نماز فجر ہم نے جامع مسجدکھڈیاں میں ادا کی- حافظ خیر دین یہاں کا پیش امام تھا- وہ ایک عالم و فاضل آدمی تھا اور قصور کے مدرسے میں پڑھ چکا تھا- دیپالپور کے ایک مدرسہ سے انہوں نے دستار فضیلت حاصل کی تھی- 
قصور سے علمی تعلق ہونے کے سبب مولوی خیر دین وارث شاہ صاحب کی شاعری سے بھی مُتعارف تھا- ملاقات ہوئ تو بہت خوش ہوا ، بھینچ بھینچ کر ملا اور امامت کی پیش کش کی- شاہ صاحب ہچکچائے اور فرمایا:
" تہاڈے جئے عالم دے ہندیاں سانوں امامت زیب نئیں دیندی"
اس پر خیردین مُصّلہ چھوڑ کر کھڑا ہو گیا اور شاہ صاحب کا ہی ایک مصرعہ جڑ دیا :
"ملوانیاں جیڈ بخیل ناہیں ، خوش خلق سادات صبور جیہا"
مولویوں جیسا بخیل کوئ نہیں -اور صابر سادات جیسا خوش اخلاق کوئ نہیں-
شاہ صاحب مسکرائے اور بولے:
"وارث شاہ جیہا گنُہگار ناہِیں بَخشنہار نہ رب غفور جیہا "
اور خیردین کو آگے کر دیا-
نماز کے ہم پلٹے تو بابا عباس ناشتے پر منتظر تھا- دیسی گھی کا حلوہ ، کھیر ، سوّیاں ، پراٹھے ، کھنڈ ، مکھن ، کے ڈھیر لگے تھے-
میں نے کہا " شاہ صاب آپ کے ساتھ رہ رہ کر میرے اندر کا شاعر بھی بیدار ہونے لگا ہے....اجازت ہو تو کچھ عرض کروں...."
وارث شاہ صاحب اور بابا عباس یک زبان بولے " ضرور..!!!"
میں نے کہا:
حلوے دی اک مسیت بنائیے ، تے سوّیاں دی چھت چڑھائیے
کھیر دا تھلّے فرش بچھا کے، جاء جاء سجدے کھائیے
بابا عباس تو دل کھول کر ہنسا- شاہ صاحب مسکرا دیے اور بولے :
" جیہو جیاں تیریاں حرکتاں نے .... تیرا ناں رزق دین ہونا چاہی دا "
ناشتے کے بعد ہمارا سفر پھر شروع ہو گیا-
صبح صادق کے ساتھ ہی پنڈ کا عالم بیدار ہو چکا تھا- چڑیوں کے غول در غول چہکتے پھرتے تھے- کہیں بٹیرے کی پچ پڑچ تو کہیں فاختہ کی گھو گھو ...گھو .... ، کہیں مرغوں میں بانگوں کا مقابلہ چل رہا تھا- تو کہیں بگلے، تلیّر ، نیل چاہ ، ہد ہد ، سوہڑ ، شارک ،کوّے اور طوطے تلاشِ رزق میں ادھر ادھر اڑتے پھرتے تھے- پتّا نہیں یہ پرندے اب کہاں چلے گئے ہیں ... ہمارے لیے تو دماغ چاٹنے والے کوّے ہی باقی بچّے ہیں-
کھُڈیاں میں ہندو ، سکھ ، عیسائ اور مسلمان برابر بستے تھے- اگرچہ سیاسی لحاظ سے پنجاب ابتری کا شکار تھا لیکن مذہب نے ابھی تک تلوار ، ترشول اور کرپان باہر نہ نکالی تھی-
ہندو اور سکھ ایک دوسرے کے گھر سے کھانا کھا لیتے تھے البتہ مسلمانوں اور عیسائیوں کےلئے ان کے ہاں مخصوص برتن ہوتے تھے- اگر کوئ خاص مہمان آجاتا تو شیشہ یا چینی کے برتن نکالے جاتے- ایسے قیمتی برتن پورے گاؤں میں صرف ایک دو گھرانوں میں ہی پائے جاتے تھے-
عیسائ کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا سکھ ، ہندو اور مسلمانوں میں سے کوئ بھی نہ کھاتا البتہ عیسائ سب گھروں سے بخوشی کھا لیتے- مسلمان گھرانوں میں شادی بیاہ کے موقع پر ہندو یا سکھ پڑوسیوں کو "کچا کھانا" یعنی آٹا ، گھی ، شکر بھجوایا جاتا تھا ، جسے وہ خود پکا لیتے تھے-
مسلم گھرانے ھِندو اور سکھوں کے گھروں میں بنا ہوا کڑاہ پوڑی ، کھچڑی اور پلاؤ بلاتکلف کھا لیتے تھے-
گاؤں بھر میں کوئ گوالا نہ تھا- گائے بھینس کا دودھ بیچنا بہت بُرا سمجھا جاتا تھا- تمام مذاہب ایک دوسرے سے دودھ ، مکھن اور گھی بلاتکلف قبول کر لیتے تھے-
سکھ اور ہندو ، مُسلم گھرانوں سے لسّی نہیں لیتے تھے- عیسائ سب گھروں سے لسّی لے لیتے تھے لیکن دیتے کسی کو نہیں تھے- مسلمان مزدور سکھ گھرانوں کی لسّی بخوشی پی لیا کرتے تھے-
ہندو اور سِکھ گائے کے گوشت سے پرہیز کرتے تھے- جبکہ مسلمان سؤر کا نام لینا بھی گوارا نہ کرتے تھے- فساد کے ڈر سے گاؤں بھر میں گائے اور سؤر ذبح نہیں کئے جاتے تھے- گوشت صرف کُکڑ ، بھیڑ اور بکرے کا ہی بنایا جاتا تھا ، اور وہ بھی صرف تہوار پر یا مہمان کی آمد پر-
قدرت کے عظیم تحفے پانی پر ہر مذہب کا اپنا لیبل لگا ہوا تھا- سب کے اپنے اپنے کنویں تھے- سکھّاں دی کھوئ ، ہندواں دی کھوئ ، مُسلیاں دی کھوئ ، عیسائیاں دی کھوئ- البتہ رہٹ کا پانی ایک ہی مقام سے بھرا جاتا تھا- رہٹ چلتا تو ہر کوئ وہاں نہاتا دھوتا، عورتیں وہاں سے گھڑے بھرتیں ، لیکن جب پانی گھڑے میں چلا جاتا وہ ہندو پانی یا مسلم پانی بن جاتا- ایک دوسرے کے گھڑے سے پانی پینا ممنوع تھا- پانی پینا تو درکنار اگر ہندو کے گھڑے کو مسلمان یا عیسائ چھو بھی لیتا تو گھڑا توڑ دیا جاتا ....
کھڈیاں نام کے اس چھوٹے سے گاؤں میں انسان چار مختلف مذاہب میں بٹا پرسکون "ایڈجسٹڈ لائف" گزار رہا تھا- مذہب یہاں کسی فساد یا آزار کا باعث ہرگز نہ تھا-
گندم گھریلو چکّی میں پیسی جاتی- گائے بھینس کے تازہ دودھ سے دہی، لسّی ،مکّھن کشید کیا جاتا- نہ کوئ جنرل اسٹور تھا نہ ہی کریانہ مرچنٹ- ان لوگوں نے بیچنا کیا تھا اور خریدنا کیا تھا- اناج ،سبزیاں، پھل،گڑ اور تمباکو یہ خود اگاتے تھے- دودھ بھینس کا دوہتے ، کپڑا جولاہا بنتا تھا- نائ ، موچی ، کمہار ، اور لوہار گندم کی ایک بوری پر سال بھر ان کی خدمت کرتے- مشعل دان اور دِیا بھی مقامی سرسوں کے تیل سے ہی جلایا جاتا تھا-
پنجاب کی صبح اپنی تمام تر حشر سامانیوں کیساتھ طلوع ہو رہی تھی- گھروں سے سویرے سویرے ریہڑکے کی کھڑکھڑاہٹ ، چکّی کی گڑگڑاہٹ اور چرخے کی گھوں گھوں سنائ دے رہی تھی- سخن کا وارث سانجھلے کے کینوس پر شاعری کے رنگ بکھیرتا چلا جا رہا تھا:
صُبح صادِق ہوئ جدُوں آن روشَن
تدُوں لالیاں. آن چَچلانیاں نے
چِڑی چُوہکدی نال جاں ٹُرے پَاہندِی
پیّاں دُدھ دے وِچ مَدھانِیاں نے
سپیدہء سحر نمودار ہوا تو کرنوں نے ہر شے کو چمکا دیا- چڑیا کے چہکتے ہی مسافر چل پڑے اور دودھ میں مدھانیاں ڈال دی گئیں-
ہِکناں اُٹھ کے ریہڑکا پا دِتاّ
ہِکناں ڈھونڈدیاں پھِرن مدھانیاں نے
ہِک اُٹھ کے ہَلِیّں تیاّر ہوئے
ہک ڈھونڈدے پھرن پورانیاں نے
کچھ عورتوں نے اٹھتے ہی ریہڑکا ڈال دیا اور کچھ دھندلکے میں مدھانیاں ڈھونڈتی پھرتی ہیں-
کچھ مرد اٹھ کر ہل جوتنے کےلئے تیار ہو چکے اور کچھ ابھی ہل پنجالی کا سامان ہی پورا کر رہے ہیں-
لّیاں چا ہرنالیاں ہالیاں نے
سِیاں جِنہاں نے بھوئیں تے لانِیاں نے
گھربارناں چکّیاں جھوتیاں نیں
توناں جنہاں نے گُنھ پکاؤنیاں نے
دھرتی کا سینہ چیرنے والے کسانوں نے ہل کندھوں پر اٹھا لئے- ان کی گھر والیاں ، جنہوں نے روٹیوں کے انبار پکانے ہیں، چکّیوں پر آٹا پیسنے میں مصروف ہیں-
کاروبار وچ ہویا جہان سارا
چرخے کتّن نوں اٹھّن سوانیاں نے
اٹھ جان غسّل نوں دوڑ پئے
سیجاں رات نوں جنہاں نے مانیاں نے
سارا جہان کاروبار میں مصروف ہو گیا- عورتیں چرخہ کاتنے کےلیے جاگ اٹھی ہیں- وہ لوگ جنہوں نے رات کو سیج کے مزے لوٹے ہیں ، صبح ہوتے ہیں غسل کےلئے دوڑ پڑے ہیں-
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers