ڈومز ڈے تھیوری کے مطابق دنیا21 دسمبر 2012 میں ختم ہوجانی تھی۔ اس تھیوری کے حقیقی ہونے سے متعلق کسی معروف اسکالر یا ماہر نے تائید بھی نہیں کی تھی۔ تاہم دنیا میں ایسے افراد اب بھی موجود ہیں جو اس تھیوری کو حقیقی جانتے ہیں۔کہ اس کی تاریخ کے تعین میں کچھ غلطی ہوئی ہے اور اب ایک نئی تاریخ یعنی 1 جنوری 2017ء دے دی گئی ہے کہ اس دن دنیا ختم ہوجائی گی ۔ان افراد کا کہنا ہے کہ 2017 میں مایان کیلنڈر کے مطابق دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔
اس افواہ کا ماخذ پانچ ہزار سالہ قدیم تہذیب مایائی تہذیب ہے ۔ مایائی تہذیب کو ترقی یافتہ دور و تہذیب کا درجہ دیا جاتا ہے۔یہ تہذیب پانچ ہزار سال پہلے جنوبی امریکہ وسطی امریکہ اور موجودہ میکسیکو میں پھلی پھولی۔مایائی تہذیب کا راج1300قبل از مسیح سے300 تک کے درمیانی عرصہ میں تھا۔مایائی لوگ و تہذیب پانچ لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے تھے۔یہ توہم پرست لوگ تھے کیونکہ وہ سورج ،زمین ،بارش ،آگ و پانی کو دیوتا کا درجہ دیتے تھے۔ یہ مایائی مفکرین تھے جنہوں نے سال کو کچھ دنوں کے فرق سے365 دنوں میں تقسیم کیا تھا۔یوں یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں کا فلکیاتی علم اور تخیل کافی وسیع الخیال تھا۔وہ سورج چاند کی گردش پر سیر حاصل معلومات رکھتے تھے۔مایائی تہذیب کے وارث آج بھی جزیرہ نمائے یوکاٹن پر موجود ہیں۔اسی دور سے منسلک ایک کیلنڈر سے تباہی و بربادی کے نتائج اخذ کئے گئے۔یاد رہے کہ مایان تہذیب کے کیلنڈر میں2012 کا آخری مہینہ دسمبر صرف اکیس دنوں پر مشتمل ہے یعنی کیلنڈر میں اکیس دسمبر کے بعد بقیہ دنوں کی کوئی تاریخ موجود نہیں۔ لیکن اب اس کے حوالے سے ایک نئی تاریخ دے دی گئی ہے۔ یعنی 1 جنوری 2017ء۔
اگر آپ میری رائے پوچھیں تو یہ بالکل بے بنیاد ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ ہمارے جان سے پیارے نبی علیہ السلام نے قیامت کی نشانیاں بیان کی ہیں۔جن میں سے بہت سی نشانیاں علامات صغری (یعنی چھوٹی نشانیاں ) ہیں اور کچھ علامات کبریٰ (بڑی نشانیاں ) ہیں۔
علامات صغری میں سے تو بہت ساری وقوع پذیر ہوچکی ہیں ۔ جبکہ علامات کبری کا ظہور ابھی باقی ہے۔
ان میں سے کچھ مختصراً یہ ہیں ۔
١. حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اس دارِ فانی سے پردہ فرمانا،
٢. بیت المقدس کا فتح ہونا،
٣. ایک عام وبا طاعون کا ہونا( یہ دو نشانیاں حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے زمانے میں پوری ہوئی)،
٤. مال کا زیادہ ہونا( یہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے زمانے میں ہوا)،
٥. ایک فتنہ جو عرب کے گھر گھر میں داخل ہو گا(یہ شہادتِ عثمان رضی اللّٰہ عنہ کا سبب تھا)،
٦. مسلمانوں اور نصاریٰ میں صلح ہو گی، پھر نصاریٰ غدر کریں گے،
٧. علم اٹھ جائے گا جہل بڑھ جائے گا،
٨. زنا اور شراب خوری کی بہت ہی کثرت ہو گی،
٩. عورتیں زیادہ اور مرد کم ہوں گے
١٠. جھوٹ بولنا کثرت سے ہو گا،
١١. بڑے بڑے کام نااہلوں کے سپرد ہوں گے، بےعلم اور کم علم لوگ پیشوا بن جائیں گے، کم درجہ کے لوگ بڑی بڑی اونچی عمارتیں بنائیں گے،
١٢. لوگ مصیبتوں کی وجہ سے موت کی آرزو کریں گے،
١٣. سردار لوگ مالِ غنیمت کو اپنا حصہ سمجھیں گے،
١٤. امانت میں خیانت بڑھ جائے گی،
١٥. زکوة دینے کو جرمانہ سمجھیں گے،
١٦. علم دنیا حاصل کرنے کے لئے پڑھیں گے،
١٧. لوگ اپنے ماں باپ کی نافرمانی اور ان پر سختیاں کریں گے،
١٨. مرد عورت کا فرنمابردار اور ماں باپ کا نافرمان ہو گا اور دوست کو نزدیک اور باپ کو دور کرے گا،
١٩. مسجدوں میں لوگ شور کریں گے،
٢٠. فاسق لوگ قوم کےسردار ہوں گے اور رذیل لوگ قوم کے ضامن ہوں گے،
٢١. بدی کے خوف سے شریر آدمی کی تعظیم کی جائے گی،
٢٢. باجےعلانیہ ہوں گے، گانے بجانے اور ناچ رنگ کی زیادتی ہو جائےگی،
٢٣. امت کے پچھلے لوگ پہلے بزرگوں پر لعنت کریں گے،
٢٤. سرخ آندھی،
٢٥. زلزلے،
٢٦. زمین میں دھنسنا،
٢٧. صورتیں بدل جانا،
٢٨. پتھر برسنا وغیرہ دیگر علامات ظاہر ہوں گی اور اس طرح پے درپےآئیں گی، جس طرح دھاگا ٹوٹ کر تسبیح کے دانے گرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ اچھے کام اٹھتے جائیں گے اور برے کاموں اور گناہوں کی کثرت ہوتی جائے گی،
٢٩. نصاریٰ تمام ملکوں پر چھا جائیں گے،
٣٠. مسلمانوں میں بڑی ہل چل مچ جائے گی اور گبھرا کر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی تلاش میں مدینہ منورہ میں آئیں گے اور امام مہدی علیہ السلام مکہ چلے جائیں گے۔ بعض اور علامات بھی ہوں گی مثلاً
٣١. درندے جانور آدمی سے کلام کریں گے،
٣٢. کوڑے پر ڈالی ہوئی جوتی کا تسمہ کلام کرے گا اور آدمی کو اس کے گھر کے بھید بتائے گا۔ بلکہ خود انسان کی ران اُسے خبر دے گی،
٣٣. وقت میں برکت نہ ہو گی، سال مہینے کی مانند اور مہینہ ہفتہ کی اور ہفتہ دن کی مانند ہو گا اور دن ایسا ہو جائے گا جیسا کہ کسی چیز کو آگ لگی اور جلدی بھڑک کر ختم ہو گئی،
٣٤. ملک عرب میں کھیتی اور باغ اور نہریں ہو جائیں گی، مال کی کثرت ہو گی،
٣٥. نہر فرات اپنے خزانے کھول دے گی کہ وہ سونے کے پہاڑ ہوں گے،
٣٦. اس وقت تک تیس بڑے دجال ہوں گے وہ سب نبوت کا دعویٰ کریں گے حالانکہ نبوت حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ختم ہو چکی ہے، ان میں سے بعض گزر چکےہیں مثلاً مسیلمہ کذاب، طلحہ بن خولید، اسودعنسی، سجاح عورت جو کہ بعد میں اسلام لے آئی وغیرہم اور جو باقی ہیں ضرور ہوں گے اور بھی بہت سی علامات حدیثوں میں آئی ہیں ۔ جیسے مدینہ کی ویرانی ۔ خانہ کعبہ کو ڈھانے جیسے دلخراش واقعات بھی وقوع پذیر ہوں گے۔
اسی طرح بڑی نشانیوں میں امام مہدی و عیسی علیہ السلام کا ظہور۔ دجال و یاجوج ماجوج کا خروج اور دبۃالارض کا ظاہر ہونا وغیرہ بھی شامل ہے۔اب ان میں سے ہر نشانی کی اپنی تفصیل ہے ۔
ان نشانیوںمیں سے علامات صغری میں سے بہت کچھ وقوع پذیر ہوچکا ہے جبکہ بڑی بڑی نشانیوں کا ظہور ابھی باقی ہے۔
میں نے بعض اسلامی کتب میں کچھ علماء کے اقوال پڑھے ہیں۔ ان لوگوں نے علم ریاضی ' قرآن کی قیامت والی آیات اور قیامت والی احادیث سے کچھ حساب لگایا ہے۔ ویسے بھی قرآن میں ہر بات کا علم موجود ہے ۔ لیکن غور خوض کرنے کی ضرورت ہے ۔ بہرحال ان کے حساب کے مطابق 1900 ہجری میں حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوگی اور وہ 63 برس دنیا میں رہیں گے اور حضرت عیسی علیہ السلام بھی ان کی زندگی میں ہی آسمان سے تشریف لائیں گے۔ اور وہ بھی 40 سال اس دنیا میں زندہ رہ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ میں مدفون ہوں گے ۔ اس کے بعد قیامت بالکل قریب ہوگی۔ یعنی اس حساب کے مطابق ابھی 1436 سن ہجری چل رہا ہے۔ اس حساب سے تقریبا 464 سال بعد حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ اور اس کے بعد 63 سالہ ان کی زندگی ۔ اور پھر کچھ علامات قیامت کا ظہور ہوگا۔ اور پھر کہیں جاکر قیامت قائم ہوگی۔(واللہ تعالی اعلم)۔جب کہ حدیث میں یہ بھی موجود ہے کہ لوگ قیامت کے ذکر سے بالکل غافل ہو چکے ہوں گے۔ تب قیامت قائم کردی جائے گی۔
بہرحال میرے خیال میں قیامت میں ابھی تقریبا 600سال سے زائد عرصہ باقی ہے۔( میرا یہ صرف اندازہ ہے اصل حقیقت اور تاریخ اللہ ہی بہتر جانتا ہے) اور بحثیت مسلمان اس ڈومز ڈے تھیوری میں کوئی سچائی نہیں ۔اور قیامت کی صیحح تاریخ اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔بعض علماء نے لکھا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو قیامت کی تاریخ بھی بتا دی گئی تھی ۔جیسے 10 محرم جمعہ کا دن اور مہینہ بتا دیا گیا تھا۔ لیکن اللہ تعالی نے ان کو عام لوگوں کو بتانے سے منع فرما دیا تھا۔ کہ یہ اسرار الہی میں سے ایک راز ہے۔بے شک اللہ ہی کے سارے علم کے خزانے ہیں جس کو جتنا عطاء کرے۔ کہ عقل والوں کے لئے اس میں بہت سے نشانیاں ہیں۔ واللہ تعالی اعلم
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers