سرکاری افسر بنتے ہی ہیرو کی پوسٹنگ ایک دور دراز گائوں میں ہو جاتی ہے۔ ہیرو اپنی گاڑی میں گائوں روانہ ہوتا ہے۔۔سارا دن سفر کے بعد گائوں کے نزدیک پیاس ستاتی ہے تو پانی کی تلاش میں ایک پنگھٹ پر جا پہنچتا ہے۔۔وہاں موجود ہیروئن کو دیکھ کر وہ حئران رہ جاتا ہے کہ وہ تو اس کی گاڑی کے ریڈی ایٹر سے بھی زیادہ ہاٹ ہے۔۔ہیرو پانی پیتا ہے اور ڈرائیو کرتا ہوا ڈاک بنگلے جا پہنچتا ہے۔
رات کو ہیروئن کا ابا جو کہ ڈاک بنگلے کا چوکیدر ہے ہیروئن کو بتاتا ہے کہ محکمہ انہار کا ایک نیا نوجوان افسر آیا ہے۔۔اور اس کے لئے رات کا کھانا لے جانا بے حد ضروری ہے۔۔۔ھیروئن کھانا لے کر ڈاک بنگلے پہنچتی ہے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ ارے یہ تو وہی بابو ہے جو پنگھٹ پر آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ہیرو مکئ کی روٹی اور ساگ کھاتے ہوئے ہیروئن سے اس کے عزیزواقارب اور گھر والوں کے بارے میں بات کرتا ہے تو ہیروئن بتاتی ہے کہ ایک بڈھے بابا کے علاوہ دنیا میں اس کا کوئ اور نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ہیروئن روز اس کے لئے کھانا لانے لگتی ہے لیکن ہیرو مرغن غزا کا عادی ہے۔۔۔اور یہاں چھ سات دن تک مسلسل دونوں وقت مکئ کی روٹی اور سرسوں کا ساگ کھا کھا کر اس کے اعصاب اس قدر کمزور ہو جاتے ہیں کہ آخر وہ عشق پر اتر آتا ہے۔۔۔۔۔۔پھر ایک بھیگی رات میں جبکہ چودھویں کا چاند قریبی کھجور کی شاخوں میں اٹکا ہوا ہے،،،،، ہیروئن ایک سرد آہ بھر کر پوچھتی ہے۔۔۔۔۔۔
'' سہر جا کے ہم کا بھول تو نہیں جائو گے سہری بابو؟ْْْْ''
بابو جس نے ایم اے اردو کیا ہوتا ہےجواب میں کہتا ہے۔۔،'
'' عشق میں اگر شعور و ادراک، فہم و احساس کا جز ولانیفک نہ ہوں تو ما بعدالطبیعاتی مظاہر کی نمود سے فکرو تخیل میں تشکیک کی زیریں لہر تیقن کو مجروح کر دیتی ہے۔''
ہماری اور آپ کی طرح ہیروئن بھی کچھ نہیں سمجھ پاتی اور اپنا سوال کوئ چھ مرتبہ دہراتی ہےتو شہری بابو جھلا کر سلیس اردو میں جواب دیتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔'' نہیں''۔۔۔۔
اب اس کے بعد کی کہانی مصنف و ہدایت کار پر منحصر ہے ۔۔۔۔۔ فلم اگر ٹریجک ہو تو عموما'' یہ ہوتا ہے کہ اس گائوں یعنی چک نمبر ۳۰۲ سے ہیرو کا تبادلہ تلہ گنگ ہو جاتا ہے ،وہ پہلے اپنے شہر آتا ہے جہاں اس کے ڈیڈی اسے بتاتے ہیں کہ وہ اس کی شادی ایک ایسی ماہ جبین سے کر رہے ہیں جس کے والد کسٹم میں ایک اعلیٰ افسر ہی اور وہ جہیز میں ایک ہزار گز پر بنگلہ، نئی جھلملاتی کار اور ہنی مون کے لئے سوئٹزر لینڈ کا ٹکٹ دیں گے۔۔۔۔یہ سن کر ہیرو پگھل جاتا ہے۔۔۔ ادھر گائوں میں ڈاک بنگلے کا چوکیدار اپنی بیٹی کو بتاتا ہے کہ اس کی شادی پھجے کمہار کے بیٹے سے طے ہو گئے ہے جو فی الحال بیروزگار ہے لیکن سواری کے لئے اپنا ذاتی گدھا موجود ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر اچھی ہیروئن کی طرح ہماری یہ گائوں کی گوری بھی خاندان کی عزت اور رسم و رواج پر کاربند پے اس لئے رونے دھونے کے سوا اور کچھ نہیں کہتی۔۔۔۔ادھر شہر میں بابو شادی کے فورا'' بعد ہنی مون کے لئے روانہ ہو جاتا ہے اور ہیروئن رخصت ہو کر پھجے کمہار کےبیٹے کے گھر سدھار جاتی ہے۔۔۔اور سسر کے برتن بنانے کے لئے پائوں سے کچی مٹی گوندھنے کے بعد ایک دلدوز گانا گانے کے لئے کھڑکی کے پاس آجاتی ہے جہاں چاند ابھی تک کھجور کی شاخوں میں اٹکا ہوا ہے۔۔
Labels: ,
Reactions: 
1 Response
  1. آپ نے شاید پرانی ھندی فلم جال دیکھی ہوگی. اس میں شروع سے آخر تک چاند کھجوروں کے پتوں میں اٹکا رہتا ہے. اس کا نغمہ بھی کافی دلکش ہے.


Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers