غالب کی بیگم دیانت دار اور خوف خدا رکھنے والی ایک مال دار خاتون تھیں۔شادی کے بعد انہوں نے آبائی وطن کو چھوڑا اور دارلخلافہ دہلی میں اٹھ آئے۔اخراجات بڑھ گئے۔مقروض ہوگئے۔اور قرضہ بڑھتا گیا۔ کوئی ذریعہ روزگار نہ تھا اس دوران وہ مسلسل دربار مغلیہ تک رسائی کی کوشش کرتے رہے۔اور١٨٥٠ء میں حکیم احسن خان کی سفارش پر تاریخ تیموری لکھنے پر مامور ہوئے اور معقول مشاہرہ لیتے رہے۔
غالب شراب اوروہ بھی ولایتی،جوئے کے عادی اور محنت و مشقت کی خو سے عاری انسان تھے۔لکھتے ہیں
'' فی الحقیقت سچی بات کو چھپانا اچھے لوگوں کا طریقہ نہیں میں نیم مسلمان، مذہبی پابندیوں سے آزاد ہوں اور بدنامی ورسوائی کے رنج سے بے نیاز ہمیشہ سے رات میں صرف ولائتی شراب پینے کی عادت تھی ولائتی شراب نہیں ملتی تھی تو نیند نہیں آتی تھی۔ آج کل جب کہ انگریزی شراب شہر میں بہت مہنگی ہے اورمیں بہت مفلس ہوں۔اگر خدا دوست،خدا شناس،فیاض ،دریا دل مہیش داس دیسی شراب قند جو رنگ میں ولائتی شراب کے برابر اور بو میںاس سے بڑھ کر ہے بھیج کر آتش دل کو سردنہ کرے تو میں زندہ نہیں رہتا۔ اسی عالم جگر تشنگی میں مرجاتا۔''
ہمیشہ نوابین،بہادر شاہ ظفر اور انگریزوں کے وظیفے پر گزارہ کیا۔اپنی عادات کی وجہ سے اکثر تہی دوست رہے اگرچہ ان کے ہم عصروقتاًفوقتاً ان کی خطیر رقم سے اعانت بھی کرتے رہے۔ غالب نے تمام عمر کوئی کام نہ کیا۔خوشامد ان کی فطرت کا ایک اہم عنصر تھا ۔جس کی تعمیر میں ان کی عادات و اطوار کے علاوہ حوادث زمانہ بھی شامل تھے۔ان حوادث زمانہ سے نبردآزما ہونے کے لیے سہل پسند شاعر نے قصیدہ گوئی کو اپنا وطیرہ بنایا۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers