ایک لڑکی ڈاکٹر کے پاس گئی اور کہنے لگی ” ڈاکٹر صاحب ، میری رنگت تو بہت اچھی ھے لیکن میرا فیس کچھ زیادہ ھی ملائم ، چکنا اور حساس ھے ،،،،میں رات کو کیا لگا
کر سویا کروں؟ “…..ڈاکٹر نے بڑے اطمینان سے جواب دیا ” آپ رات کو کنڈی لگا کر سویا کریں “………..اس رات ھماری کنڈی بھی کھلی رہ گئی تھی اور ” وہ ” یوں سکون سے ھمارے گھر میں داخل ھو گۓ جیسے ” ماسی ” کا گھر ھو……ہم ٹھہرے سدا کے لاپرواہ اور تساہل پسند حلانکہ یہ حقیقت بھی بخوبی ھمارے علم میں ھے کہ ھمارے رخسار پر ایٹم بم کی صورت میں ایک ایسا تل موجود ھے جس کی تاب سے بھت سوں کی آنکھیں چندھیائی ھوئی ہیں ….یہ تل نہ جانے کس کس کو تلملا رھا ھے ؟…یہ سب جاننے کے باوجود نجانے کیوں ھماری کنڈیاں کھلی رہ جاتی ہیں ……….جتنے منہ ، اتنی باتیں …..اس ہفتے ایسے ایسے انکشافات سننے کو مل رھے کہ میں انگلیاں دانتوں میں دباۓ بیٹھا ھوں….کہا جا رھا ھے کہ پاکستان کی عزت نفس ، قومی سالمیت ، خودداری ، حمیت ، عزت و آبرو، وقار ،خد مختاری اور آبرو وغیرہ کا ستیاناس ھو گیا ھے …….چونکہ میں ایک پاکستانی ھوں لہذا اوپر لکھے گۓ بہت سے لفظوں سے میری کوئی زیادہ آشنائی نہیں اور مجھے بار بار لغت کا سہارا لینا پڑ رہا ھے ……….ان دانش مندوں کو یہ احساس کیوں نہیں کہ ھم جیسے لوگوں کے لئے یہ الفاظ کاغذ پرگرے چند دھبوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے ……..جب ھمارے سپاہی کے تمباکو سے لے کے وزیر اعظم کی ٹایوں تک کا خرچ اٹھانے کا ذمہ انھوں نے اٹھایا ھوا ھے اور ھم احسانات کے بوجھ تلے اتنا دبے ھوے ھیں تو سر کس طرح اور کیونکر اٹھ سکتا ھے ………غلام کے گھر پر آقا کے لئے نو انٹری کا بورڈ نہیں لگایا جا سکتا ……وہ اب بھی آے ہیں اور بعد میں بھی اسی طرح آتے رہیں گۓ جب تک ھم یہ فیصلہ نہیں کر لیتے کہ ھمیں بے روزگاری الاؤنس چھوڑنا ھو گا…..جب تک ہم کدال اپنے کندھے پر اٹھاۓ اپنی بنجر فصلوں کو آباد کرنے کا تہیہ نہیں کر لیتے……جب تک ھمیں یہ یقین نہیں ھو جاتا کہ اختیار بھکاری سے کوسوں دور ہوتا ھے اور بھکاری اسے صرف للچائی نظروں سے دیکھ ھی سکتا ھے ……… ھمیں اپنے پھیلے ھوے ہاتھ کی مٹھی بنانا پڑے گی …..ورنہ یونہی لکیریں پیٹتے رھنا ھمارا نصیب ٹھہرا …………………………..جہاں تک تعلق رھا ……ذمہ داری قبول کرنے اور استعفیٰ دینے کا …..تو یہ لطیفہ کافی پرانا ھو گیا ھے …. یقین کریں بلکل ہنسی نہیں رهی……میرے سادہ لوح پاکستانیو یہاں کوئی پیٹر مینڈل سن ، رچرڈ نکسن ،،رٹ بحیرے گارڈ یا جمال عبدل ناصر نہیں ہیں جو اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں تسلیم کرتے ھوے قوم کی جان چھوڑ دیں …..ھمارے ہاں آب و ھوا ھی اور ھے ……کیا آپ کو ایک ٹرین حادثے کے بعد دیا گیا شیخ رشید صاحب کا وہ بیان بھول گیا جس میں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں فرمایا تھا کہ “جی میں کیوں استعفیٰ دوں ،،،،ریل گڈی کوئی میں چلا رھا تھا ؟؟”……….غلطی تسلیم کرنا اور احساس ندامت ھمارے کلچر کا حصّہ نہیں کجا کہ استعفیٰ دیا جاے …..لہذا معذرت سے معذرت ……………….” پاکستان وہ ملک ھے جہاں بڑے لوگوں کے جرم غلطی اور چھوٹے لوگوں کی غلطی گناہ کا درجہ رکھتی ھے
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers