یہ واقعہ 28 فروری 1991 کا ہے۔ صدام کی آرمی کے فوجی جن کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تھی وہ کویت سے بصرہ جانے والی ھائی وے پر سفر کر رھے تھےاس سڑک کو اب ھائی وے آف ڈیتھ کے نام سے بھی پکارا جاتا ھے۔ اچانک ان نہتے فوجیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔ ۔ ان پر ایئر فیول بموں سے حملہ کر دیا گیا۔ آن کی آن میں ڈیڑھ لاکھ فوجی اپنے سازوسامان اور گاڑیوں سمیت راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ھوگئے۔ یہ انسانی قتل و غارت گری کی بدترین اور تاریخی مثال تھی۔ ظلم و بربریت کا یہ مظاھرہ امریکی صدر بش کے حکم پر کیا گیا تھا۔ اس روز یہودیوں کی عید پوریم کا تہوار منایا جا رھا تھا۔ اس وحشیانہ کارروائی کی خوشی میں دنیا بھر کے یہودیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ان کے عید کے جشن کا لطف دوبالا ھوگیا۔
عید پوریم کیا ھے؟ اس روز کیا ھوا تھا۔؟ یہودی اس روز کیا کرتے ھیں؟۔ آئیے تاریخ کے صفحات میں سے دیکھتے ھیں۔
عید پوریم کی ابتداء
یہ ایک قدیم یہودی تہوار ہے جو 450 سال قبل مسیح سے بھی پہلے شروع ہوا۔اس کی کہانی عہد نامہ قدیم کی کتاب آستر میں بیان ہوئی ہے۔ ایران کے بادشاہ اخسویرس نے اپنے وزیر ہامان کی چال میں آکر سارے یہودیوں کے قتل کا حکم دے دیا، لیکن مردکی نے یہ خبر آستر ملکہ تک پہنچا دی اس نے مشہور کر دیا کہ بادشاہ نے قتل کا حکم نشے کی حالت میں دیا تھا۔ بادشاہ غصے میں آ گیا اور خود ہامان ہی کو قتل کر دیا اور ساتھ ہی یہودیوں کو ھامان کے آدمیوں کے اختیار دیا گیا انھوں نے اس روزیعنی 28 فروری کو ہامان کے لوگوں کو قتل کیا اور اگلے دن خوشی کی اور اس کو ہر سال عید کی طرح منانے کا حکم ان کو دیا گيا۔
یہودیوں کی مارچ میں عید پوریم ھوتی ھے اور اپریل میں عید فصح۔ اس روز یہودی متعدد غیر یودیوں کی قربانی کرتے ھیں۔
سن 1440 ء کی بات ہے کہ اٹلی کے ایک پادری، فرانسو انطون توما اپنے ملازم کے ساتھ گھر سے باہر آئے اور غائب ہو گئے۔
حکومت کی طرف سے تحقیقات شروع ہو گئیں تو معلوم ہوا کہ یہودیوں کے ہاتھوں بیچارہ قتل کیا جا چکا ہے۔
سلیمان جلاد جو ملزموں میں سے ایک تھا اپنے اعترافات میں اس طرح بیان کرتا ہے: ’’ رات کا پہلا پہر تھا داؤد ہراری کا ملازم میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ فورا داؤد کے گھر پہنچ جاو۔ میں داؤد کے گھر کی جانب روانہ ہو گیا داوود کے گھر پر ہارون ہراری، اسحاق ہراری، یوسف ہراری، یوسف لینیودہ، خاخام موسی ابو العافیہ، خاخام موسی بخور یود امسلونکی اور داوود ہراری (صاحب خانہ) موجود تھے۔ جیسے ہی میں گھر میں داخل ہوا اور میں نے پادری کو ہاتھ پاؤں بندھی حالت میں دیکھا ، میں سمجھ گیا کہ مجھے کس لیے بلایا گیا ہے۔
بہر حال میرے پہنچتے ہی گھر کے دورازے بند کر دئے گئے اور ایک بڑا سا طشت لایا گیا اور مجھ سے کہا گیا کہ پادری کو مار ڈالوں لیکن میں نے انکار کر دیا۔
داوود نے کہا: اچھا ایسا کرو کہ تم اور دوسرے لوگ اس کے سر کو پکڑ لو تا کہ میں اس کا کام تمام کروں۔
پادری کو زمین پر گرا دیا گیا اور بغیر اس کے کہ اس کے خون کا ایک قطرہ بھی زمین پر گرتا اس کا سر تن سے جدا کر دیا گیا۔
اس کے بعد ہم نے اس کے بے جان جسم کو گودام میں لے جا کر جلا دیا۔
پھر اس کے باقی بچے کچھے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے تھیلوں میں بھر کر بازار کے پاس دفن کردیا۔ ہمارا یہ کام جب ختم ہو گیا تو پادری کے ملازم کو لالچ دے کر چپ کرا دیا گیا۔ پولیس نے پادری کی گمشدگی کے واقعہ کی تفتیش کی اور جلاد سلیمان تک جا پہنچی۔ جلاد گرفتار ھوا پولیس نے اس سے پوچھ گچھ کی ۔ سلیمان نے واقعہ کو من و عن پولیس کے سامنے دہرا دیا۔
پھر پولیس نے اسحاق ہراری سے پوچھا:
سلیمان کے اعتراف پر تم کو کئی اعتراض ہے؟
سلیمان نے جو کچھ کہا وہ صحیح ہے لیکن تم اس عمل کر جرم نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہمارے مذہب میں اس عید کے اعمال میں غیر یہودی کے خون سے استفادہ شامل ہے۔
تم نے پادری کے خون کا کیا کیا؟
ایک شیشی میں جمع کر کے خاخام موسی ابو العافیہ کو دے دیا۔
تمہاری مذہبی رسومات میں خون کو کس چیز میں استعمال کیا جاتا ہے؟
عید کی روٹی کے خمیر میں۔
کیا تمام یہودیوں کو اس روٹی سے استفادہ کرنا ضروری ہے؟
نہیں لیکن ایک ایسی روٹی بڑے خاخام کے پاس ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح ایک اور واقعہ اس طرح ھے۔
سن 1883ء میں عید فصح کے موقع پر سابقہ روس کے شہر والیسوب میں ایک دو سال کا بچہ غائب ہو گیا ایک ہفتہ کی تحقیق اور تفتیش کے بعد اس کا بے جان جسم شہر کے باہر ایک مقام پر پایا گیا۔ باوجود اس کے کہ اس کے جسم پر کیلوں اور سوئیوں کے نشانات واضح تھے لیکن خون کا ایک قطرہ بھی اس کے لباس پر موجود نہیں تھا۔ بعد کی معلومات کے مطابق اس کے جسم کو قتل کر کے بعد دھو دیا گیا تھا۔ اسے بھی عید فصح کی رسم پوری کرنے کے لئے یہودیوں کی طرف سے قتل کیا گیا تھا۔ ایک عورت نے جو تازہ یہودی ہوئی تھی اور اس قضیہ کے ملزموں میں سے تھی اس طرح بیان دیا:
یہودیوں کی طرف سے ہم کو ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ اس عیسائی بچہ کو اغوا کر کے ایک معینہ وقت پر کسی ایک کے گھر پہنچا دیں۔ جب ہم اس بچے کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے تو تمام لوگ ایک میز کے اطراف میں بیٹھے ہوئے ہماری راہ دیکھ رہے تھے۔
بچے کو میز پر رکھ کر اس کو چاکلیٹ اور بسکٹ میں مشغول کر دیا گیا۔
بچہ ابھی کھانے میں ہی مشغول تھا کہ ان میں سے ایک نے ایک لمبی اور نوکیل کیل اس کی ران میں چبھودی۔ بچے کی دل دہلا دینے والی چیخ بلند ہو گئی اور دہلا ہوا ان میں سے ایک کی طرف بڑھا اس نے بھی اس پر ذرا سا بھی رحم نہیں کیا اور اس ایک لمبی سوئی کے ذریعہ جو اس کے ہاتھ میں تھی بچے کی کمر کو زخمی کردیا۔ بچہ دوبارہ چیخ پڑا اور تیسرے شخص کی طرف لپکا اس نے بھی اس کا سینہ چھید ڈالا۔ الغرض اس کے جسم میں اتنی سوئیاں اور کیلیں چبھوئیں کہ وہیں پر اس کا دم نکل گیا پھر اس کے خون کو ایک شیشی میں جمع کر کے بڑے خاخام کے سپرد کر دیا گیا۔
یہ ہیں یہودی اور ایسی ھیں ان کی عیدیں۔

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers