اگلے روز آنکھ کھلی تو احاطے میں بھگدڑ مچّی ہوئ تھی-
ہر طرف شور برپا تھا ..." صاحب آ گئے ... صاحب آ گئے !!! "
میں نے کوٹھڑی سے سر نکال کر پوچھا:
" بھئ کون سے صاحب تشریف لا رہے ہیں .... ؟؟ "
"انسپکٹر جنرل صاحب دورے پر ہیں ...." باہر سے کسی نے آواز لگائ-
جیل میں ڈپٹی کمشنر یا سیشن جج آ جائے تو سب الرٹ ہو جاتے ہیں- انسپکٹر جنرل کی آمد پر تو اچھا خاصا تماشا برپا ہوگیا- کہیں جھاڑو دیا جا رہا تھا تو کہیں غسل خانوں کی صفائیاں ہو رہی تھیں- کہیں نمبرداروں اور قیدیوں کو نئے سوٹ بانٹے جا رہے تھے تو کہیں وارڈن اور سنتری اپنے بوٹ چمکا رہے تھے- غرض کہ ہر طرف ہٹّو بچّو کی صدا تھی-
ہم واپس آکر اپنے پلنگ پر لیٹ گئے- انسپکٹر کی آمد پر قیدی بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں- کسی کی مشقّت معاف ہو جاتی ہے تو کسی کو رہائ مل جاتی ہے- لیکن ہم ٹھہرے سیاسی قیدی ، جنہیں کوٹھڑوں میں بند کر کے چابی حکومت اپنی جیب میں رکھ لیتی ہے- کوئ آئے ، کوئ جائے ، ہمیں اس سے کیا !!!
گھنٹے بعد ایک سنتری بھاگا ہوا اندر آیا اور بے ترتیب سانسوں میں بولا ...
صاب ماڑی پر آگیا ہے .... اب تو اُٹھ جاؤ مُلا سائیں !!!
میں اور مولانا لدھیانوی اُٹھ کھڑے ہوئے- لال حسین اختر بھی اپنی کوٹھڑی سے باہر نکل آئے- تھوڑی ہی دیر بعد ملحقہ احاطے سے ایک نہایت ہی شریف اور بھلے مانس شخص برامد ہوا پھر بڑی کرّوفر سے چلتا ہوا ہمارے قریب آیا :
" اسلام علیکم !!! ... مولوی صاحبان کیسے مزاج ہیں ؟؟ "
میں سمجھا کوئ معزز جیل وزیٹر ہے سو عمومی لہجے میں جواب دیا:
" وعلیکم سلام بھائ ... ٹھیک ٹھاک ... آپ سناؤ ؟"
پھر ان صاحب کے پیچھے مؤدب جیل افسران کی قطار برامد ہوئ تو اندازہ ہوا کہ یہی انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات ہیں- انہوں نے باری باری ہم سب سے مصافحہ کیا اور بولے:
" آپ حضرات کو کوئ تکلیف ، مشکل یا پریشانی ؟؟ "
میں نے کہا " ہمیں کوئ تکلیف نہیں ہے ... ہم بہت خوش ہیں"
وہ بار بار اصرار کرتے رہے کہ ہم کچھ نہ کچھ پریشانی انہیں ضرور بتائیں- لیکن ہم نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ حکومت سے کوئ رعایت طلب نہیں کرنی- صبر اور شکر کے ساتھ اللہ کے بھروسے پر وقت گزارنا ہے-
کافی تکرار کے باوجود ہم نے کوئ مسئلہ پیش نہ کیا تو وہ خاموش کھڑے ہو گئے ، پھر باہر احاطے میں جا کر گردوپیش پر نظر ڈالنے لگے ، اور آخر غسل خانے کی طرف چلے گئے-
کچھ ہی دیر بعد انہوں نے جیل سپریڈنٹ کو آواز دی-
"اللہ بخش ادھر آؤ .... لیٹرین کا دروازہ کدھر ہے ؟؟"
" سائیں واڈھو کو بولا ہوا ہے ... دو چار روز تک لگ جائے گا دروازہ !!! "
" کل تک ضرور لگ جانا چاھئے .... کچھ تو احساس کرو .... مولوی صاحبان ہیں .... بے پردگی ہوتی ہے !!! "
اس کے بعد وہ ہماری طرف متوّجہ ہوئے اور کہا:
" اور سنائیں ..... کھانا وغیرہ کیسا مل رہا ہے ؟"
میں نے کہا " اللہ کا شکر ہے ، ہمیں کوئ شکایت نہیں !!! "
جاتے جاتے وہ دروازے پر جاکر ایک بار پھر ہماری طرف مڑے اور کہا:
" مولوی صاحبان .... کچھ تو خدمت کا موقع دیا ہوتا .... "
میں نے کہا " اللہ کا شکر ہے .... ہمیں کوئ تکلیف نہیں .... اللہ تعالی آپ کو اخلاق کی بلندیوں پر فائز رکھے !!! "
وہ بار بار ہماری طرف دیکھتے رہے کہ شاید ہم کوئ مطالبہ پیش کریں لیکن ہم ان صعوبتوں پر شاکر تھے جو ختمِ نبوّت کے صدقے ہمارے نصیب میں لکھی گئ تھیں-
دن یونہی گزرتے رہے- زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کٹتی چلی گئ- صبح سویرے کوٹھڑیوں کے تالے کھُلنا ، ڈان اخبار کے ساتھ چاول کی پتھریلی روٹی کھانا اور دال کا شربت پینا- دن کو تھوڑی دیر کےلئے باہر گرم احاطے میں جا بیٹھنا پھر سرِشام تپتی ہوئ اندھیری کوٹھڑوں میں بند ہو جانا .... یہی ہمارا معمول تھا-
چاول کی روٹی کھانے کی وجہ سے ہم سب دانتوں کی تکلیف کا شکار ہونے لگے- مجھے بلڈ پریشر کا عارضہ بھی تھا- اندھیری کوٹھڑی میں گھبراہٹ اور تکلیف سے کروٹیں بدلتے ہوئے رات گزرتی - لیکن ان حالات مں بھی باجماعت نمازوں ، قران اور ذکراذکار سے ایک لمحے کےلئے غافل نہ ہوئے- اللہ کی بارگاہ میں جب بھی ہاتھ اٹھائے ہمیشہ کلمہء شکر ہی زبان سے نکلا ، کبھی گلہ نہ کیا کہ عشقِ رسول ﷺ کا یہی تقاضا تھا-
پندرہ روز بعد انسپکٹر جنرل دوبارہ تشریف لائے-
اگرچہ ان سے واقفیّت ہو چکی تھی ، لیکن اس کے باوجود ہم نے ان کے روبرو کسی قسم کا گلہ یا شکایت پیش نہ کرنے کا عزم کر رکھا تھا- میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا صبر سے کام لینا اور کچھ نہ کہنا ، صرف میں بات کرونگا-
علیک سلیک کے بعد وہ کمرے میں تشریف لائے- صفائ ستھرائ دیکھ کر خوش ہوئے پھر کہا کرسیاں کہاں ہیں ؟
ہم نے حیرت سے کہا " کیسی کرسیاں ؟"
انہوں نے فوراً سپریڈنٹ کو آواز دی :
" اللہ بخش .... ابھی اور اسی وقت مولوی صاحبان کےلئے میز اور کُرسیاں منگواؤ .... میں یہیں کھڑا ہوں .... اور آئیندہ ایسی غفلت نہیں ہونی چاھئے"
سپاہی کرسیاں لینے دوڑ پڑے- انسپکٹر صاحب غسل خانے کی طرف گئے اور ہر چیز کا اچھّی طرح جائزہ لیا- لکڑی کے نئے دروازے کو ٹھوک بجا کر دیکھا- اس دوران ہم نے ایک چارپائ گھسیٹ کر صحن میں رکھّی اور کہا:
"جنرل صاحب تشریف رکھیں !!! "
وہ بیٹھ گئے- کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے پھر بولے:
" دن بھر کیا مصروفیّات ہوتی ہیں آپ حضرات کی ؟ "
میں نے کہا نماز پڑھتے ہیں ، تلاوت کرتے ہیں ، ذکر اذکار کرتے ہیں .... اور ہم کر بھی کیا سکتے ہیں-
فرمانے لگے صحت قائم رکھنے کےلئے ہلکی پھلکی ورزش بھی ہونی چاھئے-
میں نے کہا آپ جی بھر کے ورزش کیجئے .... ہم تو نظربند ہیں-
وہ کچھ دیر سوچتے رہے پھر کہنے لگے کیوں نہ اس احاطے میں ایک باغیچہ بنایا جائے .... کھدائ کا کام مشقّتی کریں گے ... آپ صرف نگرانی کیجئے گا .... ہلکی پھلکی مصروفیت بھی رہے گی اور سبزی ترکاری بھی خوب اگے گی-
یہ کام ہماری منشاء کے مطابق تھا- چنانچہ فوراً مشقتیوں کو حکم ہوا کہ احاطے کی پتھریلی زمین کھود کر اس میں تازہ مٹّی بھری جائے اور باغیچہ بنانا شروع کیا جائے-
تھوڑی دیر میں ہمارا فرنیچر بھی آگیا- جس میں کرسیاں میز اور سامان رکھنے کے واسطے ڈولیاں شامل تھیں-
اگلے نصف گھنٹے میں جنرل صاحب کافی بے تکلّف ہو چکے تھے-
جب رخصت ہونے لگے تو بولے:
" آپ حضرات خدمت کا موقع ہی نہیں دیتے .... کوئ تکلیف ، کوئ مسئلہ ، کچھ تو بتاؤ ؟"
مولانا لال حسین اختر صبر نہ کر سکے اور ایسے پھٹے کہ لٹیا ہی ڈبو دی :
" صاحب ... بس ایک تکلیف ہے ..... حکومت نے ختم نبوّت تحریک کی پاداش میں ہمیں سی کلاس میں رکھا .... کوئ گلہ نہیں .... ہمارے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا .... کوئ غمّ نہیں .... ہمارے ساتھ جو چاھے سلوک کیجئے .... ..... ہم بخوشی برداشت کریں گے .... لیکن خدارا ماسٹر صاحب پر رحم کھائیے ... ان کی عمر کا خیال کیجئے .... بلڈ پریشر کے مریض کو رات بھر اندھیری کوٹھڑی میں رکھنے کی کیا تک ہے ؟؟ .... یہ چاول کی روٹی چبا نہیں سکتے .... ایک ماہ سے دال پی پی کر گزارا کر رہے ہیں .... اگر قسطوں میں قتل کرنا ہے تو ہم حاضر ہیں .... ماسٹر صاحب کو تو چھوڑ دیجئے !!! "
جنرل صاحب یہ سن کر ہکّا بکّا رہ گئے- چہرے پر ایک رنگ آئے ایک جائے- پہلے انہوں نے نے سپریڈنٹ اللہ بخش کو جھاڑا پھر پاس کھڑے ڈاکٹر کو ڈانٹ پلائ- اس کے بعد کہا:
"بخدا مجھ سے غفلت ہوئ .... میں نے سپریڈنٹ کو آپ حضرات کا خاص خیال رکھنے کا کہا تھا .... آپ حضرات کے چہروں پر اطمینان اور خوشی دیکھ کر یہی سمجھتا رہا کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے .... مجھے معاف کر دیجئے !!! "
اگلے روز سے چاول کی روٹی رخصت ہوئ اور گندم کی روٹی بحال ہو گئ اور رات کو ہم کھلے احاطے میں چارپائیاں ڈال کر تازہ ہوا میں سونے لگے-
برصغیر کی ڈھائی ہزار سالہ قدیم یونیورسٹی جو وقت کے ہاتھوں تاریخ کے صفحات میں گم ہوگئی۔ گندھارا تہذیب کے تاج میں 'دھرما راجیکا' کی حیثیت ایک بے بہا اور چمکتے ہوئے ہیرے جیسی ہے۔ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے ٓاپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو اس کے بارے کچھ بتاتے ہیں۔
تھوڑا تصور کریں اور اس زمانے کی تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک طرف دنیا میں جنگ و جدل کی بگلیں چیختی ہوئی سنائی دیں گی؛ روم میں جنگیں ہو رہی تھیں، دجلہ کے کنارے پر خون بہایا جا رہا تھا، اور اناطولیہ میں نیلے آسمان پر بغاوتوں کے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے۔

دوسری طرف چین میں 'کن شی ہوانگ' (Qun Shi Huang) ملک میں رابطوں میں وسعت پیدا کرنے کے لیے تین رویہ سڑکیں اور ان کے کناروں پر درختوں کی قطاریں لگا رہا تھا۔ یونانی ماہر ریاضی اور فلکیات 'کینن' (Canon) اپنی چوتھی کتاب پر کام کر رہا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شمال مغربی علاقوں کے بہت سے یونانیوں نے بدھ مت قبول کرلیا تھا۔ چنانچہ مشہور بھکشو 'دھرما راجیکا'، جو خود ایک یونانی تھا، کو اشوک نے یونانی نوآبادیوں میں تبلیغ کے لیے ٹیکسلا بھیجا۔
اشوکا دو بار ٹیکسلا میں گورنر رہ چکا تھا، اس نے جب اپنے باپ 'بندوسار' کے بعد حکومت سنبھالی تو باپ اور دادا کے جنگی جنون نے اس سے بھی سکھ، شانتی اور سکون چھین لیا اور جنون تھا ملک کی سرحدیں بڑھانے کا۔ اس نے 'کلنگا' پر حملہ کیا اور انسانوں کے بہتے ہوئے خون میں اپنی کامیابی کے بیج بو دیے۔ لاکھوں انسانوں کی بے بس اور بے نور آنکھوں نے اشوکا سے اس کا سکون چھین لیا۔ اپنے کھوئے ہوئے سکون کو واپس لانے کے لیے اس نے اپنے سارا دھیان انسانوں کی بھلائی کے لیے لگا دیا ۔
'دھرما راجیکا' ٹیکسلا میں پہلی بدھ خانقاہ تھی جو اشوک نے بنوائی۔ اشوکا نے اپنی سلطنت میں آٹھ مقامات پر ایسے اسٹوپا بنوائے جن میں گوتم بدھ کے پہننے کی چیزیں محفوظ کر دی تھیں، ٹیکسلا کا یہ اسٹوپا ان سب میں سے ایک تھا۔
اشوک اعظم سے کنشک تک وادیٔ سندھ کی تہذیب نے بدھ مت کے سائے میں فروغ پایا تھا۔ چنانچہ اس دور کی فنی تخلیقات کی محرک بھی وہ گہری عقیدت تھی جو ہر طبقے کے لوگوں کو گوتم بدھ کی ذات اور تعلیمات سے تھیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب 'بھکشو' بھی عوام کی سادہ زندگی گذارتے تھے۔ وہ گاؤں گاؤں تبلیغ کرتے پھرتے، بھیک سے پیٹ بھرتے اور رات ہوتی تو کسی باغ میں درخت کے نیچے سو رہتے۔
ٹیکسلا نے اپنی علم دینے کی روایت کو صدیوں تک قائم رکھا اور یہ سب شاید اس لیے ممکن ہوسکا کہ یہاں کا معاشرہ نہایت محفوظ معاشرہ تھا۔ لوگ بڑے امن پسند اور صلح جو تھے۔ لوٹ مار، قتل و غارت گری ان کا شیوہ نہ تھا۔ وہ نہ سپاہ و لشکر رکھتے تھے اور نہ کسی ملک پر حملہ کرتے تھے۔ اسی سکون بھرے آسمان کی بدلیوں سے علم و فلسفے کی جھڑیاں لگتی تھیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو برصغیر میں علم و ادب کا یہ سب سے بڑا مرکز نہ ہوتا۔
بدھ بھکشو اور طالبعلم شہر کے شور و غل سے دور رہنے کے عادی تھے، اسی وجہ سے سرکپ کے جنوب مشرق میں، پہاڑیوں میں گھری ایک عظیم جامع دھرما راجیکا تھی جس میں دنیا بھر سے سینکڑوں تشنگان علم اپنی پیاس بجھانے آتے تھے۔ بدھ بھکشوؤں کی یونیورسٹی دھرما راجیکا اسٹوپا کا شمار برصغیر کی قدیم ترین اسٹوپا میں ہوتا ہے۔
ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر ظلم و ستم کرکے بہت سا خزانہ جمع کیا تھا۔ اور شہر سے باہر جنگل بیابان میں ایک خفیہ غار میں چھپا دیا تھا اس خزانہ کی دو چابیاں تھیں ایک بادشاہ کے پاس دوسری اس کے معتمد وزیر کے پاس ان دو کے علاوہ کسی کو اس خفیہ خزانہ کا پتہ نہیں تھا۔.ایک دن صبح کو بادشاہ اکیلا سیر کو نکلا۔ اور اپنے خزانہ کو دیکھنے کے لئے دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوگیا۔ خزانے کے کمروں میں سونے چاندی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ ہیرے جواہرات الماریوں میں سجے ہوئے تھے۔ دنیا کے نوادرات کونے کونے میں بکھرے ہوئے تھے۔ وہ ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔. اسی دوران وزیر کا اس علاقہ سے گذر ہوا۔ اس نے خزانے کا دروازہ کھلا دیکھا تو حیران رہ گیا اسے خیال ہوا کہ کل رات جب وہ خزانہ دیکھنے آیا تھا شاید اس وقت وہ دروازہ بند کرنا بھول گیا ہو اس نے جلدی سے دروازہ بند کرکے باہر سے مقفل کردیا۔. ادھر بادشاہ جب اپنے دل پسند خزانہ کے معائنہ سے فارغ ہوا تو واپس دروازہ پر آیا لیکن یہ کیا...؟ دروازہ تو باہر سے مقفل تھا اس نے زور زور سے دروازہ پیٹنا اور چیخنا شروع کیا لیکن افسوس اس کی آواز سننے والا وہاں کوئی نہ تھا ۔ وہ لوٹ کر پھر اپنے خزانے کی طرف گیا اور ان سے دل بہلانے کی کوشش کی لیکن بھوک اور پیاس کی شدت نے اسے تڑپانا شروع کیا وہ پھر بھاگ کر دروازہ کی طرف آیا لیکن وہ بدستور بند تھا۔ وہ زور سے چیخا چلایا۔ لیکن وہاں اس کی فریاد سننے والا کوئی نہ تھا وہ نڈھال ہوکر دروازے کے پاس گرگیا۔. جب بھوک پیاس سے وہ بری طرح تڑپنے لگا تو رینگتا ہوا ہیروں کی تجوری تک گیا اس نے اسے کھول کر بڑے بڑے ہیرے دیکھے جن کی قیمت لاکھوں میں تھی اس نے بڑے خوشامدانہ انداز میں کہا اے لکھ پتی ہیرو! مجھے ایک وقت کا کھانا دیدو۔ اسے ایسا لگا جیسے وہ ہیرے زور زور سے قہقہے لگا رہے ہوں۔ اس نے ان ہیروں کو دیوار پر دے مارا۔ پھر وہ گھسٹتا ہوا موتیوں کے پاس گیا اور ان سے بھیک مانگنے لگا ۔ اے آبدار موتیو! مجھے ایک گلاس پانی دیدو ۔ لیکن موتیوں نے ایک بھر پور قہقہہ لگایا اور کہا اے دولت کے پجاری کاش تو نے دولت کی حقیقت سمجھ لی ہوتی۔ تیری ساری عمر کی کمائی ہوئی دولت تجھے ایک وقت کا کھانااور پانی نہیں دے سکتی۔. بادشاہ چکرا کر گرگیا۔ جب اسے ہوش آیا تو اس نے سارے ہیرے اور موتی بکھیر کر دیوار کے پاس اپنا بستر بنایا اور اس پر لیٹ گیا وہ دنیا کو ایک پیغام دینا چاہتا تھا لیکن اس کے پاس کاغذ اور قلم نہیں تھا ۔ اس نے پتھر سے اپنی انگلی کچلی اور بہتے ہوئے خون سے دیوار پر کچھ لکھ دیا۔. حکومتی عہدیدار بادشاہ کو تلاش کرتے رہے لیکن بادشاہ نہ ملا, جب کئی دن کی تلاش بے سود کے بعد وزیر خزانہ کا معائنہ کرنے آیا تو دیکھا بادشاہ ہیرے جواہرات کے بستر پر مرا پڑا ہے۔ اور سامنے کی دیوارپرخون سے لکھا ہے ۔ ’’یہ ساری دولت ایک گلاس پانی کے برابر بھی نہیں ہے"
حیدرآباد کا سورج اپریل سے ہی وہ قہر برسانے لگتا ہے کہ خدا کی پناہ !!!
میرا نام زیڈ - زیڈ احمد ہے اور میں گزشتہ چھ ماہ سے بحیثیّت انسپکٹر جرنل جیل یہاں تعیّنات ہوں-
دن کو یہاں سرخ آندھی چلتی ہے تو گرم ریت اڑ اڑ کر چہرے کو جھلسانے لگتی ہے- رات کو ایسی حبس کہ پسینہ کپڑوں سے خود بخود نچڑنے لگتا ہے-
حیدرآباد کی یہ جیل خطرناک لوگوں کا سینٹر ہے- انگریز بھی اپنے خطرناک دشمنوں کو کالا پانی کی بجائے یہیں بھیجنا پسند کرتا تھا- دن کو جب درجہء حرارت 126 فارن ہائٹ تک پہنچ جاتا ہے تو کنکریٹ کے ڈربّے کسی تپتے ہوئے تندور کا روپ دھار لیتے ہیں- گھڑوں میں رکھا پانی تک ابل جاتا ہے-
جیل میں تین طرح کے ڈربّے ہیں- سب سے اوپر اے کلاس ہے جس میں "کھڑ پڑ" کرنے والے خراب حکومتی پرزے ، اسٹیبلشمنٹ کے ناپسندیدہ سیاستدان ، اور کرپٹ بیوروکریٹ آرام فرماتے ہیں- یہاں پلنگ ، کرسیاں ، میز تپائ ، کمبل ، ریڈیو سب کچھ میسر ہے- دھڑکن چیک کرنے کو ڈاکٹر ہے اور پیٹ بھرنے کو باورچی -
اس کے نیچے B کلاس ہے - یہاں " ناپسندیدہ سیاسی ورکرز" ، پڑھے لکھّے ڈاکو اور سچ لکھنے والے صحافی بند کئے جاتے ہیں- انہیں لوہے کی چارپائیاں ، دری ، تکیہ اور کرسی کے علاوہ کچا راشن بھی مہیا کیا جاتا ہے جسے وہ خود پکا کر کھاتے ہیں-
بچا کھچا مال C کلاس کے پھٹیچر ڈربوں میں رکھا جاتا ہے - چور ، ڈاکو ، جیب کترے ، موالی ، غُنڈے ، چرسی کچھ روز یہاں آکر رونق لگاتے ہیں .... پھر اپنے اپنے دھندے پہ نکل کھڑے ہوتے ہیں- سونے کےلئے فرشی بچھونے ہیں اور کھانے کو چاول کی سخت روٹی ...... اور جیل کی دال تو ویسے بھی مشہور ہے ... !!!
10 اپریل کی صبح میں اپنی ڈیوٹی پر پہنچا تو سپریڈنٹ اللہ بخش خلافِ توقع جیل گیٹ پر کھڑا نظر آیا-
" سائیں ... رات کاراچی سے وڈّے وڈے خطرناک مُلّے لوک آئے ہیں "
" مولوی لوگ ؟ کتنے ؟ " میں پریشان ہو گیا-
" رات کو تو 12 مولبی آیا تھا ... 8 اساں سویر موکلے چھڈیا سکھر جیل ... باقی 3 اساں وٹائے ... "
" اچھا ان تینوں پہ نظر رکھّو .... کسی سے ملنے نہ پائیں" میں نے رجسٹری حاضری دیکھتےہوئے کہا-
" تواں فکر نہ کریو سائیں .... میں نے ان پر تینوں پر گارڈ لگا دیا ہے "
11 بجے نمبردار یہ خبر لے کر آیا کہ مولوی لوگ ساتھ والی کوٹھڑی میں سیاسی کارکنان کے ساتھ بیٹھے چائے پی رہے ہیں-
میں نے ڈانٹ کر کہا " منع کرو .... اور پہرہ بڑھا دو !!! "
دو بجے جب میں چھٹی کر کے گھر جانےلگا تو یاد آیا کہ بیگم صاحبہ نے پانی کی بوتل دی تھی- ان دنوں ہمارا نومولود رات بھر روتا تھا اور زوجہ کا عقیدہ تھا کہ خدا ڈنو شاہ کے دم سے ہی آرام آئے گا- میں اگرچہ ان مذھبی ٹوٹکوں کو نہیں مانتا مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے ، بیگم صاحبہ تو مانتی ہیں-
اس گرمی میں پکاّ قلعہ جا کر خُدا ڈنّو شاہ سے پانی دم کروانا آسان نہ تھا- میں گاڑی میں بیٹھ کر سوچنے لگا کہ کیا کروں-
اس دوران سپریڈنٹ اپنی نائٹ پاس کی درخواست لیکر میرے پاس حاضر ہوا-
" اللہ بخش ... مولوی لوگ کس بیرکس میں ہے .... ؟؟ "
" دو سو چوّن میں پڑا ہے .... تواں فکر نہ کریو سائیں "
" اچھا ایسا کرو .... اپنی درخواست مجھے پکڑاؤ .... اور یہ بوتل کسی مولبی سے دم کرا کے لے آؤ "
اللہ بخش مجھے حیرت سے گھورتا ہوا بوتل پکڑے اندر چلا گیا-
تقریباً دس منٹ بعد وہ بڑی عقیدت سے بوتل پکڑے لوٹا تو میں سمجھ گیا کہ دم ہو چکا ہے-
"اللہ بخش مولوی لوگ کا خیال رکھنا .... کوئ تکلیف نہیں ہونی چاھئے ... ٹھیک ہے ؟ " اللہ بخش کی عرضی سائن کرتے ہوئے میں نے کہا-
"جو آپ کی مرضی سائیں .... ہم سنتری کو سمجھا دے گا ... "
راستے میں کچھّی پل کے پاس گاڑی اچانک گرم ہو گئ- مجبوراً وہی بوتل کارپوریٹر میں انڈیلنا پڑی- ویسے بھی اس رات نہ تو ہمارے ننّھے مہمان نے شور کیا نہ ہی بیگم صاحبہ کو دم والی بوتل یاد رہی- میں اس یقین کے ساتھ سو گیا کہ اللہ بخش نے مولوی لوگ کی آسائش کا ضرور خیال رکھا ہوگا-
اگلے روز آفس پہنچتے ہی میں نے سپریڈنٹ کو بلا کر کہا:
" اللہ بخش .... مولوی لوگ کیسا ہے ؟؟ "
" سائیں .... خُش باش بھلا چنگا ہے .... دعائیں دیتا ہے آپ کو ... " اس نے حسبِ عادت مجھے خوش کرنے کی کوشش کی-
" جیل میں کوئ اے کلاس ڈبّہ خالی ہے ؟؟"
" کیوں سائیں کوئ نیا لیڈر آنے والا ہے کیا ؟؟ "
" نہیں یار میں چاہ رہا تھا کہ مولوی لوگوں کو کسی اچھے ڈبّے میں شفٹ کیا جائے ... دوسو چوّن تو نری دوزخ ہے یار !!! "
" سائیں شمالی حصّے میں باندی زنانو کا جو احاطہ ہے ناں .... وہاں دو ڈبے خالی ہیں .... ؟ " وہ داڑھی کجھاتا ہوا بولا-
جیل کا یہ وارڈ 302 کے کیس میں گرفتار خواتین کےلئے مخصوص تھا اور کافی عرصہ سے خالی پڑا تھا- یہاں دو برابر کوٹھڑیاں تھیں- جن کے سامنے ایک بہت بڑا احاطہ تھا اور کمروں سے پیچھے ایک غسل خانہ اور لیٹرین بھی تھی-
میں نے کہا " ٹھیک ہے .... شفٹ کرنے سے پہلے وہاں اچھی طرح صفائ کرا دو .... اور آج ہی مولوی حضرات کو وہاں شفٹ کر دو .... دو دن بعد میں راؤنڈ لونگا .... کوئ شکایت نہیں آنی چاھئے !!! "
" تواں فکر نہ کرو سائیں .... ہو جائے گا ... "
عین چھُٹّی کے ٹائم حوالدار یار محمد ڈاک لیکر آ گیا-
"سائیں ایک ارجنٹ چٹھی ہے .... آپ کے لئے ... "
سرکاری و سیاسی قیدیوں کےلئے جب بھی مرکز سے کوئ خاص ھدایت آتی تو سربمہر ہوتی تھی اور اسے سیدھا مجھ تک پہنچایا جاتا تھا- ان دنوں راولپنڈی سازش کیس کے ملزمان بھی اسی جیل میں قید تھے- میں نے سوچا شاید سینئر فوجی افسران کے بارے میں کوئ تازہ ھدایت آئ ہے-
چٹھی پڑھ کر ماتھا ٹھنکا ... لکھا تھا :
" کراچی سے سات خطرناک مولوی اندرون سندھ کی جیلوں میں بھیجے جا رہے ہیں .... ان میں سے سید عطاءاللہ شاہ بخاری ، ابولحسنات سید احمد قادری ، سید مظفرحسین شمسی ، سیّد عبدالحامد بدایونی ، صاحبزادہ سیّد فیض الحسن ، اور اللہ نواز کو سکھر جیل بھیجا جا رہا ہے اور ماسٹر تاج الدین انصاری ، مولانا لال حسین اختر اور نیاز لدھیانوی کو حیدر آباد جیل منتقل کیا جا رہا ہے- جیل حکام کو تاکید کی جاتی ہے کہ ان ملاؤں سے جس قدر ہو سکے سختی برتے .... نرمی کی اطلاع پر اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کاروائ عمل میں لائ جائے گی"
ہمارے اوپر والے بھی عجیب ہیں- چھ ماہ پہلے یہاں بھوبت نامی ایک ڈاکو لایا گیا تھا- اس کے پکڑے جانے پر ڈان اخبار میں بڑے بڑے فوٹو چھپے تھے اور اہلکاروں کو کافی انعام بھی ملا تھا- آج کل وہی بھوبت جیل میں A کلاس کا لطف اٹھا رہا ہے- شاید اس لئے کہ وہ کانگریس مخالف ڈاکو تھا - دوسری طرف مولوی حضرات چونکہ مسلم لیگ کے مخالفوں میں شمار کئے جاتے ہیں سو ان پر عرصہء حیات تنگ کیا جا رہا ہے- کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے نمرود فرعون اور شداد کی روحیں جہنم سے چھٹی لیکر ارض پاک پر اتر آئ ہوں ....
کہنے کو تو میں یہاں سیاہ و سفید کا مالک ہوں اور میری آمد پر جیل کے سپاہی سے لیکر سپریڈنٹ تک سب الرٹ ہو جاتے ہیں لیکن میری بھی کچھ مجبوریاں ہیں- جیل حکام میں سے کون کون اندر کی بات اوپر پہنچا کر میرے تابوت میں کیلیں ٹھونکتا ہے ، سچّا رب ہی جانتا ہے لیکن تلخ حقیقت یہی ہے کہ کوئ بھی گورنمنٹ مخبروں کے بغیر نہیں چل سکتی-
سچ تو یہ ہے کہ مولوی حضرات ، جنہیں ابھی تک میں نے دیکھا بھی نہ تھا ، ان کےلئے میرے دل میں ایک نرم گوشہ ضرور پیدا ہو چکا تھا- اس نرم گوشے کو آپ عقیدت بھی کہ سکتے ہیں اور محبّت بھی !!!
یہ تو تھی میری کہانی ... باقی آپ مولوی حضرات کی زبانی سن لیجئے گا "
"اس کا مطلب ہے آپ قیدیوں سے ہماری ملاقات کروا رہے ہیں ... " چاند پوری نے چائے کی پیالی رکھتے ہوئے کہا-
" کیوں نہیں .... آپ خواجہ شریف آف سرامکی کا رقعہ لیکر آئے ہیں .... کچھ کرنا تو پڑے گا .... لیکن ایک شرط ہے کہ آپ کچھ چھاپئے گا نہیں .... ورنہ .... " جیلر نے جواب دیا-
" آپ بے فکر رہیں .... ویسے بھی اس حکومت سے خیر کی کوئ توقع نہیں .... ہو سکتا ہے مستقبل کا کوئ مؤرخ ہمارے چھوڑے ہوئے مسوّدات سے فیض حاصل کر سکے .... "
" ٹھیک ہے .... ہم رات گیارہ بجے اسیران سے آپ کی خفیہ ملاقات کا انتظام کرتے ہیں !!! "
کریسنٹ جھیل جسے چینی زبان میں 'Yueyaquan' کہتے ہیں چاند کی شکل کی جھیل ہے۔ جوکہ Dunhuang شہر کے جنوب میں 6 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کریسنٹ جھیل کا پانی بہت صاف اور شفاف ہے کہ دیکھنے میں یہ ہیرے کی طرح لگتا ہے۔ کریسنٹ جھیل کے ساتھ ایک پگوڈا ہے جو روایتی ہان چینی فن تعمیر میں سے ہے۔ یادگار چیزوں سے سجے سٹالوں کے ساتھ اہتمام ایک سڑک داخلی دروازے سے کمپلیکس کی طرف قیادت کرتا ہے۔ ریت کے ٹیلوں کی چوٹی سر کرنے کے لئے کمپلیکس آپریٹرز کی طرف سے منظم کردہ اونٹوں پر سیاح سواری کرتے ہیں۔

جھیل کم ازکم 2 ہزار مربع میٹر کے رقبے پر موجود تھی مگر اب گذشتہ چند دہائیوں کے لئے یہ آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے۔ 1960 میں کی جانے والی پیمائش کے مطابق جھیل کی اوسط گہرائی زیادہ سے زیادہ 7.5 میٹر تھی ، 4 سے 5 میٹر کے فاصلے پر تھی۔ ابتدائی 1990s میں، جھیل کے علاقے میں 0.9 میٹر (زیادہ سے زیادہ 1.3 میٹر) کی اوسط گہرائی کے ساتھ صرف 1.37 ایکڑ (5،500 M2) پر سکڑ گئی تھی۔ کریسنٹ جھیل میں گزشتہ تین دہائیوں میں 25 فٹ سے زیادہ کمی آئی ہے۔ جبکہ علاقے میں زیر زمین پانی کی سطح 35 فٹ سے نیچے گر گئی ہے۔
2006 میں، مرکزی حکومت کی مدد سے مقامی حکومت نے جھیل کو بھرنا اور اس کی گہرائی کو بحال کرنا شروع کر دیا ہے، اس کی گہرائی اور سائز اس کے بعد سے سالانہ بڑھ رہی ہے۔
مصاحف عثمانی، نقاط اور اعراب سے خالی تھے کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے مدون (Recorded) قرآن میں بھی نقاط تھے نہ اعراب ....شہادت عثمانؓ کے عرصہ بعد تک بھی لوگ ان مصاحف سے صحیح تلاوت لیتے اور سنتے رہے۔ عرب اہل زبان تھے اور ماہر قراء سے تلاوت سیکھتے بھی ، اس لئے انہیں کوئی ایسی مشکل پیش نہ آئی کہ وہ اعرابی غلطیاں کرتے۔ مشکل عجمی مسلمانوں کی تھی جوصحیح عربی الفاظ سے ناآشنا (Unfamiliar)ہونے اور نقطے واعراب کی غیر موجودگی کی وجہ سے بڑی بڑی غلطیاں کرتے۔ان حالات میں یہ ضرورت شدت سے محسوس کی گئی کہ قرآن میں اعراب لگائے جائیں۔ اعراب تو لگ گئے مگر کس نے لگائے؟علماء میں یہ اختلاف ہے کہ یہ کارنامہ کس نے سر انجام دیا۔ علماء تین حضرات کے نام لیتے ہیں جو ابو الاسود دؤلی، یحییٰ بن یعمر اور نصر بن عاصم اللیثی کے ہیں۔ زیادہ مشہور یہی ہے کہ ابو الاسود الدؤلی نے یہ کار خیر سرانجام دیا۔امام زرکشیؒ لکھتے ہیں:مصحف پر سب سے پہلے اعراب ابو الاسود الدؤلی نے لگائے۔ بعض علماء کے خیال میںانہوں نے یہ کام عبد الملک بن مروان کے حکم سے کیا۔ جس کا سبب یہ واقعہ بنا کہ ایک بار ابو الاسود الدؤلی نے قاری قرآن سے سنا کہ وہ یہ آیت {۔۔۔إنَّ اللہ بَرِیْٓءٌ مّنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَرَسُوْلُہٗ۔۔۔} )التوبۃ:۳) میں لفظ رسولُہ کو رسولِہ یعنی لام کو بجائے پیش کے زیر سے پڑھ رہا ہے ۔جس سے معنی ہی بدل گیا۔ابو الاسود کو بہت تکلیف ہوئی اور کہا ’’خدا کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے رسول ﷺ سے بیزار ہو۔‘‘ بصرہ کے والی زیاد بن ابیہ نے انہیں پہلے ہی فرمائش کی ہوئی تھی کہ آپ قرآن مجید کے اعراب لگائیں۔ چنانچہ وہ اس کام میں لگ گئے اور کاتب سے کہا: جب تم مجھے دیکھو کہ میں اپنے ہونٹ کسی حرف کے لئے اوپر کی جانب کھولتا ہوں تو اس حرف کے اوپر ایک نقطہ لگا دو اور اگر میںنے دونوں ہونٹوں کو باہم ملا دیا ہے تو پھر حرف کے آگے نقطہ لگادو۔ اگر میں نے نیچے کی طرف اسے موڑا ہے تو اس کے نیچے نقطہ لگا دو۔ اس طرح وہ اس کام کو مکمل کرنے کے بعد زیاد کے پاس گئے اورکہا کہ’’میں نے حکم کی تعمیل کر دی۔‘‘ (کتاب النقط: ۱۲۴)بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ ابو الاسود نے خلیفہ عبد الملک کے حکم سے قرآن پر حرکات لگائیں۔ ابتداء میں وہ حرکات جو ابولاسود الدؤلی نے وضع کیں وہ اس طرح کی نہ تھیں جیسی آج کل معروف ہیں ۔ بلکہ زبر کے لئے حرف کے اوپر، زیر کے لئے نیچے اورپیش کے لئے حرف کے سامنے ایک نقطہ مقرر کیا گیا۔ جبکہ سکون کی علامت دو نقطے تھی۔(مناہل العرفان از زرقانی ۱؍۴۰۱)
۱: پاکستان پہلا اور واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت بنا.
۲:پاکستان کے قومی ترانے کی دُھن دنیا کی تین بڑی دھنوں کی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر ہے
۳:پاکستان میں دنیا کا چوتھا بڑا براڈ بینڈ انٹرنیٹ سسٹم موجود ہے
۴: پاکستان کے پاس دنیا کی چھٹی بڑی فوجی طاقت موجود ہے
۵: ایئر کموڈور محمّد محمود عالم نے ایک منٹ کے اندر اندر انڈیا کے 5 جنگی جہاز مار گراۓ تھے جن میں پہلے چار جہاز صرف 30 سیکنڈز میں مار گراۓ تھے . جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے
۶: پاکستان کو اگلے گیارہ ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ، گیارہ ممالک جو بریکس کی فہرست میں شامل ہیں جو کہ اکیسویں صدی کی بڑی معیشت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں
۷: دنیا کی دوسری اور نویں بلند پہاڑی چوٹیاں کے ٹو اور ننگا پربت پاکستان میں ہیں .
۸:پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا چھٹا بڑی آبادی والا ملک ہے
۹: پاکستان مسلمان اکثریت کے اعتبار سے دوسرا بڑا ملک ہے
۱۰: تربیلا ڈیم رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے وسیع اور دوسرا بڑا ڈیم ہے
۱۱: ایدھی فاونڈیشن دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس نیٹ ورک چلاتی ہے
۱۲: براعظم ایشیاء کا سب سے بڑا ریلوے سٹیشن پاکستان میں واقع ہے
۱۳:سائنسدانوں اور انجینیرزکے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا خطہ جی ہاں آپکا پاکستان... آپکی مٹی ہے...
۱۴: دنیا کی بہترین فضائی فورسز میں پاکستانی ماہر پائلٹس کا شمار ہوتا ہے
۱۵: دنیا کی سب سے بڑی سمندری بندرگاہ گوادر ہے
۱۶: پوری دنیا کے تقریباً 50 فیصد فوٹبالز پاکستان میں بنتے ہیں
۱۷: پاکستان اور چین کو جوڑنے والی شاہراہ قراقرم دنیا کی سب سے بڑی ہموار بین الاقوامی سڑک ہے
۱۸: دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان کھیوڑہ پاکستان میں ہے
۱۹: دنیا کا بلند ترین پولو گراونڈ شندور پاکستان میں واقع ہے ، جس کی بلندی 3700 میٹرہے
۲۰: پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے ۔
۲۱: دنیا میں سب سے زیادہ پہاڑی سلسلے پاکستان میں ہیں
۲۲: سری لنکن تامل ٹائیگرز دنیا کی سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیم تهی.. تمام دنیا کے فورسسز نے ملکر انکے ساته نو سال جنگ لڑی تهی. تامل ٹایگرز کے ساته طیارے اور ٹینک کی بہتات تهی . نو سال میں تمام دنیا کے افواج انکو شکست نہ دی سکی... پاک آرمی نے صرف چار سال کے اندر اندر تامل ٹائیگرز کا نام و نشان ایسے مٹایا کہ ابهی تامل ٹایگرز مکمل ختم ہے...
۲۳: پاکستان میزائل ٹیکنالوجی دنیا کی سب سے بہترین میزائل ٹیکنالوجی میں سے ایک ہے ، جب سے یہ ملک ایٹمی طاقت بنا ہے تب سے بہت سے میزائل بہت ہی کم وقت میں تیار کیے ہیں النصر ایٹمی میزائل جو ٹیکنکل ہتھیار ہے یعنی سسٹم جام ہوجانے کی صورت میں ایک فوجی بھی فائر کرسکتا ہے اور فوجی گاڑی پر مطلوبہ جگہ سے فائر کرکے حملہ آوور ساری فوج کو بھاپ میں اڑا سکتا ہے کئی لحاظ سے بھارتی تو ایک طرف امریکی میزائل ٹیکنالوجی سے بھی آگے ہے-
۲۴: پاکستان دنیا کے سب سے بہترین جنگی جیٹ طیاروں کا صنعت کار ہے
۲۵: پاکستان دنیا کا بڑا سرجیکل آلات برآمد کرنے والا ملک ہے
۲۶: دنیا کی سب سے زیادہ مشہور سیاحت گائیڈ بک، تنہا سیارے پاکستان دنیا کی سیاحتی صنعت کے اگلے بڑی بات ہونے کی وجہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے
۲۷: یورپین کاروباری انتظامیہ ادارے کی درجہ بندی کے مطابق 125 ممالک میں سے پاکستان چوتھا سب سے زیادہ ذہین لوگوں والا ملک ہے
۲۷:تمام ممالک کے پرچموں میں پاکستان کا جھنڈا خوبصورتی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پہ ہے-
۲۹: پاکستان دنیا کے خوبصورت ترین ممالک میں سے ایک ہے جو کہ چاروں موسم، ہر قسم کی معدنیات اور زراعت اور وسیع سڑکوں کا جال رکھتا ہے-
۳۰: پاکستانی دنیا میں سب سے زیادہ خوش رہنے والی، جفاکش اور دریا دل قوم ہےجفاکش-
پاکستان زندہ باد
مدینہ منورہ سے کوئی 300 کلومیٹر دور ایک خاموش علاقہ ہے ۔جس کو میدان صالح کہتے ہیں۔ اس علاقے میں حضرت صالح علیہ السلام کی قوم آباد تھی۔ اس قوم کو قوم ثمود کہتے ہیں ۔ یہ قوم حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کے ہم عصر تھے۔ حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کو قوم عاد کہتے ہیں ۔ جن کی باقیات آج کل بحرین کے صحرا میں موجود ہیں ۔
قوم ثمود نے اللہ عزوجل سے کفر کیا۔یہ بہت بڑے لمبے چوڑے اور طاقتور تھے، انہوں نے پہاڑوں کے اندر اپنے گھر بنا رکھے تھے۔ جو کسی بھی موسمی شدت کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ وہ حضرت صالح علیہ السلام کی تبلیغ کے مقابلے میں کہتے اے صالح علیہ السلام ہمارے عظیم الشان گھروں کو دیکھ کیا ہم بہت زیادہ طاقت والے نہیں ؟ اگر ہمارے مقابلے پر کوئی اور قوم ہے ان کو لاؤ ہمارے سامنے ۔لیکن جب انہوں نے اللہ کی نشانی اونٹنی کو مار ڈالا ۔ جس کا تذکرہ "حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی" میں گزر چکا ہے۔

حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ 3 دن اپنے گھروں میں فائدہ اٹھا لو ۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جھوٹا نہیں ہو گا۔ تو اللہ نے ان حضرت صالح علیہ السلام کو اور کچھ لوگوں سے اپنی مہربانی سے بچا لیا ۔اس قوم کو چنگاڑ نے آ پکڑا ۔۔۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے ۔ فرشتے کی وہ چیخ یا چنگاڑ اتنی شدید تھی کہ ان کے کلیجے پھٹ گئے، اور اپنی گھروں میں پڑے پڑے ہی ہلاک ہو گئے ۔ وہ جتنے بھی طاقتور تھے لیکن اللہ سے زیادہ زور آور نہیں ہو سکتے ۔ وہ برتر اور اعلی ہے ۔
روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے کچھ اصحاب کے ساتھ اس علاقے سے گزرے ۔ تو نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے چہرہ انوار پر اضطراب تھا۔ اور ایسا لگتا تھا وہ جلدی میں ہیں۔ وہاں کے لوگوں نے ایک کنوئیں کا پانی پیش کیا، لیکن نبی امت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو منع فرما دیا اور جلد وہاں سے نکلنے کا حکم دیا، صحابہ نے اضطراب کی وجہ پوچھی تونبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا یہاں اللہ کا عذاب نازل ہوچکا ہے۔ یہ علاقہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کا ہے جس پر اللہ نے سخت عذاب نازل کیا ۔وہاں پر پانی نہ پینے اور نہ ٹھہرنے کی حکمتیں ایسے راز ہیں جس کی خبر ہمیں نہیں ہے۔
ماضی میں انسان اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے رابطے کیلئے مختلف طریقے استعمال کرتارہا، الیگزینڈر گراہم بیل نے 2 جون 1875ءکو ٹیلی فون ایجاد کرکے انسان کو آواز کے ذریعے ایک دوسرے کے حال احوال سے باخبر رہنے اور اپنے حال احوال سے آگاہ کرنے کے قابل بنادیا۔ فون نمبروں کی ایجاد سمیت ان کے بارے میں 10 ایسے حقائق جن سے آپ اس سے پہلے شاید واقف نہیں ہوں گے۔
فون نمبر کی ایجاد:
فون نمبر ایجاد کئے جانے سے پہلے فون کالیں فون کے مالک کے نام کے ذریعے کی جاتی تھیں جس شخص نے کسی کو کال کرنا ہوتی وہ ایکسچینج میں موجود آپریٹر کو اپنے مطلوبہ شخص کا نام بتاتا، آپریٹر اپنے سامنے موجود بہت سی ٹیلی فون لائنوں میں سے ایک لائن کے ذریعے اس شخص سے کال ملادیتا۔ ٹیلی فون کے موجد الیگزینڈر گراہم بیل کے دوست ڈاکٹر موسس نے فون نمبروں کی ایجاد میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایسا طریقہ اختراع کیا جائے کہ لوگ ہنگامی حالت میں آپریٹر کی مدد کے بغیر مطلوبہ شخص سے جلد رابطہ کرسکیں۔ چنانچہ ٹیلی فون رکھنے والوں کے ناموں کی بجائے ہر شخص کے لئیے مخصوص نمبر مختص کیا گیا۔ ٹیلی فون نمبر پہلی بار امریکہ کے شہر لوویل میں 1879ءسے 1880ءکے درمیانی عرصے میں استعمال کئے گئے۔ یہ نظام اتنا پسند کیا گیا اور اتنا کارآمد ثابت ہوا کہ اسے آج بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
پہلا تجارتی ٹیلی فون ایکس چینج:
28 جنوی 1878ءکو امریکہ کے شہر نیوہیومن کی بورڈمین بلڈنگ میں دنیا کا پہلا تجارتی ٹیلی فون ایکس چینج قائم کیا گیا تھا۔ اسے ڈسٹرکٹ ٹیلی فون کمپنی آف نیوہیومن کا نام دیا گیا تھا۔ تجارتی ٹیلی فون ایکس چینج کا تصور امریکہ کی خانہ جنگی میں حصہ لینے والے ایک سابق فوجی اور ٹیلی گراف آفس کے منیجر جارج کوائے اور ان کے دو ساتھیوں ہیرک فراسٹ اور والٹر لیوس نے پیش کیا تھا۔
گھومنے والا ڈائل:
1875ءمیں ٹلی فون کی ایجاد کے بعد سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ ٹیلی فون پر رابطے کا تیز رفتار نظام وضع کیا جائے۔ آخر 1891ءمیں ایلمن براؤ سٹروگر نے ٹیلی فون کا ڈائل ایجاد کیا۔ ڈائل والا پہلا فون 1892ءمیں استعمال کیا گیا۔
ٹیلی فون کی پیڈ:
بیل لیبارٹریز کے جان ای کارلن نے ٹیلی فون کاکی پیڈ ایجاد کیا تھا۔ کی پیڈ میں اعداد اور نشانات تین عمودی اور چار افقی خطوط میں ترتیب دئیے جاتے ہیں جس کے نچلے دائیں کونے میں ”ہیش کی“ اور نچلے بائیں کونے میں سٹار یا ”ایسٹیرسک کی“ ہوتی ہیں۔
آٹو میٹک ٹیلی فون ایکس چینج
99 لائنوں والا پہلا آٹو میٹک ٹیلی فون ایکس چینج امریکہ کی ریاست انڈیانا کے شہر لاپورٹے میں نصب کیا گیا تھا۔
ایریا کوڈ
اگرچہ ایریا کوڈ کا تصور بیسویں صدی کے پانچویں عشرے میں پیش کیا گیا تھا لیکن اس کا باقاعدہ اجرا و آغاز 1951ءمیں امریکہ کی ریاست نیو جرسی کے لئے ایریا کوڈ متعارف کروانے سے ہوا، نیوجرسی کا ایریا کوڈ 201 ہے۔
ہنگامی نمبر
ہنگامی نمبر تین یا چار اعداد پر مشتمل ہوتے ہیں تاکہ لوگ انہیں آسانی سے یاد رکھ سکیں اور ہنگامی ضرورت کے وقت تیزی اور آسانی سے ڈائل کرسکیں۔ انہیں کسی ملک کے کسی بھی حصے کے رہنے والے لوگ ہنگامی ضرورت کے وقت استعمال کرسکتے ہیں۔ انہیں یونیورسل ایمرجنسی ٹیلی فون نمبر بھی کہا جاتا ہے۔ ہنگامی نمبروں کا نظام بھی امریکہ میں وضع کیا گیا تھا جس کے کامیاب ہونے کے بعد دنیا کے دوسرے ملکوں نے بھی یہ نظام اپنالیا۔
مہنگاترین فون نمبر
دنیا کا سب سے زیادہ قیمت پر فروخت ہونے وال سیل فون نمبر 6666666 ہے۔ اسے خیراتی مقصد سے قطر میں فروخت کیا گیا تھا۔ اس نمبر کے خریدار نے اس کے لئے 27 لاکھ ڈالر کی سرچکرادینے والی رقم ادا کی تھی۔ چین میں نمبر 88888888 دو لاکھ اسی ہزار ڈالر میں فروخت ہوا تھا۔
فلموں میں استعمال ہونے والے تخیلاتی ٹیلی فون نمبر
امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں نے فلموں میں استعمال کے لئے فرضی ٹیلی فون نمبر وضع کئے ہیں۔ امریکی فلموں کے کرداروں کے ٹیلی فون نمبر 555 سے شروع ہوتے ہیں تاہم بعض فلم سازوں نے اس اصول سے انحراف کرتے ہوئے اپنی فلموں کے کرداروں کو اصل فون نمبروں سے مماثل فون نمبر استعمال کرتے دکھایا ہے۔
فون نمبر میجک ٹرک
ریاضی خشک علم تو ہے مگر اس کے اصول استعمال کرتے ہوئے بہت سے دلچسپ کھیل بھی ایجاد کئے جاچکے ہیں۔ ٹیلی فون نمبروں کے ضمن میں بھی ایک میجک ٹرک موجود ہے جو کچھ یوں ہے: کوئی بھی سات اعداد والا ٹیلی فون نمبر لیجئے۔ مثال کے طور پر 9417990 لیجئے۔ اس کے پہلے تین اعداد کو 80 سے ضرب دیجئے۔ جو حاصل آئیے اس میں ایک جمع کیجئے۔ حاصل جمع کو 250 سے ضرب دیجئے۔ حاصل ضرب میں اصل فون نمبر کے آخری چار اعداد جمع کیجئے۔ اس کے بعد آخری چار اعداد دوبارہ جمع کیجئے۔ حاصل جمع میں سے 250 نفی کردیجئے۔ اور باقی بچنے والے اعداد کو 2 سے تقسیم کردیجئے۔ آپ کے سامنے وہی نمبر ہوگا جو آُ پ نے ابتدا میں منتخب کیا تھا۔
بل گیٹس کی بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن لوگوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے علاوہ ایک ایسے بینک میں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے جہاں دنیا کا کوئی ارب پتی بھی اپنا اکاؤنٹ نہیں کھول سکتا۔
اس بینک میں سونا ، چاندی یا کرنسی کے بجائے " دیسی یا قدرتی بیجوں " کو جمع کیا جا رہا ہے۔
اس بینک کا آفیشل نام Svalbard Global Seed Vault ہے تاہم یہ Doomsday Seed Vault کے نام سے مشہور ہے۔ یہ ڈومز ڈے سیڈ بینک Svalbard قطب شمالی سے 1100 کلو میٹر کے فاصلے پر آرکٹک نامی سمندر کے کنارے ایک بہت بڑی چٹان کے اندر واقع ہے۔ یہ علاقہ ناروے کے زیر ملکیت ہے۔
یہ غالباً دنیا کا محفوظ ترین بینک ہے۔ اس بینک کے دہرے بلاسٹ پروٖف دروازےہیں ۔ اسکے لاکر سخت ترین موٹے سٹیل کے بنے ہیں جبکہ بینک کی اندرونی دیواریں ایک میٹر کنکریٹ کی موٹی تہہ سے بنی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس میں 30 لاکھ مختلف اقسام کے بیجوں کو محفوظ کیا جائیگا۔ اس بینک سے باہر ایسے سنسر لگے ہیں جو بینک سے باہر دور دور تک کسی بھی حرکت کو مانیٹر کر لیتے ہین۔
ایسا علاقہ جہاں بندہ نہ بندے کی ذات بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن اتنی بڑی سرمایہ کیوں کر رہی ہے وہ بھی اس پراجیکٹ میں ؟؟
شائد کچھ اور تفصیلات آپ کے گوش گزار کریں تو آپ کو معاملات سمجھنے میں آسانی ہو۔
اس بینک میں بل گیٹس کی پارٹنر جان ڈی راک فیلر کی کمپنی ہے۔ وہ جان ڈی راک فیلر جس کو بہت سے لوگ 31ویں درجے کا فری میسن قرار دیتے ہیں۔
بل گیٹس، راک فیلر کے علاوہ دنیا بھر میں جی ایم او بیج پیدا کرنے والی دنیا کی چند بڑی شخصیات اس بینک میں انکی پارٹنر ہیں۔ یہ سب ملکر آنے والے وقت کے لیے بیجوں کو محفوظ کر رہے ہیں جب دنیا سے "دیسی یا قدرتی بیج" ختم ہوجائیگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا بھر سے دیسی یا قدرتی بیج کو ختم کرنے کی مہم کا روح رواں خود جان ڈی راک فیلر تھا اور اب اسکی کمپنی۔ نیز اسی بینک کے دوسرے دو پارٹننرز دوپانٹ اور سنگنٹا جی ایم او یا عرف عام میں " ھائی بریڈ" بیج کی دو دنیا کی سب سے بڑی کمپنیاں چلا رہے ہیں۔
ان کو توقع ہے کہ کچھ عرصے بعد دنیا بھر میں قدرتی بیج کے خاتمے کے ساتھ ہی دنیا کے تمام کسان خود بیج پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاینگے۔ تب یہ دنیا بھر میں خوارک پر کنٹرول حاصل کر لینگے اور ان کے ڈومز ڈے بینک میں موجود بیجوں کے سامنے دنیا کی تمام سونا چاندی ہیچ ہوگی۔
بل گیٹس اور راک فیلر کے حوالے سے کچھ چیزیں اور بھی کافی دلچسپ ہیں۔ مثلاً
جان ڈی راک فیلر پر الزام تھا کہ وہ ایک ایسے پروگرام کو فنڈنگ کر رہا ہے جو جینیٹکلی انسانوں کی نئی نسل بنانے کے پراجیکٹ پر کام کر رہی ہے۔
۔اس پراجیکٹ کو چلانے کی ذمہ داری جس شخص کو سونپی گئی ہے اسکا نام Margaret Catley-Carlson ہے جو جان ڈی راک فیلر کے دنیا کی آبادی کم کرنے کے لیے بنائی گئ تنظیم کا چیرمین رہ چکا ہے جو 1952 سے دنیا بھر میں برتھ کنٹرول پر کام کر رہی ہے اور اس کا ہیڈ آفس نیویارک میں ہے ۔ یہ شخص ۔Suez Lyonnaise des Eaux نامی منرل واٹر بنانی والی دنیا کی ایک بہت بڑی کمپنی کا اہم عہدیدار بھی ہے۔
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنی والی ایک کمپنی Epicyte نے 2001 میں اعلان کیا کہ وہ مکئی کی ایسی قسم تیار کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جو مردوں پر اثر انداز ہو کربرتھ کنٹرول کر سکتی ہیں۔ اس نے اعلان کیا کہ وہ اس پر مزید کام کرنا چاہتے ہیں تو جانتے ہیں ان کو یہ پراجیکٹ سپانسر کرنے کے لیے کون ملا ؟ DuPont اور Syngenta ۔۔ جو ڈومز ڈے سیڈ بینک کے پارٹنر ہیں ۔۔
ان کے علاوہ یو ایس ڈپارٹمنٹ آفس بھی انکی فنڈنگ کر رہا ہے۔
1990 میں ڈبیلو ایچ او نے ایک مہم چلائی جس میں Nicaragua, Mexico and the Philippines کی لاکھوں خواتین کو ٹیٹنس نامی بیماری کے خلاف ویکسین پلائی جو زنگ آلود کیل وغیرہ چبنے سے لگ سکتی ہے ۔ حیرت انگریز طور پر یہ ویکسین مردوں کو نہیں پلائی گئی حالانکہ مردوں کو بھی یہ بیماری لگنے کے اتنے ہی امکانات ہین ۔ بعد Comite Pro Vida de Mexico نامی ادارے نے ان ویکیسن کو ٹیسٹ کیا تو ان میں ایسے کیمیکل تھے جو خواتین میں پریگنینسی کے مسائل پیدا کر سکتے تھے۔
ان سب سے بڑھ کر بل گیٹس کی پولیو مہم ایک خطرناک عفریت کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے اور اس پر بے شمار سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
صرف پاکستان میں دستوں کے امراض اور سانس کی تکلیف کے باعث ہر ایک منٹ میں ایک بچہ وفات پا جاتا ہے۔ ہیپا ٹائیٹس کے سبب ہر سال چار لاکھ بچے لقمہ اجل بنتے ہیں اور پاکستان میں دس ملین سے زائد لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں۔ جبکہ عالمی ادارہ صحت کی تحقیق سن دو ہزار گیارہ کے مطابق پاکستان افغانستان اور نائیجیریہ میں پچیس کروڑ میں سے صرف چھ سو پچاس بچے پولیو کے مرض میں مبتلا تھے !
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن امراض کی وجہ سے لاکھوں انسان ہلاک ہو رہے ہیں وہ کسی کو نظر نہیں آ رہے اور چھ سو پچاس بچوں میں پولیو کی وجہ سے یہ ویکسن زبردستی تمام ممالک میں بچوں کو پلائی جا رہی ہے اور اس پر بل گیٹس کی 60 ارب ڈالر کی دیوہیکل " فلاحی تنظیم " کام کر رہی ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟؟؟
نائیجیرین فارماسیوٹیکل سائنٹسٹ ڈاکٹر ہارونا کائیٹا کے مطابق یہ لوگوں کو بانجھ بنانے کی مہم ہے۔
ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﭘﻮﻟﯿﻮ ﮈﺭﺍﭘﺲ ﭘﻼﻧﮯ ﮐﯽ ﯾﻮﻧﯿﺴﯿﻒ) UNICEF) ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﮦ ﺣﮑﻤﺖ ﻋﻤﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ 1985 ﺀ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺳﻄﺢ ﭘﺮ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﻮﻟﯿﻮ ﮈﺭﺍﭘﺲ ﭘﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ،ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﮩﻢ ﮐﺎ ﻧﻌﺮﮦ ﺗﮭﺎ ’’ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﻧﺪ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ‘‘ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﯾﮧ ﻧﻌﺮﮦ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ’’ ﺩﻭ ﺑﻮﻧﺪ ﭘﻮﻟﯿﻮ ﮈﺭﺍﭖ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ‘‘ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺏ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً 40 ﺑﺎﺭ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺯﺍﺋﺪ ﯾﮧ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﻼﺋﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ﺁﺧﺮﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ؟
امریکہ نے اپنے ملک میں انڈین بندر کی کلیجی سے بنائی جانے والے قطروں پر مجبوراً پابندی لگا دی کیونکہ ہو لوگوں میں دماغی کیسنر، فالج اور کئی طرح کے امراض پیدا کر رہی تھی۔ یہ ایک بہت ہی لمبا موضوع ہے اور صرف بل گیٹس کی پولیو مہم پر نیٹ پر بے شمار مواد دستیاب ہے۔
شائد بل گیٹس اور راک فیلر کچھ ایسا کررہے ہیں اور کچھ ایسا جانتے ہیں جو ہم نہیں جانتے۔
اب ذرا واپس آتے ہیں " ڈومز ڈے سیڈ بینک" کی طرف۔۔۔
سنا ہے کہ اس حوالے سے حضورﷺ کی ایک حدیث بھی موجود ہے جس کے مطابق قیامت قریب آئیگی تو ایک دانے کے لیے لڑائی ہوگی۔(صاحب علم حضرات سے تصحیح کی درخواست ہے) ذرا غور کجیے ایک دانے سے کسی انسان کی بھوک نہیں مٹ سکتی پھر اسکی اتنی اہمیت کیسے ہو سکتی ہے کہ اس کے لیے جنگ ہو ؟
شائد اس لیے کہ جنگ کرنے والوں کوعلم ہوگا کہ دانے کے حصول کی صورت میں وہ اناج کی ری پرڈکشن کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں جو ان کو " کسی" کی محتاجی سے نجات دلا سکتی ہے۔
اللہ ان کسانوں پر رحم کرے جو دیسی بیج اگاتے ہیں اور ان پر رحم کرے جو اس کو محفوظ کر رہے ہیں۔
ویسے ذرا سبزی والے کے پاس جائیے اور چیک کیجیے کہ کون کونسی " دیسی سبزی" دستیاب ہے۔۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
یہ اسلام آباد کی ایک بین الاقوامی سطح کی عمار ت ہے ، جس میں زیادہ تر دفاتر ملکی دفاتر قائم ہیں ۔
کچھ نیشنل کمپنیاں ہیں اور کچھ معروف این جی اوز ہیں، یہ عمارت ایک پس ماندہ ملک میں جدید ترین دنیا کا جزیرہ ہے ، اس میں بے شمار غیر ملکی مرد اور عورتیں کام کرتی ہیں، آپ کو اس میں ایسی عورتیں نظر آتی ہیں ، جنہوں نے اسکرٹ پہن رکھے ہیں، سوٹ بوٹ اور ٹائی والے صاحب نظر آتے ہیں، اس چھت کے نیچے انگریزی زبان ، قومی زبان ہے۔ تمام لوگ ایک دوسرے سے انگریزی زبان میں گفتگو کرتے ہیں، تمام دفاتر کا اپنا سیکورٹی سسٹم ہے ، سارے دروازے برقی ہے اور آپ جب تک دروازے پر لگے کیمرے کو اپنا سیکورٹی کارڈ نہیں دکھاتے دروازہ نہیں کھلتا اور آپ اس کے اندر داخل نہیں ہوسکتے ۔
میں اس عمارت میں متعدد بار آیا تھا ، کبھی فلاں این جی اوز کے چیف ایگزیکٹیو سے ملنے اور کبھی کسی ملٹی نیشنل کے منیجر کے درشن کے لئے ، میں جب بھی آیا میری ملاقات کسی نہ کسی گورے صاحب سے ہوئی، کوئی نہ کوئی غیر ملکی میرا منتظر تھا ، ان تجربات کی بنیاد پر میں نے محسوس کیا کہ اس عمارت میں شاید ہی کوئی مقامی باشندہ ہو ، اگر ہو تو یقینا سیکورٹی گارڈ، چپراسی یا پھر فرش صاف کرنے والا کارکن ہوگا، ورنہ دفتر کے اندر کسی کرسی ، کسی عہدے پر کوئی مقامی آدمی تعینات نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔لیکن اس دن میں اس ولایتی عمارت میں ایک دیسی شخص سے ملنے گیا تھا ، مجھے عمر بشیر سے ملنا تھا ۔
عمر بشیر ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا کنٹری منیجر تھا ، جب اس کے ساتھ میری ملاقات ہوئی تو میرا خیال تھا کہ وہ لازماً کسی عرب ملک کا باشندہ ہوگا ، اگرنہ ہوا تو وہ امریکہ یورپ کی کسی ماڈرن ازم سے متاثر ہوکر اسے پاکستان میں تعینات کیا ہوگا، لہذا آج کل وہ دفتر میں بیٹھ کر پاکستان کی بوریت اور خشک زندگی کا رونا روتا ہوگا ، وہ شکوہ کرتا ہوگا کہ اس ملک میں’’شوشل لائف‘‘نام کی کوئی چیز نہیں ، کلب ہیں نہ ڈسکو ہیں، اف کہاں پھنس گیا۔ اب مجھے تفریح کے لئے ہر مہینے دبئی جانا پڑتا ہے، سنا ہے بینکاک اور ممبئی بھی بہت سستے ہیں ، لیکن میں ابھی وہاں نہیں گیا، مجھے کوئی دوست بتارہاتھا کہ کراچی کے کچھ لوگوں کے اپنے فارم ہاؤسیز پر ایسے ہی خفیہ کلب بنارکھے ہیں، لیکن وہاں چھاپوں کا ڈر رہتا ہے اور میں کوئی رسک لینے کے لئے تیار نہیں ہوں وغیرہ وغیرہ۔
غرض عمر بشیر کی شخصیت کے خالی تصورات کے ساتھ جب میں ان کے دفتر میں داخل ہوا تو حیران رہ گیا ، ہمارے سامنے مولانا کے حلیے کا ایک جوان شخص بیٹھا تھا ، سیاہ گھنی داڑھی، مونچھوں کی جگہ خالی ، ماتھے پر سجدے کا نشان ، دانت سفید، آنکھوں میں حیا اور گلاب کے عطر کی ہلکی ہلکی خوشبو، میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا ، میں نے آگے پیچھے دیکھا اور جھجکتے جھجکے عرض کیا:’’مجھے عمر بشیر صاحب سے ملنا تھا۔‘‘ وہ مسکرایا اور دھیمے لہجے میں بولا:’’خاکسار ہی کو عمر بشیر کہتے ہیں ۔‘‘ میں نے لمبی سانس بھری، جسم کو ڈھیلا چھوڑا اور ٹانگیں سیدھی کر کے بیٹھ گیا ، اس نے کہا:’’میرے پاس۴۵؍منٹ ہیں،۱۵؍ منٹ آپ کو اپنے لنچ ٹائم سے دے دوں گا ، مجھے معلوم ہے آپ کام کی باتوں کے علاوہ میرے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ جاننا چاہیں گے ۔ چنانچہ ہمارے لئے ایک گھنٹہ کافی ہوگا ، ہم سب سے پہلے کام کی بات کرتے ہیں۔‘‘میں اس کے میکنیکل لہجے پر مزید حیران ہوگیا، پھر میں نے فائل کھولی اور عمر بشیر کے سامنے رکھ دی ، میں نے نوٹ کیا، جب خاتون اندر داخل ہوئی تو عمربشیر نے نظریں جھکالیں ، انہوں نے سکریٹری کی طرف دیکھا تک نہیں ، سیکریٹری واپس چلی گئی تو عمر بشیر نے انگریزی میں گفتگو شروع کردی، وہ بڑی خوبصورت انگریزی بول رہے تھے ، ان کا لہجہ کیلی فورنیہ کے پڑھے لکھے امریکیوں جیسا تھا ، ان کی کمپنی پاکستان میں فلاحِ عامہ کا کوئی ایسا کام کرنا چاہتی تھی ، جس سے انتہائی غریب لوگوں کو کوئی فائدہ پہنچ سکے، وہ اس سلسلے میں میری مشاورت چاہتے تھے، انہوں نے بڑے کاروباری انداز سے بات چیت کی، اپنی کمپنی کا پس منظر بیان کیا ، اپنا ٹرن آؤٹ بتایا ، دنیا بھر میں پھیلے نیٹ ورک کے بارے میں معلومات دیں ، دنیا کے کون کون سے ملک میں ان کی کمپنی نے آج تک کیا کیا فلاحی کام کئے؟ انہوں نے اس کے بارے میں بتایا اور آخر میں پاکستانی معاشرے کے اجزاء اس کے مسائل اور فلاحی کاموں کی نوعیت کے بارے میں گفتگو کی ۔ ان کی یہ ساری بات چیت انگریزی زبان میں تھی ، اور درمیان میں انہوں نے اردو میں جمائی اور ہچکی تک نہ لی ۔ وہ مسلسل انگریزی بولتے چلے گئے، آخر میں مَیں نے اپنی معلومات کا حوالہ دیا، وہ تمام سیکٹر بتائے جن میں کام ہوسکتا ہے، اور ان کاموں کے لئے انہیں کون کون سے کارکن کہاں کہاں مل سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
ہماری یہ بات چیت آدھے گھنٹے تک جاری رہی، آدھے گھنٹے بعد ہم فارغ تھے ، انہوں نے کاغذ سمیٹے ، سیکریٹری کو بلایا جوں ہی وہ کمرے میں داخل ہوئی ، انہوں نے نظریں جھکائیں اور مجھے اگلی ملاقات کا وقت دینے کی ہدایت کردی ، انہوں نے لکھوایا کہ اگلی میٹنگ میں فلاں فلاں لوگ بھی ہمارے ساتھ ہوں گے ، ان کے کام کرنے کا سارا اسٹائل امریکی تھا، لیکن ان کی شخصیت، ان کا حلیہ، اس اسٹائل سے مطابقت نہیں رکھتا تھا ، وہ اس سارے ماحول میں اجنبی اجنبی سے محسوس ہوتے تھے، جوں ہی سیکریٹری باہر گئی انہوں نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور اردو میں نرم لہجے میں بولے :’’ہم ذاتی گفتگو کرسکتے ہیں۔‘‘میں بڑی دیر سے اپنی بے چینی کو دبائے بیٹھا تھا ، میں نے ان پر سوالات کی بوچھار کردی، وہ میرا سوال سنتے رہے ، جب میں تھک کر خاموش ہوا تو وہ گویا ہوئے :
’’میرا تعلق ملتان کے ایک دوردراز علاقے سے ہے، میرا گھر انا مذہبی ہے ، والد صاحب مدرسے کے منتظم ہیں، ہم آٹھ بہن بھائی ہیں، ہمارے خاندان کا کوئی فرد آج تک ملک سے باہر نہیں گیا، میری تعلیم و تربیت بھی مذہبی ماحول میں ہوئی، مجھے مدرسے کے ساتھ ساتھ عام اسکول میں بھی داخل کردیا، میرا ذہن اچھا تھا، میں نے ایک طرف حفظ کیا اور دوسری طرف عام عصری تعلیم میں آگے بڑھتا گیا ، میں اسکول میں ہمیشہ پہلی پوزیشن حاصل کرتا تھا،میں نے میٹرک بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ گائوں میں انگریزی تعلیم کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ میں نے اس کا حل یہ نکالا کہ میں بی بی سی اور وائس آف امریکہ سننے لگا، میں روزانہ انہیں سنتا ، دس الفاظ روزانہ یاد کرتا ، ریڈیو رپورٹ انائونسر کے لہجے میں نقل کرتا، حفظ کی وجہ سے میری یادداشت بڑی شاندار تھی ، میں پوری پوری ریڈیو رپورٹ یاد کرجاتا تھا، ساری ساری خبریں مجھے ازبر ہوجاتیں، میں شام کو کھیتوں میں نکل جاتا، پودوں ، درختوں اور فصلوں کو یہ ساری خبریں، یہ ساری رپورٹیں انگریزی لہجے میں سناتا۔ میں برسوں یہ پریکٹس کرتا رہا ، یہاں تک کہ مجھے انگریزی لہجے پر عبور حاصل ہوگیا ، لوگ میری انگریزی سن کر چونک اٹھے اور دعوے سے کہتے کہ میں امریکہ لندن میں پیدا ہوا ہوں ، کالج میں مَیں نے انگریزی کتب کا مطالعہ بھی شروع کردیا۔ اس سے میرے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ ہوگیا، میرے دوسرے مضامین بھی اچھے تھے، ان میں بھی میرے نمبر اچھے تھے ، کالج جاتا تو میں شلوار کرتا پہن رکھا ہوتا تھا، پائوں میں کھلی چپل ہوتی تھی اور سر پر عمامہ ، شروع شروع میں لوگ میرا مذاق اڑاتے تھے، لیکن میری قابلیت نے جلد ہی انہیں میرے احترام پر مجبور کردیا، بی اے میں میری یونیورسٹی میں پوزیشن آگئی، ان دنوں امریکہ نے تیسری دنیا کے نوجوانوں کو تعلیمی وظائف دینا شروع کئے تھے ، میں نے اپلائی کیا، ٹیسٹ انٹرویو ہوا، میری اس میں پہلی پوزیشن تھی، انہوں نے میرے حلیے پر ہلکا سا اعتراض کیا ، لیک میں نے ان سے کہا:’’اگر سکھوں، یہودیوں اور عیسائیوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کو وظائف دیتے وقت ان کے حلیے پر اعتراض کرتے ہیں تو مجھ پر بھی کریں ، ورنہ پھر دوسروں کی طرح مجھے بھی برداشت کریں ۔‘‘ وہ لوگ ہنس پڑے، یوں مجھے میرے حلیے سمیت امریکہ ایک بہت بڑی یونیورسٹی میں داخل مل گیا، وہاں بھی لوگ مجھے مڑ مڑ کر دیکھتے تھے ، لیکن میں نے کسی کی پروانہ کی، میں نے اپنے ڈین سے مل کر نماز کی اجازت لے لی ، انہوں نے میرے لئے اپنے دفتر کا ایک کارنر مخصوص کردیا ، اچھا طالب علم تھا ، مجھے تمام متعلقہ علوم ازبر ہوتے تھے، میں کل ہونے والی پڑھائی کے بارے میں پہلے ہی سے تمام مواد پڑھ لیتا تھا ، اپنا کام وقت پر کرتا تھا انگریزی میری بہت اچھی تھی، لہذا تمام اساتذہ اور طالب علم میرا احترام کرنے لگے ، ایک دن کلاس کے دوران میں قرآن مجید کی تلاوت کی تو تمام لوگ حیران رہ گئے ، ان کے لئے یہ حیران کن بات تھی کہ مجھے پورا قرآن زبانی یاد ہے، انہوں نے میرا امتحان شروع کردیا ، اب میں فارغ وقت میں انہیں قرآن مجید سنانے لگا ، میں نے انہیں قرآن مجید کے احترام کے بارے میں بتادیا تھا، میں جب تلاوت شروع کرتا تھا تو خواتین خود بخود سر ڈھانپ لیتی تھیں ، لڑکے سگریٹ بجھا دیتے تھے اورباتیں کرنے والے خاموش ہوجاتے تھے ۔ امریکہ میں ایک اور دلچسپ روایت ہے ، وہاں مختلف ادارے یونیورسٹیوں سے رابطہ کرتے ہیں ، اور مختلف شعبوں میں بہترین پوزیشن لینے والے طالب علموں کو اپنے ادارے میں نوکری کی پیشکش کرتے ہیں ، یونیورسٹی کے پروفیسر ان نوکریوں کی تقسیم اداروں کی سطح اور طالب علموں کی کارکردگی کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں ، میری پوزیشن چونکہ سب سے اچھی تھی ، لہذا میرے ڈین نے میرا نام ایک ملٹی نیشنل کمپنی کو دے دیا ، میں انٹرویو کے لئے گیا تو وہ لوگ بھی اپنے دفتر میں ایک’’طالبان‘‘ کو دیکھ کر پریشان ہوگئے ، انہوں نے مجھے ’’ان ٹرن شپ‘‘ کی پیشکش کردی ، میں نے وہ ادارہ جوائن کرلیا، میں وہاں جزوقتی ملازم تھا ، لیکن چند گھنٹوں میں اتنا کام کرجاتا تھا ، جتنا ان کے کل وقتی ملازموں کا پورا شعبہ نہیں کرتا تھا ، میں چھ ماہ ان کا جز وقتی ملازم رہا ، اس دوران میں نے کمپنی کوبعض مشورے دیے، انہوں نے طویل تکرار کے بعد ان پر عمل کیا، کمپنی کے منافع میں سو فیصد اضافہ ہوگیا ، وہ میری کارکردگی پر حیران رہ گئے ، چھ ماہ بعد انہوں نے مجھے پانچ ہزار ڈالر ماہوار کی آفر کردی ، میں نے آفر قبول کرلیا ، نوکری کے دوران میں نے ہمیشہ وقت کی پابندی کی ، ذمہ داری سے بڑھ کر کام کیا ، ماتحتوں کے ساتھ اخلاق کا مظاہرہ کیا ، ان سے پیارو محبت سے کام لیا، لہذا میری کارکردگی نے امریکیوں کو حیران کردیا ، میں حافظ ِ قرآن تھا، میرے سینے میں موجود قرآن مجید نے میری رہنمائی کی ، وہ برکت بن کر میرے ساتھ ساتھ چلتا رہا ، میرے سارے کام آسان ہوگئے ، میں ترقی کرتا چلا گیا ، یہاں تک کہ میری تنخواہ پچیس ہزار ڈالر ماہانہ ہوگئی ، پوری کمپنی میں صرف۲۰؍ بندے تھے جن کی اتنی یا اس سے زیادہ تنخواہ تھی ، میرا دائرہ کار بھی بڑھا دیا گیا ۔ ۲۰۰۰ء میں والد صاحب نے مجھے واپس آنے کا حکم دے دیا۔ میں نے استعفیٰ پیش کردیا، انہوں نے وجہ پوچھی ، میں نے بتایا تو وہ مزید حیران ہوگئے کہ ایک شخص اپنے بوڑھے والد کی خواہش پر اتنی بڑی نوکری چھوڑ کر جارہا ہے ۔ انہوں نے مجھے سمجھایا ، جب میں نہ مانا تو انہوں نے ایک عجیب فیصلہ کیا، انہوں نے پاکستان میں اپنا دفتر کھولنے کا اعلان کردیا، انہوں نے یہ دفتر بنایا، عملہ رکھا اور مجھے کنٹری منیجر بنا کر یہاں بھجوادیا۔
یہاں میرے اختیارات کا یہ عالم ہے کہ پورے ایک مہینہ کے لئے جہاز چارٹر کرسکتا ہوں ، دس کروڑ روپئے تک کا چیک ہیڈ کوارٹر کی منظوری کے بغیر سائن کرسکتا ہوں، ایشیاء کے ۱۲؍ ممالک میرے ماتحت ہیں، لوگ میرا حلیہ دیکھتے ہیں اور پھرمیری پوزیشن پر نظر ڈالتے ہیں تو انہیں یقین نہیں آتا، آپ کو بھی حیرانی ہوگی ، میں نے پوری زندگی شیو نہیں کی ، کوئی نماز قضا نہیں کی ، روزہ نہیں چھوڑا ، میں نے پوری زندگی پتلون نہیں پہنی، شرٹ نہیں پہنی ، ٹائی نہیں لگائی ، سرننگا نہیں رکھا، لیکن اس کے باوجود ملٹی نیشنل کمپنی کی انتظامیہ میں شامل ہوں، لوگ ہم سے نفرت کرتے ہیں ، وہ ہمیں دہشت گرد اور جنونی سمجھتے ہیں ، ہم ان کی رائے بدل نہیں سکتے ، لیکن اگر ہم اس دنیا میں ان لوگوں کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ان لوگوں کو اپنی محنت، قابلیت اور ذہانت سے متاثر کرنا ہوگا ، اگر مدرسے کا ایک بچہ ایسا کرسکتا ہے تو ہم لوگ اپنی صلاحیتوں سے انہیں متاثر کیوں نہیں کرسکتے ۔
نوٹ :اس مضمون کورفاہ عام کے لئے کاپی پیسٹ کی عام اجازت ہے
آج اگر کسی انٹرنیٹ کے رسیا کے پاس فراغت ہے تو وہ پہلی ترجیح میں انٹرنیٹ پر کام کرنا پسند کریگا۔ یہاں وہ نیٹ سرفنگ، سوشل ویب سائٹس، پبلک چیٹ، آن لائن گیمز، ویڈیوز دیکھناپسند کرے گا۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیںجو انٹرنیٹ کا استعمال تو کرتے ہیں لیکن ان کے سامنے کوئی مقصدیا ’’ورک‘‘ نہیں ہوتا۔ وہ اپنا وقت گزارنے آتے ہیں اور آن لائن ’’بونگیاں‘‘ مارتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کونسے کارنامے ہیں جو ’’ویلے حضرات‘‘ سرانجام دیتے ہیں۔ -1 وائرس لنکس پر کلک کرنا:جب لوگ غیر اخلاقی سائٹس وزٹ کرتے ہیں توعموماً ’’آپ لکی ونر ہیں‘‘ یا ایک لاکھ روپے کا انعام ایک کلک کے فاصلے پر جیسے پیغامات آتے ہیںتو اکثر لوگ انہیں فوری کلک کرتے ہیں اس کے علاوہ کچھ پرکشش تصاویر بھی ایسے ہی پیغامات لیکر نمودار ہوتی ہیں۔ انہیں معلوم بھی ہوتا ہے کہ یہ وائرس لنکس ہیں لیکن اس کے باوجود کچھ اور دیکھنے کی چاہ میں کلک کرتے چلے جاتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کمپیوٹر پر وائرس حملے ہوتے ہیںجو ونڈو کو کرپٹ کر جاتے ہیں یا کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کے کچھ پرزوں کو بے کار کر جاتے ہیں۔ فیس بک، ٹوئیٹر، آرکٹ پر بھی ایسے بہت سے وائرس پائے جاتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ایسے وائرس دانستہ طور پر فیڈ کروائے جاتے ہیں تاکہ سافٹ ویئر کمپنیوںکے زیادہ سے زیادہ سافٹ ویئر فروخت ہوسکیں۔ -2 ہرکسی کو دعوت دیتے ہیں: جب لوگ آن لائن گیمز کھیل رہے ہوتے ہیں تو سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر رجسٹرڈ ہونے کیلئے کئی انویٹیشن آتی ہیں جسے احمق لوگ بغیر تحقیق کے قبول کرلیتے ہیں۔ ایسے لوگ ایسی دعوتوں کو نہ صرف خود قبول کرتے ہیں بلکہ اپنے دیگر دوستوں کو بھی بھجواتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں زیادہ تو وہ انوٹیشنز قبول کی جاتی ہیں جو بیرون ممالک سے وصول ہوتی ہیں۔ ایسے لوگوں کے دماغوں میں یہ بات ہوتی ہے کہ شاید ایسی دوستی کی وجہ سے بیرون ملک جانے کا موقع مل جائے گا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ تمام حقائق کو جانتے ہوئے بھی لوگ ایسی دعوتوںکو قبول کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ -3 ہر تصویر اپ لوڈ کرتے ہیں: تصویر باتھ روم کی ہو یا ڈرائنگ روم کی بڑے گھروں سے لیکرجھونپڑیوں تک کی ہو… ایسے لوگ تمام طرح کی تصاویر کولگاتے یا شئیر کرتے چلے جاتے ہیں۔ اب تو اپ لوڈ کرنے کا عمل بھی بہت آسان ہو گیا ہے۔ موبائل فون سے بنائی گئی تصاویر ایک کیبل کی مدد سے کمپیوٹر پر منتقل ہو جاتی ہیں۔ ایسے احمق لوگ اپنے خاندانی وقار اور عزت کا خیال کیے بغیر ہر تصویر خواہ وہ بہت ہی نجی ہو کمپیوٹر پر یا فیس بک پر اپ لوڈ کرنے میں دیر نہیں کرتے۔ ایسے میں اکثر شرارتی اور مجرمانہ ذہنوں کے لوگ ان تصاویر کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ -4 ہر جگہ اپنی ای میلز چھوڑتے ہیں:ایسے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنا ای میل ایڈریس ہرجگہ چھوڑتے ہیں کوئی بھی فری نیوز لیٹر ہو یا آن لائن بلاگ ہو، کوئی فورم ہو یا اشتہار ہو فوراً اپنا ای میل پوسٹ کرنے میںدیر نہیں لگاتے جس کی وجہ سے انہیں ملین ای میلز موصول ہوتی رہتی ہیں اور ان کا میل باکس ایسی میلز سے بھرا رہتا ہے جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کئی مرتبہ بہت اہم میلز بھی ان ہزاروں میلز کے رش کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہ مشق محض وقت کا ضیاع ہی ہوسکتی ہیں۔ -5فری سافٹ ویئر کو ڈائون لوڈ کرنا: فری سافٹ ویئر کوڈائون لوڈ کرنا کوئی غیر قانونی حرکت نہیں کہ ایسا کرنے سے جیل ہو جائے لیکن اس وقت کیا کیا جائے جب کسی فری سافٹ ویئر کے ڈائون لوڈ کرنے سے بہت سی فضول اور ہیوی پروگرام انسٹال ہو جائیں گے اور اس کا لوڈ کمپیوٹر پر پڑیگا۔ ایسے پروگرام اکثر کمپیوٹر کی خرابی کا سبب بنتے ہیں۔ کچھ پروگرام تو اشتہاروں کا سیلاب لیکر آتے ہیں بھلا یہ وقت کا ضیاع نہیں تواور کیا ہے۔ -6سب کچھ سچ سچ بتا دیتے ہیں:انٹرنیٹ کی دنیا میں چیٹ روم وہ پراسرار اور پرزار جگہ ہوتی ہیں جہاں کون کون بیٹھا ہوتا ہے کوئی نہیں جانتا اس لئے سمجھدار لوگ اکثر اپنی شناخت نہیں بتاتے یا کم از کم اس وقت تک چھپائے رکھتے ہیں جب تک کہ انہیںاگلے بندے کی پہچان نہ ہو جائے۔ لیکن جن لوگوں کی عادات کے حوالے سے یہ مضمون لکھا جا رہا ہے وہ پہلی ہی ملاقات میں سب کچھ سچ سچ بتا دیتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اصل نام، ایڈریس ای میل ایڈریس بتانے سے قبل ہر طرح کی تسلی کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن بعض احمق تو اپنا خفیہ کوڈ بھی بتا دیتے ہیں۔ -7پبلک فورم پر ذاتی حملے:پبلک فورم میں ایک سے زائد لوگ آن لائن آپس میں گپ شپ کرتے ہیں ۔ایسے میں کئی احمق کسی بات پر ناراض ہو جائیں تو سرعام اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اپنا مزاج کھو جاتے ہیں۔ اورکھری کھری سنا دیتے ہیں۔ بعض اوقات تو عام اخلاقی حدودکو پھلانگتے ہوئے گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں جو کہ اچھی بات نہیں ۔ ظاہر ہے جب ایسی زبان کا استعمال ہوگا تو جواب میںاچھی غزلیں تو سننے میں نہیں آئیں گی۔ ان کی اس حرکت سے کتنے لوگوں کو ذہنی اذیت کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ -8ہر لکھی چیز کودرست تسلیم کرلیتے ہیں:انٹرنیٹ استعمال کرنے والے اکثر لوگوں کو یہ اندازہ ہے کہ بہت سے لوگ بہت سی چیزوں کو اپنے نام سے پوسٹ کرلیتے ہیں۔ بڑے بڑے شعراء کے تخلص کی جگہ اپنا نام لکھ کر اپنا شعر لکھ دینا عام مشق ہے۔ اس کے علاوہ بزرگوں کے اقوال کو بھی ادل بدل کرکے لکھتے ہیں ایسے احمق لوگ ایسی باتوں کو بغیر کسی تحقیق کے من و عن سچ تسلیم کرلیتے ہیں بلک اکثر ان کے صحیح ہونے پر بحث بھی کرتے ہیں۔ اب کوئی شخص غالب کے کسی شعر کو اپنے نام سے پوسٹ کردیگا تو کیا یہ شعرا اس جعلساز کا ہو جائے گا؟ہرگز نہیںلیکن احمق شخص بضد ہوگا کہ یہ شعر غالب کا نہیںہے۔ یہی اس کی بڑی ’’بونگی‘‘ ہوگی۔ آپ خود کو ان بونگیوں سے بچائے رکھیں۔ ٭…٭…٭ 
ایک دن ایک سفید بوسکی والے اہلکار نے جیل میں آکر دریافت کیا:
"آپ میں سے ابوالحسنات کون ہیں ؟؟"
"جی میں ہوں ... فرمائیے ؟؟" سیّد احمد قادری مصحف سمیٹتے اُٹھ بیٹھے-
"خلیل احمد آپ کا بیٹا ہے ؟؟ " اس نے پوچھا-
"جی میرا بیٹا ہے ..... خیریت ؟"
" حیرت ہے ؟؟ .... آپ کا بیٹا موت کے دھانے پر کھڑا ہے ... اور آپ کو خبر تک نہیں؟؟"
" یا اللہ خیر !!! .... کیا ہوا خلیل کو ؟؟" ابوالحسنات پریشان ہو گئے-
" وہ ڈائریکٹ ایکشن کی قیادت کر رہا ہے .... اور مسجد وزیرخان میں محصور ہو چکا ہے .... مارشل لاء سرکار اسے کسی بھی وقت گولی سے اڑا سکتی ہے ...."
ابوالحسنات واقعی بے خبر تھے- سیّد خلیل احمد ان کا اکلوتا بیٹھا تھا جسے والدہ کی محبّت بھری گود بھی بچپن میں داغِ مفارقت دے گئ تھی- انہوں نے ماں اور باپ دونوں کا پیار اپنے نور نظر پر نچھاور کیا تھا- خلیل بڑا ہوا تو مولانا نے اسے اچھی تعلیم کےلئے لاہور طیبہ کالج بھیج دیا تاکہ پڑھ لکھ کر طبیب بن سکے- بیٹے نے کراچی میں اکابرین کی گرفتاری کی خبر سنی تو دم توڑتی تحریک میں نئ روح پھونکنے کےلئے حالات کے سامنے سینہ سپر ہو گیا-
"خلیل تو ایک شرمیلا اور سیدھا سادھا بچّہ ہے .... اس نے سیاسی جلسہ تو کیا کبھی مسجد میں بھی تقریر نہیں کی .... واقعی وہ قیادت کر رہا ہے تحریک کی ؟؟ " ابوالحسنات سکتے میں آ گئے-
" جی ہاں ... اگر آپ واقعی اس بات سے لاعلم ہیں تو آپ جیسا لاپرواہ باپ کوئ نہیں ... اور اگر جانتے بوجھتے اسے موت کے مونہہ میں دھکیلا ہے تو آپ جیسا ظالم کوئ نہیں" اہلکار تلخی سے بولا-
" اگر یہ سچ ہے .... کہ میرا اکلوتا بیٹا تحریکِ ختمِ نبوّت کی قیادت کر رہا ہے ..... تو مجھ سے زیادہ خوش قسمت باپ کوئ نہیں !!! "
" اکلوتا بیٹا ؟؟ مولانا .... کچھ تو پرواہ کرو" اہلکار نے کہا-
" کس بات کی پرواہ کروں؟؟ ارے جس نبی ﷺ کے نام پر آج تک روٹیاں توڑتے رہے .... جس سے عشق کے بلندو بانگ دعوے کرتے رہے .... آج اس کی ناموس کا وقت آیا تو نمک حرامی کر جائیں ....؟؟ ختمِ نبوّت کےلئے ... ہزار خلیل ہوتے تو بھی قربان کر دیتا "
اہلکار کچھ دیر ہکا بکا ہو کر اس عاشقِ صادق کو دیکھا رہا پھر اپنا سا مونہہ لیکر واپس چلا گیا-
پیرانہ سالہ ابوالحسنات کے حوصلہ اور صبر کو دیکھ کر عطاءاللہ شاہ بخاری رح بھی عش عش کر اُٹھے اور کہا:
" آپ واقعی صبر کا پہاڑ ہیں مولانا .... یہ بارِ گراں تو ہم بھی نہ اٹھا سکتے تھے !!! "
ابوالحسنات نے کہا:
" یہ سچ ہے کہ مجھے خلیل سے بے پناہ محبت ہے .... میں ہی اس کا باپ ہوں اور میں نے ہی اسے ماں بن کر پالا ہے .... اولاد سے کسے محبت نہیں ہوتی .... لیکن اس مقام پر میں صبر کروں گا ... اس نیک کام میں اگر خلیل قربان بھی ہو گیا تو سعادت دارین ہے .... وہ بھی تو ماؤں کے بیٹے تھے جنہیں اس تحریک میں شہید کر دیا گیا .... ان میں ایک خلیل بھی سہی .... اللہ ہماری قربانی کو قبول و منظور فرمائے"
اس کے بعد مولانا ابولحسنات نے کبھی خلیل کا تذکرہ نہ کیا- وہ پوری دلجمعی کے ساتھ قران کی تفسیر لکھنے بیٹھ گئے- مجال ہے کبھی کسی ساتھی یا جیل اہلکار سے بیٹے کا حال بھی جاننے کی کوشش کی ہو-
اپریل کی تمازت نے بہاروں کو رخصت کیا تو اسیرانِ ختمِ نبوّت کو کراچی جیل سے کہیں اور شفٹ کرنے کی افواہیں گرم ہوئیں- لیکن کوئ نہ جانتا تھا کہ سرکار انہیں کون سے "کالے پانی" بھجوانا چاھتی ہے-
بالاخر ایک دن روانگی کا پروانہ آ ہی گیا-
ایک ویگن اور ایک سال خوردہ پولیس بس جیل پھاٹک کے سامنے آن کھڑی ہوئیں- جیل کے اندر سے مشقتیوں نے بستر وغیرہ لا کر بس کے اندر رکھنے شروع کر دیے- ہم ہوٹل پر بیٹھے یہ منظر دیکھ رہے تھے-
" لگتا ہے آج قیدیوں کی روانگی ہے " چاند پوری یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے-
ہم تیز تیز چلتے بس کے قریب آ گئے- یہاں کچھ اور صحافی بھی خبر کی ساندھ سونگھتے پھرتے تھے- بہت سے دیوانے بس کو گھیرے ہوئے تھے-
کچھ ہی دیر بعد جیل کے مرکزی گیٹ سےاسیرانِ ختمِ نبوّت نمودار ہوئے- ان کے چہروں پر پہلی بار دکھ اور کرب کے آثار تھے- لاہور کاقتل عام اور اب ایک دوسرے سے جدا ہونے کا غم انہیں کسی قدر پس مردہ کئے ہوئے تھا- سپریڈنٹ کے آنے میں کچھ تاخیر تھی-- اسیران بس میں سوار ہوئے تو پروانے اپنے محبوب رہنماؤں کی جھلک دیکھنے کےلئے بس کی آہنی کھڑکیوں سے ٹکرانے لگے-
ہم بھی دھکّے کھاتے بس کے قریب ہوئے- کافی شور شرابہ تھا- کان پڑی آواز سنائ نہ دیتی تھی- اسی اثناء میں جیل سپریڈنٹ بھی آ گیا- مجمع کسی حد تک شانت ہو گیا-
سپریڈنٹ بس میں سوار ہو کر بڑے احترام سے بولا:
"حضرات .... میں نے آپ کو جیل میں اپنے طور پر اے کلاس دے رکھّی تھی .... میں جانتا ہوں کہ آپ معزّز قیدی ہیں اور اے کلاس کے مستحق ہیں .... مگر آج سے میرے یہ اختیارات بھی ختم ہو رہے ہیں .... حکومت آپ کو بہت بری جگہ بھیج رہی ہے .... میں اب بھی درخواست کرتا ہوں کہ حکومت سے مصالحت کر لیجئے ... ہم آپ کو مزید تکلیفیں سہتے نہیں دیکھ سکتے !!! "
" ہم مصالحت کا لفظ بھی نہیں سننا چاھتے " امیرِ شریعت نے کہا- " اس حکومت سے مصالحت کر لیں جس کی آستینوں سے بے گناہوں کا خون ٹپک رہا ہے .... ؟؟"
"پھر اتنا ضرور کیجئے گا کہ نئ جیل میں جا کر اے کلاس کےلئے درخواست ڈال دیجئے گا .... شاید کام بن جائے !!!"
" ہمیں کوئ درخواست نہیں کرنی .... جب کفن سر سے باندھ لیا ... تو کلاسوں کا کیا سوال ؟ "
" حضرت .... یہ فرمائیے گا کہ .... لاہور اور دوسرے شہروں میں جو قتل عام ہوا ہے .... اس کا ذمّہ دار کون ہے ؟؟ " چاند پوری نے امیر محترم سے سوال کیا-
" بھائ ہم ہرگز نہیں چاھتے تھے کہ حکومت یا عوام کسی بھی طور تشدّد پر اتر آئیں ----- اور کوئ ناخوشگوار صورتِ حال نمودار ہو ------ میں نے لاہور اور دوسرے مقامات پر گولی چلنے کے واقعات سنے ہیں ------ اور مجھے دکھ ہے کہ کئ بوڑھے باپوں کی لاٹھیاں ٹوٹ گئ ہیں ----- ماؤں کے چراغ گل ہو گئے ہیں ------ اور کئ سہاگ اجڑ گئے ہیں ------ کاش کوئ حکومت تک میرا یہ پیغام پہنچا دے کہ تحفظ ناموسِ رسول ﷺ کے سلسلے میں اگر کسی کو گولی مارنا ضروری ہو تو وہ گولی میرے سینے میں مار کر ٹھنڈی کر لو ------ کیونکہ میں ہی اس جرم کا سب سے بڑا مجرم ہوں ------ کاش اس سلسلے میں اب تک جتنی بھی گولیاں چلائ گئیں وہ مجھے ٹکٹکی پر باندھ کر چلائ جاتیں ------ "
"میں آپ کی سوانح حیات لکھنا چاھتا ہوں .... اب کہاں ملاقات ہوگی؟ " میں نے بھی ڈرتے ڈرتے سوال کیا-
" کون لکھّے گا ہماری سوانح حیات ---- ایک طوفان تھا جو گزر گیا ---- میں نے بنجر زمینوں میں ہل جوتے ---- تاریک صحراؤں میں سفر کیا ---- قبرستانوں میں اذانیں دیں ---- میں وہاں پہنچا ہوں جہاں دھرتی پانی نہیں دیتی تھی ---- میں نے ھندوستان کے کروڑوں انسانوں کے دل سے انگریز کا خوف نکال کر آزادی کا صور پھونکا ---- یہ کہانی اتنی تلخ اور ہمہ گیر ہے کہ سوائے میرے اسے کوئ نہیں لکھ سکتا ---- مگر ہم جس مقصدِ عالی کے حصول کےلئے جدوجہد کر رہے ہیں ---- وہاں کہانیاں لکھنے کی گنجائش کہاں ----- ایک سفر تھی زندگی ---- کچھ ریل میں کٹ گئ ---- کچھ جیل میں ----- "
گاڑیاں اسٹارٹ ہو گئیں- کراچی سینٹر جیل کی رونقیں ویران کرکے عشق کے یہ قیدی کسی نئ منزل کو روانہ ہو گئے- ان کا اگلا پڑاؤ کہاں تھا ، کسی کو معلوم نہ تھا-
ہم بالکل فارغ ہو کر رہ گئے- سارا دن کراچی کی سڑکوں پر جوتیاں چٹخانا ، جاگیردار ہوٹل سے کھانا کھانا اور لوٹیا بلڈنگ میں جا کر مسودات میں گم ہو جانا ہمارا معمول بن گیا- رات دیر گئے ہم ڈائریوں پر اپنی یاداشتیں لکھتے رہتے-
8 اپریل کی شام چاند پوری ریل کے دو ٹکٹ لیکر آئے-
" کیا لاہور کی تیاری ہے ؟؟"
" نہیں .... حیدرآباد !!!"
" حیدر آباد ؟؟ .... کیوں ؟؟
" عشق کے قیدیوں کا پتا معلوم ہو گیا !! " انہوں نے چہکتے ہوئے کہا-
سکھ مذہب کے سب سے زیادہ مقدس مقامات میں سے ایک گردوارہ دربار صاحب کرتار پور
کا سکھوں اور مسلمانوں میں یکساں احترام کیا جاتا ہے۔
ہر سال ستمبر میں اور پھر نومبر میں دوبارہ، دنیا بھر سے سینکڑوں سکھ یاتری اپنی عقیدت کا اظہار کرنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔
یہ گرودوارہ شکرگڑھ کو جانے والی سڑک پر نارووال کے قصبے کے باہر واقع ہے۔ ہندوستان کی سرحد یہاں سے محض چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
تقریباً سہہ پہر چار بجے کا وقت ہوگا۔ سورج ڈھل رہا ہے اور کرتارپور کے میدانی علاقوں ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں۔
سرسبز میدانوں اور ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ ساتھ ہم بابا گرونانک کے آخری مسکن کی جانب آگے بڑھ رہے ہیں۔ بابا گرونانک سکھ مذہب کے بانی تھے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ایک بم 1965ء کی جنگ کے دوران اس گردوارے پر گرا تھا، لیکن وہ پھٹ نہیں سکا۔ مرکزی داخلی راستے کے باہر جس جگہ یہ بم گرا تھا، اس سے کچھ فاصلے پر ایک چوکی نصب ہے۔
اس جگہ ایک تختی نصب ہے جس پر تحریر ہے کہ ’واہے گروجی کا معجزہ‘۔ واہے کا لفظ سکھوں میں اعلٰی ترین ہستی کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔
جیسے ہی ہم مرکزی صحن میں داخل ہوتے ہیں، تو ایک شخص ہمیں پلاسٹک کی ایک ٹوپی پیش کرتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ننگے سر داخل ہونا بے ادبی ہے۔
پانی کے حوض پر ہم نے اپنے پیر دھوئے اور پھر اس مقدس زمین پر قدم رکھا۔
یہاں سیر و تفریح کی غرض سے آیا ہوا ایک مختصر سا گروپ، قریبی قصبے سے خواتین اور بچے، پاس کے گاؤں سے مزدور اور ملحقہ علاقوں سے آئے ہوئے چند کسان موجود تھے۔
اندر ہمیں ایک بڑے گروپ کی صورت میں مردبیٹھے ہوئے دکھائی دیے، جن میں سے کچھ نے پگڑی پہنی ہوئی تھی اور کھیلوں کے سامان کا بیگ لیے ہوئے تھے۔
یہ گلزار سنگھ ہیں، جو برسبن، آسٹریلیا سے آئے ہیں۔ انہوں نے مقامی لوگوں کے ساتھ انگریزی سے گھلی ملی پنجابی زبان میں بات چیت کی اور بچوں کو مٹھائیاں دیں۔
گلزار ان سینکڑوں سکھ یاتریوں میں سے ایک ہیں جو پاکستان جوڑ میلے میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ اس میلے کا حال ہی میں اختتام ہوا ہے۔ یہ سکھوں کے پانچویں گرو اَرجن دیو جی کی عقیدت میں منایا جاتا ہے۔
زیادہ تر سکھ یاتری لاہور میں سکھوں کے مقدس مقامات، ننکانہ صاحب یا حسن ابدال ہی جاسکے۔ کرتارپور کا مقام اس سال ان کی یاتر ا میں شامل نہیں تھا۔لیکن گلزار نے کہا کہ انہیں بہت خوشی ہے کہ وہ یہاں آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’اس جگہ کا بہت اچھی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ اس میں عقیدت مندی کا عمل دخل ہوسکتا ہے۔ لیکن ان حالات کے تحت یہ بہت متاثر کن ہے۔‘‘
حالات سے ان کی مراد تقسیم کے وقت کا دور تھا۔ دراصل کرتارپور گرداسپور کا ایک حصہ تھا۔ یہ متنازعہ سرحد پر واقع قصبوں میں سے ایک تھا، جسے تین جون کے پلان کے تحت پاکستان کو دیا جانا تھا۔ لیکن ریڈکلف کے طے شدہ تقسیم کے نقشے کے ذریعے اسے چھین لیا گیا۔
جبراً کھینچی گئی اس لکیر نے ناصرف ہزاروں سکھوں کو بابا گرونانک سے دور کردیا، جو کئی دہائیوں سے یہاں آتے ہیں، اس کے علاوہ دربار صاحب کو ڈیرہ بابانانک سے بھی منقسم کردیا۔یہ سکھوں کے پہلے گروکا مزار ہے۔یہ دونوں بزرگ دریائے راوی کے الگ الگ کناروں پر آسودۂ خاک ہیں۔
لیکن خاردار تار باڑھ ان کی لگن کو روک نہیں سکے۔ عقیدت مندوں کی تسکین کے لیے ہندوستانی حکام نے سرحد کے دائیں طرف ایک درشن ستھائی یا دیکھنے کا مقام تعمیر کیا ہے۔
یہاں پر آکر عقیدت مند دوربین کے ذریعے بابا گرونانک کے مسکن کو دیکھ کر دعا کرسکتے ہیں۔
اس جیسے اہم مذہبی مقام کے لیے یہ بات نہایت غیرمعمولی ہے کہ یہاں اس مزار کی دیکھ بھال کے لیے مقرر چھ افراد مذہبی طور پر سکھ نہیں ہیں۔ ان میں سے ایک نوجوان انیل مسیحی ہیں، جن کا تعلق قریبی گاؤں سے ہے۔
انیل اور دیگر دو افراد اس مزار کی بے داغ صفائی ستھرائی کے لیے ذمہ دار ہیں۔ یہاں کا مالی ایک مسلمان ہے۔ یہ روزانہ لنگر کے لیے کھانا پکانے کا کام بھی کرتے ہیں۔ یہاں آنے والے عقیدت مندوں کے لیے چوبیس گھنٹے کھانا دستیاب ہوتا ہے۔ان سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ وہ کون ہیں۔
گردوارے کے داخلی راستے کے باہرایک دلکش باغ کے ساتھ ایک چھوٹی سی کٹیا ہے۔ یہ مزار کے نگہبان گوبند سنگھ کے کوارٹرز ہیں۔
گوبند سنگھ کے بھائی رمیش سنگھ اروڑا نے پہلی مرتبہ پنجاب اسمبلی کا رکن بن کر ایک تاریخ رقم کی ہے۔
ہمیں چائے اور بسکٹ پیش کرنے کے بعد گوبند سنگھ نے بتایا کہ وہ حکومت اور مزار کی دیکھ بھال کے لیے محکمہ اوقاف کی مددکی فراہمی سے بہت خوش ہیں۔
لیکن جب ہم نے ویزا فری کوریڈور کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بے پروائی کے ساتھ کہا ’’یہ حکومت کا معاملہ ہے اور اس کو ہی فیصلہ کرنا ہے۔‘‘
گلزار جنہوں نے اس سے پہلے ہندوستان میں سکھ بزرگوں کے مزارات پر حاضری دی تھی، انہیں یہاں بھائی چارہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی۔ انہوں نے کہا ’’یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔یہاں سب مل کر کھاتے ہیں۔ مل کر دعا مانگتے ہیں اور ساتھ بیٹھ کر ہنسی مذاق کرتے ہیں۔ ہندوستان میں ایسا کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
میں نے ان سے سوال کیا کہ کیا وہ ڈیرہ بابا نانک میں رہے ہیں۔ تو انہوں نے نہایت اشتیاق کے ساتھ جواب دیا ’’نہیں لیکن اب اگر میں گیا تو ضرور رہوں گا۔‘‘
سرحد کے دونوں اطراف کے سکھ دونوں مزارات کے درمیان ویزا فری کوریڈور کی تشکیل کے 1998ء سے زور دے رہے ہیں، جس کے ذریعے انہیں ہندوستان سے بابا گرونانک کے مزار پر پیدل آنے کی اجازت مل جائے گی۔
وزیراعظم نواز شریف کے نئی دہلی کے حالیہ دورے کے موقع پر سکھوں کی تنظیم دل خالصہ نے دونوں رہنماؤں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس مسئلے کے بارے میں بات کریں تاکہ کچھ نتیجہ حاصل ہو۔ لیکن اب تک ایسا لگتا ہے کہ یہ مسئلہ دونوں فریقین نے پس پشت ڈال رکھا ہے۔
گوبند سنگھ کہتے ہیں ’’ہم چاہتے ہیں کہ کرتارپور کو ایک بین الاقوامی مقام بنایا جائے۔ اس مقام پر سرحد کو کھول دیا جائے۔ یہ محض انڈیا یا پاکستان کے لیے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے تمام سکھوں کے لیے عظیم نعمت سے کم نہیں ہوگا۔‘‘
پردیس سے آئے ہوئے گلزار اتفاق کرتے ہیں کہ ہندوستان و پاکستان دونوں ہی کو چاہیٔے کہ اجتماعی بھلائی پر کام کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ سیاحت، غیر ملکی سرمایہ کاری، یہ چیزیں دونوں ہی ملکوں کی اشد ضرورت ہیں۔ اگر معجزانہ طور پر دربار صاحب کھول دیا جاتا ہے تو دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان امن قائم ہوسکتا ہے۔
دنیا میں سب سے بڑا کاروبار تیل کا ھے اور جو لوگ تیل کو کنٹرول کرتے ہیں وہ دنیا کی معیشت کو کنٹرول کرتے ہیں۔
دنیا میں دوسرا سب سے بڑا کاروبار اسلحے کا ھے۔ اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ھے کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ کی کل آمدن کا پچاس فیصد اسلحے کی فروخت سے حاصل ھوتا ھے اس لیے یہ بات اس کے مفاد میں ھے کہ دنیا میں مسلسل جنگیں جاری رہیں-
لیکن بہت کم لوگ جانتے ہونگے کہ دنیا میں تیسرا سب سے بڑا کاروبار ڈرگز (Drugs) کا ھے۔ لوگ اسکے متعلق بہت زیادہ اسلئے نہیں جانتے کہ یہ غیر قانونی طور پر ھوتا ھے اور اسکی ڈاکومینٹیشن نہیں کی جاتی-
امریکن سی آئی اے (CIA) دنیا کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی ھے جسکے آپریشنز دنیا بھر میں جاری رھتے ہیں جن پر بے پناہ اخراجات آتے ہیں۔ یہ اخرجات اس بجٹ سے کئی گنا زیادہ ھوتے ہیں جو اس کے لیئے منظور کیا جاتا ھے۔
"یاد رکھئے کہ امریکی سی آئی اے (CIA) اپنے ٪90 اخراجات ڈرگز کے کاروبار سے پوری کرتی ھے ۔"
دنیا میں دو خطے ایسے ہیں جہاں سب سے زیادہ ڈرگز پیدا ھوتی ہیں۔ ایک چین کے قریب میانمار اور تھائی لینڈ وغیرہ کا علاقہ ھے جس کو گولڈن ٹرائی اینگل کہا جاتا ھے اور کسی دور میں دنیا میں سب سے زیادہ افیون پیدا کرنے والا خطہ تھا۔
دوسرا خطہ جس کو آجکل گولڈن کریسنٹ کہا جاتا ھے وہ افغانستان کا علاقہ ھے جہاں دنیا کی تقریباً ٪90 سے زیادہ افیون اور ھیروئین پیدا کی جاتی ھے۔ ان میں سے اکثر ان علاقوں میں پیدا کی جاتی ھے جہاں امریکنز کا کنٹرول ھے اور امریکن آرمی کے لوگ کھلے عام یہ کہتے ھوئے پائے جاتے ھیں کہ ہم افیون کی کاشت کو محفوظ بنانے آئے ہیں ۔
مجاہدین نے جب افغانستان پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تو ملا عمر نے جولائی سنہ 2000ء میں افیون کی کاشت کو غیر اسلامی قرار دیتے ھوئے مکمل پابندی لگا دی تھی اور دنیا بھر میں پہلی بار افیون یا ہیروئن کی شدید قلت پیدا ھو گئی تھی ۔
امریکن حملے کے بعد افغانستان میں افیون کی کاشت میں ریکارڈ اضافہ ھوا اور کہا جاتا ھے کہ اس عرصے میں سی آئی اے (CIA) نے اتنے کمائے کہ جب امریکہ میں بینک دیوالیہ ھونے لگے تھے تو سی آئی اے نے ڈرگز کے ذریعے کمائے گئے پیسوں سے ان بینکوں کو سہارا دیا۔
بہت کم لوگوں کو پتہ ھوگا کہ نیٹو کے کنٹینرز میں ٹنوں کے حساب سے ایسیٹک این ھائڈرائیڈ نامی کیمیکل افغآنستان جاتا ھے اور آج تک کسی نے یہ سوال کرنے کی جراءت نہیں کی کہ آخر اس کیمیکل کو افغانستان میں کس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ھے۔ ایسیٹک این ھائیڈرائڈ وہ کیمیکل ھے جو افیوں کو ہیروئین بناتا ھے۔
کہا جاتا ھے کہ سی آئی اے (CIA) نے کچھ لوگوں کو اس کام کے لیے اپنا فرنٹ مین بنا رکھا ھے۔ حامد کرزئی کے بھائی ولی کرزئی ان میں سے ایک ہے جنکے بارے میں اندازہ ھے کہ اگر غیر قانونی دولت کی کوئی رینکنگ ھو تو شائد وہ دنیا کے امیر ترین شخص ہو۔
امریکہ کے افغانستان پر حملے کی بہت سی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ہیروئین کے اس کاروبار کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنا تھا جس پر سی آئی اے (CIA) چلتی ھے۔
حیران کن بات یہ ھے کہ اس ہیروئین کی سب سے زیادہ کھپت یورپ اور امریکہ میں ھی ھوتی ھے۔ چونکہ سی آئی اے (CIA) کو کنٹرول کرنے والے امریکن عیسائی نہیں بلکہ وہ یہودی ہیں جنہوں نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا رکھا ھے اسلئے انکو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ اس ہیروئین سے مرنے والے کون ہیں، عیسائی یا مسلمان۔
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
شرعی مسائل:
 *عید کی نماز* 
🌹 *ﺑِﺴْﻢِ ﺍﻟﻠﮧِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﯿۡﻢِ*🌹
🌷 *طریقہ (فقہ حنفی)* 🌷
پہلے اِس طرح نیّت کیجئے :
’’میں نیّت کرتا ہوں دو رَکْعَت نَماز عیدُالْاَضْحٰی( یاعیدُالْفِطر )کی ،ساتھ چھ زائد تکبیروں کے ،واسِطے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ، پیچھے اِس امام کے‘‘پھر کانوں تک ہاتھ اُٹھائیے اور اللہُ اَکْبَرکہہ کر حسبِ معمول ناف کےنیچے باندھ لیجئے اور ثَناءپڑھئے ۔ پھر کانوں تک ہاتھ اُٹھائیےاوراللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے لٹکا دیجئے ۔پھر ہاتھ کانوں تک اٹھائیے اوراللہُ اَکْبَر کہہ کرلٹکا دیجئے ۔ پھر کانوں تک ہاتھ اٹھائیے اوراللہُ اَکْبَر کہہ کر باندھ لیجئے یعنی پہلی تکبیر کے بعد ہاتھ باندھئے اس کے بعد دوسری اورتیسری تکبیر میں لٹکائیے اورچوتھی میں ہاتھ باندھ لیجئے.اس کو یوں یادرکھئے کہ جہاں قِیام میں تکبیر کے بعد کچھ پڑھنا ہے وہاں ہاتھ باندھنے ہیں اور جہاں نہیں پڑھنا وہاں ہاتھ لٹکانےہیں۔ پھر امام تَعَوُّذاور تَسْمِیَہ آہِستہ پڑھ کر اَلحَمدُ شریف اورسورۃ جہر( یعنی بُلند آواز ) کیساتھ پڑھے، پھر رُکوع کرے ۔ دوسری رَکْعَت میں پہلے اَلحَمدُ شریف اور سُورۃ جہر کے ساتھ پڑھے ، پھر تین بار کان تک ہاتھ اٹھا کراللہُ اَکْبَر کہئے اور ہاتھ نہ باندھئے اور چوتھی باربِغیر ہاتھ اُٹھائے اللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے رُکوع میں جائیے اور قاعِدے کے مطابِق نَمازمکمَّل کرلیجئے ۔ ہر دو تکبیروں کے درمیان تین بار ’’ سُبْحٰنَ اللہ‘‘کہنے کی مِقدار چُپ کھڑا رَہنا ہے۔
*(بہارِ شریعت ج۱ص۷۸۱ دُرِّمُختار ج۳ص۶۱ وغیرہ)*
🌷 *عید کی ادھوری جماعت ملی تو؟*🌷
پہلی رَکعَت میں امام کے تکبیریں کہنے کے بعد مقتدی شامِل ہوا تو اُسی وَقت(تکبیرِ تَحریمہ کے علاوہ مزید) تین تکبیریں کہہ لے اگر چِہ امام نے قرائَ ت شروع کر دی ہوا ور تین ہی کہے اگرچِہ امام نے تین سے زِیادہ کہی ہوں اور اگر اس نے تکبیریں نہ کہیں کہ امام رُکوع میں چلا گیا تو کھڑے کھڑے نہ کہے بلکہ امام کے ساتھ رُکوع میں جائے اور رُکوع میں تکبیر یں کہہ لے اور اگر امام کو رُکوع میں پایا اور غالِب گمان ہے کہ تکبیریں کہہ کر امام کو رُکوع میں پالیگا تو کھڑے کھڑے تکبیریں کہے پھر رُکوع میں جائے ورنہاللہُ اَکْبَر کہہ کر رُکوع میں جائے اور رُکوع میں تکبیریں کہے پھر اگر اس نے رُکوع میں تکبیریں پوری نہ کی تھیں کہ امام نے سر اُٹھالیا تو باقی ساقِط ہو گئیں ( یعنی بَقِیَّہ تکبیریں اب نہ کہے) اور اگر امام کے رُکوع سے اُٹھنے کے بعد شامِل ہوا تو اب تکبیریں نہ کہے بلکہ (امام کے سلام پھیرنے کے بعد) جب اپنی( بَقِیَّہ ) پڑھے اُس وَقت کہے۔ اور رُکوع میں جہاں تکبیرکہنا بتایا گیا اُس میں ہاتھ نہ اُٹھائے اور اگر دوسری رَکعَت میں شامِل ہوا تو پہلی رَکْعَت کی تکبیریں اب نہ کہے بلکہ جب اپنی فوت شدہ پڑھنے کھڑا ہو اُس وَقت کہے۔ دوسری رَکعَت کی تکبیریں اگر امام کے ساتھ پاجائے فَبِھا( یعنی تو بہتر)۔ ورنہ اس میں بھی وُہی تفصیل ہے جو پہلی رَکْعَت کے بارے میں مذکور ہوئی۔
*(بہارِ شریعت ج۱ص۷۸۲، دُرِّمُختار ج۳ص۶۴، عالمگیری ج۱ص۱۵۱)*
🌷 *عید کی جماعت نہ ملی تو؟*🌷
امام نے نَماز پڑھ لی اور کوئی شخص باقی رہ گیا خواہ وہ شامِل ہی نہ ہوا تھایا شامِل تو ہوا مگر اُس کی نَماز فاسد ہو گئی تو اگر دوسری جگہ مل جائے پڑھ لے ورنہ (بِغیر جماعت کے) نہیں پڑھ سکتا ۔ہاں بہتر یہ ہے کہ یہ شَخص چار رَکْعَت چاشت کی نَماز پڑھے۔
*(دُرِّمُختار ج۳ص۶۷)*
✨✨✨
🌷 *نَمازِعید جانے سے قَبل کی سنَّت*🌷
حضرتِ سیِّدُنا بُرَیدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حُضورِانور ،شافِعِ مَحشر، مدینے کے تاجور ،باِذنِ ربِّ اکبر غیبوں سےباخبر ،محبوبِ داوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عِیدُ الفِطْر کے دِن کچھ کھا کر نَمازکیلئے تشریف لے جاتے تھے اور عیدِ اَضحٰی کے روز نہیں کھاتے تھے جب تک نَماز سے فارِغ نہ ہو جاتے۔
*(سُنَنِ تِرمِذی ج۲ ص۷۰حدیث۵۴۲ دارالفکربیروت)*
اور
’’ بخاری‘‘ کی رِوایت حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے کہ عِیدُ الفِطْر کے دِن تشریف نہ لے جاتے جب تک چند کَھجوریں نہ تَناوُل فرما لیتے اور وہ طاق ہوتیں
*(بُخاری ج۱ص۳۲۸حدیث۹۵۳دارالکتب العلمیۃ بیروت)*
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
🌷 *نَمازِ عید آنےجانےکی سنَّت*🌷
حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے رِوایَت ہے: تاجدارِ مدینہ، سُرورِقَلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عِید کو( نَمازِ عید کیلئے) ایک راستہ سے تشریف لے جاتے اور دُوسرے راستے سے واپَس تشر یف لاتے
*(سُنَنِ تِرمِذی ج۲ص۶۹حدیث۵۴۱)*
┄─┅━━━━▣▣▣━

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers