بخت نصر کے حملے کے بعد یہودیوں کی حالت بہت خراب ھوچکی تھی، ان کا ھیکل مکمل تباہ ھوگیا تھا لاکھوں یہودی قتل کر دئیے گئے تھے اور لاکھوں ہی غلام بنا کر بخت نصر ساتھ لے گیا تھا۔ وہ بری طرح منتشر اور بدحالی کا شکار تھے۔
یہودیوں کی الہامی کتاب توریت کےکئی ابواب میں پشین گوئی کی گئی تھی کہ جب یہودیوں کےحالات بہت دگرگوں ھونگے ان کو کہیں امان نہ ھوگی تو ان کی طرف ایک مسیحا(یہودی مسایا کہتے ہیں)بھیجا جائے گا جو ان کو تمام دکھوں سے نجات دلائے گا ، ان کے لئے بہت مبارک ثابت ھوگا۔ اگر وہ اس کی اطاعت اور بتائے ھوئے راستے پر چلیں گے تو ایک بار پھر دنیا میں ان کو پہلے جیسی سربلندی نصیب ہوگی اس پشین گوئی کو لے کر یہودی انتہائی شدت سے اپنے مسیحا اور نجات دہندہ کا انتظار کرنے لگے۔ ۔وہ مسیحا یا مسایا حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے۔
جب آپ ؑ دنیا میں تشریف لائے تو یہودیوں نے حضرت بی بی مریم مقدسہ مطہرہ پر بدچلنی کے الزامات لگانے شروع کر دئیے ۔ اپنی فطرت کے مطابق ان کی تذلیل شروع کر دی جس پر نومولود بچے عیسیٰ ؑ نے اپنی والدہ کی پاک دامنی کی گواہی دی۔ اس کے باوجود بھی وہ ان کو معاف کرنے پر تیار نہ تھے۔ گو کہ ان کے حالات یہ تھے کہ رومن سلطنت ان پر مسلط تھی لیکن پھر بھی وہ توبہ تائب ہونے پر تیار نہیں تھے اللہ کے رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی باکردار والدہ کی کردارکشی سے باز نہیں آتے تھے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی اصلاح و تربیت اور تبلیغ کا آغاز کیا۔ ان کو گناہوں سے بچنے اور ایک اللہ کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دی تو وہ آپ ؑ کے بدترین دشمن ہوگئے۔ یہودیوں کے کاہنوں ، فقیہوں اور فریسیوں نے آپ ؑ پر کفر شرک اور مرتد ہونے کا فتویٰ لگا کر آپ ؑ کو واجب القتل قرار دے دیا۔ آپؑ کو انبیا ء رسل میں سب سے زیادہ معجزے عطا فرمائے گئے تھے تاکہ آپ ؑ کی امت کسی طرح آپ ؑ پر ایمان لے آئے لیکن ان معجزات کا بھی ان پر الٹا اثر ہوا ان کو جادوگر قرار دے دیا اور ان کو سزائے موت دلانے کے لئے رومی حاکم پینطس پلاطس سے درخواست کی۔ متی کی انجیل کے مطابق رومی حاکم ایسا نہیں چاھتا تھا لیکن یہودیوں کے پرزور اصرار مجبورا" اس نے آپ ؑ کو مصلوب کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ یہاں پر آپ دوستوں کی خصوصی توجہ چاھتا ھوں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صلیب کے بارے پانچ مختلف عقائد ہیں
۔ 1۔ یہودی کہتے ہیں انہوں نے اپنی قوم کے ایک جھوٹے (نعوذ باللہ) مدعی نبوت یا جھوٹے مسیحا کو کو صلیب کی سزا دے کر مار ڈالا۔ اور وہ ابھی تک اپنے اس مسیحا کے انتظار میں ہیں جو دنیا میں آکر ان کو پوری دنیا کی بادشاہت دے گا
۔ 2۔ عیسائی کہتے ہیں آپ ؑ کو صلیب دی گئی ، صلیب پر آپ ؑ کی موت واقع ہوئی ۔ اس واقعہ کے تیسرے روز آپ ؑ دوبارہ زندہ ہوئے اپنے حواریوں سے آ ملے چالیس دن تک ان کے ساتھ رہے اور پھر زندہ آسمان پر چلے گئے۔ اب وہ دوبارہ آخری زمانے میں دنیا میں واپس تشریف لائیں گے عیسائیوں کو غلبہ دلائیں گے ان کو گناہوں سے پاک کرکے ان کی نجات کا وسیلہ بنیں گے۔ عیسائی بھی شدت سے اپنے مسیحاکے انتظار میں ہیں
۔ 3۔ کذاب غلام احمد قادیانی نے اپنی رعایت اور گنجائش نکالنے کے لئے ایک نئی کہانی گھڑی۔ اس نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دی گئی لیکن آپ ؑ کی موت واقع ہونے سےپہلے ان کو صلیب سے اتار دیا گیا ان کے شاگردوں نے ان کی مرہم پٹی کی اور کچھ دن بعد آپؑ خاموشی سے اکیلے ہی وہاں سے چلے گئے اور کشمیر میں آگئے یہاں انہوں نے اپنی طبعی عمر گذاری اور پھر دنیا سے رخصت ہوگئے ایک پرانی قبر دکھا کر کہا اس میں حضرت عیسیٰؑ دفن ہیں۔ (عجیب و غریب اور مضحکہ خیز بات )۔ ان کے دوبارہ آنے کی گنجائش نہیں ان کی جگہ مسیح موعود(غلام قادیانی کذاب) آ گیا ہے
۔4۔ قرآن پاک میں بیان فرمایا گیا نہ آپ کو مصلوب کیا گیا اور نہ ہی آپؑ کی موت واقعہ ہوئی بلکہ آپؑ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا جبکہ ان کی جگہ ان کی شبیہ بنا دی گئی۔ آپؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور اسلام کا بول بالا کریں گے۔اس سے آگے قرآن پاک خاموش ہے۔ہم صرف قران حکیم کے حقائق پر یقین رکھتے ہیں اور قران میں ہی ہر حوالے سے سچائی ہے۔۔
5۔ قرآن پاک کی تصدیق بذریعہ انجیل۔۔آپ دوستوں کے لئے ایک انکشاف۔ 1908 میں پوپ کی لائبریری سے انجیل برناباس کا ایک قدیم نسخہ ملا جس کا اطالوی زبان سے عربی میں ترجمہ کیا گیا۔ اردو میں اس انجیل کا ترجمہ مولانا حلیم انصاری نے کیا اور کراچی کے پبلشنگ کے ادارے "ادارہ اسلامیات " نے شائع کیا۔عیسائی تسلیم کرتے ہیں کہ برناباس حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں میں سے ایک تھے ان کی مرتب کی ہوئی انجیل کو انجیلِ برناباس کہا جاتا ہے۔یونانی میں اسے اینجلک برنابے کہا جاتا ہے۔ اس میں حضرت عیسیٰ ؑ کے صلیب والے واقعے کو انتہائی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک آدمی جس کا نام جیوڈاس ایسکیریاٹ تھا وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں شامل ہوا۔ اس کا تعلق یہودیوں کی ایک زیرزمین تنظیم سے تھا جس کا سربراہ باراباس نامی شخص تھا۔ اس تنظیم کا مشن رومنوں کے خلاف جدوجہد کرکے ان سے آزادی حاصل کرنا تھا۔جیوڈاس نے جب حضرت عیسیٰ ؑ کے معجزات کا مشاہدہ کیا تو وہ آپ سے درخواست کرنے لگا کہ آپ ؑ رومنوں کے حق میں بددعا کیجئیے تاکہ کچھ ایسا ہو کہ ان کا یہودیوں پر سے تسلط ختم ہوجائے۔ لیکن آپؑ اس کی منافقت سے آگاہ تھے اس لئے آپ ؑ اس کی اس درخواست کو نظرانداز کر دیا کرتے۔ جب آپؑ کے خلاف کفر و ارتداد کے فتوے لگنے کی وجہ سے گرفتاری کا حکم جاری کیا گیا اور آپ ؑ گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش ہوگئےتو جیوڈاس نے آپؑ کو گرفتار کرانے کا فیصلہ کیا۔ ایک شام اس نے رومنوں کے ساتھ مل کر آپ ؑ کی گرفتاری کی سازش تیار کی۔اس شام حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک باغ میں اپنے حواریوں کے ہمراہ پناہ لئے ہوئے تھے۔ جیوڈاس نے تیس سپاہیوں کے ایک دستے کو ساتھ لیا اور اس باغ کے اندر ان کو چھپنے کا کہا۔ رومن سپاہی کیونکہ آپ ؑ کو شکل سے نہیں پہچانتے تھے چنانچہ منصوبہ یہ بنایا گیا کہ جب حضرت عیسیٰ ؑ باغ میں بنے ہوئے ایک کمرے سے جہاں وہ چھپے ہوئے تھے باہر تشریف لائیں گے تو جیوڈاس بلند آواز میں میرے استاد محترم کہے گا جس پر سپاہیوں کو آپ ؑ کی شناخت ہوجائے گی اور وہ گرفتار کر لیں گے۔ اس کے بعد جیوڈاس باغ کے اندر چلا گیا اور سب حواریوں کے ساتھ مل کر حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ آخری کھانا جسے عیسائی لاسٹ سَپر کہتے ہیں کھایا۔ کھانے کے بعد حضرت عیسی ٰ ؑ نے اپنے سب حواریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا " آج تم میں سے ایک میرے ساتھ غداری کرے گا۔ سب حواری کمرے سے باہر چلے گئے جبکہ جیوڈاس اکیلا آپ ؑ کے پاس رہ گیا۔ اس وقت اللہ کے حکم سے آسمان سے فرشتے اترے انہوں نے چھت کھولی ، کمرے میں داخل ہوئے اللہ کے حکم سے اسی وقت جیوڈاس کی شکل حضرت عیسیٰؑ سے مشابہ ہوگئی۔ فرشتوں نے آپؑ کو ساتھ لیا اور اسی طرح واپس آسمان پر چلے گئے۔ جیوڈاس کمرے سے باہر آیا تو آپؑ کے شاگرد اس کو حضرت عیسیٰؑ سمجھ کر استاد محترم استاد محترم کہتے ہوئے احتراما" اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس پر درختوں کے پیچھے چھپے ہوئے رومن سپاہی آگے بڑھے اور آپ ؑ کے ھمشکل جیوڈاس کو آپؑ کے دھوکے میں گرفتار کرلیا۔ اور اس طرح جیوڈاس کو اللہ کے معصوم نبی کے ساتھ دھوکہ دینے کی سزا بھی مل گئی۔ عیسایوں کا ایک فرقہ شہادت یاہوا (Jahova's witness) 
اس عقیدے پر یقین رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کو صلیب نہیں دی گئی تھی۔ آسمان پر اٹھا لئیے گئے تھے۔ جو آخری زمانے میں دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ 
ان عقائد کا ذکر کرنے کا مقصد اس مسیحا کی آمد کا پس منظر بیان کرنا مقصود ہے جس کے انتظار کرنے والوں میں تین اقوام ، عیسائی ، مسلمان اور یہودی ہیں۔ اصل مسیحا حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد سے پہلے مسیح الدجال کا ظہور ہوگا جسے دیکھتے ہی یہودی اسے اپنا مسیحا مان لیں گے۔ جبکہ مسلمان مومنین اس کے ماتھے پر لکھے ہوئے لفظ ک ف ر سے اس کی شناخت کریں گے۔ اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ اس کے کمالات اور اس کے کام ایسے ہونگے کہ اکثریت میں انسان دھوکہ کھا کر اسے سچا مسیحا سمجھ لیں گے جبکہ یہودی اس کے خصوصی لشکر میں شامل ھونگے۔ دجال کی آمد کی نشانیوں اور اس زمانے کے حالات انشاااللہ پھر ۔۔۔۔ اس تحریر میں مسیحا صادق یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پس منظر اور آپ کی دوبارہ آمد سے متعلق عقائد کا ذکر ہے۔ جو مسیح الدجال کا مقابلہ کریں گے۔اسے انجام سے ھمکنار کرکے دنیا میں سچائی کا بول بالا کرین گے۔ یہاں ایک چھوٹی سی بات یہ کہ امام مہدی صرف ایک مجدد ہونگے جو اسلام سے بھٹکے ہوئے مسلمانوں میں دین کی نئی روح پھونک دیں گے۔
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers