سندھ وہ صوبہ ہے جہاں ایک عرصہ سے پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سندھ کی عوام کو پیپلز پارٹی سے روحانی عقیدت بھی ہے جو ان کے لئے باعثِ زحمت بن رہا ہے۔ 2008ء میں پیپلز پارٹی ایک بار پھر اقتدار میں آئی جس کی وجہ صرف محترمہ بینظیر بھٹو تھیں مگر بدقسمتی سے بینظیر کو ان کی کامیابی دیکھنے سے پہلے ہی شہید کردیا گیا اور ان کی جگہ آصف علی زرداری نے لے لی۔ وہ پاکستان کے صدر نامزد ہوئے اور اپنی مدت پوری کرنے تک ایک قابلِ تحسین کام کر گئے کہ جس دن وہ صدر بنے اس کے دوسرے دن انہوں نے ہونے والی چھٹی مسنوخ کردی ۔
پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت کا اگر بہت ہی مختصر جائزہ لیا جائے تو اس دور کی مہنگائی یاد آجاتی ہے ، موبائل کارڈز پر حد سے ذیادہ ٹیکس لگانااور پٹرول کی قیمتوں کا آسمان سے باتیں کرنے کا زمانہ بھی یاد آجاتا ہے۔ریمنڈڈیوس کی رہائی اور اْسے اپنے ملک واپس بھیجنا اور پھر ملک میں وائرس کی طرح پھیلنے والے دھماکے اور ڈرون حملے بھی جن کی تعداد پرویز مشرف کے دور میں دس تھی جن میں تقریبا 121 افراد مارے گئے تھے لیکن پیپلز پارٹی کی بات کچھ اور تھی۔پیپلز پارٹی کی حکومت میں 2008 میں تقریبا 26 ڈرون حملے ہوئے جس میں 156 افراد مارے گئے تھے۔2009 میں 48؛ 2010 میں 97؛ 2011 میں 52 اور 2012 میں37 حملے ہوئے تھے جس میں بالترتیب 536، 831، 548 اور 344 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔جہاں تک کرپشن کی بات ہے تو پیپلز پارٹی کے دور میں کرپشن کے نئے ریکارڈقائم ہوئے۔2013ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو اس کی 5 سالہ انتھک محنت کا ثمر شکست کی صورت میں مل گیا اور وہ سندھ تک محدود ہوگئی۔جولائی 2015ء میں کراچی میں جاری رینجرز آپریشن نے جب دوسرا مرحلے کا آغاز کیا تو تمام جماعتوں سمیت پیپلز پارٹی نے بھی اس کی مکمل حمایت کی سوائے متحدہ کے کیونکہ ان آپریشن کی ابتداء سے ہی رینجرز آپریشن پر کچھ تحفظات تھے۔ لیکن جب اس کا دائرہ کار مزید بڑھا اور رقانونی ہاتھ ان لوگوں تک پہنچا جو بڑی کرپشن اور دہشت گردوں کی معاونت میں ملوث تھے تو اسکی مخالفت میں آواز پیپلز پارٹی کی جانب سے ابھری اور سندھ اسمبلی میں خاموشی سے ایک ایسی قرارداد کی منظوری بھی دے دی گئی جس میں رینجرز کو سرکاری دفاتر یا افسران کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے سے پہلے وزیر اعلیٰ سندھ سے اجازت طلب کرنی لازمی تھی اور کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرنے کا اختیار رینجرز سے لے لیا گیا۔پیپلز پارٹی کے اس اقدام نے یہ مکمل طور پر واضح کردیا کہ کرپشن اور دہشت گردوں کی معالی معاونت میں ملوث افراد کے خلاف آپریشن اس کی دکھتی ہوئی رگ ہے۔     
سندھ میں حکومت قائم کرنے کے بعد پیپلز پارٹی نے سندھ کے عوام کے لئے جو بہترین اقدامات کئے وہ آج تک کسی نیوز چینل کی خبر کا حصہ نہ بن سکے اور نہ ہی کسی کی بینائی میں اتنی معرفت تھی کہ ان کو دیکھ سکے کیونکہ سندھ کو پیپلز پارٹی نے شاید کسی دلہن کو جہیز میں ملنے والی زمین سمجھا ہوا ہے جس پر مکمل طور پر اس کا حق ہوتا ہے ۔2008ء سے 2013ء تک بر سرِ اقتدار رہنے والی پیپلز پارٹی جو سندھ اور سندھ کے عوام کے لئے مخلص ہونے کی دعویدار ہے وہ سندھ 2016 ء میں بھی آثارِ قدیمہ کا منظر پیش کر تا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبہ سندھ میں پانچ سے بارہ سال کی عمر کے چار ملین کے قریب بچے تعلیم کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ روزنامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے کہ ہر روز کسی نہ کسی علاقے سے کوئی نہ کوئی ایسی خبرشائع ہوتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ سندھ میں موجود وڈیرہ شاہی کی وجہ سے مظلوم عورت کی زندگی ہر وقت موت کے سائے میں کٹتی ہے۔روزنامہ عبرت کی ایک رپورٹ کے مطابق بارشوں کے بعد سندھ کے شمالی علاقوں کے شہر اور گاؤں زیرآب آجاتے ہیں اور وہاں وبائی امراض پھوٹ پڑتے ہیں ۔ بارشوں میں مکانات گرنے اور پانی کی نکاسی نا ہونے کی وجہ سے ہزاروں لوگ دربدر بھی ہوجاتے ہیں مگر ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا ۔ جمہوریت کا ڈھول پیٹنے والی پیپلز پارٹی اپنے ہی صوبے کی عوام کے لئے کوئی قابلِ فخرکام تو درکنار قابلِ ذکر کام کرنے سے قاصر رہی۔ سندھ کے عوام جب اپنے حقوق و مسائل کی بات کرتے ہیں تو ان کو بھٹو کی لوری سنا کرکسی ایک ایسے بچے کی طرح سلا دیا جاتا ہے جو اپنی خواہش کا اظہار کر رہا ہو اور والدین کے پاس اس کی خواہش کو پورا کرنے کی حیثیت نہ ہو اور پھر پانچ سال مکمل ہونے پر ان کو جگا کر ان کووہی مسائل مصائب کی طرح سنائے جاتے ہیں جو پچھلے کئی برسوں سے جوں کے توں موجود ہیں، ان مسائل کو حل کرنے کے وعدے کئے جاتے ہیں اور آخر میں بھٹو کا لالی پاپ تھما دیا جاتا ہے۔ سابق صدر آصف زرداری نے اپنے دورِ حکومت میں جو بیرونِ ملک کے دورے فرمائے ان میں سے اکثر دورے ان کو چھینک آجانے کی وجہ سے ہسپتال جانے کی غرض سے تھے ۔وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنی پرکشش شخصیت اورکارکردگی کی بدولت خاصی شہرت پائی ہے اور آج کل ان کی تصاویر پاکستان کے نوٹ پر تو نہیں البتہ گٹر کے ڈھکن پر ضرور دیکھنے میں آرہی ہیں۔ قائم علی شاہ کا نام یقیناًکسی پہنچے ہوئے عامل سے تعویز کروا کے کررکھا گیا تھا جو ان کے تاحال قائم و دائم رہنے کا راز ہے کیونکہ ان کی عمر اس وقت کسی آستانے پر بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے کی ہے مگر کچھ بھنگ کا کمال ہے اور کچھ ان کے نام کا اثر کہ سائیں اب تک سالم ہیں اور مختلف دوروں اور کانفرنسوں میں اپنی نیند پوری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ موجودہ چیئرمین بلاول بھٹو کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی موروثی سیاست کی نظر ہوگئی ہے۔ ایک ایسا انسان جو اپنی زندگی ہی پاکستان سے باہر آرائش وآسائش میں گزارتا ہے، جس کو اردو میں تقریر کرنے لے لئے ڈیجیٹل آلات کا سہارا لینا پڑتا ہے اسے کیسے سندھ کے عوام کی ناقص حالت اور ان کے مسائل کا ادراک ہوسکتا ہے؟ اگر بھٹو کے دورِ حکومت پر نظر ثانی کی جائے تو معلوم یہ ہوگا کہ بھٹو ایک عوامی لیڈر تھے جو عوام میں گھل مل کے رہنا جانتے تھے انہوں نے اپنے خطابات خاکی رنگ کا عام سا کرتا پہن کر کئے کیونکہ اس دور میں خاکی رنگ کے کرتے مزدور زیب تن کیا کرتے تھے اور یہی خاصیت بے نظیر بھٹوکو اپنے باپ سے وراثت میں ملی اس لئے جب تک محترمہ زندہ رہیں تب تک پیپلز پارٹی گرتی اور سمبھلتی بھی رہی مگر آصف زرداری کی قیادت نے صرف پیپلز پارٹی کا بیڑہ غرق کیا اور عوامی سطح پر بھی اس کا گراف گرادیا۔ مفاد پرستی اپنی انتہا کو پہنچ گئی اور سارے دعوے ،وعدے کسی کتاب میں درج کرنے لے لئے محفوظ کرلئے گئے ۔ پیپلز پارٹی کو ہمیشہ سندھ صرف سیاست کے لئے ہی نظر آیا جس کی بدولت اندرونِ سندھ کے علاقوں میں کوئی ترقی یافتہ عمل دیکھنے کو نہیں ملا۔ تھر کے عوام آج بھی بھوک و پیاس سے مر جاتے ہیں، کسی علاقے میں علاج و معالجے کی سہولیات ہی میسر نہیں تو کہیں اسکول و کالج کا ڈھانچہ عوام کا منہ چڑا رہا ہے۔اس میں قطعی دو رائے نہیں کہ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت مفاد پرستی کا شکار ہے مگر ان کی عقل کو داد ینی چائیے کہ وہ ’’زیادہ کھاؤ اور کچھ لگاؤ‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔مگر پیپلز پارٹی کی پالیسی ’’صفائی نصف ایمان اورقومی خزانے کی صفائی مکمل ایمان‘‘ رہی۔اس دور میں بھی صورتحال یہ ہم لاڑکانہ اور موئن جو دڑو کا موازنہ کریں تو ہم کو وہ ہزار ہا برس پہلے والی قوم زیادہ ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ معلوم ہوگی ۔     
سندھ کی دھرتی اپنے اندر لامحدود وسائل رکھتی ہے اور سندھ کے عوام کئی سالوں سے آج بھی اپنے حقوق کے لئے بھٹو کے منتظر ہیں ۔ ان کی عقل پہ ماتم کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے لیڈران جن کے محض ہسپتال میں افتتاح کے لئے درجن بھر گاڑیا ں اور ایک لاؤ لشکر ضروری ہو ، جن کے ہسپتال کا افتتاح ہی کسی معصوم کی زندگی کا اختتام ثابت ہو کیا وہ لیڈر کہلانے کے لائق ہیں؟ بھٹو کوئی مسلک نہیں بلکہ ایک ایسی شخصیت تھے جو عوام میں گھل مل جانے گا گر جانتے تھے، جنہوں نے اپنی ساری زندگی جمہوریت کی بالا دستی قائم کرنے کی نظر کردی قطعی نظر اس کے کہ ان میں کہیں مفاد پرستی شامل ہو یا کسی کو اختلاف ہو اس کے باوجود ان کی بااثر شخصیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایسی خصوصیات کو ہم ان کے خاندان سے منسوب کردیں اور یہ بات اپنے ایمان کا حصہ بنا لیں کہ سندھ پر بھٹو کا حق ہے کیونکہ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے جناب آصف علی زرداری نے اپنا نام تبدیل کرکے آصف علی بھٹو زرداری رکھ لیا اس کے بعد بلاول بھٹو زرداری اور اس کے آگے پوری بھٹو سیریز آنے والے وقتوں میں سامنے آجائے گی۔۔جن افراد کو کراچی میں ہی سارا سندھ نظر آتا ہے ان کو یہ بات اپنی عقلِ سلیم میں محفوظ کرلینی چائیے کہ کراچی بلکل سندھ ہے مگر سندھ کو تاحال کراچی نہیں بنایا جاسکا! کیونکہ سندھ کا حاصل کیا ہوا سارا بجٹ شاید گڑھئی خدا بخش میں ہی دفنا دیا جاتاہے اورسندھ کی حالت اس وقت اس ادھ مرے ہاتھی جیسی ہے جس سے بیک وقت کئی گدھ اپنی خوراک کی ضروریات کو پورا کر تے ہیں۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers