جناب خضر، جو روایتی مسلم فکر میں حضرت خضر علیہ السلام کی حیثیت سے معروف ہیں، ایک افسانوی شخصیت کا نام ہے۔ یہ نام نہ تو قرآن مجید میں بیان ہوا ہے اور نہ ہی غیر ثقہ تفسیری راویوں کے علاوہ کوئی اس نام سے واقف دکھائی دیتا ہے۔ خضر کا تمام ہیولہ (عبدا من عبادہ) کے گرد تعمیر کیا گیا۔ قرآنی paradigm میں رفیقِ موسیٰ کا تذکرہ ضمنی اہمیت کا حامل ہے البتہ متصوفین اور قصہ گو مفسرین نے اس حوالے سے ایک ایسی روحانی شخصیت کا ہیولیٰ تیار کیا ہے جس سے ہر زمانے میں متصوفین کی رہنمائی کا کام لیا جاتا رہا ہے۔ خضر کی خیالی شخصیت ایک زندہ کراماتی شیخ کی ہے جو اسرارِ الٰہی میں انبیاء پر بھی فائق ہے۔ شاہ ولی اللہ 'انفاس العارفین' میں خضر کی شخصیت اور گاہے بگاہے ان کے ظہور پر دلیل لاتے ہیں۔ ابن عربی نے فتوحاتِ مکیہ میں بڑی صراحت اور تفصیل کے ساتھ خضر سے اپنی ملاقات کا حال بیان کیا ہے۔۔۔ ابن عربی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کو خرقہء تصوف خود خضر علیہ السلام نے پہنایا اور چونکہ اہلِ تصوف کے یہاں خرقہ کا عطا کرنا گویا حالِ شیخ کا مرید کو منتقل کرنے سے عبارت ہے۔ اس لئے متصوفین اگر خود کو نبوی علوم سے کہیں زیادہ علمِ لدُنّی کا حامل سمجھتے ہوں، تو ایسا سمجھنا اس تصور کے عین مطابق ہے جس کے مطابق خضر کو موسیٰ پر یک گونہ سبقت حاصل ہے۔
ہمارے خیال میں خضر کا تصور یہودی، عیسائی مآخذ سے مستعار ہے۔ ابن تیمیہ نے یہودیوں کے ایک مشہور معبد کے کلیسہء خضر کے نام سے موسوم ہونے کا سراغ لگایا ہے۔ یہ خیال کہ خضر کا تصور یہودی عیسائی مآخذ سے مستعار ہے اس لئے بھی قرین قیاس ہے کہ مسلم فکر میں خضر کا تذکرہ پہلی مرتبہ وہب بن منبہ کے حوالے سے سننے میں آتا ہے۔ ابن حجر نے وہب بن منبہ کی کتاب المبتداء سے یہ نقل کیا ہے کہ ان کے زمانے میں بھی لوگ خضر کو دیکھنے کا دعویٰ کرتے تھے۔
قصہ گو مفسرین نے خضر کی اس مفروضہ ہستی کے گرد طرح طرح کے قیاسات قائم کئے ہیں، مقاتل نے انہیں پیغمبر باور کرانے کی کوشش کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں خضر اس لئے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ سے منسوب ایک روایت کے مطابق جب وہ ایک بار صحرا میں بیٹھے تھے تو ان کے نیچے کی زمین ہلنے لگی اور سبزہ اگ آیا۔ مجاہد کہتے ہیں کہ ان کو خضر کہنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ جہاں بھی نماز پڑھتے ارد گرد سبزہ اگ آتا۔ بعض لوگوں کا ذہن اس طرف گیا ہے کہ غالباً وہ سبز حُلّہ زیب تن کئے رہتے تھے جو تصوف میں ایک اہم علامت ہے اور شاید اسی لئے ان کا نام خضر پڑ گیا۔ بعض صوفیاء نے خضر کو ایک ایسے شخص کا بجا مرشد باور کرانے کی کوشش کی ہے جسے اعلیٰ روحانی منصب پر فائز ہونے کے باوجود فخر و مباحات میں گرفتار ہونے کا شبہ ہوتا ہے اور یہ کام موسیٰ کی شخصیت پر خضر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ البتہ ان تفسیری روایتوں سے بننے والی اجمالی تصویر خضر کی واقعی شخصیت کا تعین کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ لہٰذا خضر کے بارے میں عوامی قصے ان تفسیری معلومات کے مقابلے میں یکساں معتبر اور مقبول دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ خضر آدم کے صاحبزادے تھے، کوئی انہیں فرعون کا نواسہ بتات ہے۔ اس بارے میں بھی خاصا اختلاف ہے کہ قصہء موسیٰ میں جس مردِ صالح کا تذکرہ آیا ہے انہی کا نام خضر ہے یا خضر گزرے وقتوں میں کوئی نبی یا ولی تھے۔ علمائے ظاہر کے نزدیک خضر جو کچھ بھی ہوں وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ جیسا کہ امام بخاری کا خیال ہے۔ البتہ متصوفین کے یہاں خضر سے ملاقاتوں کا تذکرہ مختلف عہد کے ملفوظات میں پایا جاتا ہے۔ ابن تیمیہ انہیں جن بتاتے ہیں، اور ابن قیّم کے نزدیک وہ 'ملک من الملائکہ' ہیں جو انسانی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ خضر سے ملاقاتوں کی دھمک ہمارے عہد میں شاید کم پائی جاتی ہو البتہ امام نووی کے عہد میں بقول ان کے اس عہد کے بیشتر لوگ یہ سمجھتے تھے کہ خضر زندہ ہیں اور ہم ہی لوگوں میں موجود ہیں، خضر ایک تصوراتی شخصیت ہونے کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ آج روایتی مسلم فکر میں انہیں آسمانی رشد و ہدایت کی آخری اور ممکنہ کڑی کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔ خضر خواہ نبی ہوں یا ولی، سِرّ خدائی سے ان کی واقفیت اور حضرت موسیٰ پر ان کی یک گونہ فوقیت متصوفانہ ذہن کے لئے ختمِ نبوت کے عقیدے پر مسلسل ضرب لگاتی رہی ہے۔
''ادراک زوال امت، جلد اوّل، ص487''
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers