رات سر پر آن چڑھی تھی-
عصر اور مغرب کی قصر نمازیں ہم نےکچّی سڑک کے کنارے گھاس پر مصلّہ بچھا کر پڑھیں- کہیں پانی مل گیا تو وضو کر لیا اور کہیں تیممّ سے کام چلایا- رات اپنے پر پھیلا رہی تھی لیکن چاند پورا نکلا ہوا تھا- ہم جلد از جلد کھڈیاں خاص پہنچنا چاہتے تھے جو قصور سے تقریباً پچیس تیس کلومیٹر دور ایک چھوٹا سا پِنڈ تھا-
میری ٹانگیں مسلسل چلنے سے اکڑ چکی تھیں- سردی بھی کافی بڑھ چُکّی تھی-
اندھیرے میں کتّوں اور گیدڑوں کی نوک جھونک جاری تھی- دور کھیتوں میں گیدڑ درد کا راگ چھیڑتے تو ڈیروں اور بیلے پر بندھے کُتّے اس پر جی بھر کے واہ واہ کرتے- تھوڑی دیر کےلیے خاموشی چھا جاتی ، پھر گیدڑ کوئ نیا راگ چھیڑ دیتے-
ہماری دائیں جانب دور دور تک اجاڑ علاقہ تھا- دفعتاً ہمیں کتّوں کی شدید بھونکاڑ سنائ دی- شاہ صاحب نے گھٹڑی اتار کر مجھے تھمائ اور لاٹھی کو سیدھا کر لیا- کچھ کُتّے ایک گیدڑ کا پیچھا کر رہے تھے جو غلطی سے ان کی حدود میں گُھس آیا تھا-
گیدڑ گولی کی رفتار سے ہمارے قریب سے گزرا- دفعتاً بائیں جانب کھیتوں سے بہت سے گیدڑوں نے مل کر کوکنا شروع کردیا- بھاگتے ہوئے گیدڑ نے اچانک شدّت کی بریک لگائ- دوچار قلابازیاں کھا کر وہ سیدھا ہوا ، منہ اٹھا کر اطمینان سے ساتھیوں کی کوک کا جواب دیا ..... پھر دوڑ لگا دی-
کُتے اور گیدڑ جنگل میں گم ہوگئے تو شاہ صاحب نے مجھ سے پوچھا:
"گیدڑ توں کُچھ سِکھیا جے ؟؟"
"گیدڑ سے کیا سیکھا جا سکتا ہے شاہ صاحب ؟؟ " میں نے حیرت سے کہا-
" اوہ سانوں اے سبق دے کے گیا اے کہ ..... بھاویں سِر تے موت سوار ہووے ..... لیکن ..... سجناں نوں کدی وی نئیں بھُلناں چاہی دا...." شاہ صاحب نے بتایا-
سخت سردی میں ، میں نے ہنسنے کی کوشش کی لیکن دانت گجگجا اُٹّھے-
دور سے کھڈیاں کے جلتے تنور نظر آئے تو کچھ ہمت بندھی- تندور ہمیشہ گاؤں سے باہر کھلی جگہ بنائے جاتے تھے- جہاں گاؤں کی مٹیاریں سرشام جمع ہو کر روٹیاں پکانے کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ پر خوب تبصرہ بھی کیا کرتیں-
ہم ایک تنور کے پاس سے گزرے تو روٹی کی ساندھ نے میرے پیٹ کے چوہوں کو جگا دیا-
"شاہ صاحب ..... میں دو روٹیاں لے کے آتا ہوں ... " میں نے کہا-
" سوال کرنا نفس نوں ڈھیٹ کر دیندا اے شِدایا ... صبر کر !!! " شاہ صاحب نے کہا-
"ہم کھانا کہاں کھائیں گے شاہ صاحب ؟" میں نے پوچھا-
" جتھّے رب سوہنڑیں نے ساڈا رزق لکھیا ہوئےگا" شاہ صاحب نے جواب دیا-
"رزق کہاں لکھا ہوگا ؟ " میں نے پوچھا-
"آسماناں تے" شاہ جی نے جواب دیا-
میں نے آسمان کی طرف دیکھا تو چاند مجھے کسی تندور کی روٹی کی طرح لگا-
" کھُڈیاں جمع دا صیغہ اے .... واحد ایس دِی " کھُڈی" ہے .... جس دا مطلب اے ... آرام کرن دی جگہ !!! "
شاید کسی دور میں دریائے راوی اور ستلج کے درمیان مسافروں کےلئے ریسٹ پوائنٹ بنائے گئے تھے- مسافر دریا پار کر کے یہاں آرام کرتے ، کھاتے پیتے اور اپنی منزل کو روانہ ہو جاتے تھے- یہیں سے کھڈیاں مشہور ہو گیا-
ہم کھڈیاں خاص کی جامع مسجد پہنچے تو عشاء کی اذان ہو چکی تھی- لوگ امام مسجد کے انتظار میں بیٹھے تھے- ہم وارد ہوئے تو لوگوں نے شاہ صاحب کا جبہّ و دستار دیکھ انہیں امامت کے فرائض سونپ دیے-
شاہ صاحب نے رقّت آمیز تلاوت کی- اور نماز کے بعد طویل دعا فرمائ- اس دوران میں بھوک سے بل کھاتا رہا-
تھوڑی ہی دیر بعد وہ پنڈ کے لوگوں میں اس طرح گھل مل چکے تھے گویاں برسوں سے جانتے ہوں-
لوگ ہماری مہمان نوازی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرنے لگے- صالح محمد اور بابا غلام عباس میں تو قرعہ تک بات جا پہنچی-
شاہ صاحب نے اپنی گٹھڑی بابا غلام عباس کے پلڑے میں رکھ دی- ہم سب اٹھ کر ان کے کچّے مکان میں آگئے-
بابا عباس نے اپنا محبوب ترین اصیل کُکڑ ہماری ضیافت کے لئے قربان کر دیا- میں نے ایک مدّت بعد مرغے کا سالن اور تنور کی روٹی دیکھی تھی- شاہ صاحب تو ایک آدھ روٹی کھا کر ہاتھ کھینچ گئے جبکہ میں مورچے پر آخر دم تک ڈٹا رہا اور اگلی پچھلی کسریں خوب نکالیں-
رات گہری ہوئ تو یہ ضیافت ایک خوبصورت محفل میں بدل گئ- گاؤں کے کچھ اور لوگ بھی شامل محفل ہو گئے- چائے تو اس دور میں صرف مریض ہی پیا کرتے تھے سو الائچی والےگرم دودھ سے ہماری خوب تواضح کی گئ- پھر حالاتِ حاضرہ اور حُقّے کی گُڑ گُڑ شروع ہو گئ ..... اور محفل دھواں دھار ہونے لگی-
میری آنکھیں بھاری ہو رہی تھیں سو بہت جلد رضائ میں پناہ حاصل کی اور خراٹے لینے لگا-
نصف شب میری آنکھ کھلی تو ....محفل سخن عروج پر تھی- شاہ صاحب پرسوز آواز میں اپنا کلام سنا رہے تھے اور میزبان والہانہ جھوم رہے تھے.....!!!
تیرے فضل دے باہج نہ آس کائ ، کوئ حال نہ چکنا چُور دا اے
ایویں باہروں شان ، خراب وچّوں جیویں ڈھول سہاوندا دُور دا اے
تیرے فضل کے بغیر کوئ آس نہیں ہے اور نہ ہی اس ٹوٹے پھوٹے شخص کی کوئ حیثیت ہے-
باہر سے بس جھوٹی شان بنی ہوئ ہے ، اندر خرابی ہی خرابی ہے- جیسے دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں-
صاحب ہتھ وڈیایاں ساریاں نے کوئ عذر نہ اس معذور دا اے
وارث شاہ وسنیک جنڈیالڑے دا ، تے شاگرد مخدوم قصور دا اے
رب کے ہاتھ ہی سب بڑائیاں ہیں - اس معذور کے پاس تو اپنے گناہوں کا بھی کوئ عذر نہیں -
وارث شاہ کا تعارف تو بس یہی ہے کہ جنڈیالہ کا رہنے والا ہے اور قصور کے مخدوم کا شاگرد -
جنڈیالہ شیرخان کسی دور میں ایک غیر آباد جگہ تھی-یہاں کثیر تعداد میں جنڈ کے درخت اُگے ہوئے تھے- اسی وجہ سے اسے " جنڈاں والا" کہا جاتا تھا- شیرخان ایک غزنی پٹھان اور اللہ لوک بندہ تھا- اپنے مرشد سخی احمد درویش کے کہنے پر وہ تبلیغ اسلام کےلئے دوآبہ رچنا میں آیا- شیرخان نے یہ گاؤں عہد اکبری میں 1556ء میں آباد کیا جب اکبر بادشاہ کا عہدِ حکومت تھا- جنڈیالہ ان دنوں سکھوں کے زیر تسلط تھا اور شاہ صاحب کی خواہش تھی کہ ان کا وطن کسی طور آزاد ہو سکے- وہ دیر تک اپنے وطن کے دکھ بیان کرتے رہے اور میں سوچتا رہا کہ اس چھوٹے سے گاؤں کو وارث شاہ صاحب نے قیامت تک کےلئے پہچان تو دیدی ہے.....اور کیا چاہئے-
وارث شاہ وسنیک جنڈیالڑے دا تے شاگرد مخدوم قصور دا اے
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers