گلگت بلتستان پاکستان کا شمالی علاقہ ہے۔ تاریخی طور پر یہ تین ریاستوں پر مشتمل تھا یعنی ہنزہ۔نگر ' گلگت اور بلتستان۔ 1839 میں مھاراجہ رنجیت سنگھ کے انتقال کے بعد پنجاب کی سکھ سلطنت کے لاھور دربار میں بحران کی وجہ سے 1848ء میں کشمیر کے ڈوگرہ سکھ راجہ نے ان علاقوں پر قبضہ کر لیا اور بعد میں برطانیہ کی حکومت سے ساز باز کرکے کشمیر کی ریاست کا حکمران بن گیا۔ جب پاکستان آزاد ہوا تو اس وقت یہ علاقہ کشمیر کے زیرِ نگیں تھا۔
چینی سیاح فاہیانگ جب اس علاقے میں داخل ہوا تو یہاں پلولا نامی ریاست قائم تھی۔ جو کہ پورے گلگت بلتستان پے پھیلی ہوئی تھی اور اسکا صدر مقام موجودہ خپلو کا علاقہ تھا۔ پھر ساتھویں صدی میں اسکے بعض حصے تبت کی شاہی حکومت میں چلے گئے پھر 9 صدی میں یہ مقامی ریاستوں میں بٹ گئی جن میں سکردو کے مقپون اور ہنزہ کے ترکھان خاندان مشہور ہیں۔ مقپون خاندان کے راجاؤں نے بلتستان سمیت لداخ ' گلگت اور چترال تک کے علاقوں پر حکومت کی۔ احمد شاہ مقپون اس خاندا کا آخری راجا تھا جسے ڈوگرہ افواج نے ایک ناکام بغاوت میں 1840ء میں قتل کر ڈالا۔ پھر 1947ء میں بر صغیر کے دوسرے مسلمانوں کی طرح یہاں بھی آزادی کی شمع جلنے لگی اور کرنل مرزا حسن خان نے اپنے ساتھیوں کے ہماراہ پورے علاقے کو ڈوگرہ استبداد سے آزاد کرا لیا۔
1947 میں پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد مسلمانوں کی اکثریت کی وجہ سے کشمیر کی ریاست نے پاکستان میں شامل ھونا تھا لیکن بھارت کے اکسانے پر کشمیر کے ڈوگرہ راجہ نے کشمیر کی آزاد حیثیت رکھ کر ماضی کی طرح کشمیر کا حکمراں رھنا چاھا۔ 1948ء میں گلگت بلتستان کے علاقے کے لوگوں نے آزاد کشمیر کے باشندوں کی طرح خود لڑ کر کشمیر کے ڈوگرہ راجہ سے آزادی حاصل کرلی اور اپنی مرضی سے پاکستان میں شمولیت اختیار کرلی۔ جسکی وجہ سے بقیہ کشمیر کو بھی پاکستان میں شامل ھونے سے روکنے کے لیے کشمیر کے راجہ اور بھارت نے سازباز کرکے کشمیر کے مسئلہ کو اقوامِ متحدہ تک پہنچادیا۔
1948 میں آزادی کے بعد سے گلگت بلتستان کے علاقہ کو شمالی علاقہ جات میں شمار کیا جاتا تھا۔ اگرچہ گلگت بلتستان کے لوگ مکمل صوبائی حیثیت چاہتے ہیں۔ لیکن 2009 میں پاکستان کی حکومت نے اس خطے کو نیم صوبائی اختیارات دیے اور پہلی دفعہ یہاں انتخابات کروائے گئے۔
گلگت بلتستان ' پاکستان کا واحد خطہ ہے جسکی سرحدیں تین ملکوں سے ملتی ہیں۔ نیز پاکستان نے پڑوسی ملک بھارت سے تین جنگیں ' 48 کی جنگ ' کارگل جنگ اور سیاچین جنگ اسی خطے میں لڑی ھیں۔ جبکہ سن 71 کی جنگ میں گلگت بلتستان کے کچھ سرحدی علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں۔ جس میں کئی پاکستانی دیہات بھارتی قبضے میں چلے گئے۔ اس وجہ سے یہ علاقہ دفاعی طور پر ایک اہم علاقہ ہے۔ نیز یہیں سے تاریخی شاہراہ ریشم گزرتی ہے۔
گلگت بلتستان کی آبادی 11 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ جبکہ اس کا کل رقبہ 72971 مربع کلومیٹر ہے۔بلتی اور شینا یہاں کی مشہور زبانیں ہیں۔ گلگت و بلتستان کا نیا مجوزہ صوبہ دو ڈویژنز بلتستان اور گلگت پر مشتمل ہے۔ اول الذکر ڈویژن سکردو اور گانچے کے اضلاع پر مشتمل ہے۔ جب کہ گلگت ڈویژن گلگت ' غذر ' دیا میر ' استور اورہنزہ نگر کے اضلاع پر مشتمل ہے۔
گلگت بلتستان کے شمال مغرب میں افغانستان کی واخان کی پٹی ہے۔ جو پاکستان کو تاجکستان سے الگ کرتی ہے۔ جب کہ شمال مشرق میں چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کا ایغورکا علاقہ ہے۔ جنوب مشرق میں مقبوضہ کشمیر' جنوب میں آزاد کشمیر جبکہ مغرب میں صوبہ خیبر پختونخوا واقع ہیں۔ اس خطے میں سات ہزار میٹر سے بلند 50 چوٹیاں واقع ہیں۔ دنیا کے تین بلند ترین اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے قراقرم ' ہمالیہ اور ہندوکش یہاں آکر ملتے ہیں۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی اسی خطے میں واقع ہے۔ جب کہ دنیا کے تین سب سے بڑے گلیشئیر بھی اسی خطے میں واقع ہیں۔
گلگت و بلتستان اب نو اضلاع پر مشتمل ہے۔ جن میں سے چار بلتستان میں ' تین گلگت اور دو ہنزہ۔نگر کے اضلاع ہیں۔ اس سے پہلے ہنزہ۔نگر کو بھی گلگت ڈویژن میں شمار کیا جاتا تھا ' جسے اب علیحدہ کر دیا گیا ہے۔
1۔ ضلع گانچھے کا رقبہ 9,400 مربع کلومیٹر اور آبادی 165,366 ھے جبکہ مرکز خپلو ھے۔
2۔ ضلع سکردو کا رقبہ 8,000 مربع کلومیٹر اور آبادی 214,848 ھے جبکہ مرکز سکردو ھے۔
3۔ ضلع شگر کا رقبہ 8,500 مربع کلومیٹر اور آبادی 109,000 ھے جبکہ مرکز شگر ھے۔
4۔ ضلع کھرمنگ کا رقبہ 5,500 مربع کلومیٹر اور آبادی 188,000 ھے جبکہ مرکز طولطی ھے۔
5۔ ضلع استور کا رقبہ 8,657 مربع کلومیٹر اور آبادی 71,666 ھے جبکہ مرکز گوری کوٹ/عید گاہ ھے۔
6۔ ضلع دیامر کا رقبہ 10,936 مربع کلومیٹر اور آبادی 131,925 ھے جبکہ مرکز چلاس ھے۔
7۔ ضلع غذر کا رقبہ 9,635 مربع کلومیٹر اور آبادی 120,218 ھے جبکہ مرکز گاہکوچ ھے۔
8۔ گلگت کا رقبہ 39,300 مربع کلومیٹر اور آبادی 383,324 ھے جبکہ مرکز گلگت ھے۔
9۔ ہنزہ۔نگر کا رقبہ 20,057 مربع کلومیٹر اور آبادی 112,450 ھے جبکہ مرکز علی آباد ھے۔
نگر جو کبھی ماضی میں ایک خود مختار ریاست تھی پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان کا ایک ضلع ہے۔ یہاں کے باشندوں کو بروشو اور ان کی بولی کو بروشسکی کہا جاتا ہے۔ بروشو لوگوں کو شمال کے قدیم ترین باشند ےاور اولین آبادکار ہونے کا شرف حاصل ہے۔
آج کل نگر 3 سب ڈویژنوں پر مشتمل ہے.اس کی کل آبادی تقریباً 112,450 ہزار لوگوں پر مشتمل ہے۔ نگر کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔یہ پہلے بروشال کے نام سے مشہور تھا جس کا دارالحکومت کیپل ڈونگس تھا۔ جہاں کا بادشاہ تھم کہلاتا تھا۔اور یہ آج کے نگر اور ھنزہ پر مشتمل تھا۔
چونکہ کیپل ڈونگس کے چاروں اطراف برفانی گلیشرتھے جن کے بڑھنے سے وہاں کی نظام آبپاشی سخت متاثر ہوا۔وہاں سے لوگ ہوپر میں آکر آبار ہوئے۔اس کے بعد راجہ میور خان کے بیٹوں مغلوٹ اور گرکس نے بروشال کو نگر اور ھنزہ میں تقسیم کیا۔
نگر اور ھنزہ چھو ٹی ریاستں تھیں اور یہ اپنی آمدنی کا زیادہ حصہ چین سے آنے والی تجارتی قافلوں کو لوٹ کر حاصل کرتی تھیں۔چونکہ انگریز یہاں سے روس تک تجارت کرنا چاہتے تھے لیکن یہ ریاستیں ایسا کرنے سے روک رہی تھیں۔ اس لیے1891میں کرنل ڈیورنڈ کی سربراہی میں نگر پر حملے کا فیصلہ کیاگیا۔ اور نگر کی طرف چڑہائی شروع کی۔انگریزوں نے چھ مہینوں تک نلت قلعہ کا محاصرہ کیا۔آخر کار ایک غدار کی مدد سے انگریز فوج قلعے کی اوپر والی چوٹی پر پہچ گھی اور قلعے پر حملہ کیا اور یوں نگر کی ہزاروں سال پر مشتمل آزادی ختم ہوگئی۔اس جنگ میں انگریزفوج کو چار وکٹوریہ کراس ملے جو اصل نگر کی چھوٹی سی فو ج کی بہادری کا اعتراف ہے۔
گلگت پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ شاہراہ قراقرم کے قریب واقع ہے۔ دریائے گلگت اس کے پاس سے گزرتا ہے۔گلگت ایجنسی کے مشرق میں کارگل شمال میں چین شمال مغرب میں افغانستان مغرب میں چترال اور جنوب مشرق میں بلتستان کا علا قہ ہے۔ دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کا سنگم اس کے قریب ہی ہے۔ یہاں کی زبان شینا ہے۔ چین سے تجارت کا مرکز ہے۔ کے ٹو ' نانگا پربت ' راکاپوشی اور شمال کی دوسری بلند چوٹیاں سر کرنے والے یہاں آتے ہیں۔يهاں كى خاص چيز يهاں کا موسم هے جو سال كے باره مہينے ٹهندا هوتا هے۔ گلگت کی اکثریتی آبادی شیعۂ لوگوں پر مشتمل ہے۔ جس میں زیادہ تر اثناء عشری شیعہ ہیں تاہم اسماعیلی اور سنی کی ایک بڑی تعداد بھی اس علاقے میں آباد ہے۔ گلگت بلتستان میں ایک فرقہ نوربخشی جو کہ نور بخش نامی مذہبی پیشوا کے پیروکار بھی آباد ہیں۔ یکم نومبر ١٩٤٧ کو ڈوگر راج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد گلگت بلتستان ' پاکستان سے ملحق ہوا تاہم پاکستان کی انتظامی مشکلات کی وجہ سے تا دم تحریر پاکستان کی قومی اسمبلی میں نمائندگی موجود نہیں ھے۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers