تلونڈی ایک چھوٹا سا گاؤں تھا-
یہاں سوفیصد مکانات کچّے تھے جن کی چھتیں سرکنڈے اور گھاس پھوس سے بنی ہوئ تھیں- یہاں کے زیادہ تر لوگ بھیڑ بکریاں پال کر گزارا کرتے تھے- 1750ء میں شاندار علی خان یہاں کا مقدم تھا- شاندار کے زیر تسلط تلونڈی ، ٹھینگ موڑ ، سوڈیوال ، اور ججل کے دیہات تھے- وہ یہاں سے لگان وصول کرتا- اور وصولیے سے اپنا حصہ بچا کر باقی مال عامل کو بھجوا دیتا- عامل اپنا حصہ الگ کرتا اور بقایا منصب دار کو سونپ دیتا- منصب دار غریب کی اس پونجی سے مزید رس نکال کر بّچا کُھچا لیموں مغل حکمران محمد شاہ رنگیلا کے قدموں میں جا پھینکتا-
ہمارے آنے سے پہلے تلونڈی میں ایک وارداتِ عشق ہو گئ-
عشق کافر جانے کہاں سے منہ اٹھائے غریبوں کی اس بستی میں آن وارد ہوا ، اور ایک غریب چرواہے کے دل میں ڈیرے ڈال دیے-
جہاں صبح شام بھیڑ بکریوں کی "میں میں" سنائ دیتی ہو وہاں عشق کی " تُوں تُوں" کون سُنتا ہے....گاؤں کے سادہ دل لوگ چیچک ، کوڑھ اور عشق سے خدا کی پناہ مانگا کرتے تھے کہ اس دور میں یہ تینوں لاعلاج تھے-
سلیم چرواہا پہلی ہی نظر میں" ٹھرّی" کے عشق میں گرفتار ہوا- ٹھری گامو کُمہار کی اکلوتی بیٹی تھی-
اس دن برکھا خوب برسی اور سبزے نے نیا پیرہن پہنا- فضاء دھریک کے پھولوں اور سوندی مٹّی کی خوشبو سے مہک رہی تھی -آسمان پر قوس قزح نمودار ہو چکی تھی- اس عاشقانہ موسم میں سلیم گھاٹ پر بکریوں کو پانی پلا رہا تھا....اور ٹھری وہاں بیٹھی کپڑے دھو رہی تھی-
دونوں ایک دوسرے کو کن اکھیوں سے دیکھتے رہے-
اس دور میں عشق کے بھی کچھ قاعدے ، ضابطے اور اصول ہوا کرتے تھے- عشق نے ابھی ٹھّرک کا مکروہ لباس نہیں پہنا تھا- نہ ہی عاشق ہوس پرست ہوا کرتے تھے- عاشق اور معشوق آپس میں بِالواسطہ بہت کم بات چیت کرتے- بس نظریں ملتیں ، دل دھڑکتے ، مسکراہٹ اور شرماہٹ کا مقابلہ ہوتا ، اور عشق کا جن آدم بو آدم بو کرتا بوتل سے باہر نکل آتا-
عاشق زندہ رہتا تو گلیوں میں پڑے تنکوں سے بھی ہلکا ہوتا- مرجاتا تو عظمت کا پہاڑ بن جاتا-
ناکام عشق دنیا کی نظر میں کامیاب تصوّر کیا جاتا- شاعر ایسے عاشقوں کو سر پر اٹھالیتے- نگر نگر ان کے قصیدے گاتے- درباری شعراء سچّے عاشقوں کے قصّے بادشاہوں کو سنا کر نقد انعام وصولتے- امیر کا عشق اسے بھکاری بنا دیتا ، اور غریب کا عشق اسے زیر زمین پہنچا دیتا- سچّا عاشق ترکے میں شاعروں اور مغنیوں کےلئے پوری انٹرٹینمنٹ انڈسٹری چھوڑ کر مرتا- زندہ رہتا تو اپنی ذات کی نفی کرکے عشق حقیقی کا مسافر بن جاتا-
زندہ عاشق یا تو کان چھدوا کر جوگی بن جاتے یا صوفی بن کر عشق حقیقی کی سیڑھیاں چڑھنے لگتے-
سلیم گھاٹ سے پلٹا تو اس کی دنیا رنگین ہو چکی تھی- گھاٹ سے لےکر گھر تک وہ خود کو ایسا بادشاہ تصوّر کرتا آیا جس کے آگے ہرنوں کا غول بھاگ رہا ہو- اسے آک کا پودا گلاب اور سرکنڈے کا پودا موتیا نظر آ رہا تھا- گھر آکر سب سے پہلے اس نے بالٹی بھر پانی میں اپنی شکل دیکھی-
اب وہ روز گھاٹ پر جاتا لیکن ٹھرّی کا دیدار صرف جمعرات کو ہی نصیب ہوسکتا تھا- بھیڑ بکریاں تو سدا کی پیاسی ہوتی ہیں لیکن کپڑے تو روز روز نہیں دھلتے-
ایک دن درد عشق کچھ زیادہ ہی بڑھا تو وہ ہمت کرکے گامو کمہار کے دروازے پر جا کھڑا ہوا- گھر میں ٹھرّی اکیلی تھی-
عشق نے باہر سے آواز دی " گھر وچ کائ ہے کہ کوئ ناں ؟؟"
پردے سے حُسن نے سوال کیا " کہڑا ایں ؟؟"
عِشق نے جواب دیا " سلیم ....."
حسن نے پوچھا " کہڑا سلیم ؟؟ "
عشق بولا " سلیم ...........پھتّو آجڑی دا پُتّر"
اب حسن پر شرمانا واجب تھا....سو وہ خوب شرمایا- دروازے کی اوٹ سے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا گیا :
" مریں چھیتی دس ... کی چاہی دا ای ؟ "
عشق نے اپنا مدعا بتایا- حسن نے حامی بھرلی- چنانچہ واپسی پر سلیم کے ہاتھ میں ایک سٹینڈرڈ سائز کا کورا گھڑا تھا- محبّت کی پہلی نشانی-
کچھ دن تو سلیم گھڑے پر دوہڑے ماہیے گا کر عشق کی آگ ٹھنڈی کرتا رہا ، لیکن الاؤ تھا کہ بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا اور جلانے کو سوائے دل کے اور کچھ بھی نہ تھا-
ایک دن پھتّو آجڑی نے اپنے نورِ نظر سلیم کو " گھڑے ہاتھوں " پکڑ لیا-
"جولاہے دا پُتّر ہو کے مراثیاں آلے کم .... کجھ شرم کر حیاء کر ...."
پھتّو نے گھڑا اس کے ہاتھ سے لیکر دور پھینکا تو وہ پھڑاک کر کے ٹوٹا-
سلیم نے ابّے کو صاف صاف اپنے عشق سے آگاہ کر دیا- غریب پھتّو کے اوسان خطا ہو گئے-
اس دور میں جوتے صرف امراء پہنتے تھے چنانچہ پھتّو نے توت کی سوٹی سے سلیم کو رج کے دھویا-
جی بھر کے سوٹیاں کھانے کے بعد عشق نے موت کو گلے لگانےکی دھمکی دیدی- عاشق کے پاس اس دور میں بھی یہی آخری ہتھیار ہوتا تھا ..... موت کی دھمکی ... !!!
نوراں اور پَھتُّو اگلے ہی دن بیٹے کی خوشی مانگنے گامو کُبھار کے پاس جا پہنچے- گامُو بیچارہ پہلے ہی بیٹی کے بوجھ تلے کراہ رہا تھا- بیس بکریوں اور پندرہ بھیڑوں کے اکلوتے وارث کا رشتہ آیا تو اس کے مردہ جسم میں جان سی دوڑ گئ-
اس نے مہمانوں کو ست بسم اللہ کہا ، ستو کا شربت پلایا اور اگلے چاند کی ست تاریخ شادی کےلئے مقرر کر دی-
سلیم اس کے بعد کبھی گھاٹ کی طرف نہ گیا- وہ وصال کے لطف سے زیادہ ہجر کے درد میں خوش تھا کہ مردانگی کا رعب و دبدبہ قائم رہے- ٹھری اب اس کے گھڑے کی مچھلی تھی- چاند کو اپنے سُونے آنگن میں اتارنے کےلئے اسے اگلے چاند کا انتظار تھا-
ٹھرّی برابر ہر جمعراتے گھاٹ پر کپڑے دھوتی رہی- وہ بھی شب وصل کے انتظار میں روز اک سورج غروب کر رہی تھی-
اگلے چاند میں ابھی کئ سورج باقی تھے کہ اماوس کی گہری رات چھاگئ-
ہوا یوں کہ مقدم کا ایک ہرکارا نصیب خان کپاس کی چنائ دیکھنے تلونڈی آنکلا- واپسی پر وہ گھاٹ سے گھوڑی کو پانی پلانے رکّا- اس نے آنکھ بھر کر ٹھرّی کو دیکھا اور ہزار جان سے فدا ہوگیا- ٹھرّی اپنے کام میں مگن تھی- نصیب خان نے صرف اتنا ہی پوچھا:
" او کاکی...تیرے باپو کا کیا نام ہے .. ؟؟"
کاکی اس اچانک افتاد سے گھبرا اٹھی اور پھڑپھڑاتے لبوں سے بولی..." گلام....گامو......گامو کُبھار"
نصیب گھوڑی کو ایڑھ لگاتا لوٹ گیا- اس بار وہ وصولیے کے ساتھ ساتھ ایک عدد ٹھرّی بھی وصولنے کا ارادہ کرچکا تھا-
گامو کمہار کو پنڈ کے مٌقدم کا سندیسہ ملا تو اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا- مقدم نے اپنے ہرکارے نصیب خان کےلئے اس کی دِھی ٹھرّی کا ہاتھ مانگا تھا-
گامو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ٹھّری اتنے اچھے نصیبوں والی نکلے گی- بیٹیاں تو سدا پاؤں کی بیڑیاں ہوتی ہیں- دیہاتی لوگ بکری ، گائے ، بچھڑے کا سودا کرتے ہوئے ڈھیروں سوچتے ہیں لیکن بیٹی کو ہمیشہ نصیب کے حوالے ہی کیا کرتے ہیں-
ٹھرّی کی پسند ناپسند کس نے پوچھنی تھی- نہ کسی کو گھاٹ والے عشق کا پتا تھا نہ عشق کے گھاٹے کا ادراک -
ٹھرّی نے باپ کے چہرے پر شادمانی دیکھی تو سمجھی کہ شاید باپو اس کی شادی کا سامان پورا کر بیٹھا ہے- دن رات آوی میں آگ جھونکنے والا باپو اس کی زندگی میں کون سا انگارہ جھونکنے والا تھا ، وہ اس سے بے خبر تھی-
نصف شب اس کی آنکھ کھلی تو امّاں اور باپو کو خوشی کے دیپ جلاتے پایا- لیٹے لیٹے اس نے امّاں کو بڑے پیڑھے پر سیدھا حقّہ اور بابا کو منجی پر ٹیڑھا حقّہ گڑگڑاتے دیکھا-
امّاں اور باپو کسی بڑی خوشی کو ایسے ہی منایا کرتے تھے-
"ٹھری کی ماں....نصیب خان کا رشتہ آیا ہے.....بڑے نصیبوں والی نکلی ہماری ٹھرّی....راج کرے گی راج......میں تو کہتا ہوں پھتّو آجڑی کو کل ہی جواب دے دو... !!! "
" ابھی کچھ دن گل چھپا کے رکھ....کہیں لوگوں کی ہاہ نہ کھا جائے میری ٹھرّی کی خوشیوں کو" اماّں نے صلاح دی-
"وہ اپڑاں منصب دار شاندار علی خان کا منشی...نصیب خان کہ رہا تھا کہ جہیز کی لوڑ وی نئیں ہے" بابا نے بڑے فخر سے کہا-
" ہائے میں مر جاواں.....میری دھی کے تو نصیب ہی جاگ گئے...." ماں نے سرگوشی کی-
ٹھرّی کا دل دھڑکا.....کون سا نصیب..؟؟...کیسا نصیب......؟؟
پھر اسے وہ چٹی گھوڑی یاد آ گئ جس پر اس کا کالا نصیب سوار ہوکر گھاٹ پر آیا تھا-
وہ سمجھ گئ کہ چاند کی سَت تاریخ اب کبھی نہیں آئے گی-
وہ اندر ہی اندر کٹ کے رہ گئ-
اس رات اسے زور کا تاپ چڑھا......
وہ کُڑھتی رہی- گُھلتی رہی- عشق کا موذی ناگ اسے اندر ہی اندر ڈستا چلا گیا-
عشق کا درد ہی ایسا ہوتا ہے....چپ چاپ برداشت کرنا پڑتا ہے......کسی کو بتایا بھی نہیں جا سکتا-
وہ تین دن تاپ میں جھلستی رہی.....تاپ اترا تو اسے چپ سی لگ گئ-
ماپے اسے حُجرہ شاہ مقیم کی درگاہ پر لے گئے....جوگیوں اور سنیاسیوں سے نسخے لیے.....لیکن بے سود!!!
حافظ غلام دین جو "پکّی روٹی" کا حافظ تھا- روزانہ اسے دم کرنے آتا- وہ پنجابی والی آیت الکرسی اس پر پھونک پھونک کر تھک گیا.....
آیت الکرسی وِچ قران....
آسے پاسے تو رحمن....
لوہے دیاں کنجیاں ترانبے کو...
یا اللہ بس تیری لوء......چھو چھو چھو.....
ٹھرّی بس ٹکر ٹکر اسے دیکھتی ہی رہی......
ایک سائیں بابا نے بتایا کہ ٹھرّی پر جن آیا ہوا ہے- اسے نصف شب پرانے قبرستان میں بیری کے پتوں والے پانی سے نہلایا گیا- عشق کے بھوت نے کیا اترنا تھا ساتھ میں نمونیہ بھی ہو گیا-
کوٹلی رائے والے حکیم اللہ بخش نے نصف گھنٹہ نبض ٹٹولنے کے بعد پیٹ کا وَٹ بتایا حالانکہ جگر کا پَھٹ تھا-
ساتویں دن ٹھّری مر گئ-
وارث شاہ صاحب اور میں تلونڈی پہنچے تو ٹھرّی کو گزرے تیسرا دن تھا- شاہ صاحب نے حسبِ معمول مسجد میں قیّام فرمایا- بعد از نمازِ مغرب ہماری ملاقات فتح خان عرف پھتّو سے ہوئ-
پھتّو بہت پریشان تھا- اس کا اکلوتا بیٹا ٹھری کی موت کے بعد خود بھی لبِ گور تھا اور حالت نہایت خراب تھی-
اس نے نہایت لجاجت سے کہا " پیر صاب...بس اک واری آکے میرے چھیمے نوں دم کر دیو.....اکو ای پتّر اے میرا "
ہم مغرب کی نماز کے بعد فتح دین عرف پتھّو کے گھر پہنچ گئے-
سلیم بخار میں پھنک رہا تھا- وہ منجی پر آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا- اسے چپ کی بیماری لگ چکی تھی- اس کی آنکھیں خشک تھیں- اس نے تین دن سے پانی تک نہ پیا تھا-
شاہ صاحب نے اس کا ماتھا چوما اور بڑے پیار سے بستر پر لٹا دیا- پھر گھٹڑی کھول کر اس میں سے کوئ پھکیّ نکالی...اور اسے پانی کے ساتھ پلانی چاہی ...لیکن وہ منہ کھولتا تو کچھ کھاتا پیتا-
ہم نے عشاء ک نماز پھتّو کے گھر پر ہی پڑی-
نماز کے بعد شاہ صاحب نے اتنی طویل دعا کی کہ میرے ہاتھ تھک گئے- میں منہ پر ہاتھ پھیر کر چارپائ پر آن لیٹا-
دعا کے بعد شاہ صاحب نے سلیم کو دم کرنا شروع کر دیا-
رات نصف سے زیادہ بیت چکی تھی- شاہ صاحب مریض کو برابر دم کیے جارہے تھے- پھتّو اور اس کی بیوی نوراں منجی پر بیٹھے اونگھ رہے تھے- وہ تین دن سے مسلسل جاگ رہے تھے-
میں بھی سفر کا تھکا ہارا تھا....کبھی سو جاتا...کبھی جاگ اُٹھتا- جب بھی آنکھ کھلتی تو شاہ صاحب کو دم ہی کرتے پاتا-
رات کے کسی پہر کوٹھڑی میں شاہ صاحب کی پُردرد آواز گونج اٹھی.......
ساک ماڑیاں دے کھوہ لین ڈاڈھے
اَن پُجدے اوہ ناں بولدے نے
نئیں چلدا وَس لاچار ہو کے
موئے سَپ وانگوں وِس گھولدے نے
کمزوروں کی محبّت ہمیشہ تگڑے لوگ ہتھیا لے جاتے ہیں- اور وہ بے چارے بول بھی نہیں سکتے...
لاچار کا بس کہاں چلتا ہے....وہ تو بس ادھ موئے سانپ کی طرح بل ہی کھاتا رہ جاتا ہے-
کدی آکھدے ماریے ، آپ مریے
پئے اندروں باہروں ڈولدے نے
گُن ماڑیاں دے سدا رہن اندر
ماڑے ماڑیاں تے دکھ پھولدے نے
کبھی سوچتے ہیں کسی کو مار دیں....کبھی سوچتے ہیں خود مر جائیں....کسی فیصلے پر نہیں پہنچ پاتے- غریب کی صلاحیتیں اس کے اندر ہی دم توڑ جاتی ہیں....غریب اپنا دکھ بس غریب کو ہی سنا سکتا ہے-
شاندار نوں کرے ناں کوئ جھوٹا
جھوٹا کرن کنگال نوں ٹولدے نے
وارث شاہ لُٹیندڑے گھرِیں ماڑے
مارے خوف دے مُونہہ نہ بولدے نے
سردار کو کوئ جھوٹا نہیں کر سکتا- کنگال کو ہی سب جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں- وارث شاہ..... غریب گھر بیٹھے لٹ جاتا ہے اور خوف کے مارے بول بھی نہیں سکتا-
اچانک سلیم کے رونے کی آواز آئ....اس کا سکتہ ٹوٹ گیا اور وہ منہ پھاڑ کر رونے لگا- اس کے نالے دل کو چیر دینے والے تھے.... شاہ صاحب نے اسے گلے لگا لیا...اور خود بھی جی بھر کر روئے-
پھتّو اور نوراں بھی رو رہے تھے- میری بھی آنکھیں بھیگ گئیں-
شاہ صاحب نے اسے پیار کیا....اس کے گرد آلود بالوں میں انگلیاں پھیریں....اور سمجھایا کہ ٹھرّی رب کی امانت تھی سو اس کی بارگاہ میں پہنچ چکی...یہی تقدیر تھی....لیکن تمہیں زندہ رہنا ہے....یہی عشق کا تقاضا ہے.....تمہارے جینے مرنے سے شاندار کو کوئ فرق نہیں پڑنے والا لیکن تمہارے والدین ضرور گور میں اتر جائیں گے...... اب تم ٹھرّی کو بنانے والے رب سے عشق کرو.....جسے ہمیشہ بقاء ہے....اور اپنے ماں باپ کی خدمت کرو-
نوراں بی بی نے اٹھ کر چولہا جلایا- اور شکّر کا حلوہ بنا لائ- جسے شاہ صاحب نے اپنے ہاتھ سے سلیم کو کھلایا-
صبح کی اذان ہوئ تو سلیم بھی ہمارے ساتھ مسجد گیا- اس کا بخار اب اتر چکا تھا- میں نے پہلی بار عشق کا بخار ایک رات میں ٹوٹتے دیکھا-
سورج نکلتے ہی ہم تلونڈی سے نکلے- دو کوس چلنے کے بعد تلونڈی کا پرانا قبرستان آیا تو شاہ صاحب ایک نوتعمیر قبر پر فاتحہ کےلئے رک گئے.....جس پر تین تازہ اینٹیں دھری تھیں-
شاہ صاحب نے یہاں طویل دعا کی اور خوب روئے....میں بھی ہچکیاں لے کر روتا رہا-
ٹھرّی....جس کا مطلب ہے "ٹھنڈی ٹھار"....عشق ، زمانہ اور ماں باپ کے ہاتھوں ٹھنڈی ٹھار ہوکر یہاں آرام کر رہی تھی-
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers