پختون جن کیلے بیشتر مورخین نے افغان کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔ زیادہ تر افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان کے صوبہ کے پی کے اور قبائلی علاقہ جات میں آباد ہیں۔ پاکستان و افغانستان میں پختونوں کی آبادی سرحد کے متوازی خطے میں آباد ہے۔ افغانستان کے وسط میں ہزارہ۔ جنوب و مغرب میں خراسانی سیستانی و ترکمانی قومیں جبکہ شمال میں تاجک ازبک بدخشانی اور دیگر ترقی النسل قومیں آباد ہیں۔ وہ سب افغان ضرور ہیں مگر پختون نہیں۔ کابل جو مرکز ہے ہمیشہ سے مختلف قوموں کا شہر رہا ہے۔ بابر کے دور میں کابل میں 17 زبانیں بولی جاتیں تھیں۔ جبکہ افغان سردار احمد شاہ ابدالی نے مختلف قوموں کو اکٹھا کرکے پہلی بار افغان ریاست کی بنیاد رکھی۔ انگریزوں نے پہلے کابل تک حکومت بنائی اور پھر ڈیورنڈ لائن تک اپنی سلطنت کو تحفظ دیا۔ افغان حکمران امیرعبدالرحمان کی خواہش پر نومبر 1893 میں انگریز سرکار نے معاہدہ ڈیورنڈ لائن کیا۔ امیر عبدالرحمان اپنی سوانح حیات میں لکھتا ہے کہ "جب میں تخت نشین ہوا ہر کوئی حکمران بننے کا دعوی دار تھا۔ جبکہ فسادات عام تھے۔ میری شدید خواہش تھی کہ افغانستان ایک قوم بن سکے اس کی سرحدیں طے ہوجائیں۔ اس لیے میں نے پہلے برطانیہ کی مدد سے روسی سرحد طے کی اور پھر میری درخواست پر وائسرائے نے مورٹیمر ڈیورنڈ کو بھیجا"۔ سر اولف کیرو نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "پٹھان" میں اس معاہدے پر تفصیلی نوٹ لکھے ہیں۔ جو امیر عبدالرحمان کی کتاب سے اقتباسات ہیں۔
امیرعبدالرحمان کے بقول "اس معاہدے سے واخان کافرستان مہمند آف لال پور وزیرستان برمل اور نورستان کا ایک حصہ افغانستان کو مل گیا اور اس کے بدلے میں چاغی بلند خیل باجوڑ سوات بونیر دیر اور چترال سے دستبردار ہوگیا۔ تاہم چند علاقوں چترال کی سرحد جہاں اونچی دشوار گزار پہاڑیاں ہیں اور کنڑ و باجوڑ کے درمیان نواں سر سکارم کا علاقہ اور دریائے کابل کے شمال میں مہمند کے علاقے میں کچھ مشکلات پیش آئیں اور کچھ علاقے چھوڑ دئیے گئے۔ اس معاہدے سے افغانستان میں امن قائم ہوگیا اور میری خواہش ہے یہ فضا ہمیشہ کیلے جاری و ساری رہے"۔ انگریز سرکار نے ڈیورنڈ لائن کے اس طرف والے علاقے کو پہلے پنجاب کا حصہ قرار دیا پھر نومبر 1901 میں علیحدہ شمال مغربی سرحدی صوبہ بنا دیا۔ امیر عبدالرحمان کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے نئے امیر حبیب الرحمان نے 1905 میں معاہدہ کی تجدید کی کہ میں اس معاہدے کا پابند رہوں گا۔ اور کوئی خلاف ورزی نا کروں گا۔ امیر حبیب الرحمان کے قتل کے بعد اس کا بیٹا امان اللہ امیر بنا۔ اس نے برطانیہ کے جنگ عظیم اوّل میں پھنسے ہونے اور برصغیر میں جاری تحریکوں سے فائدہ اٹھا کر مئی 1919 میں پشاور اور قبائلی علاقہ پر حملہ کردیا۔ مگر کچھ دیر جنگ کے بعد فریقین مزاکرات پر راضی ہوگئے اور اگست 1919 میں راولپنڈی میں صلح نامہ پر دستخط ہوئے جس میں امیر عبدالرحمن کے 1905 والے معاہدے پر دوبارہ توثیق کی گئی۔ اس معاہدے کے بعد امیر امان اللہ نے 1926 میں امیر کی بجائے بادشاہ کا لقب اختیار کیا جسے انگریز سرکار نے قبول کرلیا۔
دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد جب یہ بات واضح ہوگئی کہ انگریز برصغیر سے دستبردار ہونے والا ہے تو بادشاہ ظاہر شاہ نے حکومت برطانیہ کو ایک مراسلہ لکھا کہ آزادی کی صورت میں سرحدی علاقے واپس افغانستان کو دے دئیے جائیں۔ ( ظاہر شاہ نے دستبردار علاقوں پر اپنا حق تو جتایا لیکن جو علاقے افغانستان کو ملے تھے اس کا کوئی زکر نہیں کیا)۔ یہ مطالبہ معاہدہ 1893 کی یکسر خلاف ورزی تھی۔ اس لئے انگریز سرکار نے اسے مسترد کردیا۔ افغان حکومت نے 1946 میں برصغیر کی عبوری حکومت سے یہی مطالبہ پھر کیا۔ عبوری حکومت کے محکمہ خارجہ کا انچارج جواہر لال نہرو تھا اس نے یہ مطالبہ پھر مسترد کردیا۔ نہرو کے محکمہ خارجہ کا سرکاری موقف یہ تھا کہ اگر سرحد کا تعین ماضی کے معاہدہ پر ہی کرنا ہے تو پھر نئی سرحد دریائے سندھ نہیں مغرب میں بہت دور آمو کے قریب قائم کی جائے گی۔ نہرو کے بیان کی سیاسی بنیاد یہ تھا کہ اس وقت تک آزادی کا کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ اور کانگریس اپنے آپ کو پورے برصغیر کا جائز و قانونی وارث سمجھتی تھی۔ اور باامر مجبوری تقسیم کرنا بھی پڑی تو وہ عارضی ہوگی اور پاکستان جلد یا بدیر واپس بھارت سے ملنے پر مجبور ہوگا اور پورے برصغیر پر کانگریس کا تسلط قائم ہوجائے گا۔ اس لئے نہرو برصغیر کا ایک حصہ بھی افغانستان کو دینے سے انکاری تھا۔
کانگریس کو جب تک یہ امید رہی کہ وہ کانگریسی وزیراعلی ڈاکٹر خان صاحب اور اسکے بھائی عبدالغفار خان کیے زریعے سرحدی صوبے کو پاکستان میں شامل ہونے سے روک اور ہندستان میں شامل کروانے میں کامیاب ہوجائیں گے تب تک نہرو کی جانب سے سرکاری و کانگریس کی طرف سے سیاسی طور پر افغان مطالبے کی مخالفت جاری رکھی۔ نہرو کے دورہ سرحد پر پختون قوم نے کانگریس کے خلاف اور مسلم لیگ کے حق میں پرجوش مظاہرے کیے اور بعد میں ریفرنڈم میں پختونوں نے بھاری اکثریتی ووٹ کے زریعے پاکستان میں شمولیت کی حمائت کی تو نئے ہندستان کی کانگریسی حکومت نے کابل حکومت کے مزکورہ مطالبے کی حمائت شروع کردی۔ کابل کے حکمران اپنی توسیع پسندانہ خواہش کے تحت بھارتی حکمرانوں کے ہاتھوں میں استحکام ہوگئے۔ نئے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی بھارتی سکیم کا حصہ بن گئے۔ اور مسلسل بنتے جارہے ہیں۔ یوں پختونستان کا سٹنٹ کھڑا کیا گیا ہے۔ کانگریس نے ایسا ہی مطالبہ عبدالصمد خان اچکزئی کے زریعے بلوچستان میں چمن چاغی کے علاقوں پر کروایا گیا تھا۔
چانکیہ کے سیاسی اصولوں کے مطابق سیاست میں مردے کبھی دفن نہیں کیے جاتے تاکہ وقت آنے پر ان میں جان ڈالی جاسکے۔ ایک اور اصول کے مطابق دشمن کو جنگ کیے بغیر مسلسل نقصان پہنچانا ہوتو دشمن کے ہمسائے سے دوستی کرلیں۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers