جس وقت صحرائی بدؤوں نے ایران کی سرزمین کو تاخت و تاراج کیا، تہذیب و تمدن کے اعتبار سے ان صحرائی بدؤوں اور ایرانیوں میں کوئی مقابلہ و موازنہ ہی نہیں تھا۔ پارسی بہت تہذیب یافتہ، متمدّن، ترقی یافتہ، تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ فلسفہ و دیگر مروجہ علوم میں پارسی اپنے دور میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔ مدائن میں متعدد عظیم لائبریریاں موجود تھیں، پارسی علم دوست تھے، علم ان کے مذہب میں فرض کی حیثیت رکھتا تھا، پر پارسی پر علم حاصل کرنا اور علم کی ترویج کرنا مذہبی فریضہ تھا۔ جب عرب کی سرزمین پر ڈھونڈنے سے کوئی پختہ عمارت نہیں ملتی تھی، سلطنت فارس میں عظیم الشان اور پرشکوہ عمارتیں قائم و دائم تھیں۔
گردش دوران نے اس عظیم مہذب اور متمدن قوم کو عربوں کا غلام بننے پر مجبور کر دیا۔ سماجی مرتبے کے حصول کیلئے اسلام قبول کرنے کے سوا کوئی دوسرا باعزت راستہ موجود نہ تھا۔ ان نو مسلم پارسیوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اپنی علم دوست روش کو یکسر فراموش نہ کیا اور اسلام کو علمی طور پر ایسا اثاثہ فراہم کیا کہ یونانی فلسفے کی پھونک سے لرزتی اور تھرتھراتی اسلام کی عمارت کو مضبوط بیساکھیاں فراہم کر دیں۔ خلفاء بنو عباس سے منسوب اسلامی تہذہب در حقیقت سراسر ایرانی یا پارسی تہذیب کا چربہ محض تھی۔
آج بھی اسلام کے نامور علماء و محققین کی فہرست اٹھا کر دیکھ لیجئے، علم حدیث، علم تفسیر، عربی لغت، عربی صرف و نحو، فلسفہ و منطق، علم الکلام، سے لیکر عربی رسم الخط تک کے تمام بڑے نامور علماء، محققین اور ماہرین کے ناموں میں آپ کو فارسی النسل کے درخشندہ و روشن ستارے ہی نظر آئیں گے۔
بنو عباس کی خلافت کمزور پڑی تو ایران یکے بعد دیگرے مختلف خاندانوں کے زیر تسلط آیا تو فارس کی صورت حال بہت حد تک تبدیل ہو چکی تھی، یہ ایرانی اب ساسانی دور کے ایرانی نہ تھے، یہ ایرانی اب عربوں کی جسمانی غلامی سے تو آزادی حاصل کرچکے تھے لیکن اب یہ ایرانی مذہبی و ذہنی طور پر عربوں کے غلام، ایرانی تھے، اسلام نے ان کے اخلاق کو بہت حد تک تبدیل کر دیا تھا، کہاں وہ قومی یگانگت کے مظہر پارسی کہ جن کے ہاں غیر پارسی، زرتشت مذہب کا حصہ نہیں بن سکتا تھا، اب اسلام کے ودیعت کردہ اخلاق کی بدولت انہوں نے زرتشت مذہب کے بچے کچھے پیروکاروں پر جو کہ ان کا اپنا ہی خون تھا اس قدر عرصہ حیات تنگ کر دیا کہ پارسی مذہب کے پیروکار جلاوطنی پر مجبور ہوگئے، اور سرزمین ایران سے اس کے اپنے جگر گوشوں کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ اگر یہ پارسی ایران میں رہتے، اور باہمی میل جول کی بدولت مسلمان ایرانی، ان پارسیوں کے اخلاق و اطوار اور علم دوستی کا مشاہدہ کرتے تو انہیں اندازہ ہوتا کہ انہوں نے عربوں کی سامراجیت سے کیا کھویا اور کیا پایا ؟ اور کسی حد تک ایرانی یہ سمجھ پاتے کہ ان کا ماضی کس قدر پرشکوہ تھا۔ ان پارسیوں کے ساتھ رہن سہن کی بدولت شائد کبھی مسلم ایرانیوں میں جذبہ حمیت جوش مارتا، اور وہ عربوں کی مذہبی و ذہنی غلامی کا قلادہ اتار پھینکتے، اور بدؤوانہ اخلاق سے تائب ہو کر دوبارہ انسان دوستی اور علم دوستی کے سفر پر گامزن ہو جاتے۔
فردوسی بے بڑی حد تک کوشش کی کہ اپنی قوم کو آگاہ کر سکے کہ انہوں نے کس قدر عظیم تہذیبی و تمدنی وزثے کو کھو کر عربوں کی مذہبی و ذہنی غلامی حاصل کی، فردوسی نے مسلم ایران کو اپنے ماضی سے جوڑے رکھنے کی بڑی دل سوز کوشش و جستجو کی، لیکن وقت کی ظالم گردش نے فردوسی کے ولولوں پر بھی برف کی دبیز تہہ جما دی۔
آج کے ایران کی یہ بدبختی ہے کہ آج اس کے وجود کو سب سے عظیم تر خطرہ انہی عربوں سے ایک بار پھر لاحق ہے، جن عربوں نے آج سے چودہ سو سال قبل اس عظیم تہذیب کو تاخت و تاراج کر دیا تھا، کہاں وہ عظیم ایران جو سلطنت روم کو مبارزت کیلئے للکارا کرتا تھا آج اس کا پالا پھر انہی صحراء نشین بدؤوں سے ہے، ایران کی اس بدبختی کی ممکن ہے دیگر بھی بہت سے وجوہات ہوں، لیکن میری نظر میں اس کی ایک بہت بڑی اور اہم وجہ اپنے ہم وطن علم دوست پارسیوں کو جلا وطن کرنا ہے۔ اگر مسلمان ایرانیوں نے اپنے پم وطن زرتشتیوں کو جلا وطنی پر مجبور نہ کرتے تو میری چشم بصیرت یہ نظارہ کر رہی ہے کہ ماضی کے یہ عظیم شاہسوار، صحراء بھیڑیوں کے بجائے یا تو سیاسی طور پر مغربی اقوام سے نبرد آزما ہوتے یا ان کے شانہ بشانہ ترقی کی منزلوں پر اپنی بھرپور توانائیوں، صلاحیتوں، اور ولولوں کے ساتھ گامزن ہوتے۔ حریف ہوتے یا حلیف ہوتے کم از کم اپنے ہمسروں کے ساتھ تو ہوتے۔
حافظ شیرازی نے کہا تھا ؏
مردمِ دیدہ تیمم کند از خاکِ درت
گرچہ در خانہ ٔخود آبِ روانے دارد
میں نے لوگوں کو تیرے در کی خاک سے تیمم کرتے دیکھا ہے جن کے اپنے گھروں میں تازہ پانی دستیاب ہے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers