صرف اسلام سے واقفیت رکھنے والے بھائی اس پوسٹ کو پڑھیں . خلافت اسلامیہ داعیش کے مطابق جہاد میں غیر مسلموں کی لڑکیاں پکڑ پکڑ کر لنکو لونڈی (سیکس کے لیے) قرآن و حدیث اور رسول کریم و صحابہ کے عمل سے ثابت ہے اور ثواب کا باعث بھی ہے . اپنی حمایت میں انہوں نے پورا ایک رسالہ لکھا ہے جسکے مطابق :
اسلام میں کنیز باندی سے سیکس کر کے جب مالک کا دل بھر جاتا تھا، تو وہ کنیز باندی کو اپنے کسی بھائی کے حوالے کر دیتا تھا تاکہ وہ اپنی شہوت پوری کرے۔ اور جب ایک ایک کر کے ان بھائیوں کا بھی دل بھر جاتا تھا تو وہ پھر کنیز باندی کو آگے دوسرے آقا کو بیچ دیتے تھے جو پھر سیکس کرتا تھا۔ اور جب اسکا اور اسکے بھائیوں کا دل بھر جاتا تھا تو وہ آگے تیسرے آقا کو سیکس کے لیے اگے فروخت کر دیتا تھا اور یوں یہ سلسلہ جاری رہتا تھا۔
صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب حکم العزل ، اور صحیح بخاری، کتاب القدر اور صحیح بخاری، کتاب التوحید :-
صحابی ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ جنگ کے بعد چند خوبصورت عرب عورتیں انکے قبضے میں آئیں اور صحابہ کو انکی طلب ہوئی کیونکہ وہ اپنی بیویوں سے دور تھے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ میں صحابہ چاہتے تھے کہ وہ ان کنیز عورتوں کو بیچ کر انکی اچھی قیمت بھی حاصل کریں۔ چنانچہ صحابہ نے عزل سے کام لیا [یعنی سیکس کرتے وقت اپنے عضو تناسل باہر نکال کر منی گرائی تاکہ وہ عورتیں حاملہ نہ ہو سکتیں اور انکو اگلے مالک کو بیچنے پر اچھی قیمت مل سکے]۔ پھر انہوں نے اللہ کے رسول سے اسکے متعلق پوچھا تو رسول اللہ نے فرمایا (ہاں، عزل کی اجازت ہے، لیکن جہاں تک بچہ پیدا ہونے کا تعلق ہے تو) تم چاہو یا نہ چاہو مگر اگر کسی روح کو پیدا ہونا ہے تو وہ پیدا ہو کر رہے گی۔
صحابی عبداللہ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ جب لونڈی کو بیچ دیا جائے جبکہ اسکا خاوند بھی ہو تو اسکا نیا آقا اس کے بضعہ (وطی کا محل) کا زیادہ حقدار ہے (یعنی اسے حق ہے کہ خاوند کی بجائے وہ کنیز سے سیکس بالجبر کرے)۔ [تفسیر طبری، روایت 7139 ]
صحابی حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ لونڈی کی طلاق کی چھ صورتیں ہیں(مالک کا) اسکو بیچنا اسکی طلاق ہے، اسکو آزاد کرنا اسکی طلاق ہے، (مالک کا) اسکو ہبہ کرنا (یعنی تحفے میں دینا) اسکی طلاق ہے، اسکی برات اسکی طلاق ہے، اسکے خاوند کی طلاق اسکو طلاق ہے۔[تفسیر طبری روایت 7135 ]
امام ابن حزم اپنی کتاب المحلیٰ میں لکھتے ہیں :
مسألة : من أحل فرج أمته لغيره ؟
نا حمام نا ابن مفرج نا ابن الأعرابي نا الدبري نا عبد الرزاق عن ابن جريج قال : أخبرني عمرو بن دينار أنه سمع طاوسا يقول : قال ابن عباس : إذا أحلت امرأة الرجل , أو ابنته , أو أخته له جاريتها فليصبها وهي لها , فليجعل به بين وركيها
ترجمہ:
مسئلہ 2222: اس کے متعلق جس نے اپنی کنیز باندی کی شرمگاہ دوسرے شخص پر حلال کر دی ہو؟
۔۔۔ صحابی ابن عباس کہتے ہیں: اگر ایک عورت اپنی کنیز کو مرد یا بیٹی یا بہن کے لیے حلال کرتی ہے، تو پھر اس (مرد) کو اس کنیز سے جماع (سیکس)کرنے دو مگر وہ کنیز اس عورت کی ملکیت میں رہے گی، مگر مرد کو کنیز کی رانوں کے درمیان جلدی جلدی جماع کرنے دو۔
کنیز کا استبراء فقط ایک مرتبہ خون سے پاک ہونا ہے۔ یعنی اگر وہ 3 دن میں خون سے پاک ہو گئی ہے تو نیا آقا اس سے سیکس کر سکتا ہے۔
صحیح بخاری کی روایت دیکھئے کہ جنابِ صفیہ کے شوہر کو مسلمانوں نے قتل کیا، پھر انہیں پکڑ کر باندی بنا لیا، اور جب چند ہی دنوں کے بعد وہ حیض سے پاک ہوئیں، تو راستے میں ہی پیغمبر (ص) نے انکو اپنی زوجہ بنا لیا ۔
صحیح بخاری کتاب المغازی :
جب اللہ تعالیٰ نے آنحضور کو خیبر کی فتح عنایت فرمائی تو آپ کے سامنے صفیہ بنت حیی بن اخطب کی خوبصورتی کا کسی نے ذکر کیا ‘ ان کے شوہر قتل ہو گئے تھے اور ان کی شادی ابھی نئی ہوئی تھی ۔ اس لیے حضور نے انہیں اپنے لیے لے لیا اور انہیں ساتھ لے کر حضور روانہ ہوئے ۔ آخر جب ہم مقام سد الصہباء میں پہنچے تو صفیہ حیض سے پاک ہوئیں اور حضور نے ان کے ساتھ جماع کیا۔
امام عبداللہ ابن ابی زید (جنہیں امام مالک کہا جاتا ہے) اپنے فقہی رسالے میں لکھتے ہیں:
واستبراء الامة في انتقال الملك حيضة انتقل الملك ببيع أو هبة أو سبي أو غير ذلك. ومن هي في حيازته قدحاضت عنده ثم إنه اشتراها فلا استبراء عليها إن لم تكن تخرج.
ترجمہ:
اور ملکیت کی تبدیلی کی صورت میں کنیز باندی کا استبراء ایک حیض (ماہواری) ہے۔ ملکیت تبدیل ہونے کی صورتیں یہ ہیں کہ کنیز باندی کو بیچ دیا جائے، اسے ہبہ (تحفہ) کر دیا جائے، اسے (جنگ میں) پکڑ کر غلام بنایا جائے، یا کسی بھی ایسی اور وجہ سے۔ اگر وہ کنیز لڑکی (چھوٹی) ہے اور نئے مالک کے خریدنے کے بعد اسے ماہواری شروع ہوتی ہے، تو پھر نئے مالک کو (سیکس کے لیے) ایک حیض ختم ہونے کی انتظار کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔۔
اگر 2 یا اس سے زیادہ مردوں کی ایک مشترکہ کنیز ہے، تو وہ باری باری اس کنیز سے سیکس کر سکتے ہیں۔ واحد شرط کنیز کا استبرائے رحم (خون سے پاک ہونا) ہے، یعنی 3 دن میں اگر خون آنا ختم ہو جاتا ہے تو دوسرا مالک اس سے سیکس کر سکتا ہے۔
امام ابن قدامہ اپنی کتاب المغنی میں لکھتے ہیں :
وإذا كانت الأمة بين شريكين فوطئاها لزمها استبراءان
ترجمہ: اگر ایک کنیز 2 مردوں کی مشترکہ ملکیت میں ہے اور وہ دونوں اس سے جماع (سیکس) کرنا چاہیں تو کنیز کو 2 بار استبرائے رحم (یعنی خون سے پاک) کرنا پڑے گا۔
اور فتاویٰ عالمگیری (جلد 6، صفحہ 162) میں ہے:
ایک باندی دو شخصوں میں مشترک ہے اور اس میں بچہ ہوا اور دونوں نے دعویٰ کیا تو دونوں سے اس کا نسب ثابت ہو گا (یعنی اس بچے کے آفیشلی 2 باپ ہوں گے)۔
اسی فتاویٰ عالمگیری (صفحہ 173، ) میں ہے:
امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں: اگر باندی تین یا چار یا پانچ میں مشترک ہو اور سب نے ایک ساتھ اسکے بچے کا دعویٰ کیا تو وہ سب کا بیٹا قرار دیا جائے گا اور سب سے اسکا نسب ثابت ہو گا۔
مصنف عبدالرزاق میں شعبی سے روایت ہے :
13207 عبد الرزاق ، عن الثوري ، عن جابر ، عن الشعبي قال : " إذا كان الرجل يبتاع الأمة ، فإنه ينظر إلى كلها إلا الفرج " .
ترجمہ: ۔۔۔ شعبی کہتے ہیں: اگر کسی مرد کو کنیز خریدنی ہے، تو وہ اس کنیز کا پورا جسم دیکھ سکتا ہے سوائے شرمگاہ کےسوراخ کے۔
اور فتاویٰ عالمگیری (جو تمام دیوبندی و بریلوی حنفی مدارس میں پڑھائی جاتی ہے) میں درج ہے :
جامع صغیر میں مذکور ہے کہ اگر کسی شخص نے کوئی کنیز باندی خریدنے کا قصد کیا تو کوئی ڈر نہیں ہے کہ وہ اسکی پنڈلیاں و سینہ و دونوں ہاتھ چھوئے اور کھلے ہوئے اعضاء کی طرف دیکھے۔
امام بیہقی نے اپنی کتاب سنن الکبریٰ میں روایت نقل کی ہے :
عن نافع ، عن ابن عمر ” أنه كان إذا اشترى جارية كشف عن ساقها ووضع يده بين ثدييها و على عجزها
ترجمہ: نافع نے صحابی ابن عمر سے روایت کی ہے: جب بھی ابن عمر کو کنیز خریدنی ہوتی تھی، تو وہ پہلے اس کنیز کے معائینے کے لیے پہلے اسکی ٹانگیں دیکھتے تھے اور پھر ہاتھوں سے اسکی چھاتیوں اور کولہوں کے ابھاروں کو پرکھتے تھے۔
سعودی مفتی اعظم البانی نے اس روایت کو 'صحیح' قرار دیا ہے ۔
اور صحابہ ان سرِ بازار برہنہ بکتی ہوئی کنیز عورتوں کو کیسے خریدتے تھے، اسکے لیے یہ روایت پڑھئے:
امام ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب المصنف میں نقل کیا ہے :
حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد قال : كنت مع ابن عمر أمشي في السوق فإذا نحن بناس من النخاسين قد اجتمعوا على جارية يقلبونها ، فلما رأوا ابن عمر تنحوا وقالوا : ابن عمر قد جاء ، فدنا منها ابن عمر فلمس شيئا من جسدها وقال : أين أصحاب هذه الجارية ، إنما هي سلعة
ترجمہ: مجاہد کہتے ہیں: میں ابن عمر کے ساتھ غلاموں کے نیلامی والے بازار سے گذر رہا تھا۔ وہاں ہم نے غلاموں کے چند تاجروں کو دیکھا جو کہ ایک کنیز عورت کے گرد جمع تھے اور اسکو جانچنے کے لیے معائینہ کر رہے تھے۔ جب انہوں نے ابن عمر کو دیکھا تو انہوں نے ابن عمر کو روک لیا اور کہا کہ ابن عمر آئے ہیں۔ پھر ابن عمر اس کنیز عورت کے پاس آئے، انہوں نے اسکے جسم کے کچھ حصوں کو ٹٹولا اور پھر کہا: اس کنیز عورت کا مالک کون ہے؟ یہ (کنیز) ایک قیمتی تجارتی مال ہے۔
قرطبی اپنی مشہورِ زمانہ تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں سورۃ الاعراف کی آیت 26 کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
“وأما الأمة فالعورة منها ما تحت ثدييها ، ولها أن تبدي رأسها ومعصميها . وقيل : حكمها حكم الرجل”
“رہی کنیز تو اس کی شرمگاہ اس کے پستانوں کے نیچے سے ہے، اور وہ اپنا سر اور کلائیاں ظاہر کر سکتی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا حکم مرد کی طرح ہے”
فتاوی عالمگیری ، اردو جلد نہم، صفحہ 44 (کتاب الاکرہیتہ، باب ہشتم، دیکھنے و چھونے کے مسائل):
غیر کی باندی کے ناف کے نیچے سے گھٹنے تک دیکھنا حلال نہیں ہے اور اسکے سوا تمام بدن کی طرف نظر کرنے میں کچھ ڈر نہیں ہے۔
اور غیر کی باندی کا جسقدر دیکھنا حلال ہے، اُسکا چھونا بھی حلال ہے (بشرطیکہ اپنی ذات اور اُس کنیز کی ذات پر شہوت طاری ہونے کا ڈر نہ ہو)۔
شیخ امام شمس الائمہ سرخسی فتوی دیتے تھے کہ غیر کی باندی کے ساتھ سفر کرنا یا خلوت کرنا حلال ہے۔
اگر باندی کو خریدنے کا قصد رکھتا ہو تو سوائے اسکے پیٹ و یٹھ کے جہاں جہاں دیکھنا حلال ہے، وہاں وہاں اسکو چھو بھی سکتا ہے، چاہے اس میں شہوت ہی کیوں نہ آ جائے۔
اگر کسی شخص نے کوئی باندی خریدنے کا قصد کیا تو کچھ ڈر نہیں ہے کہ اسکی پنڈلیاں و سینہ اور دونوں ہاتھ پورے چھوئے اور کھلے ہوئے اعضاء کی طرف دیکھے۔
تحفۃ الاحوذی فی شرح جامع الترمذی میں فرمایا گیا ہے کہ:
شافعی، ابی حنیفہ اور جمہور علماء نے آزاد اور غلام عورت کے ستر (شرمگاہ) میں تفریق کی ہے اور غلام عورت کی شرمگاہ ناف سے گھٹنے تک قرار دی ہے؟!
امام ابن تیمیہ کی کتاب الفتاوی میں امام صاحب نے فرمایا ہے کہ:
جمہور شافعیوں اور مالکیوں اور بیشتر حنابلہ کے نزدیک کنیز کی شرمگاہ ناف سے گھٹنے تک ہے، اس میں احناف نے صرف اتنا اضافہ کیا ہے کہ اس میں پیٹ اور کمر بھی شامل کردی ہے یعنی سینہ بھلے نظر آتا رہے تاہم جمہور علماء اور ائمہ اسلام کے نزدیک کنیز یا باندی کی شرمگاہ ناف سے گھٹنے

کنیز باندی کے عدت سے پاک ہوئے بغیر اس سے جسمانی مزے لینا

امام احمد بن حنبل کے بیٹے عبداللہ اپنی کتاب مسائل الإمام أحمد میں لکھتے ہیں :
حدثنا علي بن عثمان قال حدثنا حماد عن علي بن زيد عن أيوب بن عبدالله اللخمي أن ابن عمر قال وقع في سهمي يوم جلولا جارية كأن عنقها إبريق فضة ، فقال ابن عمر : فما ملكت نفسي حتى وثبت إليها فجعلت أقبلها والناس ينظرون
ترجمہ: عبداللہ ابن عمر (خلیفہ دوم کے بیٹے اور کبیر صحابی) کہتے ہیں کہ جلولا کی جنگ کے دن میرے حصے میں ایک کنیز باندی آئی۔ اُسکی گردن صراحی کی طرح لمبی گداز تھی۔ ابن عمر کہتے ہیں کہ مجھے اپنے پر قابو نہ ہوا اور میں اُسی وقت اس پر چڑھ دوڑا اور اسکے بوسے لینا شروع کر دیے جبکہ لوگ میری طرف دیکھ رہے تھے۔
امام الکحلانی اپنی کتاب سبل السلام میں اس پر فرماتے ہیں:
وأعلم أن الحديث دل بمفهومه على جواز الاستمتاع قبل الاستبراء
ترجمہ: اور جاننا چاہیے یہ حدیث اہم ہے اور کنیز کے استبراء کر کے پاک ہونے سے سے قبل اس سے استمتاع (لذت) اٹھانے کا جواز فراہم کر رہی ہے۔
امام ابو یوسف کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ بھی اسکے قائل ہو گئے تھے (کتاب المبسوط لنک):
وذكر أبويوسف في الأمالي أن أباحنيفة كان يقول بالقياس ثم رجع إلى الاستحسان فقال ليس عليه أن يستبرئها وهو قول أبي يوسف ومحمد رحمهما الله
ترجمہ: ۔۔۔ امام ابو حنیفہ کہتے ہیں: یہ اُن کے لیے فرض نہ تھا کہ وہ (لذت حاصل کرنے کے لیے) کنیز باندی کو استبراء سے پاک ہونے دیں۔ اور یہی قول امام ابو یوسف اور امام محمد کا ہے۔
اور تو اور، مسلمان تو حاملہ عورتوں کے جسموں سے بھی شہوتیں کرنے سے نہیں چوکتے تھے۔ وہ بے چاری حاملہ عورتوں اپنے مقتول شوہروں کو رونے بھی نہ پاتی تھیں کہ مسلمان ان سے ننگے جسمانی کھیل کھیلنے لگتے تھے۔
امام ابن حجر العسقلانی اپنی کتاب فتح الباری میں نقل کرتے ہیں :
وقال عطاء لا بأس أن يصيب من جاريته الحامل ما دون الفرج
ترجمہ: عطاء کہتے ہیں کہ حاملہ کنیز باندی سے لذت حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے سوائے اسکی شرمگاہ کے۔

صحیح روایات کے مطابق اگر کوئی کنیز باندی غلطی سے بھی سر پر حجاب لے لیتی تھی تو عمر ابن الخطاب سوٹی سے زبردستی اسکے سر سے حجاب گرا دیتے تھے۔
سعودی مفتی اعظم البانی نے اپنی کتاب الغلیل الارواء میں یہ 'صحیح' روایت نقل کی ہے:
أخرجه ابن أبي شيبة في " المصنف " ( 2 / 82 / 1 ) : حدثنا وكيع قال : حدثنا شعبة عن قتادة عن أنس قال : " رأى عمر أمة لنا مقنعة فضربها وقال : لا تشبهين بالحرائر " . قلت : وهذا إسناد صحيح
ترجمہ: امام ابن ابنی شیبہ نے اپنی کتاب المصنف میں نقل کیا ہے کہ عمر ابن الخطاب نے ایک کنیز باندی کو سر پر حجاب لیے دیکھا تو آپ نے اسکو ضرب لگائی اور سوٹی سے اسکے سر سے چادر ہٹاتے ہوئے اسے کہا کہ وہ آزاد مسلم عورتوں کی 'برابری' کی کوشش نہ کرے۔
یہی روایت ابن قلابہ سے بھی مروی ہے
اور تو اور کنیز باندیوں کے لیے نماز میں بھی حجاب نہ تھا۔ امام ابن حزم اپنی کتاب المحلیٰ میں نقل کرتے ہیں :
لا يستحي من أن يطلق أن للمملوكة أن تصلي عريانة يرى الناس ثدييها وخاصرتها
ترجمہ: امام ابو حنیفہ کو یہ کہنے میں کوئی تامل نہ تھا کہ کنیز باندی عریاں ہو کر نماز پڑھ سکتی ہے اور لوگ اسکی کھلی چھاتیوں اور پیٹھ کو دیکھ سکتے ہیں۔
امام البیہقی اپنی کتاب السنن الکبریٰ (لنک) میں یہ 'صحیح' روایت نقل کرتے ہیں:
عن جده أنس بن مالك قال كن إماء عمر رضي الله عنه يخدمننا كاشفات عن شعورهن تضطرب ثديهن
ترجمہ: صحابی انس ابن مالک کہتے ہیں: جناب عمر کی کنیزیں ہماری خدمت میں مصروف تھیں اور انکے بال کھلے ہوئے تھے اور انکی ننگی چھاتیاں (پستان) آپس میں ٹکرا رہے تھے۔
امام بیہقی نے اس روایت کو 'صحیح' کہا ہے۔ اور سعودی مفتی اعظم البانی نے بھی اپنی کتاب ارواء الغلیل میں اس کے تمام راویوں کو ثقہ کہا ہے ۔
امام عبداللہ ابن ابی زید اپنے مالکی فقہ کے رسالے میں لکھتے ہیں :
ولا يفرق بين الام وولدها في البيع حتى يثغر.
ترجمہ:
اور کنیز کا مالک اپنی اس کنیز عورت کو اپنے بچے سے علیحدہ اس وقت تک کسی اور کے پاس نہیں بیچ سکتا جبتک کہ اس چھوٹے بچے کے دو دانت نہ نکل آئیں۔
چاروں ائمہ متفق ہیں کہ مالک اپنے غلام کو قتل کر دے تو اس پر کوئی دیت ہے اور نہ ہی کوئی قصاص۔
تین امام کہتے ہیں کہ دوسرے کے غلام کو بھی کوئی آزاد مسلمان قتل کر دے تو اس پر قصاص میں وہ آزاد شخص قتل نہیں کیا جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ آزاد اور غلام کے رتبے میں فرق ہے۔
تینوں ائمہ کے نزدیک کسی دوسرے کے غلام کے قتل کی سزا یہ ہے کہ 'آدھی' دیت کی رقم بطور جرمانہ ادا کر دی جائے۔ اور یہ آدھی دیت اس مقتول غلام کے بیوی بچوں کو نہیں ملے گی بلکہ غلام کے مالک کو ملے گی۔
امام ابو حنیفہ کے مطابق اگر مالک اپنے غلام کو قتل کر دیتا ہے تو جواب میں مالک کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔
فقہ حنفی کی مشہور کتاب الہدایہ میں ہے :
ولا يقتل الرجل بعبده ولا مدبره ولا مكاتبه ولا بعبد ولده
ترجمہ: آزاد مرد کو اپنے غلام کو قتل کرنے کے جرم میں جواباً قتل نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی مدبر غلام کو قتل کرنے پر اور نہ ہی مکاتب غلام کے قتل کرنے پر۔
بقیہ تین آئمہ حنبلی، مالکی اور شافعی کے نزدیک اپنے غلام کے ساتھ ساتھ اگر آزاد مسلمان کسی دوسرے شخص کے غلام کو بھی قتل کر ڈالتا ہے تب بھی اسکو قصاص میں قتل نہیں کیا جا سکتا۔
امام القرطبی نے اپنی مشہور تفسیر (آیت 2:178) کے ذیل میں اس سلسلے میں فقہاء کی آراء کو جمع کر دیا ہے :
والجمهور من العلماء لا يقتلون الحر بالعبد ، للتنويع والتقسيم في الآية . وقال أبو ثور : لما اتفق جميعهم على أنه لا قصاص بين العبيد والأحرار فيما دون النفوس كانت النفوس أحرى بذلك …
ترجمہ: اور جمہور علماء کا مؤقف ہے کہ آزاد مسلمان کو کسی بھی غلام کے قتل کرنے کے جواب میں ہرگز قتل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اوپر موجود آیت میں ان آزاد اور غلام کی تقسیم یوں کر دی گئی ہے۔ جیسا کہ ابو ثور نے کہا: اور علماء کی اکثریت کا اس پر اتفاق ہے کہ غلاموں اور آزاد مردوں کے درمیان کوئی قصاص نہیں ہے کیونکہ غلام رتبے میں آزاد مردوں سے کم ہیں۔۔۔
اور امام عبداللہ ابن ابی زید (جنہیں چھوٹا امام مالک بھی کہا جاتا ہے)، وہ اپنے رسالے میں لکھتے ہیں :
ولا يقتل حر بعبد ويقتل به العبد ولا يقتل مسلم بكافر ويقتل به الكافر ولا قصاص بين حر وعبد في جرح ولا بين مسلم وكافر ۔۔۔ ومن قتل عبدا فعليه قيمته
ترجمہ: ایک آزا مرد کو ایک غلام کے قتل کرنے پر قتل نہیں کیا جائے گا، لیکن اگر کوئی غلام کسی آزاد شخص کو قتل کر دے تو غلام کو قتل کر دیا جائے گا۔ اور اگر آزاد شخص نے مار مار کر کسی غلام کو زخمی کر دیا ہے تو اس پر کوئی تلافی نہیں۔ اسی طرح آزاد شخص نے کسی کافر کو زخمی کر دیا ہے تو اس پر بھی کوئی تلافی نہیں۔۔۔ اگر کسی نے کسی دوسرے شخص کے غلام کو قتل کر دیا ہے تو صرف اس غلام کی قیمت ادا کی جائے گی۔
اور امام شافعی کتاب الام میں لکھتے ہیں :
وكذلك لا يقتل الرجل الحر بالعبد بحال ، ولو قتل حر ذمي عبدا مؤمنا لم يقتل به۔
ترجمہ: اور کوئی آزاد شخص ایک غلام کو قتل کرنے پر کسی بھی صورت قتل نہیں کیا جائے گا۔ حتیٰ کہ اگر ایک آزاد کافر ذمی بھی ایک مسلمان غلام کو قتل کر دے تو تب بھی اس ذمی کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔
اور فقہ کی کلاسیکل کتاب 'عمدة السالك وعدة الناسك' میں درج ہے :
ولا تجب الدية بقتل الحربي والمرتد ومن وجب رجمه بالبينة أو تحتم قتله في المحاربة ولا على السيد بقتل عبده.
ترجمہ: اگر کسی حربی شخص (ایسی قوم کا شخص جن کی مسلمانوں سے دشمنی ہے) کو قتل کر دیا ہے تو اس پر دیت کی رقم ادا کرنے کی بھی ضرورت نہیں، اور مرتد کے قتل پر بھی دیت نہیں، اور پتھروں سے رجم ہونے والے کی بھی دیت نہیں، اور اسکی بھی دیت نہیں جسے جنگ کے دوران قتل کرنا لازمی تھا، اور ایک مالک پر اپنے غلام کو قتل کر دینے پر بھی کوئی دیت نہیں۔
اور حنبلی فقہ کی مشہور کتاب الانصاف میں لکھا ہے :
وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ وَلَوْ ارْتَدَّ وَلَا حُرٌّ بِعَبْدٍ هذا الْمَذْهَبُ بِلَا رَيْبٍ وَعَلَيْهِ الْأصحاب
ترجمہ: ایک مسلمان کو کسی کافر کے قتل کرنے پر قتل نہیں کیا جائے گا، حتیٰ کہ وہ اسلام سے پھر کر مرتد ہی کیوں نہ ہو گیا ہو۔ اور اسی طرح آزاد شخص کو غلام کو قتل کرنے پر قتل نہیں کیا جائے گا۔ اور یہ ہی بلا شک و شبہ صحیح مذہب ہے جس پر صحابہ کا ایمان تھا۔
ابن تیمیہ، فتاویٰ، جلد 35، صفہ 409:
امام شافعی، مالک اور ابو حنیفہ جو کہ فقہائے اسلام ہیں، کہتے ہیں کہ غلام کی گواہی قابلِ قبول نہیں۔
امام شافعی، کتاب احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 142:
اور گواہی ہم آزاد مردوں کی طرف سے ہونی چاہیے، غلاموں کی طرف سے نہیں، اور آزاد مرد بھی وہ جن کا تعلق ہمارے دین سے ہو (یعنی غیر مسلم کی گواہی قابل قبول نہیں چاہے وہ آزاد ہی کیوں نہ ہو)۔
غلام اور کنیز اپنی مرضی سے شادی نہیں کر سکتے
امام عبداللہ ابن ابی زید اپنے مالکی فقہ کے رسالے میں لکھتے ہیں :
ولا تجوز شهادة المحدود ولا شهادة عبد ولا صبي ولا كافر
ترجمہ:
ایسے شخص کی گواہی قبول نہیں جس پر حد جاری ہوئی ہو، یا پھر غلامی کی گواہی، یا پھر کمسن بچے کی گواہی یا پھر کافر کی گواہی قابل قبول نہیں۔
صحیح مسلم، کتاب الایمان (لنک):
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ " أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ مِنْ مَوَالِيهِ فَقَدْ كَفَرَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ "
ترجمہ:
جریر کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: "جو غلام بھی اپنے مالک سے بھاگ جائے، تو اس نے کفر کا ارتکاب کیا، حتیٰ کہ وہ واپس اپنے مالک کے پاس نہ آ جائے۔
سنن نسائی، کتاب تحریم الدم میں ہے کہ صحابی جریر نے اپنے فرار ہو جانے والے غلام کی گردن ذبح کر کے اتار دی:
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ وَإِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا " . وَأَبَقَ غُلاَمٌ لِجَرِيرٍ فَأَخَذَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ .
ترجمہ:
رسول اللہ فرماتے ہیں: "اگر کوئی غلام فرار ہو جاتا ہے، تو اسکی نماز قبول نہ ہو گی، اور اگر وہ مر گیا تو وہ کفر کی موت مرے گا (چاہے وہ کلمہ شہادت پڑھتا رہے)۔ جریر کا ایک غلام بھاگ گیا۔ تو جب وہ پکڑا گیا تو جریر نے اسے ذبح کر کے اسکی گردن اتار دی۔
سنن نسائی کی اس روایت پر محدثین نے "صحیح" کا حکم لگایا ہے-

Labels:
Reactions: 
1 Response
  1. گمنام Says:

    What do you want to prove after publishing isis articles


Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers