آئ جی نے مرزا نعیم الدین کو ساتھ بٹھایا اور چیف منسٹر ہاؤس کی طرف نکل کھڑے ہوئے-
راستے میں جا بجا انہوں نے جلاؤ گھیراؤ کے مناظر دیکھے-
میکلوروڈ پر ایک پولیس وین دیکھ کر آئ جی نے گاڑی روکی :
"یار محمد ... کیا خبر ہے ؟؟ "
" ستّے خیراں نیں سر جی ... سب ٹھیک ٹھاک اے !!! " ایک موٹے سے انسپکٹر نے وین کے اندر سے سر باہر نکالا-
"شہر کے حالات کیسے ہیں ؟؟"
" ڈاکخانے نوں اگ لگی اے .... باقی سب ٹھیک ٹھاک اے ..... مغل پورے وِچ اِک احمدی محمد شفیع برما والے نوں قتل کر دِتّا گیا اے ... تے ... باقی سب ٹھیک ٹھاک اے ... بھاٹی دروازے دے اندر چُھرّے مار کر ایک احمدی اسٹوڈنٹ نوں مار دتّا گیا ... باقی سب ٹھیک ٹھاک اے ... تے ... مرزا کریم بیگ نوں میرا خیال آ کہ .... فلیمنگ روڈ تے چھرے مار کے .... نئیں بلکہ اگ وِچ ساڑ دِتّا مجمع نیں ... نئیں ... بلکہ مار کے فیر ساڑیا .... باقی سب .... "
" اچھا اچھا ٹھیک ہے .... حالات پہ نظر رکھو .... اگر جان کا خطرہ نظر آئے تو کھسک لو یہاں سے... " آئ جی نے یہ کہ کر گاڑی بڑھا دی-
وہ دونوں چیف منسٹر ہاؤس پہنچے تو وہاں اُلّو بول رہے تھے-
" سی ایم صاحب کہاں ہیں " آئ جی نے سنتری سے پوچھا-
" گورنر ہاؤس چلے گئے ساب " سنتری نے سلام کرتے ہوئے مژدہ سنایا-
آئ جی نے گاڑی ریورس کی اور گورنر ہاؤس جانے والی سڑک پر چڑھا دی-
شہر بھر کی دکانیں بند تھیں- مظاہرین کی چھوٹی موٹی ٹولیاں ادھر ادھر شرارت کی نیّت سے گھوم رہی تھیں-
راستے میں انہوں نے ایک ہجوم کو دیکھا جو ٹیلی فون کا ایک کھنبا اکھاڑنے کی کوشش کر رہا تھا-
"انہیں دیکھو .... کھنبے پہ غٌصّہ اتار رہے ہیں" آئ جی نے کہا-
" لاہور کا رابطہ پورے ملک سے کاٹا جا رہا ہے سر .... یقین کریں حکومت بری طرح پھنس چکی ہے" مرزا نعیم نے شیشے سے باہر جھانکتے ہوئےکہا-
⊙-----------⊙
گورنر ہاؤس مچھلی بازار بنا ہوا تھا-
شہر کی پل پل بگڑتی صورتِ حال پر ہر کوئ اپنا اپنا تبصرہ فرما رہا تھا- لاہور کے تمام کونسلرز اور کابینہ کے ارکان کے بھی موجود تھے- گورنر پنجاب آئ آئ چندریگر ، وزیراعلی دولتانہ دوسرے وزراء اور اعلی حکام بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے تھے- اس دوران چیف سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری گورنر ہاؤس پہنچے-
"کیا خبر ہے ....؟؟" گورنر نے پوچھا-
دونوں خاموش کھڑے ہو گئے-
" کچھ بتاؤ بھی ...؟؟ کک .... کیا حالات ہیں سیکریٹیریٹ کے ؟؟" وزیراعلی کی پریشانی قابل دید تھی-
"سر ... بڑی مشکل سے اپنی جان بچا کر آئے ہیں ... ملازمین کل کے قتلِ عام کی وجہ سے بہت برہم ہیں .... صرف سیکرٹیریٹ ہی نہیں ٹیلی فون آفس ، ٹیلی گراف آفس ، محکمہ گیس ، محکمہ ڈاک ، محکمہ ریلوے سب تحریک میں شامل ہو چکے ہیں .... ریل کی پٹڑی اکھاڑ دی گئ ہے .... پچاس ہزار لوگ پولیس ھیڈ کوارٹر کا گھیراؤ کر کے بیٹھے ہیں ... ہزاروں لوگ لاہور میں داخل ہو رہے ہیں .... بیرونِ باغ بھی تقریباً پچاس ہزار کا مجمع کھڑا مطالبہ کر رہا ہے کہ گرفتار کرو یا گولی مار دو .... "
"حل بتاؤ حل .... کہانیاں مت سناؤ !!! " وزیراعلی نے کہا-
" آپ کے پاس صرف دو راستے ہیں .... " مودودی صاحب جو کافی دیر سے خاموش بیٹھے تھے اچانک بول پڑے-
"کہئے مولانا ...... ؟؟؟ "
" وزیراعظم عوامی مطالبات پر گفت و شنید کا اعلان کریں .... اسی میں فائدہ ہے ..... اور دوسرا راستہ تحریک کو طاقت سے کچل دینے کا ہے .... اس میں ہمیشہ کا خسارا ہے .... آپ پہلا راستہ اختیار کریں .... اور مذاکرات کا اعلان کریں !!! "
" سر میرے ذھن میں بھی ایک آئیڈیا ہے ... " چیف سیکرٹری نے کہا-
" جی فرمائیے ... ؟؟ "
"مجلسِ احرار اور جماعتِ اسلامی دونوں کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے ... شہر بھر سے اچھّے اچھے مولوی اکٹّھے کیے جائیں ... جو باہر نکلیں اور لوگوں کو سمجھائیں کہ ختم نبوّت کے نام پر تشدّد فوری بند کیا جائے ... اور آخری تجویز یہ ہے کہ شہر کو مکمل طور پر فوج کے حوالے کر دیا جائے ...."
اس دوران آئ جی اور ایس ایس پی مرزا نعیم بھی گورنر ہاؤس پہنچ گئے-
" کیا خبر ہے آئ جی صاب ؟؟ " گورنر اور چیف منسٹر یکبار بول اُٹّھے-
" سر پولیس ھیڈ کوارٹر بلوائیوں کے گھیرے میں ہے .... پولیس مکمل طور پر دل ہار چکی ہے .... "
"وٹ .... نان سینس ؟؟" گورنر نے کہا-
"سر ایس ایس پی نعیم الدین آپ کو سارا احوال سنائیں گے" آئ جی نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا-
ہاؤس میں یکایک خاموشی چھا گئ- سب لوگ ٹُکر ٹُکر مرزا نعیم الدین کی طرف دیکھنے لگے-
" پولیس ...اب مزید قتل عام نہیں کر سکتی سر " مرزا نعیم الدین نے آغازِ کلام کیا "بہت خون بہہ چکا ... بہت لوگ مار دیے ہم نے .... اس تحریک کو .... گولیوں اور سنگینوں سے ٹھنڈا نہیں کیا جا سکتا .... آپ چاہے ہزاروں مار دیں ... لاکھوں اور کھڑے ہو جائیں گے ... آپ کو .... عوام کے بنیادی مطالبات ماننے ہی ہونگے ... اور اگر آپ نے ظلم و بربریّت مزید جاری رکھنا ہے تو کم از کم میرا استعفی قبول کیجئے !!! "
مرزا نعیم الدین کے بیان سے گورنر ہاؤس میں مایوسی چھا گئ- تمام درباری ٹوڈیے بغلیں جھانکنے لگے-
اسی دوران باہر ایک دھماکہ ہوا اور گورنر ہاؤس کی بجلی چلی گئ-
" دیکھو ...ذرا .... کیا ہوا ہے ... " وزیراعلی نے لرزتی ہوئ آواز میں کہا-
اتنے میں ایک سپاہی اندر آیا اور پھولی سانسوں میں بتایا کہ گورنر ہاؤس کا ٹرانسفارمر اڑا دیا گیا ہے-
"اوہ ...مائ گاڈ ... او مائ گاڈ .... جلدی کرو .... فون ملاؤ ... وزیر اعظم کو فون ملاؤ ... کراچی .... ابھی اور اسی وقت ..."
چیف سیکرٹری بھاگا بھاگا فون اٹھا لایا اور جلدی جلدی کراچی کا نمبر ملانے لگا-
" فون تو ڈیڈ ہے سر .... !!! "
"ملٹری ٹرنک کال ملاؤ .... جلدی ... ارجنٹ .... " گورنر کا گلہ خشک ہونے لگا-
"سر کوئ فائدہ نہیں ... " آئ جی نے کہا- "ٹیلیفون کے تار کٹ چکے ... اب جو کچھ کرنا ہے .... آپ نے کرنا ہے"
" اوہ مائ گاڈ !!! پھر جلدی کرو ..... مودودی صاحب .... آپ ایک بیان کا مسودہ تیّار کریں .... وزیر اعلی پنجاب اپنی اور اپنی وزارت کی طرف سے اعلان کرتے ہیں کہ ان کی حکومت تحفظ ختمِ نبوّت کے لیڈران سے فوری مذاکرات کرنے کےلئے تیّار ہے .... سرظفراللہ خان کو وزارتِ خارجہ سے فوری طور پر ہٹانے کےلئے ہم وزیراعظم کو ارجنٹ سمری بھجوا رہے ہیں .... اب فوج اور پولیس .... فائرنگ نہیں کرے گی .... بالکل فائرنگ نہیں کرے گی .... جلدی سے ایک وفد بھیجو .... مسجد وزیرخان میں .... جلدی ... ابھی !!!"
"لیکن مسجد میں جائے گا کون ؟؟ " آئ جی نے کہا-
"مسجد میں وفد بھیجنا خطرناک ہے سر ... خدا نخواستہ ... " چیف سیکرٹری نے کچھ کہنے کی کوشش کی-
" ایک شخص ہے .... خلیفہ شجاع الدین .... " مودودی صاحب نے کہا- " اس وقت مجلس احرار کی کمان ان کے ہاتھ میں ہے ... ان کی سربراہی میں پارلیمان کا ایک وفد بھیجو .... شاید امن کی کوئ صورت نکل آئے "
"ٹھیک ہے ... ٹھیک ہے .... ریڈیو سے بھی اعلان کرواؤ .... اور ہوائ جہاز سے اشتہارات بھی گراؤ .... اور خلیفہ شجاع کے پاس بھی یہ مسوّدہ بھجواؤ ..... ابھی فورا ً .... !!!! "
اس کے بعد ہر کوئ اپنے اپنے کام میں مصروف ہو گیا .... اور وزیراعلی ہر دس منٹ بعد پوچھتے رہے .....
"خلیفہ کو مسوّدہ بِھجوا دیا ...... ؟؟؟؟؟ "
" اشتہارات گرائے ......... ؟؟؟؟ "
"مذاکراتی وفد تیّار ہوا ؟؟؟؟ "
قوم کی زندگیوں میں اندھیرے جھونکنے والے حکمرانوں کا اپنا ٹرانسفارمر اُڑا تو ان جیسا نیک آدمی کوئ نہ تھا-
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers