُرزور سفارش ہے کہ چوھدری ظفراللہ خان کو ان کی وزارت سے فوری طور پر برطرف کیا جائے"
لاؤڈ اسپیکر والی گاڑیاں شہر بھر میں یہ اعلان کرتی پھرتی تھیں- ریڈیو سے بھی یہ اعلان نشر ہو رہا تھا-
ہر طرف ایک خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئ- ملک بھر میں مسلم لیگ کی سٹی کونسلز نے اس حکومتی اقدام کے حق میں فوری قرادادیں منظور کرنا شروع کر دیں- مردہ چہرے تمتما اُٹھے- عوام نے خوشی سے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا- تحریکِ ختم نبوّت 1953ء آگ اور خون کا دریا عبور کرکے بالا خر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی- مسجد وزیرخان میں اعلان کر دیا گیا کہ جو کارکناں واپس جانا چاھتے ہیں ، جا سکتے ہیں- بے شمار لوگ مسجد کے بغلی دروازوں سے نکل کر اپنے اپنے گھروں کو چل دئیے- مسجد میں اب صرف دور دراز سے آئے ہوئے تقریباً چالیس ہزار رضاکار ہی رہ گئے تھے-
ٹھیک شام پانچ بجے فوجی گاڑیاں اندرون شہر داخل ہونے لگیں- ہر طرف مارشل لاء مارشل لاء کا شور مچ گیا .... !!!
"مارشل لاء آگیا ... مارشل لاء آگیا !!!" لوگ مختلف سرگوشیاں کرتے ہوئے چھولداریوں سے باہر جھانکنے لگے-
گاڑیاں وزیرخان چوک میں آ کر ٹھہر گئیں-
ایک جیپ سے بغل میں اسٹِک لئے ، پاکستان برّی فوج کے پہلے مسلمان کمانڈر انچیف باہر نکلے-
"جنرل اعظم !!! سیز دی موسک .... اینڈ ٹرائ ٹُو اریسٹ ہم لائیو !!! "
" یس سر !!! "
" ٹیک کیئر ...... نو بلڈ شِڈ .... مئے وی ہیو ٹوُ رُول دِس پوُور نیشن اِن فیُوچر !!!"
"یس سر !!!" جنرل اعظم نے چیف کو سلیوٹ کیا-
ھدایات دیکر کمانڈرانچیف جنرل محمد ایوب خان واپس اپنی گاڑی میں جا بیٹھے اور جیپ بڑھا دی-
" کارڈن آف دی ایریا ..... ہری اپ ..... سِیز دی موسک .... امیجیٹ !!! " جنرل صاحب سپاہ کو ھدایات دینے لگے-
نئ اسلامی جمہوری ریاست کے سادہ دِل عوام کھڑکیوں سے جھانک جھانک کر اس نخلستان کا نظارہ کر رہے تھے جو جمہوریت کے تپتے ریگزاروں میں پہلی بار نظر آیا تھا- حالات کی سرکش موجوں میں ابھرنے والے اس جزیرے کو لوگ ایڑیاں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے تھے جس کا نام "مارشل لاء" تھا-
" فوج آ گئ .... ہُن سب سُووت ہو جاؤو " ایک بُڈّھے نے کھڑکی سے جھانکتے ہوئے تبصرہ کیا-
" آہو .... سائنس داناں نوں کوڑے لگن گے .... ظالماں دا حساب ہووئے گا !!! " ایک مائ نے خیال ظاہر کیا-
سادہ دل عوام نہیں جانتے تھے کہ جمہوریت ہو یا مارشل لاء کوڑا ہمیشہ عوام کی ہی پیٹھ پر لگتا ہے- حساب ہمیشہ قوم ہی دیتی آئ ہے ، ظالموں کا حساب لینے والا نہ تو آج تک کوئ پیدا ہوا ہے ، نہ ہی آئیندہ ہوگا-
مسجدِ وزیرخان میں مولانا عبدالستار نیازی رح کا خطاب جاری تھا :
"ناعاقبت اندیش حکمرانوں !!!! ... اپنے گلے میں فوجی بوٹوں کے ہار پہننے والو .... بہت بڑی غلطی کر رہے ہو .... اپنی ہی عوام کو روندنے چلے ہو ؟؟ .... ارے فوج کا کام سرحدوں کا دفاع ہوتا ہے ... اپنے ملک کو فتح کرنا نہیں .... کون سا فساد برپاء ہوا ہے لاہور میں جو تم نے فوج بُلا لی ؟؟ .... نصف صدّی ہو گئ تحریکِ ختم نبوّت کو .... آج تک کسی مرزائ کی نکسیر بھی پھوٹی ؟؟ ... بیرون باغ میں کتنے جلسے کئے ہم نے ... کسی نے مرزائیوں کے محلّے کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا ؟؟ ... ارے ہماری جنگ نظریے کے خلاف ہے .... جسموں کے خلاف نہیں !!!!"
نعرہء تکبیر .... اللہ اکبر !!!!
تاج و تختِ ختمِ نبوّت ... زندہ باد !!!!
مسجد وزیرخان کے گرد خاردار تار بچھائ جا رہی تھی ..... قریبی عمارتوں کی چھتّوں پر مورچے بنا کر مشین گنیں نصب کی جا رہی تھیں ..... ریڈیو سے دھمکی آمیز اعلانات نشر ہو رہے تھے ..... اور شہر بھر میں آگ لگانے والے نامعلوم افراد ایک دم غائب ہو چٌکے تھے ..... !!!
اگلے ہی روز وزیر اعلی نے اپنا بیان واپس لے لیا-
ہمیں تو اپنوں نے لوٹا ، غیروں میں کہاں دم تھا
میری کشتی تھی ڈوبی وہاں ، جہاں پانی کم تھا
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers