یہاں پر ان چار عورتوں کی معلومات دوستوں سے شئیر کرتے ہیں جن کا تذکرہ اللہ تعالی نے قرآن پاک کی سورہ تحریم کی تین آیات 10 تا 12 میں کیا ہے۔
وَاہِلہ:۔
یہ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی تھی۔ اس کو ایک نبی برحق کی زوجیت کا شرف حاصل ہوا اور برسوں یہ اللہ تعالیٰ کے نبی علیہ السلام کی صحبت سے سرفراز رہی مگر اس کی بدنصیبی قابل عبرت ہے کہ اس کو ایمان نصیب نہیں ہوا بلکہ یہ حضرت نوح علیہ السلام کی دشمنی اور توہین و بے ادبی کے سبب سے بے ایمان ہو کر مرگئی اور جہنم میں داخل ہوئی۔
یہ ہمیشہ اپنی قوم میں جھوٹا پروپیگنڈہ کرتی رہتی تھی کہ حضرت نوح علیہ السلام مجنون اور پاگل ہیں، لہٰذا ان کی کوئی بات نہ مانو۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے جباروں کو ایمان لانے والوں کی خبریں پہنچایا کرتی تھی۔ جس سے اس کی قوم کے افراد ایمان لانے والوں پر ظلم کرتے تھے
وَاعِلہ:۔
یہ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی تھی۔ یہ بھی اللہ کے ایک جلیل القدر نبی علیہ السلام کی زوجیت و صحبت سے برسوں سرفراز رہی مگر اس کے سر پر بدنصیبی کا ایسا شیطان سوار تھا کہ سچے دل سے کبھی ایمان نہیں لائی بلکہ عمر بھر منافقہ رہی اور اپنے نفاق کو چھپاتی رہی۔ جب قوم ِ لوط پر عذاب آیا اور پتھروں کی بارش ہونے لگی، اُس وقت حضرت لوط علیہ السلام اپنے گھر والوں اور مومنین کو ساتھ لے کر بستی سے باہر چلے گئے تھے۔ ''واعلہ'' بھی آپ کے ساتھ تھی آپ نے فرما دیا تھا کہ کوئی شخص بستی کی طرف نہ دیکھے ورنہ وہ بھی عذاب میں مبتلا ہوجائے گا۔ چنانچہ آپ کے ساتھ والوں میں سے کسی نے بھی بستی کی طرف نہیں دیکھا اور سب عذاب سے محفوظ رہے لیکن واعلہ چونکہ منافق تھی اُس نے حضرت لوط علیہ السلام کے فرمان کو ٹھکرا کر بستی کی طرف دیکھ لیا اور شہر کو الٹ پلٹ ہوتے دیکھ کر چلانے لگی کہ''یَاقَوَمَاہ،''ہائے رے میری قوم، یہ زبان سے نکلتے ہی ناگہاں عذاب کا ایک پتھر اس کو بھی لگا اور یہ بھی ہلاک ہو کر جہنم رسید ہو گئی۔
حضرت آسیہ:۔
آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہا یہ فرعون کی بیوی تھیں۔ فرعون تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بدترین دشمن تھا لیکن حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا نے جب جادوگروں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں مغلوب ہوتے دیکھ لیا تو فوراً اُن کے دل میں ایمان کا نور چمک اُٹھا اور وہ ایمان لے آئیں۔ جب فرعون کو خبر ہوئی تو اس ظالم نے ان پر بڑے بڑے عذاب کئے، بہت زیادہ زدو کوب کے بعد چومیخا کردیا یعنی چار کھونٹیاں گاڑ کر حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا کے چاروں ہاتھوں پیروں میں لوہے کی میخیں ٹھونک کر چاروں کھونٹوں میں اس طرح جکڑ دیا کہ وہ ہل بھی نہیں سکتی تھیں اور بھاری پتھر سینہ پر رکھ کر دھوپ کی تپش میں ڈال دیا اور دانہ پانی بند کردیا لیکن ان مصائب و شدائد کے باوجود وہ اپنے ایمان پر قائم و دائم رہیں اور فرعون کے کفر سے خدا عزوجل کی پناہ اور جنت کی دعائیں مانگتی رہیں اور اسی حالت میں اُن کا خاتمہ بالخیر ہو گیا اور وہ جنت میں داخل ہو گئیں۔ ابن کیسان کا قول ہے کہ وہ زندہ ہی اُٹھا کر جنت میں پہنچا دی گئیں۔ واللہ اعلم
روایت میں ہے کہ آپ جنت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں شامل ہوں گی۔
حضرت مریم:۔
مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا، یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں۔ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے شکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے اس لئے ان کی قوم نے طعن اور بدگوئیوں سے ان کو بڑی بڑی ایذائیں پہنچائیں مگر یہ صابر رہ کر اتنے بڑے بڑے مراتب و درجات سے سرفراز ہوئیں کہ خداوند ِ قدوس نے قرآن مجید میں ان کی مدح و ثنا کا بار بار خطبہ ارشاد فرمایا ۔
حضرت مریم صلواۃ علیہا کا تفصیل سے تذکرہ ایک الگ پوسٹ "مریم بنت عمران" میں ہوچکا ہے۔
ان چاروں عورتوں کے بارے میں قرآن مجید نے سورہ ءتحریم میں فرمایا جس کا ترجمہ یہ ہے:۔
''اللہ تعالیٰ کافروں کی مثال دیتا ہے۔ جیسے حضرت نوح (علیہ السلام)کی عورت (واہلہ)اور حضرت لوط (علیہ السلام)کی عورت (واعلہ)یہ دونوں ہمارے دو مقرب بندوں کے نکاح میں تھیں۔ پھر ان دونوں نے ان دونوں سے دغا کیا تو وہ دونوں پیغمبران، ان دونوں عورتوں کے کچھ کام نہ آئے اور ان دونوں عورتوں کے بارے میں خدا کا یہ فرمان ہو گیا کہ تم دونوں جہنمی عورتوں کے ساتھ جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مثال بیان فرماتا ہے۔ فرعون کی بیوی (آسیہ)جب انہوں نے عرض کی اے میرے رب! میرے لئے اپنے پاس جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات بخش اور عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کی باتوں اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور فرمانبرداروں میں سے ہوئی۔
(پ۲۸، التحریم:۱۰ ۔ ۱۲)
درسِ ہدایت:۔
واہلہ اور واعلہ دونوں نبی کی بیویاں ہو کر کفر و نفاق میں گرفتار ہو کر جہنم رسید ہوئیں اور فرعون جیسے کافر کی بیوی حضرت ''آسیہ''ایمان کامل کی دولت پاکر جنت میں داخل ہوئیں اور حضرت آسیہ حق ظاہر ہوجانے کے بعد اس طرح ایمان لائیں کہ فرعون کے سب آرام و راحت کو ٹھکر ادیا اور بے پناہ تکلیفوں اور ایذاؤں کے باوجود اپنے ایمان پر قائم رہیں۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers